آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران سے جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیں، ایک ہی بار میں نمٹائیں یا بتدریج کمزور ہونے دیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے ایران کو معاشی مشکلات کا شکار ملک قرار دیا اور یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا یہ معاملہ ’ایک ہی بار میں نمٹا‘ دیا جائے یا ایران کو ’بتدریج کمزور‘ ہونے دیا جائے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی: ’معاہدہ کریں یا دوبارہ حملے کا سامنا کریں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو تقریباً آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    ٹرمپ نے جمعے 23 اکتوبر کو ریاست فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری جیسا آپریشن کر سکتے ہیں یا پھر وہ (ایران) معاہدہ کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی قیادت سمجھ دار ہوتی تو وہ کہتی کہ ’آئیے سنجیدہ مذاکرات شروع کرتے ہیں‘، لیکن ٹرمپ کے بقول انھیں اس بات کا شک ہے کہ ایرانی انتظامیہ اتنی سمجھ دار نہیں۔

    ’آپریشن ایپک فیوری‘ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا جانے والا نام ہے۔

    اپنی تقریر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے دورِ صدارت میں ایران کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکہ کی علیحدگی کا دفاع کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے ذریعے ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت تباہ کر دی تھی اور بعد میں ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ذریعے ایران کو مزید نقصان پہنچایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے ایران کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت اس وقت دنیا کی بدترین معاشی صورتِ حال میں سے ایک سے دوچار ہے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر نے جمعے ہی کو یہ بھی کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا واشنگٹن کو جنگ فوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا تنازع کو بتدریج ختم ہونے دینا چاہیے۔‘

    ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف اہداف اور مدت کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر کے اوائل میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کرے گا۔

  2. دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کی تیل کی آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے: امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ’اقتصادی تنہائی کی کارروائی‘ نے ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے جمعے کی شب ایکس پر لکھا کہ ’امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف اقتصادی تنہائی کی کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی حکومت کی آمدنی کے تمام ممکنہ ذرائع بند کرنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کارروائی کے آغاز کے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کی تیل کی آمدنی کے تمام ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘

    ان کے بقول ایران کے خفیہ آئل ٹینکروں کے بیڑے میں کمی آئی ہے، تیل برآمد کرنے کی اس کی مرکزی بندرگاہ خالی پڑی ہے اور سمندر میں موجود ملک کے تیل کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔

    ایران کے معاشی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’عام ایرانی شہریوں کو بڑھتے ہوئے معاشی بحران کا سامنا ہے، جبکہ ان کی حکومت ملک کے اندر عوام کی فلاح و بہبود پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے بیرونِ ملک تشدد اور دہشت گردی پر رقم خرچ کر رہی ہے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جنھیں امریکہ کے سابق صدور نے طویل عرصے تک مؤخر کیے رکھا۔‘

    انھوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’امریکہ اب ایران سے لاحق خطرے کو صرف قابو میں رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اسے ختم کر رہا ہے۔‘

  3. سعودی عرب: ریاض سمیت تین علاقوں میں انتباہ جاری، لوگوں کو خبردار کرنے کے چند منٹ بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان

    سعودی عرب کی سول ڈیفنس اتھارٹی نے سنیچر 24 اکتوبر کی صبح دارالحکومت ریاض سمیت نجران اور وادی الدواسر کے علاقوں میں انتباہ جاری کیا اور لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ محفوظ مقامات پر پناہ لیں، کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغامات جاری کرتے ہوئے یہ ہدایات دیں۔

    چند منٹ بعد سول ڈیفنس اتھارٹی نے الگ الگ اعلانات میں بتایا کہ ان علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔

    سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ خطرہ کس نوعیت کا تھا یا انتباہ جاری کرنے کی وجہ کیا بنی۔

  4. استنبول اجلاس: پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کا اسرائیلی تشدد کے خاتمے، ایران تنازعے کے سفارتی حل پر زور

    پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی تشدد کے فوری خاتمے، فلسطینی ریاست کے قیام اور ایران سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمے پر زور دیا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آر فور (R4) گروپ کے تحت منعقد ہونے والے اجلاس میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ وہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی قبضہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے اور اس کے باعث عالمی رائے عامہ میں نا انصافی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ وزرا نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے جلد نفاذ کا مطالبہ کیا۔

