کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون معاہدہ کیا ہے جس پر تین سال بعد شاہی فرمان جاری کیا گیا

عاصم منیر، کویت

،تصویر کا ذریعہKUNA

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کے تین سال بعد اسے اپنے قانون کا حصہ بنایا ہے اور اس سلسلے میں اتوار کے روز ایک شاہی فرمان بھی جاری کیا گیا ہے۔

کویت میں پاکستانی حکام اور کویتی فرمان کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے پاکستان اور کویت کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کا ایک فریم ورک قائم ہو گا جس میں فوجی تربیت، تعلیم، انٹیلی جنس، لاجسٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور مہارت کے تبادلے پر توجہ دی جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ’فوجی ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔‘

کویت میں پاکستان کے سفیر ظفر اقبال نے کویتی اخبار الجریدہ کو دیے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا جسے فرمان جاری کر کے اب منظور کیا گیا ہے۔

ظفر اقبال اپنے انٹرویو میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ ’دفاعی نوعیت کا ہے۔ یہ باہمی مفاہمت، پیشہ ورانہ تعاون اور صلاحیت سازی کے بارے میں ہے۔ جبکہ یہ (معاہدہ) امن اور استحکام کے حصول کے لیے کی جانے والی وسیع تر علاقائی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔‘

ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح 28 سے 29 جولائی تک اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے۔

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہPakistan Embassy, Kuwait

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے ہوا تھا

12 شقوں پر مشتمل کویت، پاکستان دفاعی تعاون معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے ہوا تھا جس پر کویت میں پاکستانی سفیر ملک محمد فاروق اور کویتی وزارتِ دفاع کے جوائنٹ پلاننگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل فواز خضیر محمد الحربی نے دستخط کیے تھے۔

اس وقت دونوں فریقین کی طرف سے امید کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ ’دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘

مگر اب تین سال بعد کویت میں اتوار کو اس پر شاہی فرمان جاری کیا گیا ہے جس کی تفصیلات کویتی میڈیا کی طرف سے شیئر کی گئی ہیں۔

اخبار النبا نے اس فرمان کا متن شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ریاستِ کویت کی حکومت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون سے متعلق اُس معاہدے کی منظوری دی جاتی ہے، جس پر 11 جون 2023 کو دستخط کیے گئے تھے۔‘

فرمان میں مزید لکھا ہے کہ کویت کے وزرا ’اپنے دائرۂ اختیار کے اندر اس فرمانِ کی دفعات پر عمل درآمد کریں گے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جون 2023 میں طے کیے گئے دفاعی تعاون معاہدے کی 12 شقیں ہیں جو دفاع کے مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق ہیں۔

پہلی شق کے مطابق معاہدے کا مقصد ’دفاع اور مسلح افواج کی تربیت کے شعبوں میں تعاون کی بنیادوں کا تعین کرنا ہے‘ جو ’مقامی قوانین اور ضوابط کے مطابق اور ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت انجام دیا جائے گا۔‘

دوسری شق میں مختلف شعبوں میں تعاون کا ذکر ہے جیسے فوجی تربیت اور لاجسٹکس، اہلکاروں اور مہارت کا تبادلہ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کویت ٹیکنالوجی اور فوجی انٹیلیجنس کے شعبوں میں تعاون کریں گے۔

دفاعی تعاون معاہدے کی تیسری شق میں عملدرآمد کے اصول وضع کیے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں کے ’باہمی مفاد‘ اور ’ضروریات‘ کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین مشترکہ سرگرمیوں کے لیے عملدرآمد کے سالانہ منصوبے بنائیں گے۔

چوتھی شق میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی وزارت دفاع معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہوں گی۔ پانچویں شق میں مشترکہ فوجی کمیٹی کے قیام کا ذکر ہے جس کے سالانہ اجلاس ہوں گے۔ چھٹی شق مشترکہ سرگرمیوں سے متعلق حساس معلومات کو خفیہ رکھنے جبکہ ساتویں شق انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے بارے میں ہے۔ آٹھویں شق مالیاتی انتظام کے بارے میں ہے۔

اس معاہدے کی نویں شق اہمیت کی حامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ 'کسی بھی فریق کے اُن حقوق یا ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہو گا جو دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ان پر عائد ہوتے ہیں۔'

10ویں شق کے مطابق 'اگر معاہدے کی دفعات کی تشریح یا ان کے اطلاق کے حوالے سے کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو اسے دونوں فریقین کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔ اس تنازعے کو تصفیے کے لیے کسی تیسرے فریق یا کسی مقامی یا بین الاقوامی عدالت کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔

'تنازعے کے تصفیے کے دوران دونوں فریق اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے، سوائے ان ذمہ داریوں کے جو تنازعے یا اختلاف کا موضوع ہوں۔'

11ویں شق کے مطابق 'اس معاہدے میں کسی بھی وقت دونوں فریقوں کی تحریری رضامندی سے ترمیم کی جا سکتی ہے۔'

12ویں اور آخری شق کے مطابق 'معاہدے کے نفاذ، اس کے خاتمے کے طریقۂ کار، اس کی مدت اور تجدید سے متعلق حتمی دفعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔'

اس میں کہا گیا کہ 'چونکہ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے مفادات میں ہے لہذا یہ عرب اور بین الاقوامی شعبوں میں ریاستِ کویت کی ذمہ داریوں سے متصادم نہیں۔'

پاکستان، کویت

،تصویر کا ذریعہX/@kuna_en

کویت کے ساتھ فوجی تعاون سعودی باہمی دفاع سے کیسے مختلف ہے؟

پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

اپریل 2026 کے دوران سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ باہمی دفاع کے عزم کے تحت کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے جس میں پاکستانی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ اور معاون طیارے بھی شامل ہیں۔

مگر اب کویت کے ساتھ پاکستان نے فوجی تعاون کا معاہدہ طے کیا ہے جس میں یہ ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ بلکہ اس میں دوسری شق کے ذریعے تعاون کے شعبے وضع کیے گئے ہیں، جیسے فوجی تربیت، لاجسٹکس، مہارت کا تبادلہ، سائنس و ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس، دفاعی صنعت اور میڈیا وغیرہ۔

پاکستان اور کویت کے درمیان ہونے والے اس دفاعی تعاون کے معاہدے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اُس میں تو بڑے واضح انداز میں دونوں جانب سے یہ کہا گیا ہے کہا کہ اگر سعودی عرب پر کسی بھی جانب سے حملہ ہوتا ہے تو اسے پاکستان پر اور اگر پاکستان پر کسی بھی جانب سے حملہ ہوتا ہے تو اُسے سعودی عرب پر حملہ سمجھا جائے گا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب اگر پاکستان اور کویت کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کی بات کریں تو اس میں دونوں جانب سے ایسا نہیں کہا گیا، جبکہ اس میں فوجی تربیت، لاجسٹکس، مہارت کا تبادلہ، سائنس و ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس اور دفاعی صنعت کے فروغ کی بات کی گئی ہے۔‘

کویت میں پاکستانی سفیر ظفر اقبال نے کویتی اخبار الجریدہ کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات 1980 کی دہائی کے اوائل سے چلے آ رہے ہیں جسے اب بدلتی ضروریات کے تحت ادارہ جاتی فریم ورک کی شکل دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد باہمی مفاد اور ضروریات کے تحت ہو گا جبکہ اس کے دائرہ کار کا تعین باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے علاقائی سلامتی پر اثرات کیا ہو سکتے ہیں، اس بارے میں ظفر اقبال نے بتایا تھا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 'دفاعی نوعیت کا ہی ہے'۔ ان کے مطابق دونوں ملک خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان اور کویت کے درمیان اس معاہدے کا کیا مطلب ہے؟

28 فروری سے شروع ہونے والی ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران جوابی کارروائیوں میں کئی خلیجی ممالک نشانہ بنے ہیں۔ ایران نے بارہا بحرین اور کویت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ جبکہ کویتی فوج کئی بار ایرانی ڈرون اور میزائل حملے ناکام بنانے کا اعلان کر چکی ہے۔

کئی مبصرین کی رائے ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث اسلام آباد کا کردار خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے حوالے سے بھی بڑھ گیا ہے۔

کویت سمیت دیگر خلیجی ممالک ایرانی حملوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ سنگاپور میں مقیم سکیورٹی امور پر گہری نظر رکھنے والے محقق عبدالباسط کہتے ہیں کہ خطے میں امریکہ کا جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کمزور ہوا ہے۔ ’امریکہ کی طرف سے دی گئی سکیورٹی کی ضمانت پر خلیجی ریاستوں کا اعتماد ڈگمگا رہا ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی کارروائیوں کے باوجود ایران میں رجیم چینج تو کیا، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی بھی ممکن نہیں ہو سکی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’دوحہ میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملہ بھی ٹرننگ پوائنٹ تھا۔۔۔ آپ انھیں مزید فوجی سامان خریدنے کو کہتے ہیں لیکن اس سے سکیورٹی بہتر نہیں ہوتی۔ یہ باہمی طور پر دی گئی ضمانت سے ہی ممکن ہے۔‘

