آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں پیٹرول کی مد میں سبسڈی کب، کیسے اور کس کو ملے گی؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جہاں پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کا اعلان کیا ہے وہیں موٹر سائیکل سواروں کو سو روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
انھوں نے جمعے کی شب کہا کہ ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں میں بھی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ ضروری اشیا اور کرائے کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑھے۔
تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ ملک بھر میں کروڑوں موٹر بائیکس مالکان جبکہ زراعت اور ٹرانسپورٹ شعبوں سے وابستہ لاکھوں افراد تک یہ سبسڈی کیسے پہنچے گی۔
وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ چند روز قبل وزیرِاعظم کی سربراہی میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا جو اجلاس ہوا تھا۔ اس میں، خرم شہزاد کے بقول، وزرائے اعلیٰ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ان کے پاس موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کا طریقہ کار موجود ہے، اس لیے طریقہ کار بھی صوبے ہی وضع کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کے اعلان کے مطابق 20 لیٹر تک پیٹرول پر موٹر سائیکل سواروں کو سو روپے فی لیٹر کے حساب سے مہینے میں دو ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔
صرف صوبہ پنجاب میں اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ 96 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہیں جبکہ ٹریکٹروں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔
اگرچہ سبسڈی دینے کا اعلان تو وفاقی حکومت نے کیا ہے تاہم وزارت خزانہ کے مشیر کے مطابق اس سبسڈی پر عمل درآمد کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبوں کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے مستحق افراد کا ڈیٹا موجود ہے۔ اس کے لیے وہاں سے بھی ان افراد کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک اہلکار تنویر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ بی آئی ایس پی میں صرف ان افراد کی معلومات موجود ہوتی ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں، اس کے علاوہ ان کے پاس کسی سواری کے ہونے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مشیر کے مطابق بی آئی ایس پی پروگرام کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے وزارتِ پیٹرولیم کے ساتھ مل کر ایک ایپ تیار کی ہے، جس میں موٹر سائیکل سوار رجسٹرڈ ہوں گے اور پھر اس کے بعد ہی انھیں پیٹرول پمپ مہینے میں 20 لیٹر تک پیٹرول پر سو روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دیں گے۔
’ایپ ابھی فعال نہیں ہوئی‘
عبدالرشید، جن کی موٹر سائیکل ایک نجی کمپنی میں بطور ’بائیکیا‘ رجسٹرڈ ہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے جس ایپ کا اعلان کیا گیا تھا اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ملی ہی نہیں، حالانکہ موٹر سائیکل راولپنڈی میں ان کے نام پر ہی رجسٹرڈ ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ پیٹرول پمپ پر پیٹرول ڈلوانے کے لیے گئے اور انھوں نے دو لیٹر پیٹرول ڈلوایا۔
عبدالرشید کے مطابق انھوں نے پیٹرول پمپ والے کو دو لیٹر پر پیٹرول کی مقررہ قیمت سے دو سو روپے کم دیے تو پیٹرول پمپ والے نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے پیٹرول کی جو قیمت مقرر کی گئی ہے وہ اسی ریٹ پر پیٹرول فراہم کریں گے۔
عبدالرشید کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے پیٹرول پمپ والے کو بتایا کہ حکومت نے تو موٹر سائیکل والوں کو ایک سو روپے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے تو اس پمپ کے مینیجر نے بتایا کہ انھیں ابھی تک ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی طرف سے ایسی کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں اور نہ ہی وزارتِ پیٹرولیم کی طرف سے کسی ایپ کے بارے میں کوئی اطلاع ملی ہے۔
عبدالرشید کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا، اس لیے انھوں نے دو لیٹر پیٹرول کے پورے پیسے ادا کیے۔
انرجی سیکٹر کی کوریج کرنے والے صحافی خلیق کیانی کا کہنا ہے کہ وزارتِ پیٹرولیم کی طرف سے ایپ ابھی تک فعال نہیں ہے اور حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ایپ جلد ہی فعال ہو جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 12 ہزار کے قریب پیٹرول پمپس ہیں اور وزارتِ خزانہ نے ہر پیٹرول پمپ کے لیے دو موبائل فون خریدنے کی منظوری دے دی ہے جن میں وہ ایپ موجود ہوگی جو آئی ٹی اور پیٹرولیم کی وزارت نے مل کر تیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص، بشرطیکہ موٹر سائیکل اس کے نام پر رجسٹرڈ ہو، کسی بھی پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلوانے کے لیے جائے گا تو موٹر سائیکل سوار اپنے زیرِ استعمال موبائل فون کے ذریعے اپنا شناختی کارڈ اس ایپ کے ذریعے شیئر کرے گا، جس کے بعد موٹر سائیکل سوار کا تمام ریکارڈ پیٹرول پمپ کے ذمہ داران کے سامنے آ جائے گا۔
خلیق کیانی کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کہ حکومت پہلے اس ایپ کو عام کرتی اور پھر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتی۔
انھوں نے کہا کہ اس ایپ کو فعال ہونے میں مزید دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔
کیا صوبے پیٹرول پر سبسڈی دیں گے؟
