لائیو, ٹرمپ نے اپنے وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا: ’اگر ایرانی مذاکرات چاہتے ہیں تو ہمیں فون کر لیں‘

ڈونلڈ ٹرمپ نےایران سے مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ’تمام پتے ہمارے پاس ہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کرنا ہو گا۔‘ اس سے قبل عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد نے دورہ پاکستان مکمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے فریم ورک سے متعلق مؤقف شیئر کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے بعد اسلام آباد سے روانہ، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا
  • دورہ پاکستان میں ایران پر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے فریم ورک سے متعلق مؤقف شیئر کیا: عباس عراقچی
  • تمام پتے ہمارے پاس ہیں، ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کر لیں: ٹرمپ
  • ایرانی فوج نے دھمکی دی ہے کہ امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے بجلی کا استعمال محدود کرنے کی اپیل کر دی

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف اور مسعود پیزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال اور امن کے فروغ پر تبادلۂ خیال

    Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’آج شام اپنے بھائی، صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ایک خوشگوار اور تعمیری ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔‘

    ایکس پر پوسٹ می وزیرِ اعظم نے ایران کے مسلسل رابطوں اور اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کو سراہا جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد کا دورہ بھی شامل ہے۔ شہباز شریف نے لکھ کہ ان سے آج ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔‘

    وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، دوست ممالک اور شراکت داروں کی حمایت سے خطے میں امن کے فروغ کے لیے ایک غیر جانبدار اور مخلص سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا، اور پائیدار امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا۔

  2. عراقچی اسلام آباد سے روانگی کے بعد عمان پہنچ گئے

    fars

    ،تصویر کا ذریعہfars

    ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق، عراقچی کی سینئر عمانی حکام سے ملاقات کا شیڈول ]طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ان کے معمول کے دوروں کا حصہ تھا، اور یہ کہ انھیں اسلام آباد سے مسقط اور ماسکو کا سفر کرنا تھا۔

    عراقچی کے اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد، پاکستانی حکام نے اعلان کیا کہ توقع ہے کہ وہ اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے۔

  3. بات چیت کے لیے دونوں فریقین کو دوبارہ ایک میز پر لانا مشکل ہو چکا ہے, کیر ی ڈیویس - بی بی سی، اسلام آباد

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اسلام آباد میں آج مسلسل سرگرمیوں سے بھرپور دن رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے روانہ ہو جانے اور امریکی وفد کی منسوخی کے بعد اب آگے کیا ہو گا؟

    ایرانی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے دوران ممکنہ طور پر کیا پیغامات دیے گئے ہوں گے، اس بارے میں قیاس آرائیاں جا رہی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی تھی تاکہ ایران ایک ‘متحدہ تجویز’ تیار کر سکے۔ کیا ایران نے اس دورے کے دوران اپنے مطالبات پاکستان کو منتقل کیے ہوں گے؟ ہمیں معلوم نہیں۔

    جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو آمنے سامنے مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش کا عمل اب کتنا کشیدہ اور مشکل ہو چکا ہے۔

    مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پاکستان نے اپنے آپ ایک پل کے طور پر پیش کیا ہے۔

    یہ کردار اب زیادہ مشکل نظر آ رہا ہے۔

  4. دیکھنا ہے کہ امریکہ سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان آنے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورے کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی برادرانہ کوششوں کو ہم بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید لکھا: ’ہم نے ایران پر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے قابلِ عمل فریم ورک سے متعلق ایران کا مؤقف شیئر کیا۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔‘

  5. پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو اسلام آباد داخلے کی اجازت، فیض آباد بس ٹرمینل بدستور بند

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام اقسام کی پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق فیض آباد کے علاوہ شہر بھر میں تمام بس اڈے بھی کھول دیے گئے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد بس ٹرمینل کو تا حکمِ ثانی بند رکھا جائے گا۔

  6. اگر ایرانی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کر لیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAlex Wong/Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے والے اپنے وفد کو روک دیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں انھوں نے لکھا: ’میں نے ایرانیوں سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے والے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ سفر میں بہت زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ہے اور کام بہت ہے!‘

    ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کی قیادت میں بھی شدید باہمی اختلاف اور ابہام پایا جاتا ہے، ’کسی کو نہیں معلوم کہ اصل میں ذمہ داری کس کے پاس ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا: ’تمام پتے ہمارے پاس ہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمیں فون کرنا ہو گا۔‘

  7. ٹرمپ نے اپنے وفد کو اسلام آباد جانے سے روک دیا

    سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔

    نشریاتی ادارے کے مطابق فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’تمام پتے ہمارے پاس ہیں، وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کہ آپ زبانی جمع خرچ کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز کریں۔‘

    فاکس نیوز کے مطابق امریکی صدر نے اس کے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار کو بتایا: ’کچھ دیر پہلے میرے لوگ روانگی کی تیاری کر رہے تھے جب میں نے ان سے کہا کہ نہیں! آپ وہاں کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز نہیں لیں گے۔‘