عبدالباسط کہتے ہیں کہ خلیج میں اپنے اپنے دفاع کے لیے باہمی اور سہ فریقی شراکت داریاں قائم کی جا رہی ہیں جس میں سعودی اور امریکی رضا مندی بھی شامل ہے اور یہ ایک نئے ’ریجنل آرڈر‘ کی شروعات ہیں۔

ان کے بقول ایک طرف امریکہ اپنا بوجھ کم کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف تناؤ کے اس ماحول میں خلیجی ممالک ’ہیجنگ‘ کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں، جس میں آپ خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک سے زیادہ شراکت داریاں قائم کرتے ہیں اور اپنے تعلقات میں توازن لاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں مشرق وسطیٰ میں علاقائی امن و استحکام کے نئے آرڈر کے لیے سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے ممالک متحرک ہیں۔

تو پاکستان اور کویت کے درمیان تین سال پرانے معاہدے پر فرمان جاری کیوں ہوا، اس سوال پر عبدالباسط کہتے ہیں کہ یہ اتحاد پہلے غیر فعال شکل میں موجود تھا جسے سرکاری شکل دے کر ایک پیغام بھیجا جا رہا ہے۔

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ 'پاکستان اس کی لڑائی نہیں لڑے گا بلکہ اسے فوجی سامان اور تربیت فراہم کرے گا اور تناؤ میں کمی کے لیے مدد کرتا رہے گا۔‘

جبکہ وہ کہتے ہیں کہ کویت نے ایک طرح سے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اپنی ترجیحات تبدیل کر رہا ہے۔

انڈین دفاعی تجزیہ کار پراوین سواہنی کی رائے میں پاکستان اور کویت کے درمیان معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے اور اس سے پاکستان کا کردار اور بھی نمایاں ہو گیا ہے۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ جی سی سی ممالک امریکی ضمانتوں کی بجائے ’اسلامی فریم ورک‘ اپنا رہے ہیں جس میں سکیورٹی انتظامات کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی ایشیا میں جنگ پھیل رہی ہے اور ثالثی کی بدولت پاکستان دیگر متاثرہ ممالک کے ’اجتماعی دفاع‘ کے لیے بھی متحرک ہوا ہے۔

پراوین سواہنی کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب اور ایران دونوں کو پاکستان کی ضرورت ہے۔‘

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہPakistan Embassy, Kuwait

،تصویر کا کیپشنجون 2023 میں طے کیے گئے دفاعی تعاون معاہدے کی 12 شقیں ہیں جو دفاع کے مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق ہیں

اس معاہدے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

دفاعی تجزیہ کار عبدالباسط کی رائے میں کویت بھی سعودی عرب کی طرح پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کرتا ہے جبکہ ان شراکت داریوں سے پاکستان کو تیل، سرمایہ کاری اور ملازمتیں حاصل ہو سکتی ہیں جو اس سے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کریں گی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر محمود شاہ نے اس معاہدے کو خطے کی بدلتی صورتحال سے جوڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2025 کی چار روزہ فوجی لڑائی نے ’پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنایا‘ اور اسی لیے ’خطے کے کئی ممالک نے پاکستان کے ساتھ تعلقات اور (دفاعی) معاہدے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔‘

بریگیڈیئر محمود شاہ نے مزید کہا کہ ثالثی کے کردار سے پاکستان کی امریکہ اور ایران دونوں سے فربت بڑھی ہے اور یوں خطے میں پاکستان کا کردار نمایاں ہوا ہے۔

تاہم کینیڈا میں مقیم دفاعی امور کے تجزیہ کار بلال خان کا خیال ہے کہ ’فی الحال ہم کئی بیانات اور معاہدے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن کسی بھی جانب سے حقیقی تعاون کا کوئی واضح بہاؤ نظر نہیں آتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک طرف خلیجی ممالک کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرے گا اور خلیجی ممالک قرضوں کی تجدید میں مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں سے کتنا کچھ ایران جنگ سے پہلے کی صورتحال سے مختلف ہے؟‘

ان کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک اور پاکستان ’دونوں اپنے اہم داخلی شراکت داروں سے مخاطب ہیں۔‘

’کویت اپنے اہم شراکت داروں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی تعلقات کو متنوع بنا رہا ہے اور پاکستان تاریخی طور پر ایک قابلِ اعتماد نام ہے۔ پاکستان یہ اشارہ دے رہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت پاکستان کے خارجہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کی موجودگی کو مضبوط بنانے میں مثبت نتائج دے رہی ہے۔‘

بلال خان کا ماننا ہے کہ ’دونوں فریق اشاروں تک محدود رہنے پر مطمئن ہیں، نہ کہ عملی طور پر سرمایہ کاری کرنے پر۔‘