    یمن کے بارے میں چاروں ممالک نے حوثی ملیشیا کی جانب سے کشیدگی میں اضافے، سعودی عرب پر حملوں اور بحیرہ احمر و باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ اعلامیے میں حوثیوں سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے اور سیاسی عمل میں واپس آنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    اعلامیے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس بحران کا حل صرف مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    چاروں ممالک نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی روکنے کی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز اور دیگر بحری راستوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ وزرا نے خبردار کیا کہ سمندری راستوں میں رکاوٹ عالمی تجارتی رسد، توانائی، خوراک اور کھاد کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔

    اجلاس کے اختتام پر چاروں ممالک نے ان امور پر باہمی مشاورت اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  5. لاہور میں پٹرول پمپ ملازم پر تشدد کا ملزم گرفتار: ’یہ بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے‘

    لاہور میں پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) تھانہ چوہنگ لاہور میں درج کی گئی تھی۔

    اس کے مطابق پیٹرول پمپ ملازم کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ایک شخص اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے آیا اور ’وہاں سگریٹ نوشی شروع کر دی۔‘

    ملازم کے مطابق پیٹرول پمپ پر سگریٹ نوشی سے آگ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔

    ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’اس شخص نے ہماری بات ماننے کے بجائے عملے کے لڑکوں سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا اور بد تمیزی کی۔‘

    مزید بتایا گیا ہے کہ پیٹرول پمپ کا عملہ جمع ہونے پر ’الزام علیہ اسلحہ لہراتے ہوئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے گاڑی میں فرار ہو گیا۔‘

    متاثرہ ورکر کی درخواست پر چوہنگ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اسے کرائے پر حاصل کیا تھا۔

    پولیس کے مطابق کرایہ داری کے ریکارڈ اور رسیدوں کی مدد سے ملزم کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے دوران ملزم نے مزاحمت کی کوشش بھی کی جبکہ ملزم سے اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

    پٹرول پمپ ملازم پر تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔

    جمعہ (23 اکتوبر) کی رات نو بج کر 15 منٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 31 سیکنڈ کی ایکویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو کے ابتدائی حصے میں پٹرول پمپ پر تشدد کی وہی وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔

    ویڈیو کے تقریباً 23ویں سیکنڈ پر سی سی ٹی وی فوٹیج رک جاتی ہے اور ایک دوسری ویڈیو شروع ہوتی ہے جس میں سیاہ ٹی شرٹ اور پتلون پہنے ایک شخص ایک کمرے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس شخص کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار اس کے پیچھے چل رہا ہے اور کمرے کے اندر بھی ایک پولیس اہلکار موجود ہے۔

    ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ جیسے ہی وہ شخص کمرے میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور شخص، جس کی شکل وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے پٹرول پمپ ملازم سے مشابہ ہے، اسے تھپڑ مارتا ہے۔ بعد ازاں پولیس اہلکار مداخلت کرتے ہوئے اسے مزید ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔

    مریم نواز نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں گے کر کے بچ نکلیں گے۔‘

  6. ایران سے جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیں: ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ فلوریڈا کے دورے کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

    انھوں نے ایران کو ’زوال پذیر ملک‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’وہ مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔

    ان کے بقول: ’ہم وہاں سے جتنا تیل چاہیں نکال سکتے ہیں۔ ہماری بحریہ نے اس راستے کو ایران کے لیے بند کر رکھا ہے، جبکہ دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے اپنا تیل لے جا رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’کیا ہم اس معاملے کو ایک ہی بار میں نمٹا دینا چاہتے ہیں، یا پھر انھیں آہستہ آہستہ کمزور اور ناتواں ہونے دیں؟‘

  7. امریکہ ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے: ترکی میں امریکی سفیر کا دعویٰ

    ترکی میں تعینات امریکی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ترکی میں امریکہ کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’کیا یہ ممکن ہے کہ اسی ہفتے کے آخر میں کوئی حملہ ہو؟ یقینی طور پر۔‘

    باراک نے مزید کہا کہ امریکی صدر ’ایک نہایت واضح مؤقف رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    ان کے بقول: ’ہم کئی مہینوں سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو، جنھیں منگل کے روز انتخابات کا سامنا ہے، حالیہ دنوں میں متعدد بار ایران کے موجودہ نظام کو گرانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بالواسطہ طور پر ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، اگرچہ وہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایسا کوئی اقدام امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔

  8. افغانستان کی طالبان انتظامیہ نے پاکستان کے الزامات مسترد کر دیے

    افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے پاکستان کی جانب سے بار بار لگائے جانے والے ان الزامات کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے کہ عسکریت پسند گروہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کالعدم اور شدت پسند گروہوں کے ارکان افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔

    جبکہ طالبان نے اسلام آباد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا ذمہ دار کابل کو ٹھہرا رہا ہے۔

    23 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں افغانستان میں طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’ہم ایک بار پھر پاکستانی حکام کا بار بار دہرایا جانے والا الزام مسترد کرتے ہیں، جس میں وہ اپنے ملک میں بے امنی کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہراتے ہیں۔‘

    اپنی ایکس پوسٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا: ’بد قسمتی سے جب بھی پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر سکیورٹی ایجنسیاں اپنے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں تو وہ اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے واقعات کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال دیتی ہیں۔‘

    طالبان کے ترجمان نے تین وجوہات بیان کیں جن کی بنیاد پر ان کے بقول طالبان انتظامیہ اس کی ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے کہا: ’اول، پاکستان میں بد امنی پیدا کرنا یا وہاں عدم استحکام کی حمایت کرنا افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

    ’دوم، ہمارے پاس دوسرے ممالک میں بد امنی پھیلانے یا اس کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

    ’سوم، کسی ہمسایہ ملک میں عدم تحفظ پورے خطے اور افغانستان کو نقصان پہنچاتا ہے؛ پاکستان میں بد امنی اقتصادی، سماجی اور انسانی سطح پر ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہے۔‘

    بیان کے اختتام میں انھوں نے کہا: ’اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے پاکستانی حکام غلط طور پر افغانستان پر الزام لگاتے ہیں اور اس کے جواب میں افغانستان کو غیر محفوظ بنانے کے منصوبوں پر وسائل صرف کرتے ہیں۔

    ’یہ ان کی بنیادی اور اولین ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے مترادف ہے، خطے میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے اور معاشی وسائل کو بے سود کوششوں پر ضائع کرتا ہے۔

    ’مزید یہ کہ اس غلط مؤقف نے ان کی سکیورٹی فورسز کو اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل اور ان سے دور کر دیا ہے۔‘

  9. ایران پر کسی بھی نئے حملے سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی، ترک وزیرِ خارجہ

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے استنبول میں آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔

    انھوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ ’سفارت کاری اور بات چیت‘ ہے۔ حاقان فیدان کے مطابق اجلاس میں شریک کسی بھی ملک نے فوجی مداخلت یا ایران پر ایک اور حملے کی حمایت نہیں کی۔

    دوسری جانب جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    ترکی کے وزیرِ خارجہ آج استنبول میں مصر، پاکستان، سعودی عرب، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے اپنے ہم منصبوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔

    پاکستان وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی آج استنبول میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی، جس میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ بھی شریک تھے۔

    اجلاس میں خلیجی خطے کی تازہ صورتحال، اس کے سماجی و معاشی اثرات اور امن، سلامتی اور استحکام سے متعلق علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے سفارتی روابط بڑھانے کی فوری ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، دوبارہ لڑائی کو روکنے اور امن کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی اور ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

    اجلاس میں شریک تمام وزرائے خارجہ نے اس فارمیٹ میں مشاورت اور رابطوں کے تسلسل پر اتفاق کیا۔

  10. مقبوضہ مغربی کنارے میں ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بیان

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیا مین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک ’بڑے اور بے مثال آپریشن‘ کا جائزہ لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اُنھوں نے ایک ایسے فوجی آپریشن کے منصوبوں کا جائزہ لیا ہے جو ’1967 کے بعد سے اپنی نوعیت کا پہلا (بے مثال) آپریشن‘ ہوگا۔

    نیتن یاہو نے یہ منصوبہ الخلیل (ہیبرون) میں ہونے والے اس مسلح حملے کے فوراً بعد پیش کیا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے نفاذ کے لیے وقت کا تعین کریں گے۔

    اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اس آپریشن کے پہلے مرحلے میں ’رہائشیوں کو بے دخل کرنا، گھروں کی تلاشی لینا اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا‘ شامل ہوگا۔

    دریں اثنا حماس نے، حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر، اسے ایک ’بہادرانہ کارروائی‘ قرار دے کر سراہا اور اپنے حامیوں سے مزید حملے کرنے کا مطالبہ کیا۔

