آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پچھلے تین ماہ کے نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، وال سٹریٹ جرنل، ہاریتز اور ایکزیوس وغیرہ کی خبری کچھڑی پکائی جائے تو طشتری میں کچھ یوں نظر آئے گا کہ ایران میں دسمبر جنوری کے فسادات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایرانی ریال کی باقی ماندہ کمر توڑنے کے لیے ڈالر کا قحط پیدا کیا گیا تاکہ ایرانی کرنسی کی ویلیو کھائی میں گرنے کے نتیجے میں عام آدمی بے چین ہو کر باہر نکلے۔ (یہ اعتراف گذشتہ ماہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے کر چکے ہیں)
ساتھ ہی ساتھ کردستان کے راستے اسلحہ، سٹار لنک کمیونیکیشن ڈیوائسز اور ماسٹر ٹرینرز ایران بھیجنے کی بھی بھرپور کوشش ہوتی ہے۔ گذشتہ سرکار مخالف عوامی احتجاجوں کے برعکس 27 دسمبر کو تہران کے بازار سے شروع ہونے والا یہ احتجاج نہ صرف راتوں رات سو سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل جاتا ہے بلکہ تھانوں، سرکاری املاک اور اہلکاروں کو بطورِ خاص مسلح افراد نشانہ بناتے ہیں۔
رضا شاہ پہلوی، نیتن یاہو اور ٹرمپ کھل کے کہتے ہیں کہ ڈٹے رہو، امداد راستے میں ہے۔ ملاؤں کا تختہ الٹ دو۔ ایرانی حکومت انٹرنیٹ کاٹ دیتی ہے۔
آٹھ تا 10 جنوری جوابی تشدد ہوتا ہے، تین ہزار سے زائد لوگ مارے جاتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا دعوی ہے کہ مرنے والوں میں لگ بھگ 800 سرکاری اہلکار بھی شامل تھے۔
سنہ 1953 میں کچھ ایسا ہی کام سی آئی اے اور ایم آئی سکس نے ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کے ساتھ کیا تھا۔ جنوری 2026 میں ایم آئی سکس کی جگہ موساد نے لے لی۔ بیس کیمپ خودمختار عراقی کردستان کو بنایا گیا۔
ٹرمپ نے اب سے تین دن پہلے خود اعتراف کیا کہ ہم نے کردوں کے ذریعے مظاہرین کو اسلحہ بھیجا مگر کردوں نے یہ اسلحہ خود رکھ لیا، میں ان سے خوش نہیں ہوں۔
موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے نیتن یاہو کو بریفنگ دی کہ آخری چوٹ لگانے کے لیے لوہا گرم ہے۔ ایرانی حکومت سے عام آدمی شدید نفرت کرتا ہے، بالائی قیادت اڑا دی جائے تو 47 برس سے دبی خلقت نکل کر باقی کام خود کر لے گی۔
نیتن یاہو اور بارنیا نے اس عرصے میں دو بار وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور ان کی ٹیم (وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ جنگ پیٹ ہیسگیتھ، چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈان کین اور سی آئی اے چیف جان ریٹ کلف وغیرہ) کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ان بریفنگز میں نائب صدر جے ڈی وینس شامل نہیں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ برس جون کی 12 روز جنگ کے پہلے ہی دن اسرائیل نے جس طرح تہران میں صفِ اول کی فوجی، جوہری اور سیاسی قیادت کا صفایا کر دیا تھا اس کامیابی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایران میں موساد کی جڑیں کس قدر گہری ہیں۔ چنانچہ ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ کو یقین تھا کہ نیتن یاہو اور ڈیوڈ بارنیا کے تجزیات و تجربات پر اعتبار کرتے ہوئے دو سے ڈھائی ہفتے دورانیے کا ایک بھرپور، تیز رفتار ایکشن لیا جا سکتا ہے۔
بس بالائی قیادت کا سر کٹنے کی دیر ہے، ایرانی ریاست خود بخود عراق کی طرح زمیں بوس ہو جائے گی۔
البتہ مارکو روبیو کا تجزیہ تھا کہ امریکی نیشنل سکیورٹی سے منسلک اداروں کی متفقہ رائے ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے لہذا کسی فیصلہ کن کاروائی کرنے کی فی الحال ہنگامی ضرورت بھی نہیں۔
جنرل ڈان کین کی رائے تھی کہ بڑی کاروائی کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ تیل اور گیس کی ترسیل اور اتحادی خلیجی ریاستوں کو کم سے کم متاثر رکھنے کے لیے موثر عسکری حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔
خلیجی ریاستوں نے بھی نیتن یاہو اور ڈیوڈ بارنیا کی 11 فروری کی آخری وائٹ ہاؤس بریفنگ کی بھنک پڑتے ہی عجلت پسند ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کی اپنی سی کوشش کی مگر نیشنل سکیورٹی کے ایک اہلکار کے بقول ٹرمپ اکثر اہم فیصلے دماغ سے زیادہ دل کی پکار پر کرنے کے عادی ہیں مگر ہر بار جوا کامیاب نہیں ہوتا۔ جب کچن کیبنٹ نے دیکھا کہ ٹرمپ جنگ پر تل ہی چکے ہیں تو پھر ہر کوئی لائن میں سیدھا ہو گیا۔
