آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے پر حملہ کرنے والے کون تھے؟
- مصنف, بی بی سی ترکی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
استنبول کے علاقے لیونت میں، جہاں اسرائیلی قونصل خانہ بھی واقع ہے، ایک پلازہ کے قریب فائرنگ کے تبادلے میں ایک مسلح حملہ آور ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اس واقعے کو ’دہشت گردی کی سنگین کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
ترکی کے وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتچی نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار ’معمولی زخمی‘ ہوئے۔
حملے سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ترکی کے وزیرِ داخلہ نے کہا: ’استنبول میں یاپی کریڈی پلازہ کے سامنے ڈیوٹی پر مامور ہمارے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مسلح تصادم میں ملوث تین افراد کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔‘
چفتچی کے مطابق حملہ آور کرائے کی گاڑی کے ذریعے ازمت شہر سے استنبول آئے تھے اور ان میں سے دو آپس میں بھائی تھے۔
ترک صدر اردوغان نے کہا: ’ہم ایسے گھناؤنے اور اشتعال انگیز حملوں کے ذریعے ترکی میں قائم اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ دو حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں، تاہم بعد میں مقامی گورنر داوُت گل نے وضاحت کی کہ صرف ایک ہی حملہ آور مارا گیا ہے۔
حملہ کیسے ہوا؟
فائرنگ کا تبادلہ دن دَہاڑے پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو میں وہ لمحہ دکھائی دیتا ہے جب ایک مسلح حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی اور وہ زمین پر گر پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے روئٹرز نے جائے وقوعہ پر موجود ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ فائرنگ کی آوازیں ’بہت اونچی‘ تھیں اور یہ سلسلہ ’15 سے 20 منٹ‘ تک جاری رہا۔
دوپہر تقریباً 12 بج کر 15 منٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔
اس پلازا کی بالائی منزلوں میں اسرائیلی قونصل خانہ واقع تھا۔
بی بی سی ترکی نے جھڑپ کی جو فوٹیج حاصل کی ہے، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لمبی نالی والی بندوقوں اور پستولوں سے لیس حملہ آور پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مصروف ہیں۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہے جبکہ اسی دوران پولیس اور دو ایسے حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ جاری ہے جو لمبی نالی والی بندوقوں سے مسلح ہیں۔ اس دوران ایک اور حملہ آور کو گولی لگتی ہے اور وہ بھی زمین پر گر پڑتا ہے۔
ترک وزارت داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ فائرنگ کے واقعے میں ایک پولیس اہلکار کی ٹانگ اور دوسرے کے کان میں گولی لگی، لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
بیان میں کہا گیا: ’ناکارہ بنائے گئے تینوں دہشت گردوں کے درمیان ڈیجیٹل رابطوں کے شواہد ملے ہیں، اور زخمی دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے۔‘
گورنر داوُت گل نے صحافیوں کو بتایا کہ استنبول کے مرکزی کاروباری علاقے بشکتاس میں واقع قونصل خانے میں کوئی اسرائیلی سفارتی اہلکار موجود نہیں تھا۔
اس وقت ترکی میں کوئی بھی اسرائیلی سفارت کار تعینات نہیں ہے اور غزہ کی جنگ کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں بگاڑ کے پس منظر میں قونصل خانہ گذشتہ ڈھائی برس سے خالی ہے۔
حملہ آوروں کے بارے میں کیا معلومات ہیں؟
ترک وزارت داخلہ نے تینوں حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے جاری بیان میں ان کے لیے ’دہشت گرد‘ کی اصطلاح استعمال کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں وزارت داخلہ نے ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت یونس ای ایس کے طور پر کی اور کہا کہ وہ ’اس دہشت گرد تنظیم سے منسلک تھے جو مذہب کا استحصال کرتی ہے۔‘
سرکاری حکام یہ اصطلاح القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاہم ان دونوں میں سے کسی گروہ نے تاحال حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
زخمی ہونے والے دو حملہ آوروں کی شناخت اونور اور اینیس کے طور پر کی گئی، جن کے بارے میں وزارت داخلہ نے بتایا کہ وہ آپس میں بھائی ہیں۔
حکام کے مطابق اونور کا منشیات سے متعلق سابقہ ریکارڈ بھی موجود ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تینوں حملہ آوروں کے درمیان ڈیجیٹل رابطوں کے شواہد ملے ہیں، جبکہ زخمی حملہ آوروں سے تفتیش جاری ہے۔