آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فیصل آباد میں شادی سے انکار پر تشدد کی وائرل ویڈیو کے کئی سال بعد خدیجہ کو انصاف مل گیا
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یہ کہانی ایک ایسے واقعے کی ہے جس نے ساڑھے تین سال قبل پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک ڈری سہمی لڑکی سے کچھ لوگ زبردستی جوتے چٹواتے نظر آئے تھے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کا یہ واقعہ شاید بہت سے لوگ اب بھول بھی چکے ہوں گے۔ لیکن اس واقعے نے ہمیشہ کے لیے ڈاکٹر خدیجہ غفور کی زندگی بدل دی ہے۔
فیصل آباد کی ایک مقامی عدالت نے اس کیس کے مرکزی ملزم کو مجموعی طور پر 14 سال 9 ماہ قید اور ایک کروڑ 21 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے، جبکہ ان کے ساتھ شریک ملزمہ کو نو سال نو ماہ قید اور 61 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مجرم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ طالبہ خدیجہ غفور کو ایک کروڑ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خدیجہ غفور کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں چاہوں گی کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہو۔ یہ ایک طویل جنگ تھی جو کہ حق، سچ اور انصاف پر ختم ہوئی۔‘
شادی سے انکار اور تشدد کی ویڈیو
اگست 2022 کے دوران اس وقت ملکی سطح پر شور مچا تھا جب دو ویڈیو کلپس وائرل ہوئے۔ ایک کلپ میں کچھ لوگ انھیں زبردستی جوتے چٹواتے نظر آئے تھے اور دوسرے میں اسی لڑکی کے بال زبردستی کاٹے جا رہے ہیں۔
جبکہ ویڈیو میں کسی خاتون کی آواز بھی سنائی دیتی ہے جو لڑکی کو حکم دیتی ہے کہ ’(جوتوں پر) زبان لگا‘، ’تیری زبان نظر آنی چاہیے!۔ جبکہ ایک مرد کہتا ہے کہ ’انا (شیخ) کی جوتی پر زبان لگا، سوری کر، سوری کر انا (شیخ) سے‘۔
اس دوران یہ متاثرہ لڑکی ’سوری انا، سوری انا‘ کہہ کر جوتوں پر زبان لگاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کلپس وائرل ہونے کے بعد ملکی ادارے حرکت میں آئے اور ملزمان کے خلاف دو مقدمات (ایک ویمن پولیس سٹیشن میں اور دوسرا ایف آئی اے سائبر کرائم میں) درج کیے گئے جن کی مدعی متاثرہ لڑکی خدیجہ غفور تھیں جو اس وقت ایک مقامی میڈیکل کالج میں بی ڈی ایس کی فائنل ایئر کی طالبہ تھیں۔
فیصل آباد کے تھانہ ویمن اور سائبر کرائم میں درج ہونے والے مقدمات میں مدعی خدیجہ نے بتایا کہ ان کی سکول کی دوست انا شیخ کے والد اور مرکزی ملزم شیخ دانش نے ان کے گھر شادی کا پیغام بھیجا تھا اور انکار پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اس وقت خدیجہ اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ رہتی تھیں اور ان کے دو بھائی برطانیہ اور آسٹریلیا میں مقیم تھے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مرکزی ملزم کے گھر پر پیش آیا تھا۔
خدیجہ نے بتایا تھا کہ شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر 9 اگست کو مسلح افراد نے انھیں گھر سے اغوا کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف ان کے ساتھ تضحیک آمیز تشدد کیا گیا بلکہ سر کے بال اور بھنویں بلیڈ سے کاٹی گئیں اور سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔
انھوں نے بتایا تھا کہ مرکزی ملزم انھیں اسلحے کے زور پر ایک الگ کمرے میں لے گیا تھا جہاں انھیں نیم برہنہ کر کے ریپ کی کوشش کی گئی اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔ ان کے مطابق شیخ دانش نے اپنی بیٹی کے کہنے پر خدیجہ کو چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ ’اپنے گھر جا کر بتا دو کہ میری ویڈیوز شیخ دانش علی کے پاس موجود ہیں۔‘
عدالت نے فیصلے میں کیا کہا؟
فیصل آباد کی مقامی عدالت نے خدیجہ غفور پر تشدد کے بعد ویڈیو وائرل کرنے کے سائبر کرائم میں درج مقدمے میں مرکزی ملزم شیخ دانش کو جرم ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 14 سال 9 ماہ قید اور ایک کروڑ 21 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
مجرم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ طالبہ خدیجہ غفور کو ایک کروڑ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرے۔
عدالت نے کیس میں ملوث شیخ دانش علی کی پرسنل سیکرٹری ماہم فاطمہ کو جرم ثابت ہونے پر نو سال 9 ماہ قید اور 61 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے مجرم شیخ دانش علی کی بیٹی انا شیخ اور دیگر ملزمان کو شواہد کی عدم موجودگی پر بری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں دونوں مجرموں کو اضافی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ تاہم عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 بی کا فائدہ دیتے ہوئے تمام سزائیں ایک ساتھ (اکٹھی) چلانے کا حکم بھی جاری کیا ہے، جس کے بعد عملاً مجرم شیخ دانش علی کو پانچ سال اور مجرمہ ماہم فاطمہ کو تین سال قید بھگتنا پڑے گی۔