  11. لسبیلہ میں دو مسافر گاڑیوں میں تصادم میں 12 مسافر ہلاک، 20 سے زائد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں دو مسافر گاڑیوں میں تصادم کے باعث کم ازکم 12مسافر ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    سرکاری حکام کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کے روز ضلع میں وندر کے قریب پیش آیا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ تصادم ایک مسافر کوچ اور ایک مسافر ویگن کے درمیان ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسافر کوچ گوادر سے کراچی کی جانب جارہی تھی جبکہ ویگن کراچی سے لسبیلہ کی جانب آرہی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ تصادم کی شدت کے باعث دونوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا لیکن مسافر کوچ کے مقابلے میں ویگن کو زیادہ نقصان پہنچا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تصادم کی وجہ سے دونوں گاڑیوں میں سوار کم ازکم 12افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    ضلعی پولیس کے سربراہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    بلوچستان میں کوئٹہ اور کراچی کے درمیان اس شاہراہ پر زیادہ حادثات پیش آتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ سے اس شاہراہ کو خونی شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔

    اس شاہراہ کا شمار بلوچستان میں مصروف ترین بین الصوبائی شاہراہوں میں ہوتا ہے ۔ سرکاری حکام کے مطابق اس شاہراہ پر حادثات کی بڑی وجوہات میں سے ایک اس کا سنگل ٹریک ہونا ہے جبکہ دوسرا اوور سپیڈنگ ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ اور کراچی کے درمیان اس شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

  12. پیرس کے مضافاتی علاقے میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک،’ واقعے کی تحقیقات دہشت گردی کے پہلو کو مدِنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں‘

    پیرس کے مضافاتی علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات دہشت گردی کے ممکنہ پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہیں۔

    جمعے کو پیرس کے جنوب مغرب میں واقع ٹراپس اور قریبی لا ویریئر میں گاڑی سے فائرنگ کے کئی واقعات پیش آئے۔ وزیرِ داخلہ لوراں نونیز کے مطابق یہ سلسلہ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا۔ زخمیوں میں 12 سالہ ایک لڑکی بھی شامل ہے۔

    حکام کے مطابق حملے کی وجہ تاحال واضح نہیں، تاہم قومی انسدادِ دہشت گردی استغاثہ دفتر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ دہشت گردی سے منسلک معلوم ہوتا ہے۔

    ٹراپس کے میئر علی رابح نے کہا کہ ’جمعے کی صبح ایک شخص نے اپنی گاڑی سے ان تمام افراد پر فائرنگ کی جن کا اسے راستے میں سامنا ہوا۔ میئر علی رابح نے کہا کہ ملزم نے اندھا دھند فائرنگ کی اور بظاہر اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔ وہ بڑے پیمانے پر قتلِ عام کرنا چاہتا تھا۔‘

    عینی شاہدین کے مطابق مسلح شخص سرمئی رنگ کی رینالٹ کلیو گاڑی میں سوار ہو کر کئی محلوں سے گزرا۔

    میئر کے مطابق حملہ آور نے قریبی لا ویریئر جانے سے پہلے ٹراپس میں ایک پٹرول سٹیشن، ایک طبی مرکز اور ایک کھیل کے میدان کے قریب لوگوں کو نشانہ بنایا۔

    پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو لا ویریئر میں شہر سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ این 10 پر حراست میں لیا گیاہے۔

  13. مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی چوکی پر حملے میں زخمی ہونے والے دو اسرائیلی فوج دم توڑ گئِے

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کی صبح گولی لگنے سے زخمی ہونے والے دو اسرائیلی فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق، دو مبینہ مسلح حملہ آور بھی، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فلسطینی تھے، فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں پیش آنے والے اس فائرنگ کے واقعے میں پانچ اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ دیگر تین فوجیوں کی حالت کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی ہے۔

    یہ فائرنگ شہر الخلیل کے داخلی راستے پر قائم ایک فوجی چوکی پر ہوئی۔

    اس سے قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ اس واقعے کے بعد، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے شہر الخلیل کو ’مکمل بندش اور سخت پابندیوں‘ کے تحت لانے کا حکم دیا ہے۔

    نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایک ’بڑے حملے‘ کو ناکام بنا دیا ہے۔

    جاری کی گئی ویڈیوز میں شہر الخلیل کے شمالی داخلی راستے پر ایک فوجی چوکی کے قریب اسرائیلی افواج اور فلسطینی مسلح افراد کے درمیان طویل مسلح تصادم دیکھا جا سکتا ہے۔

  14. بریکنگ, اردن کے چرچ میں فائرنگ، چھ افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی

    اردن کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں ایک جنازے کی تقریب کے دوران چرچ میں دو مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جمعے کو صوبہ کرک کے ایک چرچ میں ہونے والے اس حملے میں 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ نامعلوم حملہ آور ایک گاڑی میں آئے اور چرچ کے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔

    حکومتی ترجمان محمد المومنی کے مطابق علاقے میں امن و امان کے لیے سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق اردن کے نیم سرکاری ’المملکہ ٹی وی چینل‘ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ’کرک کے حمود چرچ میں اس وقت ایک جنازے کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری تھا جب دو بندوق بردار گاڑی سے باہر نکلے اور جنازے کے اجتماع کے دوران فائرنگ کی۔‘

    عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ بندوق سے لیس افراد نے ’چرچ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، لیکن مقامی لوگوں نے دروازے بند کر کے انھیں اندر جانے سے روک دیا۔‘

  15. پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت، علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری پر زور

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت پر یقین رکھتا ہے جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے 18 اکتوبر کو مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں کے حوالے سے بتایا کہ اس گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی تعاون پر بات چیت کی گئی۔

    ترجمان کے مطابق مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔

    ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت اور یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔

    ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل ریجنل فور (آر-4) تعاون کے فریم ورک کے تحت ہونے والے تعاون کا جائزہ لیا اور علاقائی امور پر رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس کے آئندہ اجلاس کے انعقاد کی امید ظاہر کی۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بغداد میں جاری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر تبادلۂ خیال کیا۔

    انھوں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رابطے سفارتی روابط، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

  16. یمن کے قریب مبینہ حملے کا شکار کشتی میں سوار 14 انڈین شہری محفوظ ہیں، انڈین سفارتخانے کی تصدیق

    یمن میں انڈیا کے سفارتخانے نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ احمر میں مبینہ حملے کا شکار ہونے والی کشتی میں سوار 14 انڈین شہری محفوظ ہیں اور وہ یمن کے مغربی شہر الحدیدہ کے قریب موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 22 اکتوبر کو جزیرہ جبل زقر کے قریب ایک کشتی پر حملہ ہوا ہے جس میں 14 انڈین شہری سوار تھے۔ حوثیوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا تھا۔

    انڈین سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تمام 14 انڈین شہری محفوظ ہیں اور الحدیدہ کے علاقے میں موجود ہیں۔

    انڈین سفارتخانے کے مطابق ان کی خیریت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اس سے قبل سفارتخانے نے کہا تھا کہ وہ واقعے کے حالات اور حقائق جاننے کے لیے مختلف فریقوں سے رابطے میں ہے۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ 22 اکتوبر کو یمن کے ساحل کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کی کوششیں جاری ہیں، جس میں بظاہر ایک کشتی پر انڈین شہری سوار تھے۔

    یاد رہے کہ رواں برس جولائی سے حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں ان جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جنھیں وہ سعودی عرب سے منسلک قرار دیتے ہیں۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف سعودی جہازوں پر لاگو ہوتی ہیں اور آبنائے باب المندب، جو بحیرۂ احمر کا جنوبی دروازہ ہے، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے۔

  17. تائیوان میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ، لہروں میں بہنے سے ایک شخص ہلاک، سینکڑوں پروازیں منسوخ

    طاقتور طوفان چیمپی تائیوان کے شمال مشرقی ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ تائیوان کے حکام کے مطابق سمندری لہروں میں بہہ جانے سے ایک شخص ہلاک جبکہ 171 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ طوفان کے سبب ایک ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    طوفان کی شدت کے باعث وہاں کے سکول اور دفاتر بند کر دی گئی ہیں، جبکہ پورے مشرقی ایشیا میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ شمال مشرقی علاقوں میں ہفتے کے روم تک 90 سینٹی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے اور اس دوران تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

    سینٹرل ویدر ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت ہفتے کی صبح اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے اور ہفتے کی شام تک شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکام نے لوگوں کو ساحلی اور پہاڑی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    طوفان کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کے تقریباً تمام اضلاع اور شہروں میں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

    شدید موسم کے باعث تائیوان کی سٹاک ایکسچینج بھی بند کر دی گئی۔ تاہم مغربی ساحل کے قریب واقع کِن مین کاؤنٹی میں معمول کے مطابق کام اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں۔

    جمعے کی سہ پہر طوفان کے جھکڑوں کی رفتار 191 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ رواں ہفتے اپنے عروج پر چیمپی کو اس سال دنیا کا سب سے طاقتور طوفان قرار دیا گیا تھا۔

