آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی: ’معاہدہ کریں یا دوبارہ حملے کا سامنا کریں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں سے ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اس سے قبل وہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. چرچ پر حملے کے بعد اردن میں امریکی سفارت خانے کی سکیورٹی بڑھانے کا اعلان

    اردن کے دارالحکومت عمان میں امریکی سفارت خانے نے جمعے کو ایک چرچ پر حملے کے بعد ملک میں شاپنگ مالز، غیر ملکی سفارت خانوں اور دیگر مقامات پر سکیورٹی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

    اردن کے حکام نے اس حملے کو انتہا پسندوں کی جانب سے کی جانے والی ’دہشت گردی‘ کی کارروائی قرار دیا ہے۔

    اردن کے محکمہ پبلک سکیورٹی کے سربراہ کے مطابق، کرکوک کے علاقے میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں تدفین کی تقریب کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

    اردن میں اس نوعیت کے حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران انھوں نے شدت پسندوں کے کئی حملوں کی کوششیں ناکام بنائی ہیں۔

    اردنی حکام کے مطابق، حملے میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ طے کرنا قبل از وقت ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق اردن کے اندر یا باہر سرگرم کسی معروف گروہ سے تھا یا نہیں۔

  2. سعودی عرب کی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں کی ویڈیوز بنانے پر قانونی کارروائی کی تنبیہ

    سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے خبردار کیا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں کی ویڈیوز بنانے اور ان کارروائیوں یا ان کے ملبہ گرنے کے مقامات سے متعلق معلومات شائع یا دوبارہ شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    محکمہ شہری دفاع نے عربی، انگریزی، اردو، ہندی اور بنگالی سمیت کئی زبانوں میں جاری پیغام میں واضح کیا کہ اس تنبیہ کو نظر انداز کرنے والوں کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ تنبیہ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب اس سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت مختلف علاقوں میں ابتدائی انتباہی نظام فعال کیے گئے تھے۔

    تاہم بعد ازاں محکمہ شہری دفاع نے اعلان کیا تھا کہ ان علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔

  3. پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت میں حالیہ دنوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا گیا ہے اور اس کی قیمت پاکستان میں 600 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی۔

    پاکستان کے وفاقی ادارہ شماریات نے اس ہفتے ملک میں مہنگائی کے اعداد و شمار میں بھی ایل پی جی کی قیمت میں بڑے اضافے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان میں ایل پی جی شعبے کے وابستہ ڈیلرز کے مطابق ملک میں 11.67 کلو ایل پی جی سلینڈر کی قیمت 7000 روپے تک پہنچ گئی ہے جو گذشتہ ہفتے 4500 روپے تھی۔

    ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ ہفتے کے اختتام تک گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں 22.50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ گذشتہ سال کے اکتوبر کے اس ہفتے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں 107 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں تیل و گیس شعبے کے نگران ادارے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ملک میں اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے تاہم اس وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی 550 روپے کلو سے لے کر 610 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔

    پاکستان میں ایل پی جی کا استعمال سردیوں کے موسم کے آغاز پر بڑھ جاتاہے اور اس کی طلب میں اضافے کی وجہ سے قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے تاہم موجودہ سیزن میں اس کی قیمت میں بڑے اضافے کی وجہ سے ایران کے ساتھ سرحد کی بندش کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی میں تعطل ہے۔

    پاکستان میں مقامی ریفائنریوں اور آئل و گیس فیلڈ سے ایل پی جی کی پیداوار کے علاوہ ایران سے ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے۔

    پاکستان میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ’آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سرحد کی بندش سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔‘

    ‘تاہم اس کے ساتھ ریگولیٹر ادارے کی جانب سے سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فروخت کو یقینی نہ بنانا ہے، حالانکہ سرکاری نرخ میں ڈسٹری بیوٹرز کے لیے بھی اچھا منافع شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی زیادہ تر سپلائی مقامی ریفائنریوں اور گیس فیلڈز سے آتی ہے، لیکن کسی روک ٹوک کے بغیر اس کی بلیک مارکیٹنگ کی جا رہی ہے۔‘

