لائیو, کالینن گراڈ کو خطرہ ہوا تو روس ’تمام دستیاب ہتھیار‘ استعمال کر سکتا ہے: ولادیمیر پوتن

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر کہا ہے کہ روس کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر نیٹو کی جانب سے ’جارحیت‘ کی گئی تو روس جواب دے گا اور اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔

خلاصہ

  • روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر کہا ہے کہ روس کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر نیٹو کی جانب سے 'جارحیت' کی گئی تو روس جواب دے گا اور اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔
  • پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رہے ہیں۔
  • متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پرواز راستہ تبدیل کرنے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتاری گئی تھی۔
  • کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایک ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت اب 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ یاد رہے کہ امریکہ کی 32 ریاستوں میں اب بھی کم عمری کی شادی کی کسی نہ کسی شکل قانونی اجازت ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی قلت کے باعث امریکہ سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    ڈیزل کی قلت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت کے باعث امریکہ سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، اور اس سلسلے میں وہ یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل کے ذخائر میں سے کچھ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تیاری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ امریکی کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں اور کاروباری اداروں پر نہیں پڑنا چاہیے۔

    ایران کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد امریکہ نے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ معاملہ امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹروں کے لیے بھی ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔

    جمعرات کو برطانیہ نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ ممکنہ امریکی پابندی کے جواب میں ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے امکان پر بات چیت کی۔

    امریکہ دنیا میں ڈیزل کا ایک بڑا سپلائر ہے اور روزانہ تقریباً 12 لاکھ سے 15 لاکھ بیرل ڈیزل برآمد کرتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے برآمدات پر پابندی لگائی تو دنیا کے دیگر ممالک میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا: ’ہم اس معاملے پر بہت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔‘

    جمعرات کو انھوں نے مزید کہا کہ وہ یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں، جبکہ بیسنٹ نے کہا کہ انھیں یہ قدم ’فوری طور پر‘ اٹھانا چاہیے۔

    بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہمارے یورپی شراکت داروں کو اپنے موجودہ وعدوں پر تیزی سے عمل کرنا چاہیے اور جاری رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اضافی سپلائیز فراہم کرنی چاہیں۔‘

    یہ منصوبے امریکہ میں نومبر کے انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئے ہیں، جہاں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ رپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ملک بھر میں انتخابی مہم چلانے والے ہیں تاکہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر اپنی جماعت کا کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔

    ادھر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتیں اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ موٹرنگ تنظیم RAC کے مطابق ڈیزل کی قیمت تقریباً 200 پنس فی لیٹر کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    برطانیہ کے وزیرِ توانائی مارٹن میکلسکی نے جمعرات کو یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ممکنہ امریکی پابندی پر تبادلۂ خیال کیا۔

    گفتگو سے واقف ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مربوط حکمتِ عملی تیار کرنا دانشمندانہ ہوگا، تاہم اس سال کے آغاز میں جاری کیے گئے سٹریٹجک ایندھن ذخائر میں سے اب بھی کچھ ذخائر موجود ہیں۔

    برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ’ہمارے پاس متنوع اور مضبوط سپلائی نظام موجود ہے۔ ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں اور برطانیہ کی ایندھن صنعت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

    حکومت نے زور دیا ہے کہ ڈیزل کی ممکنہ قلت کے بارے میں فوری تشویش کی کوئی وجہ نہیں، اگرچہ قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  2. یمنی حکومتی فورسز کا دارالحکومت صنعاء میں ’انتہائی اہم‘ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمنی حکومتی فورسز

    بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صنعاء میں ’انتہائی اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ صعدہ اور تعز میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ اسی دوران میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی شام حوثی جماعت انصار اللہ کے زیرِ کنٹرول یمنی دارالحکومت میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی تصاویر میں شہر کے اوپر دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ انصار اللہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی ’سبأ‘ نے ایکس پر ان واقعات کو ’سعودی جارحیت‘ قرار دیا۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ دارالحکومت صنعاء میں حملوں کے ساتھ ساتھ شمال مغربی یمن کے صوبہ صعدہ میں بھی 11 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    تعز کے حوالے سے حکومتی فورسز کے ترجمان نے ایک سابق بیان میں کہا: ’ہماری فضائیہ کے شاہینوں نے تعز کے مختلف محاذوں پر 27 انتہائی درست اور مرکوز فضائی حملے کیے، جن کا ہدف حوثی دہشت گرد ملیشیا کا ایک مکمل فوجی نظام تھا۔‘

