لائیو, پی پی پی اور حکومت کا مشترکہ وفد جمعے کو پی ٹی آئی سے مذاکرات کرے گا: ایوان صدر

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایوان صدر کا کہنا ہے ’وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد جمعے کو پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔‘

خلاصہ

  • مدینہ میں بجلی تقسیم کرنے والے مرکز پر حوثیوں نے حملہ کیا: سعودی اتحاد کا الزام
  • ملاقات کے لیے حکومت کا پیغام قبول کیا ہے: بیرسٹر گوہر
  • لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا، پانچ اکتوبر کو کوہاٹ میں پڑاؤ کے بعد ضلع پشاور داخل ہو گا: تحریک انصاف
  • شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے، افغان طالبان نے پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رکھی ہے: ترجمان پاکستانی فوج
  • متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز پر دوران سفر پیش آئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ طیارہ واقعے میں ایران ملوث تھا یا نہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

لائیو کوریج

  1. ضلع کیچ میں چار افراد کی ہلاکت پر احتجاج، وکلا کا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالیچہ میں چار افراد کی ہلاکت کے خلاف مکران ڈویژن میں وکلا نے جمعرات کو بطور احتجاج عدالتوں کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔

    یہ چاروں افراد گذشتہ جمعے کو بالیچہ کے تفریحی مقام پر پکنک منانے کے دوران مارے گئے تھے۔

    مارے جانے والے تین افراد کے ایک رشتہ دار خلیل تگرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افراد دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کی وجہ سے مارے گئے، جو کہ فضا سے آ کر ان پر گرا تھا۔

    کیچ میں آل پارٹیز کیچ کے نام سے سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    بی بی سی اردو نے اس واقعے پر مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ حکومتی اور انتظامی عہدیداروں سے رابطہ کیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ہلاک ہونے والے افراد کون تھے؟

    ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے کلگ تگران اور بالیچہ سے تھا۔

    یہ علاقہ تربت سے اندازاً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر مند کی جانب واقع ہے۔

    ہلاک ہونے والوں کے شناخت زبیر تگرانی، محمد یاسر کریم ، سمیر عبدالخالق اور دیدگ بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان میں شامل زبیر تگرانی یونین کونسل کلگ تگران کے وائس چیئرمین تھے۔

    ان کے قریبی رشتہ دار خلیل تگرانی نے بتایا کہ زبیر تگرانی کا سیاسی تعلق مرکزی جمیعت اہلحدیث سے تھا اور وہ سنہ 2024 کے عام انتخابات میں جماعت کی طرف سے بلوچستان اسمبلی کی نشست کے بھی امیدوار تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ تھی اور وہ شادی شدہ تھے۔

    خلیل تگرانی کے مطابق محمد یاسر کریم اور سمیر عبدالخالق بھی ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔

    ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار صغیر احمد (فرضی نام ) نے بتایا کہ محمد یاسر کریم کی عمر 26 سال تھی، وہ شادی شدہ تھے اور ان کی آٹھ ماہ کی ایک بچی ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ محمد یاسر اور سمیر عبدالخالق ڈرائیور تھے اور وہ محنت مزدوری کرتے تھے۔

    ان کے مطابق ان چاروں کے ساتھ جانے والے دو دیگر افراد اس واقعے میں زندہ بچ گئے کیونکہ وہ واقعے کے وقت ان کے قریب نہیں تھے، بلکہ 7سے 8 سو میٹر کے فاصلے پر تھے۔

    خلیل تگرانی کہتے ہیں کہ مارے جانے والے افراد کی لاشیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے حوالے کیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے انصاف کے جو بھی تقاضے ہیں وہ حکومت اور ریاستی ادارے پورے کریں۔

    ’واقعے کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کی جائے اور متائثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔‘

    دوسری جانب آل پارٹیز کیچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایسے واقعات عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے مزید بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، جبکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔‘

    آل پارٹیز کیچ نے متاثرہ خاندان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ واقعے کی غیر جانب دارانہ، شفاف اور مکمل تحقیقات کرے۔