  4. امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی مسلح افواج کے سربراہ

    ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا ہے کہ امریکہ کے بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    علی عبداللہی نے کہا کہ ’امریکی صدر کے لیے ایسا سوچنا بس ایک خواب ہے اور اُس کے علاوہ اور کُچھ نہیں کہ ان کی فوج اور بحریہ دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل ہوں گی۔‘ ان کے بقول ’وہ (امریکی صدر) اپنا یہ خواب ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت امریکی فوجی جہازوں کو خلیجِ فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے کہا تھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے 600 سے 700 کلومیٹر دور چلی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور جہازوں پر حملوں سے متعلق ’جعلی خبریں گھڑ کر‘ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل گزر رہا ہے، اسی لیے ایران تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔‘

  5. ایرانی صدر مسعود پزشکیان منگل کو ماسکو کا دورہ کریں گے

    روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان منگل 27 اکتوبر کو گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو جائیں گے۔

    کاظم جلالی کے مطابق دورے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان مشاورت آئندہ ہفتے روسی دارالحکومت میں جاری رہے گی، جس میں دونوں ممالک کے صدور مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پوتن بھی شریک ہوں گے۔

    گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کا آٹھواں سربراہی اجلاس منگل کو ماسکو میں منعقد ہونا طے ہے۔

  6. پینٹاگون نے چین کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

    امریکہ کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے چینی زبان اور ثقافت کی تعلیم دینے والے اداروں ’کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس‘ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں ان اداروں کو ’پروپیگنڈا مراکز‘ سے تشبیہ دی اور کہا کہ امریکہ کی مختلف جامعات میں مختلف ناموں سے ایسے درجنوں مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے دانشورانہ ملکیت چرانے اور ان کے بقول، ’امریکی طلبہ کے ذہنوں میں دراندازی‘ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع ان مراکز کو منظم انداز میں ختم کر رہا ہے۔

    واشنگٹن میں چین کے سفارت خانے نے تاحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہکنفیوشس انسٹی ٹیوٹس چین کی مالی معاونت سے مختلف ممالک کی جامعات میں قائم کیے جانے والے مراکز ہیں، جہاں چینی زبان کی تعلیم اور چینی ثقافت سے متعلق سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کا آغاز 2004 میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں پہلے مرکز کے قیام سے ہوا، جبکہ اسی سال امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ میں بھی ایسا مرکز قائم کیا گیا۔ یہ مراکز عموماً چینی اور میزبان ملک کی جامعات کے اشتراک سے کام کرتے رہے ہیں۔

    امریکہ میں ان مراکز کی تعداد 2019 تک بڑھ کر تقریباً 100 ہو گئی تھی، تاہم بعد کے برسوں میں قومی سلامتی اور جامعات کی تعلیمی خودمختاری سے متعلق خدشات کے باعث بیشتر مراکز بند کر دیے گئے۔

    کنفیوشس کون تھے؟

    کنفیوشس قدیم چین کے معروف فلسفی، استاد اور سیاسی مفکر تھے، جو 551 قبل مسیح سے 479 قبل مسیح تک زندہ رہے۔ ان کا اصل نام کونگ چیو تھا اور انھیں چینی زبان میں ’کونگ زی‘ بھی کہا جاتا ہے، جس کا مطلب استاد کونگ ہے۔ وہ موجودہ چین کے صوبے شان ڈونگ کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیمات میں اخلاق، انصاف، دوسروں کے احترام، خاندانی ذمہ داریوں اور حکمرانوں کے اچھے کردار پر زور دیا گیا۔

  7. سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کا مشرقی علاقے میں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف لڑنے والے سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سنیچر کو سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔

    اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا گیا۔‘

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ سعودی عرب کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے، جسے حالیہ برسوں میں سعودی عرب پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    حوثی جنگجو سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کے الزامات کی بارہا تردید کر چکے ہیں۔

    یہ گروپ سنہ 2014 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جسے سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

    چار سال تک جاری رہنے والی نازک جنگ بندی کے بعد یمن میں لڑائی جولائی میں دوبارہ شروع ہوئی۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد ہوئی، جس نے پورے خطے کو وسیع تر بحران کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    یمن کی جنگ میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے اس ملک کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔

