’خواتین کے قتل کے حکم پر پر از خود نوٹس‘

وقت اشاعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان میں مقامی جرگے کی جانب سے پانچ خواتین کو قتل کرنے کے مبینہ حکم پر از خود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ صوبے کے چیف سیکرٹری سمیت متعدد افسران کوچھ جون کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقے کوہستان میں شادی کی تقریب میں لڑکوں کے رقص پر تالیاں بجانے پر پانچ خواتین کو مقامی جرگے کی جانب سے قتل کرنے کا مبینہ حکم دیا گیا تھا۔

پیر کو عدالت نے اس واقعہ سے متعلق ہونے والی تحققیات میں پیش رفت سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

عدالت نے کمشنر ہزارہ ڈویژن، ریجنل پولیس افسر ہزارہ ڈویژن اور کوہستان کے ضلعی پولیس افسر کو بھی طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پیر کو اٹارنی جنرل عرفان قادر سے متعقلہ حکام سے اس واقعہ سے متعلق معلومات حاصل کر کے عدالت کو آگاہ کرنے کے بارے میں بھی کہا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل کوہستان میں ایک شادی کی تقریب کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں دو لڑکوں کو ڈانس کرتے ہوئے دکھایاگیا تھا جبکہ پانچ خواتین ان کے رقص پر تالیاں بجا رہی تھیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مقامی جرگے نے اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد دو لڑکوں اور پانچ خواتین کو موت کی سزا سنائی تھی۔

جس کے بعد متضاد خبریں آئیں کہ پانچوں خواتین کو ہلاک کر دیا گیا تاہم مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت ایسے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے سے انکاری ہے۔

پیر کو ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی جانب سے سنہ نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کوہستان میں رونما ہونے والے واقعہ کا نوٹس لیا اور عدالت نے اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو ہلاک کیے جانے سے متعلق ابھی عدالت کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی جرگوں اور پنچائت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی جرگے نے کوئی ایسا فیصلہ دیا ہے اور جن لوگوں نے اس پر عمل درآمد کیا ہے وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ اگر یہ خواتین زندہ ہیں تو پھر انہیں آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

کوہستان کی مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہ دو دن کی پیدل مسافت پر ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار اس واقعہ کی تصدیق کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے جو ابھی تک واپس نہیں آیا۔