فوٹوگرافر نے عقاب کے شکار کے ڈرامائی مناظر کیمرے میں محفوظ کر لیے۔

وقت اشاعت

جین بارلو نامی فوٹوگرافر نے پیر کے روز سکاٹ لینڈ کے پہاڑی علاقے کیرنگورمز میں ایک عجیب و غریب نظارہ اپنے کیمرے میں مقید کر لیا۔

An osprey catches a rainbow trout in a loch near Aviemore in the Cairngorms

سکاٹ لینڈ کی ایک جھیل میں ایک عقاب شکار کے لیے پر تول رہا تھا کہ فوٹوگرافر جین بارلو نے جھیل کی سطح پر عقاب کے جھپٹ کر اپنے پنجوں میں مچھلی کو اچک لینے کے مناظر کیمرے میں محفوظ کر لیے۔

An osprey catches a rainbow trout in a loch near Aviemore in the Cairngorms
Presentational white space

پریس ایسوسی ایشن کی فوٹوگرافر جین جھیل کے کنارے صبح تین بجے پہنچ گئی تھیں۔

An osprey flies above a loch near Aviemore in the Cairngorms

انھوں نے جھیل کے کنارے چھ گھنٹے گزارے۔ اس دوران انھوں نے مختلف پرندوں کی طرف سے مچھلی کے شکار کی دس کوششوں کی تصاویر کھینچیں، تاہم صرف تین بار پرندوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔

An osprey catches a rainbow trout in a loch near Aviemore in the Cairngorms
Presentational white space

جین کا کہنا تھا: ’یہ ناقابلِ یقین پرندے 19ویں صدی میں برطانیہ میں معدومی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ تاہم ماحولیاتی تبدیلی اور ہجرت کی عادات میں تبدیلی کی وجہ سے یہ سکاٹ لینڈ پہنچ گئے اور یہاں ان کی افزائش ہونے لگی۔‘

An osprey flies above a loch near Aviemore in the Cairngorms

اس کے بعد سے سکاٹ لینڈ میں اس پرندے کی نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اب وہاں 300 جوڑے موجود ہیں۔

An osprey catches a rainbow trout in a loch near Aviemore in the Cairngorms

اس کام کے لیے فنی مہارت کے علاوہ بےتحاشا صبر کی ضرورت پڑتی ہے۔ مزید یہ کہ جین کو مکھیوں اور مچھروں نے بھی بہت تنگ کیا۔ انھوں نے کہا: ’میں نے مچھر بھگانے والی دوا لگا رکھی تھی لیکن پھر بھی مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مجھے زندہ کھا رہے ہیں۔‘

تصاویر: جین بارلو