  8. ایران اور روس کے صدور آئندہ ہفتے ماسکو میں اہم مذاکرات کریں گے: عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اور ماسکو کے درمیان مشاورت کا سلسلہ آئندہ ہفتے روس کے دارالحکومت ماسکو میں جاری رہے گا، جہاں دونوں ممالک کے صدور مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پوتن بھی موجود ہوں گے۔

    گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کا آٹھواں سربراہی اجلاس 27 اکتوبر کو ماسکو میں منعقد ہوگا۔ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پوتن اجلاس کے موقع پر اپنی مشاورت جاری رکھیں گے۔

    عباس عراقچی نے جمعے کو انسٹاگرام پر ایک پیغام میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے دورۂ تہران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں تازہ پیش رفت اور اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

    انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں سیاسی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ معاہدوں پر عمل درآمد اور ایران و روس کے درمیان سٹریٹجیک شراکت داری کو مضبوط بنانا بھی شامل تھا۔

    عراقچی نے مزید لکھا کہ یہ مذاکرات اور مشاورت آئندہ ہفتے ماسکو میں دونوں ممالک کے صدور کی موجودگی میں جاری رہے گی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی 19 اکتوبر کو دورۂ تہران کے دوران کہا تھا کہ ماسکو کو امید ہے کہ مسعود پزشکیان گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم میں شرکت کے لیے روس کا دورہ کریں گے۔

  9. انڈیا کی ریاست بہار میں ایک گھر میں آتش بازی کا سامان بنانے کے دوران دھماکہ، پانچ افراد ہلاک

    انڈیا کی ریاست بہار کے ضلع سیوان کے گاؤں عالم پور میں ایک گھر میں آتش بازی کا سامان بنانے کے دوران شدید دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق سیوان کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ’بھارت سونی‘ نے بتایا کہ طبی ٹیم کے معائنے کے بعد سول سرجن نے ملبے سے پانچ لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت گھر میں سات سے آٹھ افراد موجود تھے، جن میں سے پانچ کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دو سے تین افراد مبینہ طور پر گھر سے باہر تھے، جن کی تلاش جاری ہے۔

    بھارت سونی کے مطابق فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچ گئی ہے۔ آگ مکمل طور پر بجھا دی گئی ہے اور پورے گھر کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

    بم ڈسپوزل سکارڈکا عملہ بھی موقع پر موجود ہے، جبکہ علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سول سرجن کی ٹیم کو شبہ ہے کہ ملبے تلے ایک اور لاش بھی ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب واقعے میں غفلت برتنے پر جامو بازار پولیس تھانے کے انچارج کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس کی وجوہات جاننے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

  10. ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی: ’معاہدہ کریں یا دوبارہ حملے کا سامنا کریں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو تقریباً آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    ٹرمپ نے جمعے 23 اکتوبر کو ریاست فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری جیسا آپریشن کر سکتے ہیں یا پھر وہ (ایران) معاہدہ کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی قیادت سمجھ دار ہوتی تو وہ کہتی کہ ’آئیے سنجیدہ مذاکرات شروع کرتے ہیں‘، لیکن ٹرمپ کے بقول انھیں اس بات کا شک ہے کہ ایرانی انتظامیہ اتنی سمجھ دار نہیں۔

    ’آپریشن ایپک فیوری‘ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا جانے والا نام ہے۔

    اپنی تقریر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے دورِ صدارت میں ایران کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکہ کی علیحدگی کا دفاع کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے ذریعے ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت تباہ کر دی تھی اور بعد میں ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ذریعے ایران کو مزید نقصان پہنچایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے ایران کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت اس وقت دنیا کی بدترین معاشی صورتِ حال میں سے ایک سے دوچار ہے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر نے جمعے ہی کو یہ بھی کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا واشنگٹن کو جنگ فوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا تنازع کو بتدریج ختم ہونے دینا چاہیے۔‘

    ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف اہداف اور مدت کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر کے اوائل میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کرے گا۔

  11. دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کی تیل کی آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے: امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ’اقتصادی تنہائی کی کارروائی‘ نے ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے جمعے کی شب ایکس پر لکھا کہ ’امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف اقتصادی تنہائی کی کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی حکومت کی آمدنی کے تمام ممکنہ ذرائع بند کرنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کارروائی کے آغاز کے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کی تیل کی آمدنی کے تمام ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘

    ان کے بقول ایران کے خفیہ آئل ٹینکروں کے بیڑے میں کمی آئی ہے، تیل برآمد کرنے کی اس کی مرکزی بندرگاہ خالی پڑی ہے اور سمندر میں موجود ملک کے تیل کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔

    ایران کے معاشی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’عام ایرانی شہریوں کو بڑھتے ہوئے معاشی بحران کا سامنا ہے، جبکہ ان کی حکومت ملک کے اندر عوام کی فلاح و بہبود پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے بیرونِ ملک تشدد اور دہشت گردی پر رقم خرچ کر رہی ہے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جنھیں امریکہ کے سابق صدور نے طویل عرصے تک مؤخر کیے رکھا۔‘

    انھوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’امریکہ اب ایران سے لاحق خطرے کو صرف قابو میں رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اسے ختم کر رہا ہے۔‘

  12. سعودی عرب: ریاض سمیت تین علاقوں میں انتباہ جاری، لوگوں کو خبردار کرنے کے چند منٹ بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان

    سعودی عرب کی سول ڈیفنس اتھارٹی نے سنیچر 24 اکتوبر کی صبح دارالحکومت ریاض سمیت نجران اور وادی الدواسر کے علاقوں میں انتباہ جاری کیا اور لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ محفوظ مقامات پر پناہ لیں، کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغامات جاری کرتے ہوئے یہ ہدایات دیں۔

    چند منٹ بعد سول ڈیفنس اتھارٹی نے الگ الگ اعلانات میں بتایا کہ ان علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔

    سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ خطرہ کس نوعیت کا تھا یا انتباہ جاری کرنے کی وجہ کیا بنی۔

  13. استنبول اجلاس: پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کا اسرائیلی تشدد کے خاتمے، ایران تنازعے کے سفارتی حل پر زور

    پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی تشدد کے فوری خاتمے، فلسطینی ریاست کے قیام اور ایران سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمے پر زور دیا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آر فور (R4) گروپ کے تحت منعقد ہونے والے اجلاس میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ وہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی قبضہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے اور اس کے باعث عالمی رائے عامہ میں نا انصافی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ وزرا نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے جلد نفاذ کا مطالبہ کیا۔

    یمن کے بارے میں چاروں ممالک نے حوثی ملیشیا کی جانب سے کشیدگی میں اضافے، سعودی عرب پر حملوں اور بحیرہ احمر و باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ اعلامیے میں حوثیوں سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے اور سیاسی عمل میں واپس آنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    اعلامیے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس بحران کا حل صرف مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    چاروں ممالک نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی روکنے کی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز اور دیگر بحری راستوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ وزرا نے خبردار کیا کہ سمندری راستوں میں رکاوٹ عالمی تجارتی رسد، توانائی، خوراک اور کھاد کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔

    اجلاس کے اختتام پر چاروں ممالک نے ان امور پر باہمی مشاورت اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  14. لاہور میں پٹرول پمپ ملازم پر تشدد کا ملزم گرفتار: ’یہ بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے‘

    لاہور میں پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) تھانہ چوہنگ لاہور میں درج کی گئی تھی۔

    اس کے مطابق پیٹرول پمپ ملازم کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ایک شخص اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے آیا اور ’وہاں سگریٹ نوشی شروع کر دی۔‘

    ملازم کے مطابق پیٹرول پمپ پر سگریٹ نوشی سے آگ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔

    ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’اس شخص نے ہماری بات ماننے کے بجائے عملے کے لڑکوں سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا اور بد تمیزی کی۔‘

    مزید بتایا گیا ہے کہ پیٹرول پمپ کا عملہ جمع ہونے پر ’الزام علیہ اسلحہ لہراتے ہوئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے گاڑی میں فرار ہو گیا۔‘

    متاثرہ ورکر کی درخواست پر چوہنگ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اسے کرائے پر حاصل کیا تھا۔

    پولیس کے مطابق کرایہ داری کے ریکارڈ اور رسیدوں کی مدد سے ملزم کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے دوران ملزم نے مزاحمت کی کوشش بھی کی جبکہ ملزم سے اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

