آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’انڈیا میں گھریلو کام کاج کے لیے 15 منٹ میں ملازم کرائے پر دستیاب‘، لیکن کیا یہ نظام منصفانہ ہے؟
- مصنف, نکیتا یادو
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
منگل کی دوپہر جامنی رنگ کی ٹی شرٹ پہنے سیما کماری٭ انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے قریبی علاقے نوئیڈا میں ایک مکان پر پہنچتی ہیں اور سیدھا کام پر لگ جاتی ہیں۔
55 منٹ بعد اس مکان کی شکل ہی بدلی ہوئی ہے۔ چاہے وہ باورچی خانہ ہو یا لاؤنج یا بیڈروم سب کچھ صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہے۔
سیما اربن کمپنی نامی ادارے کی ملازمہ ہیں، جس کی ایپ صارفین کو گھریلو کام کاج کے لیے ملازم حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے
انڈیا میں، گھریلو ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کا سب سے مقبول طریقہ، محلے میں پہلے سے کام کرنے والے افراد سے رابطے کے ذریعے ہی رہا ہے اور اس طریقے کے تحت ملازمین کو غیر رسمی طور پر ملازمت دی جاتی ہے اور نقد ادائیگی کی جاتی ہے۔
اب، سٹارٹ اپس ان خدمات کو آن لائن پیش کر رہے ہیں۔ شہروں میں چھوٹے موٹے کاموں کے لیے آن ڈیمانڈ بکنگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ادارے ایک ایسی بڑی اور زیادہ تر غیرمنظم مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں جس میں اندازاً تین کروڑ گھریلو ملازمین ہیں اور ان میں بہت سی خواتین بھی شامل ہیں جن کے پاس رسمی ملازمت کے مواقع کم ہیں۔
گزشتہ برس کام شروع کرنے والی کمپنی پرونٹو کے مطابق صرف دس ماہ کے عرصے میں ان کے پاس ملک بھر سے روزانہ 15 ہزار بکنگز آ رہی ہیں اور سب سے زیادہ طلب دہلی اور قریبی شہروں میں ہے جس کے بعد ممبئی اور بنگلور کا نمبر آتا ہے۔
انڈیا میں گھریلو کام کاج ایک کم اجرت والا، غیر محفوظ اور زیادہ تر غیر منظم شعبہ ہے۔
پرونٹو اور اربن کمپنی جیسے ادارے کہتے ہیں کہ وہ اس شعبے کو تربیت، معیاری قیمتوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے رسمی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کارکنوں کے لیے جہاں یہ نئے مواقع پیش کرتا ہے لیکن ساتھ ہی دباؤ اور کنٹرول بھی بڑھ جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کمپنی میں ملازمت سے پہلے، سیما ملبوسات بنانے کے کارخانے میں کام کرتی تھیں، جہاں وہ ماہانہ دس سے چودہ ہزار روپے تک کماتی تھیں۔
گزشتہ برس انھوں نے یہ نوکری اس وقت چھوڑ دی جب انھیں معلوم ہوا کہ اربن کمپنی بھرتی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اب میں تقریباً 20 ہزار روپے ماہانہ کماتی ہوں‘ اوریہ آمدنی انھیں اپنے دو بچوں کی کفالت میں مدد دیتی ہے۔
لیکن نیا نظام ایسا دباؤ بھی لاتا ہے جس کا سیما جیسی خواتین کو پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔
سیما کہتی ہیں کہ اب ہر کام کے بعد، ان کا مطالبہ اچھی ریٹنگ ہوتا ہے جو مستقبل میں کام کی تلاش کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ کم سکور ان کی بکنگز کو کم کر سکتا ہے۔
روایتی انتظامات کے برعکس، نوکری کے یہ پلیٹ فارمز ورک الگورتھمز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں جو کام دیتے ہیں، کارکردگی کو ٹریک کرتے ہیں اور جرمانے بھی عائد کرتے ہیں۔
لیکن روایتی طریقے سے گھریلو کام کاج کی صورتحال بھی مثالی نہیں ہے۔
گھروں کے اندر، کام کا مطلب بعض اوقات طویل اوقات، غیر واضح فرائض، تنخواہ میں تاخیر اور یہاں تک کہ بدسلوکی بھی ہو سکتی ہے اور اس سب میں ملازم کا تحفظ بھی بہت کم ہوتا ہے۔ اس سارے سلسلے کی غیر رسمی نوعیت کارکنوں کی پوزیشن کمزور بنا دیتی ہے۔
سیما کہتی ہیں کہ وہ تقریباً 25 ہزار روپے ماہانہ کماتی ہیں، لیکن کام کی منسوخی، کم ریٹنگز اور تاخیر پر جرمانوں کے بعد درحقیقت اس سے کہیں کم رقم حاصل کر پاتی ہیں۔
’میں نے پوری رقم صرف ایک بار کمائی، جب میں نے کوئی چھٹی نہیں کی اور روزانہ کم از کم آٹھ گھنٹے کام کیا۔‘
بعض اوقات ایسی تاخیر کا خمیازہ بھی انھیں بھگتنا پڑتا ہے جس پر ان کا بس نہیں چلتا۔
’ہمیں اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ پیدل جانا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار سکیورٹی گارڈز ہمیں دروازے پر روک لیتے ہیں تاکہ عمارت میں ہماری داخلے کی تصدیق کر سکیں۔ اس دوران ہمیں دیر ہو جاتی ہے اور پھر ہمیں سزا ملتی ہے، چاہے تاخیر پانچ منٹ کی ہو۔‘
