ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی: ’معاہدہ کریں یا دوبارہ حملے کا سامنا کریں‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو تقریباً آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے 23 اکتوبر کو ریاست فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری جیسا آپریشن کر سکتے ہیں یا پھر وہ (ایران) معاہدہ کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی قیادت سمجھ دار ہوتی تو وہ کہتی کہ ’آئیے سنجیدہ مذاکرات شروع کرتے ہیں‘، لیکن ٹرمپ کے بقول انھیں اس بات کا شک ہے کہ ایرانی انتظامیہ اتنی سمجھ دار نہیں۔
’آپریشن ایپک فیوری‘ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا جانے والا نام ہے۔
اپنی تقریر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے دورِ صدارت میں ایران کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکہ کی علیحدگی کا دفاع کیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے ذریعے ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت تباہ کر دی تھی اور بعد میں ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ذریعے ایران کو مزید نقصان پہنچایا۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے ایران کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت اس وقت دنیا کی بدترین معاشی صورتِ حال میں سے ایک سے دوچار ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر نے جمعے ہی کو یہ بھی کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا واشنگٹن کو جنگ فوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا تنازع کو بتدریج ختم ہونے دینا چاہیے۔‘
ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف اہداف اور مدت کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر کے اوائل میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کرے گا۔