    پٹرول پمپ ملازم پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔

    جمعہ (23 اکتوبر) کی رات نو بج کر 15 منٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 31 سیکنڈ کی ایکویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو کے ابتدائی حصے میں پٹرول پمپ پر تشدد کی وہی وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔

    ویڈیو کے تقریباً 23ویں سیکنڈ پر سی سی ٹی وی فوٹیج رک جاتی ہے اور ایک دوسری ویڈیو شروع ہوتی ہے جس میں سیاہ ٹی شرٹ اور پتلون پہنے ایک شخص ایک کمرے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس شخص کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار اس کے پیچھے چل رہا ہے اور کمرے کے اندر بھی ایک پولیس اہلکار موجود ہے۔

    ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ جیسے ہی وہ شخص کمرے میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور شخص، جس کی شکل وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے پٹرول پمپ ملازم سے مشابہ ہے، اسے تھپڑ مارتا ہے۔ بعد ازاں پولیس اہلکار مداخلت کرتے ہوئے اسے مزید ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔

    مریم نواز نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں گے کر کے بچ نکلیں گے۔‘

  15. ایران سے جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیں: ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ فلوریڈا کے دورے کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

    انھوں نے ایران کو ’زوال پذیر ملک‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’وہ مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔

    ان کے بقول: ’ہم وہاں سے جتنا تیل چاہیں نکال سکتے ہیں۔ ہماری بحریہ نے اس راستے کو ایران کے لیے بند کر رکھا ہے، جبکہ دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے اپنا تیل لے جا رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’کیا ہم اس معاملے کو ایک ہی بار میں نمٹا دینا چاہتے ہیں، یا پھر انھیں آہستہ آہستہ کمزور اور ناتواں ہونے دیں؟‘

  16. امریکہ ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے: ترکی میں امریکی سفیر کا دعویٰ

    ترکی میں تعینات امریکی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ترکی میں امریکہ کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’کیا یہ ممکن ہے کہ اسی ہفتے کے آخر میں کوئی حملہ ہو؟ یقینی طور پر۔‘

    باراک نے مزید کہا کہ امریکی صدر ’ایک نہایت واضح مؤقف رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    ان کے بقول: ’ہم کئی مہینوں سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو، جنھیں منگل کے روز انتخابات کا سامنا ہے، حالیہ دنوں میں متعدد بار ایران کے موجودہ نظام کو گرانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بالواسطہ طور پر ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، اگرچہ وہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایسا کوئی اقدام امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔

  17. افغانستان کی طالبان انتظامیہ نے پاکستان کے الزامات مسترد کر دیے

    افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے پاکستان کی جانب سے بار بار لگائے جانے والے ان الزامات کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے کہ عسکریت پسند گروہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کالعدم اور شدت پسند گروہوں کے ارکان افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔

    جبکہ طالبان نے اسلام آباد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا ذمہ دار کابل کو ٹھہرا رہا ہے۔

    23 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں افغانستان میں طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’ہم ایک بار پھر پاکستانی حکام کا بار بار دہرایا جانے والا الزام مسترد کرتے ہیں، جس میں وہ اپنے ملک میں بے امنی کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہراتے ہیں۔‘

    اپنی ایکس پوسٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا: ’بد قسمتی سے جب بھی پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر سکیورٹی ایجنسیاں اپنے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں تو وہ اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے واقعات کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال دیتی ہیں۔‘

    طالبان کے ترجمان نے تین وجوہات بیان کیں جن کی بنیاد پر ان کے بقول طالبان انتظامیہ اس کی ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے کہا: ’اول، پاکستان میں بد امنی پیدا کرنا یا وہاں عدم استحکام کی حمایت کرنا افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

    ’دوم، ہمارے پاس دوسرے ممالک میں بد امنی پھیلانے یا اس کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

    ’سوم، کسی ہمسایہ ملک میں عدم تحفظ پورے خطے اور افغانستان کو نقصان پہنچاتا ہے؛ پاکستان میں بد امنی اقتصادی، سماجی اور انسانی سطح پر ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہے۔‘