  8. ایرانی وزیر خارجہ متوقع طور پر چند دن میں دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں: سی بی ایس

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق پاکستانی حکام کو توقع ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد اس وقت عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب سفر کر رہے ہیں۔

  9. پاکستان اور ایران کے درمیان خوشگوار تبادلہ خیال ہوا: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہx.com/CMShehbaz

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا۔

    انھوں نے لکھا: ’موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت گرمجوشی سے اور خوشگوار انداز میں تبادلہ خیال ہوا۔ ہم نے باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی، جن میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بھی شامل تھا۔‘

    اس سے پہلے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور عباس عراقچی کے درمیان ملاقات ’تقریباً دو گھنٹے‘ جاری رہی۔

    اسحاق ڈار کے مطابق ’وزیر اعظم نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔‘

  10. ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے: سرکاری میڈیا

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے موٹروں کے ایک قافلے کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ قافلہ ممکنہ طور پر پاکستانی دارالحکومت سے روانہ ہونے والے عباس عراقچی کا تھا۔

    روئٹرز نے موٹروں کے ایک قافلے کی تصاویر شیئر کیں، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ قافلہ ممکنہ طور پر پاکستانی دارالحکومت سے روانہ ہونے والے عباس عراقچی کا تھا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. اعتماد کی کمی برقرار، امریکہ اور ایران اپنے اپنے مؤقف پر قائم, پاکستان سے بی بی سی کی نامہ نگار کیری ڈیویز کا تجزیہ

    اب یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اسلام آباد کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔

    ایران نے ان ملاقاتوں کو دو طرفہ بات چیت قرار دیا ہے، تاہم توقع یہی کی جا رہی ہے کہ ان کا تعلق جنگ سے ہے، جس میں پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    کیا اس میں کسی قسم کی پیش رفت ہو گی؟ اس حوالے سے اب تک کچھ واضح نہیں۔

    اگر امریکی وفد آئندہ چند گھنٹوں میں واشنگٹن سے روانہ ہوتا بھی ہے تو وہ اتوار سے پہلے اسلام آباد نہیں پہنچ سکے گا۔ ایرانی وفد نے پاکستان کے بعد عمان اور روس جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکی ایلچیوں کا انتظار کریں گے؟

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران بالمشافہ بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ اس وقت دونوں کے درمیان اعتماد اور اتفاق کی اس قدر کمی ہے کہ وہ اس نکتے پر بھی یکساں رائے نہیں رکھتے۔

    دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم نظر آتے ہیں۔ بظاہر اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی لانے کو تیار ہے، یا ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ ہے۔

    ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے والے پاکستان کو کسی متفقہ نکتے کی تلاش میں دباؤ کا سامنا ہے۔

  12. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، چار افراد ہلاک

    لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ضلع نبطیہ میں دو اسرائیلی حملے کیے گئے، ایک ٹرک پر اور دوسرا موٹر سائیکل پر، جن کے نتیجے میں چار افراد جان سے گئے۔

    بی بی سی کی جانب سے تبصرے کے لیے رابطہ کیے جانے پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’کچھ دیر پہلے‘ چار افراد کو ہلاک کیا ہے، جنھیں اس نے حزب اللہ کے ارکان قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق ان حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا گیا جو ’اسلحے سے لدی ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے،‘ جبکہ چوتھا شخص ’جنوبی لبنان میں فارورڈ ڈیفنس لائن کے جنوب میں موٹر سائیکل پر سوار تھا۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’جن دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا وہ جنوبی لبنان میں کارروائیاں کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا: ’اسرائیلی فوج اپنے شہریوں اور فوجیوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  13. حزب اللہ نے اسرائیلی علاقے میں نئے حملے کیے: اسرائیلی فوج کا الزام

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ لبنان سے اسرائیلی علاقے کی جانب دو راکٹ داغے گئے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق: ’یہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

    فوج کا کہنا ہے کہ ایک راکٹ کو راستے میں ہی روک لیا گیا جبکہ دوسرا ایک کھلے علاقے میں آ گرا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اس جنگ بندی میں حال ہی میں تین ہفتوں کی توسیع کی گئی تھی۔

    حزب اللہ نے تا حال ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  14. ایرانی صدر نے عوام سے بجلی کا استعمال محدود کرنے کی اپیل کر دی

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کہ ہے بجلی کا ’استعمال محدود‘ کر دیں۔ یہ اپیل ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا: ’دشمن ہماری تنصیبات کو تباہ کر رہے ہیں اور ہمارا محاصرہ کر رکھا ہے تاکہ لوگ عدم اطمینان کا شکار ہو جائیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’گھر میں اگر 10 بتیوں کے بجائے دو بتیاں جلائی جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟‘

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے ٹیلیگرام پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ایرانی بجلی کمپنی توانیر کے چیف ایگزیکٹو افسر نے بھی ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بجلی کے استعمال پر نظر رکھیں۔

  15. امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا: ایرانی فوج کی دھمکی

    ایرانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کی مسلح افواج نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا۔