    بیان کے مطابق حملوں میں میزائلوں کا ایک گودام، کمانڈ اور کنٹرول مراکز، اسلحہ اور رسد کے مراکز، ملیشیا کے جنگجوؤں کے اجتماعات اور فوجی گاڑیاں و سازوسامان نشانہ بنائے گئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ حملوں نے اپنے اہداف کو ’براہ راست اور انتہائی درست انداز میں‘ نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں فوجی گاڑیاں اور عسکری صلاحیتیں تباہ ہوئیں اور ملیشیا کے بڑی تعداد میں ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب اتحاد نے جمعرات کی شام ایکس پر بتایا کہ اس نے جنوبی شہر جازان کے اوپر دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون مار گرائے۔ جازان ان توانائی اور تیل کی تنصیبات کے قریب واقع ہے جنہیں حالیہ ہفتوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی طرح جنوب مغربی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے اوپر بھی اہداف کو تباہ کیا گیا، جہاں ایک فضائی اڈہ موجود ہے۔

    سعودی سول ڈیفنس کے مطابق خمیس مشیط کے علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ’محدود مالی نقصان‘ ہوا۔

    اس سے قبل جمعرات کو اتحاد نے کہا تھا کہ حوثیوں نے اس ہفتے مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہو گیا، تاہم بجلی کی فراہمی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔

    اتحاد کے مطابق تفتیش اور ایک ڈرون کے ملبے کے معائنے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ منگل کے روز ہونے والے اس حملے میں حوثی جماعت ملوث تھی۔ یہ بجلی گھر مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔

    دوسری جانب انصار اللہ کے زیرِ انتظام خبر رساں ایجنسی سبأ نے اپنی حکومت کی وزارتِ دفاع کے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ بجلی گھر کو نشانہ بنانے کا سعودی الزام ’بے بنیاد‘ ہے۔

    اس ذریعے نے اس الزام کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اس بات سے توجہ ہٹانا ہے جسے اس نے مکہ مکرمہ پر حملے کے سابق سعودی الزام کو ثابت کرنے میں سعودی عرب کی ناکامی قرار دیا۔

    سعودی عرب نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے مکہ کے جنوب میں انصار اللہ جماعت کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا تھا۔

    اتحاد نے اس واقعے کو 2017 کے بعد مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی جماعت کی دوسری کوشش قرار دیا تھا، جبکہ انصار اللہ نے مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے مقدس اسلامی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔

    اتحاد کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ پر حملہ حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین کو نشانہ بنانے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی ’بار بار کی جانے والی کوششوں‘ کا حصہ ہے۔

    اتحاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ مقدس مقامات اور ان کے زائرین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

  3. کالینن گراڈ کو خطرہ ہوا تو روس ’تمام دستیاب ہتھیار‘ استعمال کر سکتا ہے: ولادیمیر پوتن

    پوتن

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر کہا ہے کہ روس کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر نیٹو کی جانب سے ’جارحیت‘ کی گئی تو روس جواب دے گا اور اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔

    پوتن نے ڈسکشن کلب ’والدائی‘ کے اجلاس میں کہا ’اگر روسی فیڈریشن پر براہِ راست حملے کی بات ہوئی، اور اس تناظر میں کالینن گراڈ مراد ہے، تو یقیناً فوری طور پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ روس اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے۔ یہ ہتھیار کون سے ہوں گے، اس کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے۔‘

    پوتن نے مزید کہا کہ روس کے پاس اس وقت ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کی مثال دنیا میں کسی اور ملک کے پاس نہیں ملتی۔

    ان کے مطابق یہی صلاحیت روس کو یورپ کی دو جوہری طاقتوں، فرانس اور برطانیہ، پر برتری دیتی ہے۔

    یہ بیان دیتے ہوئے پوتن نے روسی وزارتِ خارجہ کے ایک خط کا حوالہ دیا، جس میں نیٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اتحاد نے کالینن گراڈ کے علاقے کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی تو روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

    پوتن نے اس خط کو ’دھمکی نہیں بلکہ ہمیں ڈرانے کی کوششوں کا جواب‘ قرار دیا۔

    کالینن گراڈ

    کالینن گراڈ کیا ہے؟

    کالینن گراڈ روس کا ایک علاقہ ہے جو روس کے مرکزی حصے سے الگ واقع ہے۔ یہ بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے، اس لیے وہاں پہنچنے کے لیے روس کو دوسرے ممالک کے راستے استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ ماضی میں یہ علاقہ جرمنی کا حصہ تھا اور اس کا نام کونیگس برگ تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ سوویت یونین کے قبضے میں آ گیا۔

    یہ علاقہ روس کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں اہم فوجی اڈے، میزائل نظام اور بحری تنصیبات موجود ہیں۔ روس نے یہاں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے یہ نیٹو ممالک کے لیے بھی خاص اہمیت اور تشویش کا باعث ہے۔

    حالیہ برسوں میں کالینن گراڈ کا نام روس اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بار بار سامنے آیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا یا اسے باقی روس سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

  4. برطانوی فضائی اڈے کے قریب مبینہ دہشت گردی کے الزام میں برطانوی۔ایرانی شہری گرفتار: پولیس

    برطانیہ کی کاؤنٹر ٹیررازم پولیس

    برطانیہ کی کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک برطانوی-ایرانی شخص کو آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کی تیاری کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔

    اس 27 سالہ شخص کو لندن کے علاقت ویسٹ منسٹر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک دوسرے شخص، جو 26 سالہ برطانوی شہری ہے، سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے، جبکہ علاقے میں واقع دو جائیدادوں کی تلاشی لی گئی ہے۔

    اتوار کے روز گلوسٹرشائر میں واقع فضائی اڈے کے قریب گرفتار کیے گئے بیس سے کچھ زائد عمر کے پانچ افراد بدستور ضمانت پر ہیں۔ یہ پانچوں افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری تھے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کی سینیئر کوآرڈینیٹر وکی ایونز کا کہنا ہے کہ پولیس ’تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور کر رہی ہے، جن میں کسی غیر ملکی ریاست کے ممکنہ کردار کا امکان بھی شامل ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’گلوسٹرشائر میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق تحقیقات انتہائی پیچیدہ ہیں اور ہماری ماہر ٹیمیں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’میں عوام کی مسلسل حمایت اور صبر پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی۔‘

    خیال رہے اتوار کی صبح دیگر پانچ افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب امریکی فضائیہ کے زیرِ انتظام اڈے کی جانب ’تین مشتبہ گاڑیوں‘ کے جانے کی اطلاع ملی تھی۔

  5. مدینہ میں بجلی تقسیم کرنے والے مرکز پر حوثیوں نے حملہ کیا: سعودی اتحاد کا الزام

    یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے مدینہ میں واقع پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 ستمبر 2026 کو صبح پانچ بج کر 11 منٹ پر مدینہ میں واقع بجلی تقسیم کرنے والے مرکز پر حملہ کیا گیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی تحقیقات اور جمع کیے گئے شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں حوثی ملیشیا ملوث تھی۔

    اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ واقعے کے بعد کی تحقیقات اور استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے جائزے کے بعد اخذ کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایک پاور ٹرانسفارمر ناکارہ ہوا، تاہم بجلی کی ترسیل کے نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا کہ جس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا وہ ’مدینہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے نظام کا حصہ تھی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کو روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

  6. ملاقات کے لیے حکومت کا پیغام قبول کیا ہے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کل ملاقات کا پیغام موصول ہوا جسے قبول کر لیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھجوایا گیا پیغام ’اپوزیشن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں‘ قبول کیا گیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کل دوپہر 12 بجے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفتر میں اپوزیشن اور حکومتی وفود کے درمیان ملاقات ہو گی۔

    ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق اپوزیشن سے ملاقات کرنے والے وفد میں حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین بھی شامل ہوں گے۔

    ایوانِ صدر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی کی صورتحال پر ’تشویش کا اظہار کیا گیا اور طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد کل (جمعہ کو) پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحالپر مذاکرات کرے گا۔‘

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہوں گے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی کریں گے۔

  7. لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا، پانچ اکتوبر کو کوہاٹ میں پڑاؤ کے بعد ضلع پشاور داخل ہو گا: تحریک انصاف

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ کرک، جبکہ پانچ اکتوبر کو دوسرا پڑاؤ کوہاٹ میں ہو گا۔

    شفیع جان کے مطابق، ’اس کے بعد لانگ مارچ ضلع پشاور داخل ہو گا۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چار اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم شفیع جان کی ایکس پوسٹ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ مارچ کس تاریخ کو اسلام آباد پہنچے گا۔

    ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں اور حامیوں سے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔

    شفیع جان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر وزیر اعلیٰ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں سہیل آفریدی کہہ رہے ہیں کہ وہ کل (جمعہ، دو اکتوبر) شام چار بجے پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں موجود ہوں گے۔

    اس ویڈیو میں سہیل آفریدی کے ساتھ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی موجود ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کہتے ہیں کہ کل پی ٹی آئی کی تمام لیڈرشپ رات تک موجود رہے گی اور لانگ مارچ کے لیے چندہ دینے کے خواہش مند افراد اپنا عطیہ براہِ راست انھیں دے سکیں گے۔

  8. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان پاکستان مخالف عناصر کو پناہ دے رہے ہیں۔ ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو افغانستان یا اس کے عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان کی حکومت سے مسئلہ ہے، ’جس نے خود کو افغانستان پر مسلط کر رکھا ہے۔‘
    • شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ ملک کے وسطی صوبے حمص میں بدھ کے روز ایک بس پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پرواز راستہ تبدیل کرنے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتاری گئی تھی۔
    • اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز پر ایک پائلٹ کے دوسرے پائلٹ کو چاقو مارنے اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش میں ایران کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔
    • ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے عراق سے امریکی افواج کے انخلا کو ’ایک عظیم اور تاریخی‘ لمحہ اور ’مزاحمت کی محور‘ کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
    • کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایک ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت اب 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ یاد رہے کہ امریکہ کی 32 ریاستوں میں اب بھی کم عمری کی شادی کی کسی نہ کسی شکل قانونی اجازت ہے۔
  9. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    جمعرات یکم اکتوبر کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