الٹرا ساؤنڈ، دو بچوں کی تصاویر اور وائس نوٹ میں روتے بچے کی آواز: خاتون نے پارٹنر سے ان بچوں کے نام پر کروڑوں حاصل کیے جن کا وجود ہی نہیں

ultrasound
    • مصنف, ہیلینا ولکنسن، ہینری موور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

ایک خاتون نے اپنے سابقہ پارٹنر کو یقین دلایا کہ انھوں نے دو بچوں کو جنم دیا ہے درحقیقت جن کا وجود ہی نہیں تھا۔ برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ کے جج نے اس معاملے کو ’غیر معمولی‘ اور ’فریب کی وسیع مہم‘ قرار دیا ہے۔

برطانیہ میں ایک شخص نے اس وقت فیملی کورٹ سے رجوع کیا جب انھیں بتایا گیا کہ اس کی سابقہ خاتون پارٹنر نے اپنے دو بچوں کو 500 پاؤنڈز میں فروخت کر دیا ہے۔

عدالتی دستاویز میں اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا ہے لیکن اسے جان کہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

جب کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت کو بتایا گیا کہ جان کو بچوں کی تصاویر اور مختلف پیغامات موصول ہوئے تھے اور انھوں نے دو سال کے دوران اپنی سابقہ خاتون پارٹنر کو تقریباً 30,000 پاؤنڈ ادا کیے۔

تاہم فروری میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران کیس نے اس وقت حیران کن موڑ لے لیا جب خاتون، جنھیں جین کے نام سے مخاطب کیا گیا ہے، نے جج کو بتایا کہ اس نے اپنے سابقہ پارٹنر سے بدلہ لینے کے لیے حاملہ ہونے کے متعلق جھوٹ بولا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جان ان کے ساتھ بدسلوکی کیا کرتا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جان کو یقین تھا کہ وہ دو بچوں کا باپ ہے کیونکہ 2022 کے اواخر میں ان کی ساتھی نے انھیں بتایا تھا کہ وہ حاملہ ہیں۔ خاتون نے جان کو الٹرا ساؤنڈ کی تصویر بھیجی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بظاہر حاملہ‘ بھی دکھنے لگی تھیں۔

لندن میں رائل کورٹ آف جسٹس کا منظر، اس کے اوپر آسمان نیلا ہے اور سورج چمک رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں رائل کورٹ آف جسٹس

مئی 2023 میں، پہلے بچے کی پیدائش سے کچھ دیر پہلے، خاتون نے پولیس کو فون کیا اور الزام لگایا کہ ان کے ساتھی نے ان پر تشدد کیا ہے۔

جسٹس جڈ نے جمعہ کے روز شائع ہونے والے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس کے بعد جان کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد انھیں کئی ماہ تک ریمانڈ پر رکھا گیا۔

اس کے بعد خاتون نے اپنے ساتھی کے سوتیلے والد کو پیغام بھیجا کہ بچے کی پیدائش ہو گئی ہے اور ساتھ ہی انھوں بچے کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

ایک موقع پر خاتون نے اپنے سابق ساتھی کی والدہ کو آدھی رات کو ایک وائس نوٹ بھیجا جس کے پس منظر میں ایک بچے کے رونے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

بعد میں، خاتون نے جان کو بتایا کہ وہ دوبارہ حاملہ ہیں اور بچہ کی پیدائش اگست 2024 میں ہو گی۔

تاہم، بچے کی پیدائش سے قبل ہی جوڑے میں علیحدگی ہوگئی اور پھر دونوں نے صلح نہیں کی۔

کچھ عرصے کے بعد خاتون نے اپنے سابقہ ساتھی کی والدہ کو بتایا کہ بچہ کی پیدائش ہو گئی ہے۔

law
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

خاتون نے عدالت میں بتایا کہ جب وہ دونوں ساتھ تھے تو انھوں نے اپنے پارٹنر کو بتایا کہ وہ حاملہ ہیں اور اس کے بعد بھی انھوں نے ایسا ہی دعویٰ کیا۔ تاہم جین نے اعتراف کیا کہ انھوں نے جھوٹ کا ایک جال بنا تھا اور درحقیقت کوئی بچہ تھا ہی نہیں۔

جسٹس جڈ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ خاتون نے دلیل دی کہ وہ اس وقت مینوپاز کی حالت میں تھی اور وہ حاملہ نہیں ہو سکتی تھی۔ جج کا کہنا ہے کہ بینک سٹیٹمنٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن انھوں نے بچے کو جنم دینے کا دعویٰ کیا تھا دراصل اس دن وہ ٹیننگ کروانے گئی تھیں۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس بات کے انتہائی مضبوط شواہد ملے ہیں کہ حقیقت میں بچوں کا کوئی وجود تھا ہی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس شخص کو ’دھوکے کی مسلسل اور وسیع مہم‘ کا نشانہ بنایا گیا جس نے اس کی ماں اور قریبی دوست کو بھی متاثر کیا۔

جج کا کہنا تھا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ یہ سلوک ظالمانہ تھا، جس کی وجہ سے ایک آدمی اور اس کی ماں کو یقین ہو گیا کہ ان کے بالترتیب بچے اور پوتے ہیں۔‘

جج نے مزید کہا کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکی ہیں کہ خاتون کے اس کے پیچھے کیا محرکات تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مالی فراڈ ایک ’ممکنہ وجہ‘ ہو سکتی ہے اور یہ کہ ’ذہنی صحت کے پیچیدہ مسائل‘ نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے۔