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں فری ٹرانسپورٹ چلانے کا اعلان کیا ہے اور اس میں میٹرو کے علاوہ اورنج ٹرین اور الیکٹرک بسیں بھی شامل ہیں۔
مریم نواز نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’بوجھ کم کرنے کے لیے ماہانہ ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے: رجسٹرڈ گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے 70,000 روپے، بڑی گاڑیوں کے لیے 80,000 روپے، اور پبلک سروس بسوں کے لیے 100,000 روپے۔
مریم نواز کے مطابق موٹر سائیکل مالکان کو 100 روپے رعایت کے ساتھ 20 لیٹر پیٹرول دیا جائے گا۔ اس میں اپلائی کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ اور ایپ کا ذکر کیا گیا۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کاشتکاروں، موٹر سائیکل سواروں اور مسافر بس مالکان کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سندھ میں 66 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، سبسڈی فراہم کرنے کے لیے موبائل ایپ تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے ان موٹر سائیکل مالکان کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت 15 سے 20 اپریل کے دوران فی موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے دے گی، جبکہ جن لوگوں کی موٹرسائیکلیں ان کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ اپنی موٹرسائیکلیں اپنے نام پر مفت میں ٹرانسفر کروا پائیں گے۔
سندھ میں تقریباً 67 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہیں۔ ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کے مالک کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیے جائیں گے، جو 20 لیٹر پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی کے برابر ہے۔
’ہم شہریوں سے درخواست کرتے ہیں کہ 15 دن کے اندر اپنی موٹر سائیکلیں اپنے نام پر رجسٹر کروا لیں۔ اس کے بعد ادائیگیاں براہ راست تصدیق شدہ اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی۔‘
مراد علی شاہ نے بتایا کہ کاشتکاروں کو بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ چھوٹے کاشتکار جن کے پاس 25 ایکڑ سے کم زمین ہے، اُنہیں گندم کی کاشت کے لیے ڈی اے پی اور یوریا دی جائے گی۔ ان چھوٹے کاشتکاروں سے گندم بھی خریدی جائے گی، اس کے علاوہ تھریشنگ کی اضافی لاگت کی مد میں 1500 روپے فی ایکڑ دیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے لیے سبسڈی پیکیج متعارف کروایا ہے، جس کے تحت مسافر بسوں کو فی گاڑی ایک لاکھ روپے، ڈبل ایکسل مال بردار ٹرکوں کو 70 ہزار روپے اور بھاری مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔
’سندھ میں 27 ہزار سے زائد بسیں ہیں، اور زیادہ ایندھن استعمال ہونے کی وجہ سے انٹراسٹی بسوں کو اضافی مدد فراہم کی جائے گی۔ شہری بسیں روزانہ تقریباً 40 لیٹر ایندھن استعمال کرتی ہیں اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہم اضافی ایک لاکھ چالیس ہزار روپے دیں گے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔‘
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز سے یہ یقین دہانی لی جائے گی کہ وہ کرائے نہیں بڑھائیں گے، جبکہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ فریقین سے بات چیت کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایک ماہ کے لیے اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ فری چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران 35 کروڑ روپے کا خرچہ ہوگا اور یہ خرچہ وزارتِ داخلہ برداشت کرے گی۔ اسلام آباد کے مختلف روٹس پر چلنے والی گاڑیاں بیٹری پر چلتی ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا، جہاں پر اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے، نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کے بارے میں بھی کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔
ریلیف دینے کے لیے لیوی کو کم کیا جا سکتا تھا‘
اقتصادی امور پر نظر رکھنے والے ساجد امین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات میں ریلیف دینا چاہتی تو وہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو کم کر سکتی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت پیٹرول پر فی لیٹر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 161 روپے وصول کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت آئل ریفائنری سے پیٹرول 270 روپے میں پڑ رہا ہے جبکہ اس کے اوپر جتنے بھی پیسے ہیں وہ تمام ٹیکسوں کی مد میں ہی وصول کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بظاہر حکومت کی اس معاملے پر کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔ ساجد امین کا کہنا تھا کہ حکومت نے تین ہفتے پہلے جو پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کیا تھا، اس میں بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید حکومت نے یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کو حکومت جو تین ماہ کے لیے سبسڈی دے گی، بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت پیٹرول پمپ والوں کو کوئی ’کیو آر کوڈ‘ جاری کرے گی جس کے ذریعے موٹر سائیکل سواروں کو سبسڈی دی جائے گی۔
ساجد امین کا کہنا تھا کہ حکومت کو معلوم تھا کہ جنگ کی وجہ سے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، لیکن انھوں نے تین ہفتے تک قیمتیں نہیں بڑھائیں، حالانکہ اس صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے تھی تاکہ لوگوں پر ایک ہی وقت میں ایک سو روپے سے زائد اضافے کا بوجھ نہ پڑتا۔