دونوں ملزمان کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔
خدیجہ غفور کی طرف سے آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ اور اورنگزیب اعوان ایڈووکیٹ نے مقدمے کی پیروی کی۔
اورنگزیب اعوان ایڈووکیٹ متاثرہ لڑکی خدیجہ غفور کے قریبی رشتہ دار (پھوپھی زاد بھائی) بھی ہیں۔
اورنگزیب اعوان ایڈووکیٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے ایف آئی آر میں ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 3، 4، 16، 20، 21 اور 24 سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت چالان تیار کرکے مجاز عدالت میں پیش کیا تھا۔
درخواست گزار ملزمہ کا موقف تھا کہ ریپ اور ویڈیو وائرل کرنے کے دونوں ٹرائلز کو یکجا کیا جائے کیونکہ ایک ہی واقعے کی دو الگ ایف آئی آرز درست نہیں اور میڈیکل طالبہ خدیجہ غفور نے زیادتی و تشدد اور ویڈیو وائرل کرنے کے الگ الگ مقدمات درج کروا رکھے ہیں۔
اورنگزیب اعوان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ دفعہ 382 بی کے تحت سزائیں اکٹھی چلنے سے عملاً شیخ دانش علی کو پانچ سال اور ماہم فاطمہ کو تین سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
انھوں نے بتایا کہ ’دونوں مقدمات ایڈیشنل سیشن جج / سپیشل جج اینٹی ریپ کورٹ و ایف آئی اے فیصل آباد کنیز فائزہ بھٹی کی عدالت میں زیر سماعت تھے۔ ان میں سے تھانہ سائبر کرائم میں درج مقدمہ نمبر 126/22 کا فیصلہ سنایا گیا ہے جبکہ تھانہ ویمن میں درج مقدمہ نمبر 126/22 کا فیصلہ سنایا جانا باقی ہے، جس میں دفعات زیادہ سنگین نوعیت کی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس دوسرے مقدمے میں ملزمان کو جرم اور دفعات کے مطابق زیادہ سخت سزا ہوگی۔‘
واضح رہے کہ اس سے پہلے 6 مارچ 2026 کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے خدیجہ غفور کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیس میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے، بدسلوکی اور ویڈیو وائرل کرنے کے دو الگ ٹرائلز کو یکجا کرنے کی ملزمہ ماہم فاطمہ کی درخواست خارج کر دی تھی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنا دو الگ جرائم ہیں، جن کی تحقیقات مختلف اداروں نے کیں، اس لیے الگ ٹرائلز قانون کے مطابق ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مقدمات کو یکجا کرنا ٹرائل کورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے، لازمی قانون نہیں۔
’مجھے انصاف مل گیا‘
خدیجہ غفور اب ڈینٹسٹ بن چکی ہیں۔ وہ بی بی سی کو بتاتی ہیں کہ وہ اس وقت فائنل ایئر میں تھیں مگر انھوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور اب انھوں نے ڈگری مکمل کر کے میڈیکل پریکٹس شروع کر دی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر خدیجہ غفور کہتی ہیں کہ انھوں نے کیس کی پیروی کے دوران ’واقعے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر ہی اپنے فائنل ایئر کے امتحانات دیے۔ عدالتی حکم پر ہی مجھے ڈگری جاری کی گئی۔ لیکن میں کسی موقع پر ڈری نہیں اور ان کے تمام ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مرکزی ملزم کی بیٹی ’شیخ انا میری دوست تھی۔ میں اسے یہ کہتی تھی کہ تمھارے والد مجھے مسلسل پریشرائز اور بلیک میل کر رہے ہیں اور شادی پر مجبور کر رہے ہیں۔ انا نے یہ بات اپنے گھر میں کی تو اس کے باپ نے اپنی پوری فیملی کو اس معاملے میں شامل کر کے مجھے سبق سکھانے کی کوشش کی کہ میں خاموش ہو جاؤں اور ان لوگوں کے خلاف کوئی بات نہ کروں۔
’مخالفین نے میرے اوپر جو الزامات لگائے وہ سب جھوٹے تھے۔ اگر ان میں کوئی صداقت ہوتی تو وہ انھیں عدالت میں پیش کرتے۔‘
ڈاکٹر خدیجہ غفور کہتی ہیں کہ ’میرے کیریئر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اوپر بھی ایک ذات بیٹھی ہے۔۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں آج کامیاب ڈینٹسٹ ہوں اور اللہ نے مجھے بہت عزت سے نوازا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ان خواتین کو کہنا چاہوں گی جو کسی ظلم کا شکار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے حق کے لیے کھڑی ہوں۔‘
’جب ہم حق کے راستے پر چلتے ہیں تو ہمیں صبر کرنا پڑتا ہے، یہ راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن اس کی منزل اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ وہ راستے کی تھکن کو بھلا دیتی ہے۔‘
خدیجہ نے کہا کہ ’عدالتی فیصلے سے مجھے انصاف مل گیا ہے اور ملزمان کو جو زیادہ سے زیادہ سزا بنتی تھی وہ دی گئی ہے۔‘
’میں نہیں چاہوں گی کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہو۔ یہ ایک طویل جنگ تھی جو کہ حق، سچ اور انصاف پر ختم ہوئی۔‘