    اس واقعے کے حوالے سے حکومت اور انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے وزیر داخلہ بلوچستان، وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا اور محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا کے علاوہ کمشنر مکران ڈویژن، ڈپٹی کمشنر کیچ اور ایس ایس پی کیچ سے رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن انھوں نے نہ ہی کال وصول کی اور نہ اس حوالے سے میسیج کا جواب دیا۔

  2. برطانوی فضائی اڈے کے قریب مبینہ دہشت گردی کے الزام میں برطانوی۔ایرانی شہری گرفتار: پولیس

    برطانیہ کی کاؤنٹر ٹیررازم پولیس

    برطانیہ کی کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک برطانوی-ایرانی شخص کو آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کی تیاری کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔

    اس 27 سالہ شخص کو لندن کے علاقت ویسٹ منسٹر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک دوسرے شخص، جو 26 سالہ برطانوی شہری ہے، سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے، جبکہ علاقے میں واقع دو جائیدادوں کی تلاشی لی گئی ہے۔

    اتوار کے روز گلوسٹرشائر میں واقع فضائی اڈے کے قریب گرفتار کیے گئے بیس سے کچھ زائد عمر کے پانچ افراد بدستور ضمانت پر ہیں۔ یہ پانچوں افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری تھے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کی سینیئر کوآرڈینیٹر وکی ایونز کا کہنا ہے کہ پولیس ’تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور کر رہی ہے، جن میں کسی غیر ملکی ریاست کے ممکنہ کردار کا امکان بھی شامل ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’گلوسٹرشائر میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق تحقیقات انتہائی پیچیدہ ہیں اور ہماری ماہر ٹیمیں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’میں عوام کی مسلسل حمایت اور صبر پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی۔‘

    خیال رہے اتوار کی صبح دیگر پانچ افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب امریکی فضائیہ کے زیرِ انتظام اڈے کی جانب ’تین مشتبہ گاڑیوں‘ کے جانے کی اطلاع ملی تھی۔

  3. مدینہ میں بجلی تقسیم کرنے والے مرکز پر حوثیوں نے حملہ کیا: سعودی اتحاد کا الزام

    ترکی المالکی کی جاری کردہ تصویر

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے مدینہ میں واقع پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 ستمبر 2026 کو صبح پانچ بج کر 11 منٹ پر مدینہ میں واقع بجلی تقسیم کرنے والے مرکز پر حملہ کیا گیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی تحقیقات اور جمع کیے گئے شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں حوثی ملیشیا ملوث تھی۔

    اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ واقعے کے بعد کی تحقیقات اور استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے جائزے کے بعد اخذ کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایک پاور ٹرانسفارمر ناکارہ ہوا، تاہم بجلی کی ترسیل کے نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا کہ جس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا وہ ’مدینہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے نظام کا حصہ تھی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کو روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

  4. ملاقات کے لیے حکومت کا پیغام قبول کیا ہے: بیرسٹر گوہر

    بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کل ملاقات کا پیغام موصول ہوا جسے قبول کر لیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھجوایا گیا پیغام ’اپوزیشن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں‘ قبول کیا گیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کل دوپہر 12 بجے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفتر میں اپوزیشن اور حکومتی وفود کے درمیان ملاقات ہو گی۔

    ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق اپوزیشن سے ملاقات کرنے والے وفد میں حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین بھی شامل ہوں گے۔

    ایوانِ صدر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی کی صورتحال پر ’تشویش کا اظہار کیا گیا اور طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد کل (جمعہ کو) پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحالپر مذاکرات کرے گا۔‘

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہوں گے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی کریں گے۔

  5. لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا، پانچ اکتوبر کو کوہاٹ میں پڑاؤ کے بعد ضلع پشاور داخل ہو گا: تحریک انصاف

    سہیل آفریدی اور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ کرک، جبکہ پانچ اکتوبر کو دوسرا پڑاؤ کوہاٹ میں ہو گا۔

    شفیع جان کے مطابق، ’اس کے بعد لانگ مارچ ضلع پشاور داخل ہو گا۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چار اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم شفیع جان کی ایکس پوسٹ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ مارچ کس تاریخ کو اسلام آباد پہنچے گا۔

    ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں اور حامیوں سے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔

