لائیو, ایران کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا
جمعے کی شب ایرانی وفد کی آمد کے بعد اب نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل سنیچر کی سہ پہر شروع ہونے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
خلاصہ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے
ایرانی مذاکراتی وفد قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے اس کا استقبال کیا گیا
دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو چکے ہیں
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 'ایرانی صرف اس لیے آج زندہ ہیں تاکہ مذاکرات کریں'
ایران کا اسلام آباد مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات 'ایک کٹھن مرحلہ ہے' جس میں کامیابی کے لیے کوششیں کی جائیں گی
لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے
لائیو کوریج
مذاکرات کے لیے ایرانی و امریکی وفود اسلام آباد میں
،ویڈیو کیپشنمذاکرات کے لیے ایرانی و امریکی وفود اسلام آباد میں
امریکہ اور ایران کے وفود دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور آج متوقع ہے۔ اسلام آباد سے شہزاد ملک کی رپورٹ
امریکہ اور ایران کو اسلام آباد لانا پہلا مرحلہ تھا، یہ آخری رکاوٹ نہیں, کیری ڈیوس، بی بی سی نیوز، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہReuters
کئی ہفتوں کی قیاس آرائیوں کے بعد، اسلام آباد میں مذاکرات کے آغاز کے آثار واضح ہو گئے ہیں۔
آدھی رات کے کچھ ہی دیر بعد پاکستانی جنگی طیاروں کی گرج دار آوازیں شہر کی فضا میں گونجتی رہیں، جب وہ ایرانی وفد کے طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد اُن کے ہمراہ اسلام آباد تک آئے۔
ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی موجود ہیں۔ وفد کا ایئرپورٹ پر استقبال پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے کیا۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر طیارے کے اندر کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں نشستوں پر رکھے ہوئے سکول بیگ اور ان طالبات کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جو جنگ کے پہلے روز فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں۔
دوسری جانب امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جے ڈی وینس بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
مذاکرات کی اہمیت غیر معمولی ہے اور دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ دونوں فریقوں کو اسلام آباد لانا پہلا بڑا مرحلہ تھا، تاہم یہ آخری رکاوٹ نہیں ہوگی۔
امریکی نائب صدر کے اسلام آباد پہنچنے کی چند تازہ تصاویر
،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد میں ایران سے مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر آمد کے موقع پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے ان کا استقبال کیا۔
امریکی صدر کی آسلام آباد آمد کے موقع پر سامنے آنے ولی چند تازہ تصاویر:
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی نائب صدر کی اسلام آباد آمد کے مناظر
،ویڈیو کیپشنامریکی نائب صدر کی اسلام آباد آمد
جمعے کی شب ایرانی وفد کی آمد کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔
ایئرپورٹ پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے ان کا استقبال کیا۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ
سطحی امریکی وفد اسلام آباد میں ہونے والے ایران، امریکہ مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام
آباد پہنچ گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اس امریکی وفد میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شام ہیں۔
ایئرپورٹ پر امریکی وفد کا استقبال پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کیا۔
وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق امریکی نائب صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی سطح پر دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لیے امریکا کے عزم کو سراہا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر انھوں نے تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فریقین کو سہولت فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا امریکہ، ایران مذاکرات کا خیرمقدم: فریقین ’نیک نیتی کے ساتھ‘ اس عمل میں حصہ لیں، گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے
شدہ امن مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا ہیا کہ وہ ’نیک نیتی
کے ساتھ‘ میں شامل ہوں۔
جمعہ کے روز پریس کانفرنس
سے خطاب کرتے ہوئے، سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ گوتریس نے فریقین
سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پائیدار اور جامع معاہدے
کی جانب نیک نیتی سے کام کریں۔
ترجمان کا کہنا تھا
کہ سیکریٹری جنرل اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین بشمول اقوام متحدہ
کے چارٹر کے مطابق بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کا کوئی قابل عمل متبادل نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ
گوتریس کے ایلچی سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے خطے میں موجود ہیں۔