    ماہرینِ موسمیات کے مطابق طوفان تائیوان کے شمال مشرقی حصے اور جاپان کے جنوبی جزائر اوکیناوا کے قریب سے گزرنے کے بعد چین کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں رہے گا اور پھر شمال مشرق کا رخ کرتے ہوئے جاپان کے مرکزی جزیرے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

    تائیوان، ہانگ کانگ اور جاپان کے محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ہے کہ طوفان کا مرکز تائیوان سے ٹکرائے بغیر گزر جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طوفان کی رفتار سست پڑ گئی یا اس کا رخ تبدیل ہوا تو اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

    دوسری جانب جاپان کے جنوبی صوبے اوکیناوا میں تقریباً 8,400 گھروں کی بجلی منقطع ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ملک کی چار فضائی کمپنیوں کی 160 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    چیمپی حالیہ عرصے میں آنے والے کئی شدید طوفانوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں سپر ایل نینو کے باعث سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ طوفانوں کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

  18. شوکت نواز میر مبینہ گرفتاری کیس، عدالت نے ایس ایچ او دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو طلب

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کے مقدمے میں عدالت نے تین درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ 30 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہی۔

    شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کی جانب سے دائر ان درخواستوں پر ان کے وکیل شاہد علی اعوان نے پیروی کی۔

    شاہد علی اعوان نے سماعت سے متعلق بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا، ان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی شوکت نواز میر کو ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ایس ایچ او کو طلب کرکے وضاحت لی جائے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کیا تھا اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔

    دوسری درخواست میں ایک یو ایس بی میں محفوظ مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

    وکیل شاہد علی اعوان کے مطابق اس مواد میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا مبینہ بیان شامل ہے، جس میں انھوں نے شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ سے گرفتار کیے جانے کی کارروائی کو درست قرار دیا تھا۔

    اس درخواست کو بھی عدالت نے منظور کرتے ہوئے یو ایس بی ڈیوائس کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

    وکیل شاہد علی اعوان نے بتایا کہ تیسری درخواست سمیت تینوں درخواستوں پر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے تھے، تاہم عدالت نے یہ اعتراضات مسترد کرتے ہوئے درخواستیں منظور کر لیں۔

    عدالت نے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے تاکہ شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق معاملے پر وضاحت حاصل کی جا سکے۔

    وکیل کے مطابق یاسمین میر کے بھائی گل نواز میر کو بھی اس مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔

  19. فوجی چوکی پر حملے میں دو مبینہ حملہ آوروں کی ہلاکت، نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے محاصرے کا حکم

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فوجی چوکی پر حملے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یہ فیصلہ الخلیل میں اسرائیلی چوکی کے داخلی راستے کے قریب ایک فوجی چوکی پر ہونے والی فائرنگ کے بعد کیا گیا، جس میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق، جمعے کے روز الخلیل میں ’فرش الہویٰ‘ کے داخلی راستے کے قریب ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کرنے کے شبے میں اسرائیلی فورسز نے دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔

    طبی عملے نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں شہرِ الخلیل کے قریب ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ اسرائیلی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق، مختصر تعاقب کے بعد اسرائیلی فوج نے ان دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا جن پر اس حملے میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔

    اسرائیلی فوج نے شہرِ الخلیل اور اس کے آس پاس کے کئی دیہات کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک بیان میں فوج نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے ’دو دہشت گردوں کو ہلاک‘ کر دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ میں نے ابھی وزیر دفاع، آئی ڈی ایف (IDF) کے چیف آف اسٹاف، آئی ایس اے (ISA) کے ڈائریکٹر، قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ڈی ایف کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے ساتھ مل کر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

    اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حماس بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام کے لیے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، جس کی تصدیق بڑی مقدار میں برآمد ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود سے ہوتی ہے۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے آئی ڈی ایف اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر شہرِ ہیبرون (الخلیل) کا محاصرہ کر لیں اور یہودیہ اور سامریہ کی جانب سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کریں۔‘

  20. مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چوکی پر فائرنگ میں پانچ اہلکار زخمی، آئی ڈی ایف کا دو مبینہ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اس کی چوکی پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق الخلیل کے علاقے فرش الہوا کے داخلی راستے کے قریب واقع ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔

    طبی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔

    اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق مختصر تعاقب کے بعد اسرائیلی فوج نے حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔

    اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر اور اس کے گرد و نواح کے متعدد دیہات کا محاصرہ کر لیا ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے‘ جبکہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکار علاقے میں تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