    شفیع جان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر وزیر اعلیٰ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں سہیل آفریدی کہہ رہے ہیں کہ وہ کل (جمعہ، دو اکتوبر) شام چار بجے پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں موجود ہوں گے۔

    اس ویڈیو میں سہیل آفریدی کے ساتھ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی موجود ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کہتے ہیں کہ کل پی ٹی آئی کی تمام لیڈرشپ رات تک موجود رہے گی اور لانگ مارچ کے لیے چندہ دینے کے خواہش مند افراد اپنا عطیہ براہِ راست انھیں دے سکیں گے۔

  6. شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے: ترجمان پاکستانی فوج

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے اور سکیورٹی فورسز، انٹیلیجنس ادارے اور پولیس روزانہ کی بنیاد پر اس خطرے کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران کسی کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ جب شدت پسندی کے خطرے کے بارے میں واضح شواہد موجود ہوں اور اس کے باوجود بعض حلقے اس معاملے پر مؤثر ردعمل نہ دیں تو سوالات جنم لیتے ہیں۔

    ان کے بقول ایسے طرزِ عمل کے بارے میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ ’آیا یہ نااہلی ہے، صورتحال کی درست سمجھ کا فقدان ہے، بے حسی ہے یا پھر دانستہ تعاون۔‘

    ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) احمد شریف چوہدری نے کہا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ کو کسی سیاسی مصلحت یا سیاسی مفاد کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے، ریاست ہے تو آپ اور میں ہیں۔‘

    ملک میں شدت پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سیاسی قیادت نے تشکیل دیا تھا اور تمام متعلقہ فریقوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

    پریس بریفنگ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پوچھا گیا تو ترجمان پاکستان فوج کا جواب تھا: ’فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور ہم سیاست سے متعلق کسی سوال کا جواب نہیں دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سیاست سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔‘

  7. مکہ اتحاد اور سعودی عرب کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    26 ستمبر کی تصویر: سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان پاکستانی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کر رہے ہیں
    ،تصویر کا کیپشن26 ستمبر کی تصویر: سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان پاکستانی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کر رہے ہیں

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ اتحاد کے تحت دفاعی اور آپریشنل تعاون سے متعلق معاملات خفیہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور انھیں میڈیا میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا۔

    راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تحت آپریشنل دفاعی معاملات پر عوامی سطح پر گفتگو نہیں کی جاتی۔

    تاہم انھوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب، حرمین شریفین اور مکہ اتحاد کے لیے پاکستان کی وابستگی اور حمایت ’غیر متزلزل‘ ہے۔

    ان کے بقول، اس معاملے پر کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے۔

  8. افغان طالبان نے پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رکھی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر کا الزام

    پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رہے ہیں۔

    راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان یا اس کے عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان کی حکومت سے مسئلہ ہے، ’جس نے خود کو افغانستان پر مسلط کر رکھا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نہ تو منتخب شدہ ہے اور نہ ہی وہاں کے عوام کی نمائندہ ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق ’چونکہ یہ ایک مسلط کردہ حکومت ہے، اس لیے ایسی حکومتوں کو اپنے وجود کے لیے ایک سکیورٹی مسئلہ، عدم تحفظ کی کیفیت اور جبر و استبداد کی فضا درکار ہوتی ہے، جس میں وہ پھلتی پھولتی ہیں۔‘

    ترجمان پاک فوج کے الزام کے مطابق ’اسی مقصد کے لیے انھوں نے دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کو اکٹھا کر رکھا ہے۔‘

    انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ افغان طالبان نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رکھی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری اقدام ہوا، وہ کیا جائے گا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان فیصلہ خود کرے گا کہ افغانستان کے حوالے سے کب، کہاں اور کس طریقے سے کیا اقدام کرنا ہے۔

  9. ایران میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی، ڈالر دو لاکھ 60 ہزار تومان کے قریب

    ایران ڈالر

    ایران میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں جمعرات کو ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ڈالر اپنی بڑھتی ہوئی قدر کے ساتھ دو لاکھ 60 ہزار تومان کے قریب پہنچ گیا۔

    غیر ملکی کرنسیوں اور سونے کی لمحہ بہ لمحہ قیمتیں جاری کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یورو کی قدر بدھ کے مقابلے میں تقریباً چار ہزار تومان بڑھ گئی اور یہ تقریباً دو لاکھ 90 ہزار تومان پر ٹریڈ ہوا۔