عالمی میڈیا، وفود کی آمد اور سخت ترین سکیورٹی کے درمیان پاکستان کا دارالحکومت کیا منظر پیش کر رہا ہے؟, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو, اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آج (11 اپریل) اُس تقریب کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس میں لگ بھگ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں ایک جانب امریکہ جبکہ دوسری طرف ایران ہوں گے۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایرانی مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پہنچا جہاں اِس کا استقبال پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔
پاکستان کی ثالثی پر امریکہ اور ایران باہمی طور پر دو ہفتے کے لیے جنگ روکنے پر آمادہ ہوئے ہیں اور پاکستانی وزیراعظم کی دعوت پر اب ان دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ایک طویل عرصے کے بعد اس نوعیت کی میزبانی کرنے والا اسلام آباد معمول سے ایک بہت مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کی مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
مذاکراتی وفود کے طیاروں کی براہ راست ٹریکنگ اور ’میناب 168‘ کی نشستوں پر رکھے سکول بیگ اور بچوں کی وائرل تصاویر
،تصویر کا ذریعہ@mb_ghalibaf
جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں شیڈول مذاکرات کے لیے تہران کا وفد سنیچر کی علی الصبح پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر پہنچا تو وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں کہ آیا تہران مذاکرات کا حصہ بنے گا بھی یا نہیں۔
اس قیاس آرائیوں کی بنیادی وجہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے دی گئی چند ’پیشگی شرائط‘ تھیں۔
پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ان مذاکرات میں ایران کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تصویر شیئر کی جو کافی وائرل ہوئی۔
یہ تصویر اس طیارے میں لی گئی ہے جو ایرانی وفد کو لے کر رالپنڈی کے نور خان ایئربیس پہنچا تھا۔
اس تصویر میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ کے اوپر رکھی گئی ہے اور ساتھ ہی ہر سیٹ پر سفید رنگ کا ایک پھول بھی رکھا ہوا ہے۔
وینس اور قالیباف نے بداعتمادی پر قابو پا لیا تو نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے, لز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر دنیا کو یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی ایک ساتھ کھڑے ہوئے کوئی تصویر لی گئی، تو یہ منظر ایک نئی تاریخ رقم کر دے گا۔
یہ لمحہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والی اعلیٰ ترین سطح کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔
ایران میں اسلامی انقلاب نے ان دونوں ممالک کے مضبوط سٹریٹجک تعلق کو ناصرف توڑ دیا تھا بلکہ اِن تعلقات پر ایک ایسا مہیب سایہ ڈالا تھا جو آج تک چھایا ہوا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ دونوں افراد (جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف) اُس ممکنہ تصویر میں مسکراتے نظر نہ آئیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاید وہ مصافحہ بھی نہ کریں۔
اور شاید اس سے ان دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ تعلق نہ تو زیادہ آسان ہو جائے گا اور نہ ہی کم معاندانہ۔
لیکن یہ ممکنہ تصویر اس بات کا اشارہ ضرور دے گی کہ دونوں فریق دنیا بھر کو متاثر کرنے والی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، مزید اور خطرناک کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
بی بی سی کی مرکزی بین الاقوامی نامہ نگار لز ڈوسیٹ کا مکمل کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
بریکنگ, امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں ایران سے مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ
گئے ہیں۔
ایوی ایشن ذرائع نے بی بی سی اردو کے عُمر دراز کو بتایا ہے کہ جے ڈی وینس کو لانے والا ایئر فورس ٹو طیارہ اسلام آباد میں اُتر چُکا ہے۔
واضح رہے کہ 19 سال
کے طویل وقفے کے بعد یہ کسی امریکی نائب صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ اس سے قبل سنہ
2007 میں اُس وقت کے امریکی نائب صدر ڈک چینی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
امریکہ کی جانب سے اسلام
آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں
جبکہ اُن کی ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد
جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔
امریکی نائب صدر کے وفد میں شامل دونوں طیارے ایس اے ایم 091 اور ایس اے ایم 095 پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہflightradar24
امریکہ ایران مذاکرات، اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اہم وفود کی شہر میں آمد کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
شہر کی چند تازہ تصاویر:
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہماری نیت نیک ہے، لیکن امریکہ پر اعتماد نہیں: محمد باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ایرانی وفد
کی سربراہی کرنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایک
سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ، مذاکرات کے دوران اور ہماری نیک نیتی کے باوجود،
ہم پر حملے کیے گئے اور بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔‘
اسلام آباد آمد کے موقع پر ایران سے وفد کے ساتھ
آنے والے ایرانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر
قالیباف نے مزید کہا کہ ’ہماری نیت نیک ہے، لیکن ہمیں امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قالیباف کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ حقیقی معاہدے کے
لیے تیار ہے اور ایرانی قوم کے جائز حقوق تسلیم کرتا ہے تو ایران بھی معاہدے کے
لیے مکمل آمادگی کا مظاہرہ کرے گا۔‘
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر واشنگٹن مذاکرات
کو محض نمائشی عمل یا دھوکا دہی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تو
تہران اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیار
ہے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ سپیکر نے حالیہ جارحیت کے دوران
ملک کی کامیاب اور فیصلہ کن دفاعی و جوابی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ
اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خودمختاری کے دفاع کے
لیے مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہے۔‘
ایران امریکہ مذاکرات کی میز پر کون کون بیٹھے گا؟
،ویڈیو کیپشنایران امریکہ مذاکرات کی میز پر کون کون بیٹھے گا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان سنیچر کو اسلام آباد
میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔
ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کی جانب سے کون
کون شامل ہوگا؟
امریکہ کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات
میں وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ اُن کی ساتھ مشرقِ
وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور اُن کے داماد جیرڈ کشنر شامل
ہیں۔
جبکہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شمولیت کے اسلام
آباد پہنچنے والوں میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ
عباس عراقچی، ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، سیکریٹری اعلیٰ قومی دفاعی
کونسل علی اکبر احمدیان، نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی اور ایران کی وزارتِ خارجہ
کے ترجمان اسماعیل بقائی شامل ہیں۔
لبنان سے مذاکرات میں اسرائیل کا حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت سے انکار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل نے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں لبنانی نمائندوں
کے ساتھ باضابطہ امن مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل کا
کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں حزب اللہ شامل نہیں ہے۔ یہ بات امریکا میں اسرائیل کے
سفیر مائیکل لیٹر نے جمعہ کے روز کہی۔
امریکا میں اسرائیلی سفیر مائیکل لیٹر نے کہا کہ ’اسرائیل
نے حزب اللہ نامی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جنگ بندی پر بات کرنے سے انکار کر دیا
ہے، جو اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ
میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق امریکا میں لبنان اور اسرائیل کے
سفیروں کے درمیان، جبکہ بیروت میں امریکی سفیر کی شمولیت سے ایک ٹیلیفونک رابطہ
بھی ہوا۔
لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق،
امریکی ثالثی میں منگل کے روز ہونے والے ان مذاکرات میں اسرائیل اور لبنان کے
درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی پر توجہ دی جائے گی۔
ایرانی وفد کی پرواز کا نام ’میناب 168‘
،تصویر کا ذریعہ@mb_ghalibaf
ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایرانی مذاکراتی وفد کے طیارے کا نام حالیہ جنگ کے دوران میناب سکول سے منسوب کیا گیا ہے۔
’میناب 168‘ سے مراد بچوں سمیت وہ 168 ایرانی شہری ہیں جو ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں ایران کے شہر میناب میں واقع بچوں کا سکول ’شجرۂ طیبہ‘ تباہ ہوا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ غیر ارادی طور پر امریکی افواج کی جانب سے ہوا تھا۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کہہ چکے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ اور پھولوں کے اوپر رکھی گئی ہے۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ میں ان تصاویر کے ساتھ لکھا کہ ’اس پرواز میں میرے ساتھی۔‘
اسلام آباد مذاکرات سے متعلق چار اہم باتیں
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔
ان مذاکرات کے بارے میں یہ چند باتیں اہم ہیں:
پاکستان گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر ایران کو ’زیادہ تر لوگوں سے بہتر‘ جانتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ کو ایران کی جانب سے ایک 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انھوں نے ’مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد‘ قرار دیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک 15 نکاتی منصوبے کا ذکر کیا ہے جس کے بارے میں امریکی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں نے امن مذاکرات پر شکوک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔ بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے ملک بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
جمعے کی شام لبنان نے بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کرے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی کے لیے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
