آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ ’مار گرایا گیا‘، ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں ’مار گرائے گئے‘ امریکی طیارے کے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔
امریکی اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جنوبی ایران کی فضائی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا۔ جبکہ تہران نے طیارے کے پائلٹ کے متعلق اطلاع دینے والے کو انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ ایک ماہر نے بی بی سی ویریفائی کو یہ تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں ملبہ درحقیقت امریکی ایف 15 ای سٹرائیک ایگل طیارے کا ہے۔
بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس کے مطابق طیارے کے عملے کا ایک رکن امریکی فورسز نے ریسکیو کر لیا ہے۔ جبکہ ایف 15 ای میں عام طور پر دو افراد کا عملہ ہوتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا تھا ایران میں مبینہ طور پر ایک امریکی جیٹ مار گرایا گیا ہے اور پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔
اس واقعے پر ٹرمپ یا پینٹاگون کی جانب سے کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو دیے ایک انٹرویو میں یہ ضرور کہا ہے کہ اس صورتحال کا ایران کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
بی بی سی ویریفائی نے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں بظاہر ایک امریکی طیارہ دو ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ایران کے صوبے خوزستان کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے۔
امریکی ریسکیو مشن میں شامل ایک مزید طیارہ اور ہیلی کاپٹر ’فائرنگ کی زد میں آئے‘
دو امریکی اہلکاروں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران کی فضا میں مار گرائے گئے امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کے ریسکیو مشن میں شامل ایک طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر بھی فائرنگ کی زد میں آئے ہیں۔
ان کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو مشن میں حصہ لینے والا اے–10 ورتھاگ طیارہ نشانہ بنا جس کے بعد پائلٹ نے خلیج کے اوپر ایجیکٹ کیا اور اسے ریسکیو کر لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق دو ہیلی کاپٹر بھی تلاش کے عمل میں شامل تھے۔ انھوں نے ایف 15 ای کے دو رکنی عملے میں سے ایک رکن کو ریسکیو کیا ہے۔
سی بی ایس کے مطابق بازیاب ہونے والے پائلٹ کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کا نشانہ بنا جس سے عملے کے بعض ارکان زخمی ہوئے۔ ہیلی کاپٹر نے محفوظ ہنگامی لینڈنگ کی اور زخمی اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
سی بی ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف 15 طیارہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے اوائل میں مار گرایا گیا۔
طیارے کے دوسرے عملے کے رکن یعنی ویپن سسٹمز آفیسر کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
ادھر ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ 'فضائی دفاعی فورس نے ایک امریکی اے 10 طیارے کو نشانہ بنایا جو جنوبی ایران میں خلیج فارس میں گِر کر تباہ ہوا۔'
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طیارہ کئی گھنٹے پہلے آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ وہی اے 10 طیارہ ہے جس کے بارے میں بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے۔
امریکہ کے زیرِ استعمال ایف 15 ای طیاروں کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟
سوشل میڈیا پر مار گرائے گئے طیارے کے ملبے کے مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک 'ایف 15 ای سٹرائیک ایگل' طیارہ تھا۔
یہ لڑاکا طیارے فضا سے زمین اور فضا سے فضا میں آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ایران میں یہ زیادہ امکان ہے کہ یہ دفاعی فضائی کردار میں استعمال ہو رہے ہوں تاکہ ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو مار گرایا جا سکے۔
فضا سے زمین پر حملے کے کردار میں یہ طیارہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو لیزر اور جی پی ایس سے چلنے والے درست نشانہ باز ہتھیاروں سمیت دیگر بم بھی گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس طیارے میں دو افراد کا عملہ ہوتا ہے۔ سامنے پائلٹ بیٹھتا ہے جو طیارہ اڑاتا ہے اور پیچھے ویپن سسٹمز آفیسر بیٹھتا ہے۔
ویپن سسٹمز آفیسر کے سامنے چار سکرینیں ہوتی ہیں اور وہ اہداف کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ ہتھیار ہدف کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہو۔
یہ دو افراد پر مشتمل نظام کام کا بوجھ تقسیم کرنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر ایک بھاری اور خطرناک فضائی ماحول میں جہاں پائلٹ کو خطرات سے بچتے ہوئے پرواز کرنا ہوتی ہے۔
ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس امریکی طیارے کو بالآخر کس چیز نے مار گرایا لیکن اگر اسے ایرانیوں نے نشانہ بنایا ہے تو سب سے زیادہ امکان زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل (سام) کا ہے۔
کم فاصلے تک مار کرنے والے اور انفراریڈ سے چلنے والے مین پوِرز ایئر ڈیفنس ایسے پورٹیبل نظام ہیں جو ایران میں ایک سنگین خطرہ ہیں کیونکہ انھیں تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ لڑاکا طیارے سام میزائلوں سے بچنے کے لیے عموماً فلیئرز خارج کرتے ہیں۔
امریکی فوجی کمانڈرز اس جنگ میں ایران کے کچھ حصوں پر فضائی برتری کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ واقعہ واقعی مار گرائے جانے کا ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خطرات اب بھی واضح طور پر موجود ہیں۔
ایران جنگ میں امریکی فضائی نقصانات
گذشتہ ماہ کے آخر میں سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے کی مصدقہ تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں امریکی فضائیہ کا ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا تھا۔
یہ تصاویر سب سے پہلے امریکی فوج کی خبروں سے متعلق ایک فیس بُک پیج پر شیئر کی گئی تھیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’ای تھری سینٹری‘ نامی طیارہ دو ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔
بی بی سی کی تصدیق کے مطابق یہ تصاویر سعودی دارالحکومت ریاض سے 100 کلو میٹر شہزادہ سلطان ایئر بیس پر کھینچی گئی تھی۔
ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اس فضائی اڈے پر ایک ایرانی حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ اخبار والسٹریٹ جرنل کے مطابق کم از کم دو امریکی ریفیولنگ طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔
پاسداران انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی فارس نے کہا تھا کہ شاہد ڈرون نے ای تھری طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل مارچ میں ایران نے جدید امریکی ایف-35 طیارے کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا تھا کہ 35 لڑاکا طیارے کو ایران کی فضائی حدود میں جنگی مشن کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
سینٹکام کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’جہاز بحفاظت طریقے سے اُتر گیا تھا اور پائلٹ کی حالت بھی مستحکم ہے۔‘
سینٹرل کمانڈ کی طرف سے واقعے کی مزید تفصیلات تو نہیں دی گئیں لیکن امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس جہاز کو مبینہ طور پر ایران نے ہدف بنایا تھا۔
اس کے علاوہ 12 مارچ کو مغربی عراق میں امریکی فوج کا کے سی 135 ایندھن بھرنے والا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا جس کے بارے میں امریکی فوج نے بتایا تھا کہ طیارہ ’دوستانہ ملک کی فضائی حدود‘ میں گر کر تباہ ہوا۔ اس واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل دو مارچ کو سینٹکام نے تصدیق کی تھی کہ اس کے تین ایف 15 ای طیارے کویت میں 'فریڈلی فائر' کے واقعے میں تباہ ہو گئے تھے۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’لڑائی کے دوران، جس میں ایرانی جہازوں، بیلسٹک مزائلوں اور ڈرونز سے لڑائی بھی شامل تھی، کویت کے فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی فضائیہ کے طیارے مار گرائے۔‘