    کرنسی کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے مرکزی بینک نے بدھ کو مارکیٹ میں دو ارب ڈالر مالیت کے نوٹ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    مرکزی بینک کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ارب ڈالر ملک بھر میں بینکوں کی منتخب شاخوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے مارکیٹ میں لائے جائیں گے۔

    ایران کی قومی کرنسی کی قدر میں حالیہ ہفتوں کے دوران مزید کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کے اقتصادی دباؤ کے منصوبے کے آغاز اور ایران کے خلاف جاری بحری محاصرے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

  10. پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد

    پاکستان مہنگائی

    پاکستان ادارۂ شماریات کے مطابق ستمبر 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔

    یوں، مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    جبکہ گذشتہ سال ستمبر میں مہنگائی 5.8 فیصد تھی۔

    کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) روزمرہ استعمال کی اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں تبدیلی کو ناپنے کا ایک پیمانہ ہے، جس کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ عام صارفین کے لیے مہنگائی کس رفتار سے بڑھ یا کم ہو رہی ہے۔

    ادارۂ شماریات کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر میں بعض غذائی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پیاز کی قیمت میں 29 فیصد، گندم تقریباً چار فیصد اور آٹے کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    اس عرصے کے دوران دال چنا، دال مسور، خشک میوہ جات، گوشت اور کوکنگ آئل بھی مہنگے ہوئے۔

    دوسری جانب ٹماٹر کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ چکن، انڈوں، آلو، دال مونگ اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔

    غیر غذائی اشیا اور خدمات میں بجلی کے نرخوں میں 15.3 فیصد اور موٹر فیول کی قیمت میں 10.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ادویات اور ذاتی استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ سروسز اور درسی کتب کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

  11. متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی پرواز کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں

    فلائی دبئی

    متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پرواز راستہ تبدیل کرنے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتاری گئی تھی۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق یو اے ای کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد الشمسی نے سرکاری ماہرین استغاثہ پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو واقعے کے اسباب اور حالات کی تحقیقات کرے گی۔

    امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلائی دبئی کے مطابق کاک پٹ میں جھڑپ یا کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جس کے بعد طیارے میں سفر کرنے والے عملے کے ارکان نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا۔

    وزارت خارجہ نے کہا کہ چونکہ طیارہ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ ہے اور اماراتی پرچم کے تحت چلتا ہے، اس لیے یو اے ای کے عدالتی حکام کو اس واقعے کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔

    بیان کے مطابق اماراتی قانون کے تحت طیارے میں ہونے والے جرائم پر یو اے ای کا قانون لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ ملک کی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔

    وزارت نے کہا کہ تحقیقات میں واقعے کے تمام محرکات اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں شدت پسندی سے ممکنہ تعلق اور پیشگی منصوبہ بندی یا کسی کی ہدایات کے تحت کارروائی کے امکانات بھی شامل ہیں۔

    بیان میں سعودی حکام کے تعاون اور واقعے سے نمٹنے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ تحقیقات مکمل ہونے اور نتائج جاری ہونے تک صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات یا قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔

  12. فضائی اڈے پر حملے کی ایرانی منصوبہ بندی سے برطانیہ کو خبردار کر دیا تھا: نیتن یاہو

    نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے برطانیہ کو خبردار کر دیا تھا کہ ایران ایک فضائی اڈے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے گذشتہ روز کہا تھا: ’اس بات کے مضبوط اشارے موجود ہیں کہ ایران کا اس واقعے میں کردار تھا جو گذشتہ ہفتے کے آخر میں برطانوی رائل ایئرفورس کے اڈے پر پیش آیا۔‘

    یاد رہے کہ اتوار (25 ستمبر) کو رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے فیئرفورڈ اڈے کے قریب تین ’مشکوک گاڑیوں‘ کی اطلاع کے بعد پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں اس فضائی اڈے کا استعمال کیا تھا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے برنہم حکومت کی جانب سے آٹھ ستمبر کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے سے کچھ ہی عرصہ قبل برطانیہ کو اس مجوزہ حملے سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا: ’ہم نے برطانوی حکام کو معلومات فراہم کیں کہ ایک حملہ ہونے والا ہے اور اس حملے کو ایران کی حمایت حاصل ہو گی۔ اور تقریباً اگلے ہی دن انھوں نے ہمارے خلاف پابندیاں عائد کر دیں۔‘