گڑگاؤں میں ایک صارف نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کی ہوم سروس ملازمہ تاخیر سے پہنچی تو کمپنی نے اسے دس روپے جرمانہ کیا جو ملازمہ نے ایپ پر انھیں دکھایا۔
بی بی سی نے اربن کمپنی سے رابطہ کیا، جس نے تاخیر پر کیے جانے والے جرمانوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم پرونٹو نے کہا کہ وہ دیر سے آنے والے کارکنوں کو سزا نہیں دیتا۔
جائزے دباؤ کی ایک اور تہہ ہیں۔
ایک ملازمہ جس نے پردے کا پول توڑ دیا تھا، صارف سے کہا کہ اسے ’منفی درجہ بندی‘ نہ دی جائے کیونکہ اس سے اس کے کام ملنے کے ’امکانات کو نقصان پہنچے گا۔‘
مزدوروں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسی توقعات غیرحقیقی ہو سکتی ہیں۔
اکریتی بھاٹیا کہتی ہیں، ’یہ غیرانسانی ہے کہ کسی فرد کو کام کے لیے صرف 15 منٹ میں بلایا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ ہیں، خودکار نظام نہیں۔‘
دباؤ صرف رفتار کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ تنخواہ پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔
پلیٹ فارمز مستقل آمدنی سے لے کر فی کام ادائیگی تک مختلف طریقے اپناتے ہیں جن میں مراعات بھی شامل ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی آمدنی طے شدہ نہیں رہتی اور ریٹنگز اور الگورتھمز سے متاثر ہوتی ہے۔
پرونٹو کی بانی انجلی سردانا کہتی ہیں کہ ان کے ادارے کا مقصد اس شعبے کو بینک میں براہِ راست تنخواہوں کی ادائیگیوں اور صحت و حادثاتی انشورنس کے ذریعے رسمی بنانا ہے۔
لیکن ناقدین اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
بھاٹیا کہتی ہیں کہ اگرچہ ادائیگیاں باقاعدہ ہیں تاہم ملازمین کو اب بھی بنیادی حقوق جیسے تنخواہ کے ساتھ چھٹی اور پنشن حاصل نہیں ہیں۔ یونین نہ ہونے کی وجہ سے، زیادہ تر لوگ سودے بازی کی طاقت سے بھی محروم ہیں۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شکایات کے ازالے کے نظام موجود ہیں اور اگر ملازمین کسی مشکل صورتحال میں پھنس جائیں تو انھیں فوری مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے باوجود، یہ اقدامات گھریلو کام کاج کی روزمرہ کی حقیقتوں کو زیادہ تبدیل نہیں کرتے، جو اکثر مشکل ہو سکتی ہیں۔
حیدرآباد میں، امرتھا* صفائی کا کام کرتی ہیں اور کام کے دوران پانی پینے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ مختلف بکنگز کے درمیان ٹوائلٹ کی تلاش ان کے لیے آسان نہیں۔ بہت سے انڈین گھروں میں، گھریلو ملازمین کو اس گھر کے باتھ رومز استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔
کمپنیاں کہتی ہیں کہ وہ سروس ہبز پر باتھ رومز کی سہولت فراہم کرتی ہیں، لیکن اکثر ملازمین کو اس کا علم نہیں ہوتا اور مختلف نوکریوں کے درمیان وقفے میں وہ کسی پارک، سیڑھیوں یا بس سٹاپ جیسی عوامی جگہوں پر وقت گزارتے ہیں۔
جیسے جیسے طلب بڑھ رہی ہے یہ وقفہ بھی ختم ہو رہا ہے۔
سیما کہتی ہیں ’ایسے دن بھی آتے ہیں جب مجھے کھانے کا وقت بھی نہیں ملتا جس کا اثر میری صحت پر پڑ رہا ہے۔‘
لچک اور دباؤ کے درمیان یہ توازن نیا نہیں ہے۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب اوبر جیسی ٹیکسی سروسز اور زومیٹو جیسے پلیٹ فارمز پہلی بار انڈیا میں آئے۔
بھاٹیا کہتی ہیں، ’ہم نے یہ نمونہ پہلے بھی دیکھا ہے۔ بہت سے وینچر فنڈڈ پلیٹ فارمز ابتدائی طور پر زیادہ تنخواہ اور رعایتیں فراہم کرتے ہیں تاکہ صارفین اور کارکنوں کو متوجہ کیا جا سکے۔ وقت کے ساتھ یہ توازن بدل جاتا ہے۔‘
سیما کہتی ہیں ’کام مشکل ہے اور میں دوسرے مواقع تلاش کر رہی ہوں لیکن فی الحال، یہ کام مجھے اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مدد دیتا ہے، اس لیے میں یہ کرتی رہوں گی۔‘
اگرچہ گھریلو کام کاج کے لیے فوری خدمات نوجوان شہری صارفین میں مقبول ہو رہی ہیں، کچھ گھرانے اب بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
سشما، جو دہلی کی رہائشی ہیں، کہتی ہیں کہ جب ان کے بچوں نے پہلی بار روزانہ کام کرنے والی ملازمہ کے نہ آنے پر ایپ سے صفائی کے لیے ملازم بک کیا تو ان کے دل میں شک نے گھر کیا۔
’میں اس فرد کو نہیں جانتی سو اسے اپنے گھر میں کیسے آنے دوں؟‘ وہ اس بات پر بھی فکرمند تھیں کہ ان کی اپنی ملازمہ اس بارے میں کیسا محسوس کرے گی۔
ان کی ہچکچاہٹ اس تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ پلیٹ فارمز گھروں اور ان کے گھریلو ملازمین کے دیرینہ تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔
جیسے جیسے یہ خدمات ترقی کر رہی ہیں، وہ نہ صرف کام کے انتظام بلکہ فریقین کے تجربے کو بھی بدل رہی ہیں۔