ایرانی مذاکراتی وفد میں کون کون شامل؟, غنچہ حبیبی زاد، بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہX/@IraninSA
ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جو حالیہ عرصے میں ایرانی حکومت میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی حالیہ پوسٹس میں وہ امریکہ کے حوالے سے ایران کے عدمِ اعتماد کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
حالیہ جنگ کے دوران ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکی انتظامیہ قالیباف کو ایک ممکنہ شراکت دار اور حتیٰ کہ مستقبل کے کسی رہنما کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
وفد میں ایک اور اہم شخصیت ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہیں جو ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اسی جوہری پروگرام کے باعث ایران پر مغربی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ مذاکرات کا تازہ دور جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن قبل منعقد ہوا تھا۔
ایک اور رکن عبدالناصر ہمتی ہیں جو ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ہیں۔ ایران اس بات کا عندیہ دے چکا ہے کہ اس کے مطالبات میں ملک پر عائد تمام معاشی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ان پابندیوں نے برسوں سے ایرانی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کی موجودہ معاشی صورتحال جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں فولاد اور پیٹروکیمیکل جیسی بڑی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جبکہ کاروباروں پر حکومتی سطح پر عائد کیے گئے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
یہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ جنگ کے آغاز کے بعد سے تاحال برقرار ہے۔
ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر آبنائے ہرمز کھول دیں گے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو سنی جنھوں نے ورجینیا کے شہر شارلٹس وِل کے لیے روانہ ہوتے ہوئے طیارے میں سوار ہونے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانگی سے قبل انھوں نے نائب صدر جے ڈی وینس سے کیا کہا تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’میں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک ہی نشست میں مکمل ہو جائیں گے یا آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی متبادل منصوبے کی ضرورت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں۔‘
ایک اور صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کیسا ہوگا۔
اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران میں ’حکومت کی تبدیلی پہلے ہی ہو چکی ہے۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھول دی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے کافی جلد کھول دیں گے۔‘
جب ان سے ان اطلاعات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کر سکتا ہے تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘
اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات منگل کو واشنگٹن میں ہوں گے
لبنانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ اس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع میں جنگ بندی پر بات چیت کرنا ہے۔
ان مذاکرات میں امریکہ ثالث کا کردار ادا کرے گا۔
لبنانی صدر جوزف عون کے دفتر نے کہا کہ دونوں ممالک امریکی وزارتِ خارجہ میں ملاقات کریں گے تاکہ ’جنگ بندی کے اعلان اور براہِ راست مذاکرات کے آغاز کی تاریخ‘ طے کی جا سکے۔
بیان کے مطابق جمعے کے روز امریکہ میں موجود لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کے درمیان، لبنان میں امریکی سفیر کی شرکت کے ساتھ، ایک رابطہ ہوا جس کا مقصد ان مذاکرات کا انتظام کرنا تھا۔
ادھر بیروت میں حملے سے متاثرہ مقام کا دورہ کرتے ہوئے لبنانی وزیرِ داخلہ احمد حجار نے کہا کہ جنگ بندی لبنان کا ایک بنیادی مطالبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہدف جنگ بندی ہے۔ اس کے لیے جو کچھ بھی درکار ہو، حتیٰ کہ دنیا کے آخری سرے تک جانا پڑے، ہم اپنے ملک کے لیے سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کے لیے تیار ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سفارتی راستے پر انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔‘
جس مقام کا وزیرِ داخلہ دورہ کر رہے تھے وہ اُن متعدد جگہوں میں سے ایک ہے جنھیں بدھ کے روز اسرائیل نے نشانہ بنایا۔ یہ حملے لبنان پر کیے گئے اسرائیلی حملوں کے حالیہ دنوں کے سب سے شدید سلسلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ لبنانی حکام صرف اسی صورت میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شامل ہوں گے اگر پہلے سے جنگ بندی نافذ ہو چکی ہو۔
ایرانی وفد کا اسلام آباد میں استقبال
،تصویر کا ذریعہForeign Ministry, Pakistan
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی وفد کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا گیا۔
ترجمان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔
ایرانی وفد کی آمد پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے‘۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کے درمیان ’سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایرانی وفد کی آمد کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