  13. شام میں مسلح افراد کا بس پر حملہ، کم از کم سات افراد ہلاک

    شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ ملک کے وسطی صوبے حمص میں بدھ کے روز ایک بس پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    برطانیہ میں قائم ادارے ہیومن رائٹس واچ برائے شام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد علوی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے، جو سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ بس ایک کمپنی کے ملازمین کو لے جا رہی تھی جب بدھ کی شام اسے مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔

  14. طیارہ واقعے میں ایران ملوث تھا یا نہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا: اسرائیلی وزیر اعظم, ہنری مور اور ہیلن سلیون، بی بی سی نیوز

    فلائی دبئی کا طیارہ

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز پر ایک پائلٹ کے دوسرے پائلٹ کو چاقو مارنے اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش میں ایران کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔

    یہ واقعہ بدھ کے روز فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آیا تھا، جب ایک پائلٹ نے چاقو کے وار کر کے دوسرے کو زخمی کیا اور طیارہ 17 ہزار فٹ تک نیچے آیا، تاہم بعد میں مسافروں اور عملے نے حملہ آور پر قابو پا کر طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا اور جہاز بحفاظت لینڈ کر گیا تھا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو اسرائیلی وزیر اعظم نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور کو سعودی عرب میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور توقع ہے کہ انھیں متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا، جہاں سے طیارے نے اڑان بھری تھی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس وقت تک ایران کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ موجود ہے، تو بنیامین نیتن یاہو نے جواب دیا: ’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پائلٹ ’اس وقت سعودی عرب میں زیرِ تفتیش ہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کی نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے، اور ان کے بقول ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور ’شاید ایک شدت پسند‘ تھے یا حملے کے پسِ پردہ کوئی اور وجوہات تھیں۔

  15. عراق سے امریکی افواج کا انخلا ’ایک عظیم اور تاریخی‘ لمحہ ہے: پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے عراق سے امریکی افواج کے انخلا کو ’ایک عظیم اور تاریخی‘ لمحہ اور ’مزاحمت کی محور‘ کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اس تاریخی فتح پر عراقی قوم، متحدہ اسلامی محاذِ مزاحمت اور اسلامی دنیا کے انقلابی مجاہدین کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکہ کو خطے سے نکل جانا چاہیے اور سکیورٹی کے انتظامات خطے کی اقوام کے سپرد کرنے چاہییں۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کی موجودگی سے نہ صرف سکیورٹی قائم نہیں ہوئی بلکہ یہ ’عدم تحفظ، شدت پسندی اور عدم استحکام‘ کا باعث بھی بنی ہے۔

    گذشتہ روز اعلان کیا گیا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں موجود تمام افواج عراق سے نکل چکی ہیں۔ عراقی حکومت نے اس انخلا کو ’قومی خودمختاری کی تکمیل‘ قرار دیا ہے۔

  16. سندھ کے میڈیکل کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج کی تحقیقات کا مطالبہ: ’اگر کراچی کے طلبہ اچھے مارکس نہیں لائے تو اس کی ذمہ داری ٹیسٹنگ نظام پر نہیں ڈالی جا سکتی‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Entrance test
    ،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

    سندھ میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے ٹیسٹ ایم ڈی کیٹ کے نتائج ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے نتائج کی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اس امتحان کے انعقاد کے ذمہ دار ادارے کا کہنا ہے کہ اگر کراچی کے طلبہ اچھے مارکس نہیں لائے تو اس کی ذمہ داری ٹیسٹنگ کے نظام پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

    سکھر آئی بی اے کے زیر انتظام ہونے والے اس امتحان میں سندھ بھر سے 33 ہزار 336 امیدواروں نے شرکت کی جن میں سے 16 ہزار 507 کامیاب ہوئے اور کامیابی کی شرح 49.5 فیصد رہی۔

