اردن چرچ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہو گئی، شہریوں کی سلامتی سرخ لکیر ہے: شاہ عبداللہ
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کرک کے گاؤں حمود میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ جمعے کے روز ہونے والے اس حملے میں نو افراد ہلاک جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اردن کی شاہی عدالت کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انھیں چار مسلح افراد کی جانب سے کیے گئے حملے کے بارے میں سکیورٹی بریفنگ دی گئی۔
شاہ عبداللہ دوم نے واقعے کو شرمناک دہشت گردانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اردن کی رواداری، یکجہتی اور قومی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اردن کے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ ایک سرخ لکیر ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’انصاف کا ہاتھ ہر دہشت گرد تک پہنچے گا، ایسی بزدلانہ کارروائیاں نہ تو اردن کو خوفزدہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی ملک کے قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہیں۔‘
اردنی حکام نے تاحال چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران ہونے والے اس حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا ہے۔
اردن کے وزیر اعظم جعفر حسن نے جمعے سے مملکت بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جس دوران پرچم سرنگوں رہیں گے۔