ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا: ابراہیم عزیزی
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہمیشہ قیمت چکانی پڑتی ہے اور یہ اصول آج بھی برقرار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یوکرین کو بھی شاید جلد احساس ہو جائے گا کہ ایران اس کے اقدامات کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔‘
یاد رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے ایک ملاح کو ہلاک کر دیا، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
عباس عراقچی نے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔‘
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
سوموار کے روز ابراہیم عزیزی نے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی قیادت اور روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے زور دیا کہ یوکرین کے اقدامات کا مناسب جواب دیا جائے گا۔