    اس امتحان میں کراچی سے نو ہزار 505 امیدواروں نے حصہ لیا جن میں سے 5 ہزار 492 کامیاب ہوئے، یوں شہر میں کامیابی کی شرح 57.8 فیصد رہی۔ ضلع کراچی ایسٹ میں کامیابی کی شرح 62 فیصد جبکہ کراچی سینٹرل میں 59.9 فیصد رہی۔

    تھرپارکر سے اس امتحان میں حصہ لینے والے 59.7 فیصد طالب علم کامیاب رہے۔

    شکارپور سے تعلق رکھنے والی امیدوار مہیما نے 180 میں سے 179 نمبر لے کر پورے سندھ میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ تھر پارکر سے تعلق رکھنے والے آٹھ طلبہ نے ٹاپ 30 میں جگہ بنائی تاہم کراچی کا کوئی بھی طالب علم ٹاپ 20 میں جگہ نہیں بنا سکا۔

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 2026 کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین عامر چشتی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدر کو تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔

    ایم کیو ایم کے ترجمان کے مطابق سینیٹر چشتی نے پی ایم ڈی سی کے صدر کو لکھا ہے کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دینے والے متعدد امیدوار نتائج سے مطمئن نہیں خصوصاً کراچی کے ان امیدواروں کی جانب سے بھی تحفظات سامنے آئے ہیں جن\ھہوں نے اچھے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی، تاہم وہ میرٹ کی ابتدائی فہرست میں ٹاپ 20 میں بھی جگہ نہیں بنا سکے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران بدعنوانی یا بے ضابطگی کے ٹھوس شواہد سامنے آئے تو ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ کروانے کی ہدایت کی جائے گی۔

    ایم کیو ایم کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی نتائج پر بد اعتمادی کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ 100 بچوں کا دوبارہ ٹیسٹ لے کر دیکھ لیں حقیقت کھل جائے گی۔ انھوں نے سندھ حکومت پر تعلیم کا نظام تباہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔

    دوسری جانب سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تھر کا کوئی بچہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ کراچی کے بچے بھی ہمارے ہی بچے ہیں اور سندھ کے ہر بچے کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہیئیں۔

    ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی بچے یا طالب علم کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو معاملے کی تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جانے چاہیئیں۔

    Pakistan students
    ،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

    ’اگر کراچی کے طلبہ اچھے مارکس نہیں لائے تو اس کی ذمہ داری ٹیسٹنگ کے نظام پر نہیں ڈالی جا سکتی‘

    آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب 2024 میں ایم ڈی کیٹ پیپر لیک ہونے، سفارش اور پیسوں کے بدلے طلبہ کو پاس کیے جانے کے الزامات کی وجہ سے متنازع ہوگیا تو سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت آئی بی اے سکھر اور آئی بی اے کراچی کو یہ ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ آئی بی اے کراچی کو کراچی اور آئی بی اے سکھر کو سندھ کے دیگر اضلاع میں داخلہ امتحان کروانے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا لیکن بعد میں آئی بی اے کراچی اس ذمہ دارے سے دستبردار ہو گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ حالیہ ٹیسٹ کے تمام انتظامات، پیپر کے انعقاد اور چیکنگ کے ان کے پاس الیکٹرانک اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور پی ایم ڈی سی تحقیقات کا اختیار رکھتے ہیں اور اگر تحقیقات ہوئیں ہیں تو وہ ثبوت فراہم کر دیں گے۔

    ڈاکٹر آصف شیخ کا کہنا تھا کہ وہ صرف میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اگر کراچی کے طالب علم اچھے مارکس نہیں لا سکے تو اس کی ذمہ داری آئی بی اے کے ٹیسٹنگ کے نظام پر نہیں عائد کی جاسکتی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ سی ایس ایس کے حالیہ نتائج دیکھیں تو اس میں بھی کراچی کی ڈیڑھ سو میں بھی کہیں پوزیشن نہیں، تو کیا فیڈرل سروس کمیشن پر بھی سوال اٹھایا جائے گا۔

  17. کراچی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر 59 خواتین کے موبائل فون چوری کا معاملہ: ’کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ ساحل سب کے موبائل فون لے کر موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا ہے‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Mobilephone

    پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ملازمت دلوانے کے نام پر 59 خواتین کو مبینہ طور پر فارم ہاؤس لے جا کر ان کے موبائل فون اور بعض لڑکیوں کے اصلی قومی شناختی کارڈ چوری کرنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    ملیر کے گڈاپ تھانے میں شہناز زوجہ غلام حیدر کی مدعیت میں درج مقدمے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ کہ تقریباً دو ماہ قبل ان کی سہیلی کنول نے واٹس ایپ پر رابطہ کر کے ایک ایونٹ میں 25 روزہ ملازمت کی پیشکش کی۔

    شہناز کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ اس کام کے لیے انھیں روزانہ کی بنیاد پر دو ہزار روپے معاوضہ ملے گا جبکہ ڈیوٹی کے اوقات کار صبح 10 بجے سے شام 7 بجے تک ہوں گے۔

    شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ساحل سلمان نامی ایک شخص نے رابطہ کر کے انھیں اطلاع دی کہ ان کا سلیکشن ہو گیا ہے اور انھیں واٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا۔

    شہناز نے اپنی درخواست میں بتایا کہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے الگ الگ کوآرڈینیٹر مقرر کیے گئے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر کو سلمان نے میسیج کیا کہ تمام خواتین سے اپنے اپنے کورآڈینیٹرز سے رابطے میں رہنے اور مقررہ بس سٹاپ پہنچنے کا کہا گیا جہاں سے انھیں پک کیا جائے گا۔

    شہناز کے مطابق وہ بھی کورنگی سے بس میں سوار ہوئیں جس کے بعد اس بس نے لکی مال اور گلشن اقبال سے بھی خواتین کو اٹھایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب بس انصاری میڈوز فارم ہاؤس پہنچی تو ہم نے کہا کہ ہمیں بحریہ ٹاؤن کا کہا گیا تھا یہ بحریہ ٹاؤن تو نہیں۔

    شہناز کا کہنا ہے کہ انھیں جواب دیا گیا کہ بحریہ ٹاؤن قریب ہی ہے، آپ لوگ فریش ہو جائیں اور لنچ کریں اس کے بعد بحریہ ٹاؤن جائیں گے۔

    گڈاپ تھانے میں درج شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فارم ہاؤس میں مختلف علاقوں کی کوآرڈینیٹرز کی الگ الگ میٹنگ ہوئیں، جس کے بعد خواتین کو بتایا گیا کہ ساحل سلمان ان کے الگ الگ انٹرویوز لیں گے اور کامیاب امیدواروں کے حتمی انٹرویوز بڑے بلڈرز کریں گے۔

    مدعیہ کے مطابق شام کے وقت تمام لڑکیوں کو ایک لائن میں بٹھا کر ان کے موبائل فونز جمع کیے گئے جبکہ بعض لڑکیوں سے ان کے اصل شناختی کارڈ بھی لے لیے گئے۔ شہناز کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایک کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ ساحل سلمان تمام موبائل فونز ایک بیگ میں ڈال کر موٹر سائیکل پر فرار ہوگیا ہے۔

    واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد 59 خواتین تھانے پہنچیں۔ بعد ازاں انھیں ان کے اہل خانہ کے ہمراہ روانہ کر دیا گیا۔

    پولیس کو دی گئی درخواست میں ساحل سلمان، ایونٹ کے مبینہ منتظمین اور کوآرڈینیٹرز نرگس، وقار اور قاسم علی سمیت دیگر نامعلوم افراد کے خلاف دھوکہ دہی، نوکری کا جھانسہ دینے اور موبائل فونز چوری کرنے کے الزامات پر قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

    دوسری جانب فارم ہاؤس کے مالک اشر انصاری نے بتایا کہ ان کے فارم ہاؤس انصاری میڈوز کی بکنگ کارپوریٹ سٹاف کے نام پر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بکنگ کے وقت بتایا گیا تھا کہ تقریباً 50 سے 55 لڑکیاں آئیں گی اور تین سے چار گھنٹے کی میٹنگ کے بعد پروگرام ختم ہو جائے گا۔

    اشر انصاری کے مطابق بکنگ وقاص نامی شخص نے کروائی تھی، تاہم وہ خود فارم ہاؤس نہیں آیا، جبکہ آصف یا سلمان نامی ایک شخص اور ایک خاتون وہاں موجود تھے۔

    فارم ہاؤس کے مالک کے مطابق شام پانچ بجے کے قریب انھوں نے بکنگ کی رقم کی ادائیگی کے لیے وقاص سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ بقائی روڈ پر ہے اور کچھ دیر میں پہنچ رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد انھیں فارم ہاؤس کے کیئر ٹیکر نے اطلاع دی کہ ایک شخص خواتین کے موبائل فون لے کر فرار ہو گیا ہے۔

    اشر انصاری کے مطابق متاثرہ خواتین نے انھیں بتایا کہ مذکورہ شخص نے کہا تھا کہ باس آ رہے ہیں جو تقریر کریں گے اور موبائل فون کی گھنٹی سے خلل پیدا ہوسکتا ہے، اس لیے تمام موبائل فون ایک جگہ رکھ دیے جائیں۔ بعد ازاں وہ شخص سب کے موبائل فون لے کر وہاں سے فرار ہو گیا۔

  18. ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ آیا انھیں دھماکے سے اڑا دینا ہے یا ان سے معاہدہ کرنا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے حوالے سے سوال پر جواب

    Donald Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے آیا ایران کو دھماکے سے اڑا دینا ہے یا ان کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیسے کیا جا سکتا ہے جب امریکہ کے مقابل فریق پاگل اور غیر منطقی ہے؟

    اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے آپ انھیں بمباری کا نشانہ بنا دیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا انھیں دھماکے سے اڑا دیں یا کوئی معاہدہ کریں، لیکن وقت قریب آ پہنچا ہے۔ بہت جلد، کسی نہ کسی صورت میں، اس معاملے کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘

  19. امریکی ریاست کیلیفورنیا نے باضابطہ طور پر 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کر دی

    marriage
    ،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

    امریکی ریاست کیلیفورنیا نے باضابطہ طور پر 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایک ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت اب 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ یاد رہے کہ امریکہ کی 32 ریاستوں میں اب بھی کم عمری کی شادی کی کسی نہ کسی شکل قانونی اجازت ہے۔

    نیا قانون یکم جنوری سے نافذ العمل ہو گا اور اس کے مطابق ریاست کیلیفورنیا میں شادی کے لیے کم از کم عمر 18 برس مقرر کی گئی ہے۔

    گورنر گیون نیوسم نے اس قانون کو ’کیلیفورنیا کے نوجوانوں اور نابالغوں کے تحفظ کے لیے ایک طویل عرصے سے منتظر اقدام‘ قرار دیا۔

    انھوں نے اس بل پر کورٹنی سٹوڈن کی موجودگی میں دستخط کیے۔ سٹوڈن محض 16 برس کی تھیں جب ان کے والدین نے انھیں 50 سالہ ہالی وڈ اداکار ڈگ ہچیسن سے شادی کی اجازت دی تھی۔

    امریکہ میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مہم چلانے والی تنظیم ’اَن چینڈ ایٹ لاسٹ‘ کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں ہر سال تقریباً 9 ہزار لڑکیوں کی شادی کم عمری میں ہوتی تھی، اور ایسے تقریباً تمام معاملات میں لڑکیوں کی شادیاں بالغ مردوں سے کی جاتی تھیں۔

    خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بہت سے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں ریاستوں میں کم عمری کی شادی قانونی ہے، اور یہ کہ اس عمل کے نتیجے میں بدسلوکی اور استحصال کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

  20. ایران کی روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو فوری ملک چھوڑنے کے مطالبے کی تردید

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد طے شدہ شیڈول کے مطابق سوموار کے روز نیویارک سے روانہ ہوا تھا۔

    ایرانی مشن کا یہ بیان امریکی ویب سائٹ ایگزیوز کی اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی وفد بشمول وزیرِ خارجہ عراقچی کو فوری طور پر امریکی سرزمین چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ایکزیوز نے ایک امریکی عہدے دار اور اس معاملے سے واقف ایک دوسرے ذریعے کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی۔

    تاہم اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی محکمہ خارجہ کوئی بآے نتیجہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب بے بنیاد اور بے وقعت خبریں پھیلا رہا ہے۔‘