آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار

    • مصنف, جیار غل
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران ہر جانب آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بازگشت رہی۔

40 روزہ لڑائی کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں یا اس کی جوہری صلاحیت سے زیادہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو روکنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔

جنگ کے آغاز پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے اہم مقامات اور رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسے حکومت کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر کے جواب دیا۔

لیکن جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آئی، ایران نے خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔

اس اقدام نے جلد ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے بلاتعطل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے عہدے داروں نے تسلیم کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے سے روایتی لڑائی سے زیادہ سٹریٹجک فائدہ ہو سکتا ہے۔

عالمی توانائی کی رسد میں خلل ڈال کر ایران نے امریکہ کو جنگ سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کی شرائط میں امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اس کی سکیورٹی کو ترجیح دی۔

ایران ماضی میں بھی مختلف مواقع پر اس پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔

اس سے قبل ایران نے اسے کبھی مکمل طور پر بند نہیں کیا تھا۔ حتیٰ کے 1988-1980 کی ایران، عراق جنگ کے دوران جب آئل ٹینکرز پر حملہ کیا جاتا تو اس وقت بھی ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند نہیں کیا تھا۔

اب کچھ ایرانی کمانڈر اور حکام آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے مستقبل پر بات کر رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ اور اس کے قومی سلامتی کمیشن نے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول عائد کرنے کی تجویز کا مسودہ تیار کیا ہے۔

ایک رکن پارلیمان نے تجویز پیش کی ہے کہ ایران ہر تین بیرل تیل کی ترسیل کے لیے ایک ڈالر وصول کر سکتا ہے۔

کامیابی کا تاثر

ایران کے سرکاری میڈیا نے جنگ بندی کو فتح کے طور پر پیش کیا ہے۔ کویت میں ایران کے سفارتخانے کی جانب سے ایران کے سابق سپریم لیڈر کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس کا عنوان ہے کہ ’جب اللہ کی نصرت آئے گی تو فتح ہو گی۔‘

اس بیانیے کو ایران کے اندر تقویت مل رہی ہے کہ ایران کو اس جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ ملک نے کامیابی کے ساتھ غیر ملکی دباؤ کا مقابلہ کیا۔

پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے جنگ بندی منصوبے میں پابندیاں ہٹانا، جنگی نقصانات کا معاوضے کی صورت میں ازالہ اور امریکی فوجیوں کا انخلا شامل ہے۔‘

اعلیٰ ایرانی عہدے داروں نے ان شرائط کی تائید کی ہے، ایران کے نائب صدر نے جنگ بندی کو ’خامنہ ای نظریے‘ کی فتح قرار دیا، جس میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا حوالہ دیا گیا ہے، جو جنگ کے ابتدائی دنوں میں مارے گئے تھے۔

اسی دوران پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ اور ایران کے نئے رہنما کے مشیر محسن رضائی کا بیان سامنے آیا، جس میں اُنھوں نے کہا کہ ایرانی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور ’ہماری انگلیاں ٹریگر‘ پر ہیں۔

کامیابی کے دعوؤں کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کی فوج کو کافی نقصان ہوا ہے اور اس کی معیشت، جو پہلے ہی امریکی پابندیوں کے دباؤ میں تھی، تیزی سے خراب ہوئی ہے۔

جنگ کے دوران کم از کم 13 افراد کو پھانسی دی گئی، جن میں سے کئی پر جاسوسی کا الزام تھا اور کچھ کو جنوری کے ملک گیر احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ کارروائیاں اندرونی اختلاف کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے اندر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہیں، کیونکہ حکام دوبارہ ملک میں اپنا کنٹرول مزید سخت کرنا چاہتے ہیں۔

امن مذاکرات سے پہلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایک اہم امریکی مطالبہ تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس پر ایران کو رضا مند کرنا بہت مشکل تھا۔

ایران نے بدھ کو خبردار کیا کہ پاسداران انقلاب کی اجازت کے بغیر وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ’نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا۔‘

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ان ’ناقابلِ قبول‘ رپورٹس سے آگاہ کیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نجی سطح پر سامنے آنے والی رپورٹس اس سے مختلف ہیں۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کے لیے تحفظ فراہم کرے گا۔ جو اُن کے بقول ایران کے ساتھ امریکی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہزار سال تک کھلا تھا۔

ساتھ ہی اُنھوں نے لبنان پر اسرائیل کے حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف اسی صورت میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے گا، جب امریکہ اپنی ’جارحیت‘ ختم کرے گا۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ایران بین الاقوامی اُصولوں اور قوانین کی پابندی کرے گا۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانیوں میں نہیں ہے۔ یہ محفوظ راستہ ’ایران اور عمان کی خیر سگالی‘ پر منحصر ہے۔

آبنائے ہرمز بین الاقوامی سمندری قانون اور اقوامِ متحدہ کے کنونشن ان دی لا آف سی کے تحت چلتی ہے جو سمندری ٹریفک کے لیے محفوظ راستے کو یقینی بناتا ہے۔

خطرناک مثال

تو ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لے مزید کیا کر سکتا ہے؟ ایرانی پارلیمنٹ کی اس حوالے سے تجاویز کے نو نکات ہیں۔

سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ ’دُشمنوں کی کشتیاں نہیں گزرنے دیں گے،‘ اس کے ساتھ ایران اسے ایک سروس کے طور پر رکھے گا، یعنی کمپنیوں کو ایرانی کرنسی میں ادائیگی کرنا ہو گی، جس کے پاس ایرانی بینک اکاونٹ ہو اور بحری جہاز میں موجود سامان سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔

یہ بہت ہی پیچیدہ تجاویز ہیں اور اس پر تاحال ایرانی پارلیمان میں رائے شماری نہیں ہوئی۔

اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اس کے مغربی اور علاقائی اتحادی اسے تسلیم کریں گے یا نہیں۔

حالیہ ردِعمل ظاہر کرتا ہے کہ اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے، کیونکہ آبی راستوں میں نقل و حمل کی آزادی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بہت اہم ہے اور کسی بھی قسم کا ٹول ٹیکس ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔

اگر ایران کامیاب ہوتا ہے، تو یہ اس کی بہت بڑی سٹریٹجک اور علامتی فتح ہو گی۔ لیکن اس کا منفی نتیجہ بھی نکل سکتا ہے، کیونکہ اس سے امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی مخالفت میں متحد ہو جائیں گے۔ یہ ایران کے لیے مزید سفارتی تنہائی، معاشی مشکلات اور کسی مزید فوجی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