ٹرمپ کو اسرائیل کے ایرانی تجربے اور یقین دہانی پر اس قدر اعتماد تھا کہ نیٹو اتحادیوں، خلیجی جگریوں، جاپان، جنوبی کوریا، کانگریس اور ووٹروں کو بھی اعتماد میں لینے کا تکلف نہیں کیا گیا۔
ویسے بھی جو جنگ چھ دن میں ختم ہونے کا یقین ہو اس بارے میں وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور وزارتِ خارجہ کے سوا کسی اور کو اعتماد میں لینا چہ معنی دارد۔
نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کا ذہن کچھ یوں ہے کہ بھلے ایران تباہ ہو یا اس کے ردِعمل میں خلیجی ریاستوں کا تیا پانچا ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے۔ میدان ہموار ہونے کی صورت میں حتمی فائدہ تو اسرائیل کا ہی ہے۔
یہ سوچ اسرائیل میں اوپر سے نیچے تک موجود تھی اور ہے۔ مگر اسرائیل کے لیے ایران کا نوالہ منہ سے بڑا تھا، چنانچہ بقول نیتن یاہو ٹرمپ کی شکل میں میری 40 برس کی تپسیا رنگ لے آئی۔
اسرائیل کے برعکس امریکہ کی دلچسپی ایران کی جامع تباہی سے زیادہ رجیم چینج کے ذریعے جوہری اور میزائل پروگرام کے خاتمے اور تیل تک بااختیار رسائی تک ہے۔ اگر یوں ہو جائے تو وینزویلا پر قبضے کے بعد چین کو توانائی کے ایک اور وسیلے سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ خلیج کو انیس سو ستر کی دہائی کی طرح امریکی اثر و رسوخ کی جھیل بنانا بھی ممکن ہو جائے گا۔
یہ درست ہے کہ ایران میں اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط ہے اور یہ تانا بانا امریکی سی آئی اے کے لیے بھی آنکھ، کان اور ناک کا کام کرتا ہے۔ مگر شاید یہ اندازہ اسرائیل کو بھی نہیں تھا کہ ایران کی صفِ اول کی سیاسی و عسکری قیادت کے خاتمے کے باوجود ایران ایک خار پشت (سیہہ، پرکو پائن) کی طرح خود کو ایسا گول مول کر لے گا کہ اسے نگلنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
یہ اندازہ امریکی قیادت کو غالباً جنگ کے دوسرے ہفتے میں ہی ہو گیا تھا۔ مگر دانش مندی کے ساتھ پسپائی کے بارے میں سوچنے کے بجائے اگلے چار ہفتے میں امریکی اڈوں اور خلیجی اتحادیوں پر لگنے والے پے در پے زخموں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی معیشت کا دم گھٹنے لگا۔
چنانچہ رجیم چینج کی خواہش آبنائے ہرمز کھلوانے تک رہ گئی۔ حالانکہ اسے بند کروانے کے بنیادی ذمہ دار بھی اسرائیلی و امریکی تھے۔
اس جنگ سے یہ بات بھی کھل گئی کہ واحد عسکری سپر پاور کی پاور بھی لامحدود نہیں۔ جن ریاستوں نے اس چھتری کو اپنے لیے کافی جانا انھیں بھی اچھے سے معلوم ہو گیا کہ ایک ہی ٹوکری میں سب انڈے رکھنا کس قدر مہنگا پڑ سکتا ہے۔
یوکرین کی جنگ کے سبب روس کا حقہ پانی فروری 2022 سے بند تھا۔ ان چالیس دنوں میں نہ صرف روس کی اقتصادی گلو خلاصی خاصی حد تک ہو گئی بلکہ جنگ کا سب سے زیادہ معاشی فائدہ بھی اسے ہی پہنچا۔
جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے کہ سکیورٹی کی ضمانت باہر سے نہیں اندر سے ہی مل سکتی ہے۔
دو روز پہلے تک ٹرمپ صاحب بحران کی چھت پر اکیلے ٹہل رہے تھے اور مکے چلاتے ہوئے تہذیبیں تباہ کر رہے تھے۔ یہ کیفیت دیکھ کر کیا ماسکو کیا بیجنگ کیا برسلز کیا امریکی کانگریس۔ سبھوں نے منہ میں انگلیاں داب لیں۔
میں اس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا
اتارے کون اب دیوار پر سے (جون ایلیا)
چنانچہ انھیں جب پاکستان کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی سیڑھی ارجنٹ فراہم کی گئی تو اسے فوراً استعمال کر لیا گیا۔ ایران کی کامیابی یہی ہے کہ وہ مسلسل مار سہنے کے باوجود کھڑا ہے۔
اب جو بات چیت ہو گی وہ گذشتہ ادوار کی یکطرفہ ڈکٹیشن کے بجائے کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ہی ہو گی۔ اسرائیل کا کیا ہوگا، یہ امریکہ جانے یا اسرائیل۔ نیٹو کی خدا مغفرت کرے۔ پاکستان جو گذشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے تحفظ کا معاہدہ کر بیٹھا ہے اس کی جان میں بھی جان آئی۔
اس ہانپا ہاپی اور بھاگا دوڑی کے بدلے شاباشی کے علاوہ بھی اہلِ اسلام آباد و پنڈی کو کچھ ملے گا؟ دیکھتے ہیں۔
اب خدشہ یہ ہے کہ ٹرمپ اپنا ماگا چمتکاری تاثر بحال کرنے کے چکر میں کہیں کیوبا کو نہ پیٹ ڈالیں۔ نومبر کے کانگریسی الیکشن میں ووٹروں کو دکھانے بتانے کے لیے کچھ تو ہو۔
جن کے رتبے ہیں سوا ، ان کو سوا مشکل ہے
(چھنو لال دلگیر)