لاہور میں پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کا
ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف
آئی آر) تھانہ چوہنگ لاہور میں درج کی گئی تھی۔
اس کے مطابق پیٹرول پمپ ملازم کا کہنا
ہے کہ منگل کے روز ایک شخص اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے آیا اور ’وہاں سگریٹ نوشی
شروع کر دی۔‘
ملازم کے مطابق پیٹرول پمپ پر سگریٹ
نوشی سے آگ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کو ایسا کرنے سے منع
کیا گیا۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’اس شخص
نے ہماری بات ماننے کے بجائے عملے کے لڑکوں سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا اور بد
تمیزی کی۔‘
مزید بتایا گیا ہے کہ پیٹرول پمپ کا
عملہ جمع ہونے پر ’الزام علیہ اسلحہ لہراتے ہوئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے
ہوئے گاڑی میں فرار ہو گیا۔‘
متاثرہ ورکر کی درخواست پر چوہنگ
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی تلاش کے
دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اسے کرائے پر حاصل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق کرایہ داری کے ریکارڈ
اور رسیدوں کی مدد سے ملزم کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس
کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے دوران ملزم نے مزاحمت کی کوشش بھی کی جبکہ ملزم سے اسلحہ
برآمد ہوا ہے۔
پٹرول پمپ ملازم پر تشدد کی سی سی ٹی
وی فوٹیج سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔
جمعہ (23 اکتوبر) کی رات نو بج کر 15
منٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 31 سیکنڈ کی ایکویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو کے ابتدائی حصے میں پٹرول پمپ پر تشدد کی وہی وائرل سی سی ٹی
وی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔
ویڈیو کے تقریباً 23ویں سیکنڈ پر سی
سی ٹی وی فوٹیج رک جاتی ہے اور ایک دوسری ویڈیو شروع ہوتی ہے جس میں سیاہ ٹی شرٹ
اور پتلون پہنے ایک شخص ایک کمرے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس شخص کے ہاتھ
پیچھے بندھے ہوئے ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار اس کے پیچھے چل رہا ہے اور کمرے کے
اندر بھی ایک پولیس اہلکار موجود ہے۔
ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ جیسے ہی
وہ شخص کمرے میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور شخص، جس کی شکل وائرل ویڈیو میں نظر آنے
والے پٹرول پمپ ملازم سے مشابہ ہے، اسے تھپڑ مارتا ہے۔ بعد ازاں پولیس اہلکار
مداخلت کرتے ہوئے اسے مزید ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔
مریم
نواز نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے
منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور یہ گمان
کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو
چاہیں گے کر کے بچ نکلیں گے۔‘