    یہ بیان فوج کے کمانڈ سینٹر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور سرکاری میڈیا کے متعدد اداروں نے اسے شائع کیا، جن میں پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارہ تسنیم بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج ’سمندر میں محاصرہ، غنڈہ گردی اور قزاقی‘ جاری رکھتی ہے تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے ’جواب کا سامنا‘ کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ امریکہ نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں میں آنے اور جانے والی بحری آمد و رفت پر ناکہ بندی عائد کرنے کے بعد متعدد جہازوں کو روک رکھا ہے۔

  16. ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی جلدی نہیں: امریکہ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور امریکی فوج کے سربراہ ڈین کین

    ،تصویر کا ذریعہAnna Moneymaker/Getty Images

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ نے بار بار اس تاثر کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس پر جنگ کو جلد سمیٹنے کا دباؤ ہے۔

    جمعے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے فون پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران ’ایک پیشکش کر رہا ہے اور ہمیں دیکھنا ہو گا،‘ تاہم اُس وقت تک انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ پیشکش ہے کیا۔

    اس سے پہلے ٹرمپ کہہ چکے تھے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ان پر ’وقت کا کوئی دباؤ‘ نہیں ہے اور وہ ’اچھے معاہدے‘ کا انتظار کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ تبصرہ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے رپورٹ کیا تھا۔

    یہی مؤقف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی دہرایا۔ جمعے کے روز انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہت وقت ہے اور ہم کسی معاہدے کے لیے بے چین نہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی فوج کے سربراہ ڈین کین نے کہا کہ اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو فوج ایران میں کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے ’تیار اور متحرک‘ ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’امریکا کے گرین سگنل‘ کا انتظار کر رہا ہے تاکہ ’خمینی خاندان کا مکمل خاتمہ‘ کیا جا سکے۔ (امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے ہی روز ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے)

  17. ایران نے جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ سے متعلق اپنا ’اصولی مؤقف‘ پاکستان کے ساتھ شیئر کر دیا

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے جاری بیانات میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے۔

    بیانات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت‘ اور جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ پر ’اپنے ملک کا اصولی مؤقف وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔‘

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد عباس عراقچی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت‘ پر تبادلۂ خیال کیا اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ’اپنی سوچ اور مؤقف‘ بیان کیا۔

    ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO / Iranian Foreign Ministry

    اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی ہے۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں انھوں نے جنگ بندی سے متعلق حالیہ صورتحال اور جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ کے بارے میں ایران کے ’اصولی مؤقف کی وضاحت کی۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر ’اعتماد کا اظہار کیا‘ کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔

  18. اسلام آباد کو اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقات کی امید, بی بی سی فارسی کے نامہ نگار ژیار گل کا اسلام آباد سے تجزیہ

    امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اور سکیورٹی کی تیاریاں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی بدستور برقرار ہے، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقات ہو جائے گی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بظاہر ایک جامع تجویز کے ساتھ آئے ہیں، جسے پاکستان کے حوالے کیا جانا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر یہ تجویز امریکہ کو پہنچائیں گے۔

    ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر واشنگٹن سے روانہ ہوئے ہیں یا نہیں۔

    ایرانی حکام سے سننے میں آ رہا ہے کہ امریکہ سے ملاقات عباس عراقچی کے دورے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران یہاں خاص طور پر ایک نئی تجویز پیش کرنے کے لیے آیا ہے۔

    اس تجویز کی تفصیلات تا حال واضح نہیں۔ تہران سے جو معلومات مل رہی ہیں ان کے مطابق کئی سخت گیر علما کا کہنا ہے کہ جوہری معاملہ زیر بحث نہیں، اور مذاکرات کے گذشتہ دور میں یہی ایک اہم اختلافی نکتہ رہا تھا۔

  19. وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی حکام سے ایرانی وفد کی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد پہنچے ہیں۔

    ایرانی وفد سے ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر بھی شریک ہیں۔

  20. ایران کے ساتھ مذاکرات اور ٹرمپ انتظامیہ کا محتاط رویہ, شمالی امریکہ سے مرکزی نامہ نگار گیری اوڈونوہیو کا تجزیہ

    ایران کے ساتھ مذاکرات کے اس مرحلہ پر ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ محتاط ہے۔ دو ہفتے قبل کے برعکس اس بار نائب صدر جے ڈی وینس کو اسلام آباد نہیں بھیجا گیا اور جیسا کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا، اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ’ایرانی مؤقف کو سنا جائے۔‘

    یہ پیش رفت اسی ہفتے امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کی درخواست پاکستان کی جانب سے کی گئی تاکہ تہران ایک متفقہ تجویز پیش کر سکے۔

    اس کے بعد آبنائے ہرمز پر تعطل کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم آبنائے ہرمز ہی واحد نکتۂ اختلاف نہیں، ایران کی جوہری صلاحیتوں اور خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران اب بھی آمنے سامنے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر پیش رفت ہوتی ہے تو جے ڈی وینس اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایران کن مطالبات پر آمادہ ہو سکتا ہے۔