    بیان کے اختتام میں انھوں نے کہا: ’اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے پاکستانی حکام غلط طور پر افغانستان پر الزام لگاتے ہیں اور اس کے جواب میں افغانستان کو غیر محفوظ بنانے کے منصوبوں پر وسائل صرف کرتے ہیں۔

    ’یہ ان کی بنیادی اور اولین ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے مترادف ہے، خطے میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے اور معاشی وسائل کو بے سود کوششوں پر ضائع کرتا ہے۔

    ’مزید یہ کہ اس غلط مؤقف نے ان کی سکیورٹی فورسز کو اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل اور ان سے دور کر دیا ہے۔‘

  18. ایران پر کسی بھی نئے حملے سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی، ترک وزیرِ خارجہ

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے استنبول میں آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔

    انھوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ ’سفارت کاری اور بات چیت‘ ہے۔ حاقان فیدان کے مطابق اجلاس میں شریک کسی بھی ملک نے فوجی مداخلت یا ایران پر ایک اور حملے کی حمایت نہیں کی۔

    دوسری جانب جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    ترکی کے وزیرِ خارجہ آج استنبول میں مصر، پاکستان، سعودی عرب، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے اپنے ہم منصبوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔

    پاکستان وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی آج استنبول میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی، جس میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ بھی شریک تھے۔

    اجلاس میں خلیجی خطے کی تازہ صورتحال، اس کے سماجی و معاشی اثرات اور امن، سلامتی اور استحکام سے متعلق علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے سفارتی روابط بڑھانے کی فوری ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، دوبارہ لڑائی کو روکنے اور امن کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی اور ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

    اجلاس میں شریک تمام وزرائے خارجہ نے اس فارمیٹ میں مشاورت اور رابطوں کے تسلسل پر اتفاق کیا۔

  19. مقبوضہ مغربی کنارے میں ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بیان

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیا مین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اُنھوں نے ایک ایسے فوجی آپریشن کے منصوبوں کا جائزہ لیا ہے جو ’1967 کے بعد سے اپنی نوعیت کا پہلا (بے مثال) آپریشن‘ ہوگا۔

    نیتن یاہو نے یہ منصوبہ الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والے اس مسلح حملے کے فوراً بعد پیش کیا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے نفاذ کے لیے وقت کا تعین کریں گے۔

    اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اس آپریشن کے پہلے مرحلے میں ’رہائشیوں کو بے دخل کرنا، گھروں کی تلاشی لینا اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا‘ شامل ہوگا۔

    دریں اثنا حماس نے، حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر، اسے ایک ’بہادرانہ کارروائی‘ قرار دے کر سراہا اور اپنے حامیوں سے مزید حملے کرنے کا مطالبہ کیا۔

  20. لسبیلہ میں دو مسافر گاڑیوں میں تصادم میں 12 مسافر ہلاک، 20 سے زائد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں دو مسافر گاڑیوں میں تصادم کے باعث کم ازکم 12مسافر ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    سرکاری حکام کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کے روز ضلع میں وندر کے قریب پیش آیا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ تصادم ایک مسافر کوچ اور ایک مسافر ویگن کے درمیان ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسافر کوچ گوادر سے کراچی کی جانب جارہی تھی جبکہ ویگن کراچی سے لسبیلہ کی جانب آرہی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ تصادم کی شدت کے باعث دونوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا لیکن مسافر کوچ کے مقابلے میں ویگن کو زیادہ نقصان پہنچا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تصادم کی وجہ سے دونوں گاڑیوں میں سوار کم ازکم 12افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    ضلعی پولیس کے سربراہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    بلوچستان میں کوئٹہ اور کراچی کے درمیان اس شاہراہ پر زیادہ حادثات پیش آتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ سے اس شاہراہ کو خونی شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔

    اس شاہراہ کا شمار بلوچستان میں مصروف ترین بین الصوبائی شاہراہوں میں ہوتا ہے ۔ سرکاری حکام کے مطابق اس شاہراہ پر حادثات کی بڑی وجوہات میں سے ایک اس کا سنگل ٹریک ہونا ہے جبکہ دوسرا اوور سپیڈنگ ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ اور کراچی کے درمیان اس شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