دنیا میں صنفی تفریق

وقت اشاعت

یورپی ملک آئس لینڈ مسلسل پانچ سال تک ورلڈ اکنامک فورم کی دنیا میں جنس کی بنیاد پر برابری کی عالمی درجہ بندی میں اول درجے پر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئس لینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں خواتین تعلیم، صحت جیسی سہولیات اور شعبوں میں مساوی حق رکھتی ہیں اور ایسا ممکن ہے کہ وہ ملک کی سیاسی اور معاشی ترقی میں برابری کی بنیاد پر حصہ ڈالیں۔

عالمی جینڈر رپورٹ سنہ 2013 کے مطابق بہترین درجہ بندی میں شامل ممالک میں فن لینڈ، ناروے اور سویڈن بھی شامل ہیں۔

ایک سو چھتیس ممالک میں سے چھیاسی ممالک کے مشاہدے سے پتا چلتا ہے کہ عمومی طور پر سنہ دو ہزار تیرہ میں دنیا بھر میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق نسبتاً کم ہوا ہے۔ ان ممالک کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا ترانوے فیصد حصہ ہے۔

ان ممالک میں بہتری کے آثار ہیں مگر اس جائزے کی مصنف سعدیہ زاہدی کے مطابق ’تبدیلی کا عمل یقیناً بہت سست ہے‘۔

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کیسے روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں جیسا کہ صحت ہے یا تعلیم، روزگار یا پھر سیاست کے حوالے سے مختلف ممالک کا آپس میں موازنہ کیا گیا ہے تو مندرجہ ذیل نقشوں کا جائزہ لیجیے اور اوپر دیے گئے انٹریکٹو نقشے کو استعمال کریں۔

یورپ

شمالی یورپی ممالک عمومی طور پر براعظم کے دوسرے ممالک کی نسبت بہتر ہیں اور ورلڈ اکنامک فورم اس بہتری کو ایسی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے جن کی مدد سے کام اور عائلی زندگی کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جنوبی یورپی ممالک میں تعلیم کے شعبے میں فرق گزشتہ کچھ سالوں میں کم ہونا شروع ہوا ہے اگرچہ خواتین کی جانب سے کام کرنے والے طبقے میں شمولیت کم رہی ہے۔

ایشیا

فلپائن ایشیا کے تمام ممالک میں واضح طور پر سب سے زیادہ مساوی ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق اس کی وجہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق میں کافی کمی واقع ہونا ہے۔

چین اس درجہ بندی میں انہترویں درجے پر آتا ہے جو بھارت سے آگے ہے جس کی درجہ بندی 101 ہے اور ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق اس کی وجہ صحت، تعلیم اور معاشیات کے شعبے میں بہت کم بہتری ہے۔

وسطی اور لاطینی امریکہ

اس خطے کے بہترین ممالک میں سے تین کیوبا، نکاراگوا اور ایکواڈور ہیں جو دنیا کے پچیس بہترین ممالک میں شامل ہیں۔ درجہ بندی میں برازیل باسٹھویں نمبر پر ہی رہا۔

برازیل میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں فرق بہت کم ہوا ہے اور سعدیہ زاہدی کے مطابق ’یہ براعظم مزدوری اور سیاسی شرکت کی بنیادوں پر ترقی کرنا شروع ہو رہا ہے‘۔

شمالی امریکہ

کینیڈا اور امریکہ ترتیب وار بیسویں اور تیئسویں درجے پر ہیں۔ کینیڈا نے تعلیم کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے جبکہ سیاسی شرکت میں اس کی کارکردگی بہت بہتر نہیں تھی۔

امریکہ کینیڈا سے کم درجہ بندی پر ہے مگر امریکہ نے صحت اور معاشیات کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اہم بات ہے کہ دونوں ممالک تعلیم میں برابر درجے پر ہیں۔

صحارائی افریقہ

دنیا میں سب سے زیادہ فرق والے ممالک اس خطے میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ چاڈ اور آئیوری کوسٹ ہیں جو کہ عالمی درجہ بندی میں سب سے نیچے آئے ہیں۔

مگر جنوبی افریقہ کے ممالک میں مزدور طبقے میں شمولیت کی سطح بلند ہے اور سیاسی شرکت کی شرح نے بھی ان ممالک کی بہتر درجہ بندی میں مدد کی ہے جس کی وجہ سے دنیا کہ اوپری تیس ممالک میں شامل ہوئے ہیں۔ لیسوتھو سولہویں، جنوبی افریقہ سترہویں اور موزمبیق چھبیسویں درجے پر ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ

یہ وہ خطہ ہے جس میں جنس کی بنیاد پر سب سے زیادہ فرق پایا جاتا ہے مگر صورتحال سارے خطے میں ایک جیسی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر خلیجی ممالک میں خواتین کی تعلیم پر بہت زیادہ اخراجات کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات میں تعلیم کے شعبے میں فرق کمی کی طرف مائل ہے۔ اب اس ملک میں مردوں کی نسبت زیادہ خواتین یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو رہی ہیں۔

مگر اس کے برعکس یمن ہے جہاں خواتین کی تعلیم کی سطح بہت ہی کم ہے۔

یہ درجہ بندیاں کیسے کی گئیں؟

جنس کی بنیاد پر فرق کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم نے ایک درجن سے زیادہ ڈیٹا کے ماخذوں سے مدد حاصل کی۔ ایک سکور یا سو فیصد کا مطلب ہے مساوی حقوق اور صفر کا مطلب ہے عدم مساوات۔ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نتائج سے درجہ بندیاں تشکیل دی گئیں۔