امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی قلت کے باعث امریکہ سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت کے باعث امریکہ سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، اور اس سلسلے میں وہ یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل کے ذخائر میں سے کچھ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تیاری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ امریکی کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں اور کاروباری اداروں پر نہیں پڑنا چاہیے۔
ایران کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد امریکہ نے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ معاملہ امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹروں کے لیے بھی ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔
جمعرات کو برطانیہ نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ ممکنہ امریکی پابندی کے جواب میں ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے امکان پر بات چیت کی۔
امریکہ دنیا میں ڈیزل کا ایک بڑا سپلائر ہے اور روزانہ تقریباً 12 لاکھ سے 15 لاکھ بیرل ڈیزل برآمد کرتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے برآمدات پر پابندی لگائی تو دنیا کے دیگر ممالک میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا: ’ہم اس معاملے پر بہت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔‘
جمعرات کو انھوں نے مزید کہا کہ وہ یورپی ممالک سے اپنے ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں، جبکہ بیسنٹ نے کہا کہ انھیں یہ قدم ’فوری طور پر‘ اٹھانا چاہیے۔
بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہمارے یورپی شراکت داروں کو اپنے موجودہ وعدوں پر تیزی سے عمل کرنا چاہیے اور جاری رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اضافی سپلائیز فراہم کرنی چاہیں۔‘
یہ منصوبے امریکہ میں نومبر کے انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئے ہیں، جہاں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ رپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ملک بھر میں انتخابی مہم چلانے والے ہیں تاکہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر اپنی جماعت کا کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتیں اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ موٹرنگ تنظیم RAC کے مطابق ڈیزل کی قیمت تقریباً 200 پنس فی لیٹر کے قریب پہنچ چکی ہے۔
برطانیہ کے وزیرِ توانائی مارٹن میکلسکی نے جمعرات کو یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ممکنہ امریکی پابندی پر تبادلۂ خیال کیا۔
گفتگو سے واقف ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مربوط حکمتِ عملی تیار کرنا دانشمندانہ ہوگا، تاہم اس سال کے آغاز میں جاری کیے گئے سٹریٹجک ایندھن ذخائر میں سے اب بھی کچھ ذخائر موجود ہیں۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ’ہمارے پاس متنوع اور مضبوط سپلائی نظام موجود ہے۔ ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں اور برطانیہ کی ایندھن صنعت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔‘
حکومت نے زور دیا ہے کہ ڈیزل کی ممکنہ قلت کے بارے میں فوری تشویش کی کوئی وجہ نہیں، اگرچہ قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔




