لائیو, امریکہ کا مسلسل 13ویں روز ایرانی شہروں پر حملہ: چار افراد ہلاک، سات زخمی، ایرانی حکام
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مسلسل 13ویں روز ایران کے مختلف حصوں پر حملے کیے ہیں جن میں ایرانی فوجی کمان کے مراکز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں: کویت
ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی حمایت ابراہم اکارڈ سے مشروط کر دی
لائیو کوریج
اب سے کسی بھی جہاز کو ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اب سے کسی بھی جہاز پر حملے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا کا ہرجانہ ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا۔
اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آج کے بعد سے جہازوں، ان کے سامانِ تجارت (کارگو) یا اس سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ ایران کے ان فنڈز سے ادا کیا جائے گا جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق آئندہ اطلاع تک ہو گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ہرجانے بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہی صحیح قدم ہے۔
امریکی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک، سات زخمی
جمعہ کے روز امریکی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف حصوں پر مسلسل 13ویں رات حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جمعہ کی صبح امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام کی جانب سے امریکی فضائی حملوں کے اختتام کے اعلان کے کچھ دیر بعد جنوبی ایرانی شہر اہواز کے حکام نے بتایا کہ ان حملوں میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بندر عباس شہر پر امریکی میزائل حملوں کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبۂ ہرمزگان کی ہلالِ احمر سوسائٹی کے سربراہ کے مطابق یہ دونوں افراد ’تپہ اللہ اکبر‘ نامی علاقے میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت کے اطلاعاتی مرکز کے سربراہ حسین کرمان پور نے جمعرات کو بتایا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے 55 افراد ہلاک جبکہ 629 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکی فوج کا مسلس 13ویں رات ایران پر حملہ
،تصویر کا ذریعہUS Centcom
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے مسلسل 13ویں رات ایران پر حملے کیے ہیں۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فوج کے کمانڈ مراکز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کی تنصیبات اور ایرانی بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران سے لاحق خطرے کو مزید کم کرنا ہے۔
سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ تجارتی جہاز بدستور آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جمعہ کی صبح ایران کے جن علاقوں سے دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان میں بندر عباس، اہواز، امیدیہ، جاسک، قشم، اندیمشک، خرم آباد، خنداب، بروجرد، فیروزآباد، تفت اور نائین شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مشرقی تہران سے فضائی دفاعی کارروائیوں کی بھی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں۔
ایرانی حملے علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں: کویت
،تصویر کا ذریعہReuters/UGC
کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے ملک کے خلاف جاری ’مجرمانہ جارحیت‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو اس کے العبدلی بارڈر کو متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جو ریاستِ کویت کی ’خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ، اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے۔
کویتی وزارت نے زور دیا کہ: ’ان بار بار ہونے والے حملوں کا تسلسل ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، جو ایک منظم اور ناقابلِ جواز دشمنی پر مبنی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
ان کے بقول ان میں ایسے حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کیے گئے حملوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ’بڑے حملے‘ کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کے نتائج ہوں گے اور اسی لیے فیصلہ احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔
دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی فوج کو اس حوالے سے کوئی نئے احکامات دیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل فوری طور پر کسی نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکہ کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں اور ’ابھی انھیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔‘
یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانا بنایا جس کے باعث عالمی تیل کی ترسیل کے ایک اور اہم راستے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوبارہ جہازوں پر حملے کیے تو امریکہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثی ایران کے حمایتی گروہ ہیں، اس لیے کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجود بی-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ’جائز ہدف‘ ہوگا۔
عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی میں عراق کے ممکنہ کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کافی ثالث موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