منی پور: راکٹ نما حملے میں دو کمسن بچے ہلاک، بہو شدید زخمی، منی پور میں تشدُد ایک بار پھر؟

    • مصنف, راگھویندر راؤ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، منی پور
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’جو وارڈ میں اخبار تقسیم کر رہا تھا تو اسی سے میری بہو کو معلوم ہوا کہ اُن کے دونوں بچے نہیں رہے۔‘

بابو تون اُوینم نے روتے ہوئے یہ بات کہی۔

بابو تون اُوینم کا تعلق انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے ضلع بِشنو پور کے ایک گاؤں سے ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 7 اپریل کی رات ان کے گھر پر ایک بڑا سا گولہ آ کر گرا، جس کے نتیجے میں ان کے دو پوتے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کی بہو شدید زخمی ہو گئی۔

ہلاک ہونے والے بچوں میں ایک کی عمر چار سال جبکہ دوسرے کی عمر پانچ ماہ تھی۔ بابو تون اُوینم کے مطابق، اس رات ان کی بہو اپنے بچوں کے ساتھ کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور گولہ کھڑکی سے آ کر پھٹ گیا، جس سے تینوں زخمی ہو گئے۔

انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ اپنے دونوں پوتوں کی جان نہ بچا سکے۔ ان کی بہو اس وقت بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

بابو تون اُوینم نے یہ افسوسناک خبر اپنی بہو سے چھپا کر رکھی کہ اس کے دونوں بچے اس حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اپنے بچوں کے بارے میں پوچھتی ہے تو وہ سچ بتانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) میں خدمات انجام دے رہا ہے اور اس وقت ریاست بہار میں تعینات ہے، جبکہ ان کی بہو گوہاٹی میں بطور نرس کام کرتی ہیں اور زچگی کی چھٹی پر اپنے میکے آئی ہوئی تھیں۔

بابو تون اُوینم کا کہنا تھا کہ اس سانحے کی خبر سن کر ان کی بہو شدید ذہنی صدمے میں ہے اور اپنے آنسو روک نہیں پا رہی ہے۔ یہ بات کہتے ہوئے بابو تون خود بھی آبدیدہ ہو گئے۔

احتجاج اور کشیدگی

ٹرونگلوبی میں اس ہلاکت خیز واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے جلمول میں واقع سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کیمپ پر دھاوا بول دیا، جو ریاست کے دو اہم متحارب قبائل میتئی اور کوکی زور والے علاقوں کے درمیان ایک بفر زون میں واقع ہے۔ اسی دوران سی آر پی ایف کی فائرنگ میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

بی بی سی کی ٹیم نے موقع پر دیکھا کہ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور احتجاج کرنے لگیں۔ ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں حکومت سے کوئی امید نہیں رہی۔ پچھلے کئی برسوں میں جتنی بھی ہلاکتوں کے واقعات ہوئے، آج تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تشدد میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں، مگر کسی کو انصاف نہیں ملا۔‘

منی پور میں معمولاتِ زندگی متاثر

جلمول پہلے ایک کوکی قبائل کا گاؤں تھا، تاہم 3 مئی 2023 کو ریاست میں میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد کے بعد قبائلی آبادی کو بے دخل کر دیا گیا اور اس گاؤں کو سی آر پی ایف کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا۔

ریاست میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ بازار، تعلیمی ادارے، بینک اور دفاتر بند ہیں جبکہ سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی کے باعث عوام گھروں میں محصور ہیں۔

کوآرڈی نیٹنگ کمیٹی آن منی پور انٹیگریٹی (کوکومی) نے بدھ کے روز دارالحکومت امپھال میں احتجاجی ریلی نکالی، جہاں مظاہرین نے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ اور ریاستی وزیر داخلہ گوونداس کونتھو جام کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اس واقعے کی تحقیقات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ ریاستی حکومت نے امن و امان کی صورتِ حال پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

ادھر امپھال ایسٹ، امپھال ویسٹ، بشپنور، کاکچنگ اور تھوبال اضلاع میں سخت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

منی پور میں تشدد کیوں؟

منی پور میں گذشتہ تقریباً تین برسوں سے میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تنازع جاری ہے۔ میتئی برادری، جو آبادی کا تقریباً 53 فیصد ہے، امپھال وادی میں آباد ہے، جبکہ ناگا اور کوکی برادریاں، جو مسیحی قبائلی گروہ ہیں، پہاڑی علاقوں میں رہتی ہیں، جو ریاست کے تقریباً 90 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں۔

برطانوی دور کے بعد سے زمین، شناخت اور سیاسی حقوق کے سوالات نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں مختلف مسلح تنظیمیں وجود میں آئیں اور تشدد کا سلسلہ شدت اختیار کرتا گیا۔

گذشتہ دو برسوں کے دوران دونوں برادریوں کے درمیان سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

بابو تون اُوینم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جلد از جلد اپنے گھر کی مرمت کروانا چاہتے ہیں تاکہ جب ان کی بہو ہسپتال سے واپس آئے تو اسے اس دلخراش واقعے سے جڑی کوئی نشانی نظر نہ آئے جو اس کے دکھ کو مزید بڑھا دے۔