شانزے سیال اور ’چھلڑے چھلڑے وال‘: ’نوکری تلاش کر رہی تھی جب گانا وائرل ہو گیا‘

Shanzy Sial
    • مصنف, نازش ظفر
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

شانزے سیال پنجاب کے شہر میاں چنوں میں اینستھیزیالوجی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور میں نوکری کی تلاش میں آئی تھیں اور تب اُن کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا ایک گانا چند ہی دنوں میں انھیں انڈیا اور پاکستان سمیت متعدد ممالک میں مقبول بنا دے گا۔

’چھلڑے چھلڑے وال‘ اُن کا ایک ساتھی گلوکار محسن لاشاری کے ساتھ گایا ہوا ’کور‘ سانگ ہے جسے انسٹا گرام پر اپلوڈ ہونے کے بعد سے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

اس گانے کے ساتھ ہزاروں ریلز بنائی جا چکی ہیں اور انڈیا اور پاکستان میں موسیقی کی کئی نامور شخصیات سمیت لاکھوں صارفین نے اسے شیئر کیا ہے جبکہ اس گانے کے لاتعداد ری میک بھی بن چکے ہیں۔

’چھلڑے چھلڑے وال‘ کوئی نیا گانا نہیں ہے اور اسے ماضی میں متعدد گلوکار گا چکے ہیں، جن میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں پیدا ہونے والے شفا اللہ خان روکھڑی بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شانزے نے بتایا کہ انھیں گانے کا شوق بچپن سے تھا اور اُنھیں اکثر بتایا جاتا تھا کہ اُن کی آواز منفرد ہے۔

شانزے کے بقول انھیں نے اسے شوق کی حد تک ہی رکھا، بلکہ یونیورسٹی آنے کے بعد تو اُن کا گانے سے تعلق کم ہی رہا۔

’میں ایک حد تک مایوس ہی تھی کیونکہ مجھے کہا جاتا تھا کہ تمھاری آواز اچھی ہے لیکن تمھیں ٹیمپو کا علم نہیں، تم ٹیمپو اور ساز کے ساتھ نہیں گا سکتیں۔‘

Shanzy Sial
،تصویر کا کیپشنشانزے سیال کہتی ہیں کہ اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ راتوں رات مشہور ہو جائیں گی

’انڈین سنگر نے گانے کا کریڈٹ دیا تو یہ پاکستان میں بھی وائرل ہو گیا‘

محسن لاشاری مختلف شوقیہ گلوکاروں کے ساتھ مل کر ’کولیب‘ یا مشترکہ ویڈیوز بناتے رہتے ہیں۔ اور اس رابطے کے بعد اِن دونوں نے مل کر یہی سرائیکی گانا گایا جسے ابتدائی دنوں میں اچھے ویوز ملے۔

شانزے بتاتی ہیں کہ ’پہلے ایک حد تک اچھے ویوز ملے تھے، لیکن جب انڈیا سے سونندنا جیسی سنگرز نے اسے دوبارہ گا کر انھیں کریڈٹ دیا، تو پھر پاکستان میں بھی یہ گانا جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو گیا۔‘

یہ چھلڑے چھلڑے وال کا پہلا وائرل راؤنڈ تھا جس میں اس کا کچھ حصہ گایا گایا تھا۔

اس کے بعد محسن لاشاری کے کہنے پر مکمل گانے کی ویڈیو شیئر کی گئی اور پھر ملین میں ویوز کے ساتھ انسٹا گرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر شاید ہی کوئی صارف ہو جو اس خطے سے ہو، سرائیکی یا پنجابی زبان جانتا ہو، اور اس کی فیڈ میں کئی کئی بار یہ گانا نہ گونجا ہو۔

’گمان میں بھی نہیں تھا کہ راتوں رات مشہور ہوں گے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

محسن اور شانزے کے مطابق اُن کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ یوں راتوں رات مشہور ہوں گے۔ شانزے کے مطابق وہ اُن دنوں میں لاہور میں ’او ایل ایکس‘ پر اپنے شعبے سے متعلق نوکری کی تلاش میں تھیں۔

’گھر والے کہہ رہے تھے واپس آ جاؤ، لیکن مجھے ایسے نہیں جانا تھا، کچھ کر کے ہی جانا تھا اور تب ہی یہ گانا وائرل ہو گیا۔‘

ان دونوں کا کہنا ہے کہ گانا وائرل ہونے کے بعد اُن کے اِن باکس میں معروف شخصیات کے پیغامات کی بھرمار تھی۔

انڈیا میں اس دوران اس گانے کے متعلق بہت سی میمز بھی بنائی گئیں جن میں اس گانے کو پاکستان کا ’تازہ حملہ‘ کہا گیا۔ ایک انڈین صارف نے ازراہ مذاق لکھا کہ ’ہم پاکستان کو کرکٹ میں ہرا سکتے ہیں لیکن موسیقی اور مدھر بھری آوازوں میں پسپا نہیں کر سکتے۔‘

راتوں رات ملنے والی شہرت کے متعلق اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح سراہے جانے پر حیران تھے اور اس میں سرائیکی زبان کی چاشنی کا بھی ہاتھ ہے۔

شانزے کہتی ہیں کہ ’میں پہلے بھی سرائیکی گانے گا رہی تھی اور میرے دوست مجھے کہتے تھے کہ اپنا کانٹینٹ تبدیل کرو۔ لیکن مجھے یہی کرنا تھا۔‘

محسن لاشاری کے پاس ایجوکیشن کی ڈگری ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ کسی موسیقار گھرانے سے نہیں ہیں لیکن سیینئر گلوکاروں سے سیکھ کر گاتے آئے ہیں۔ جبکہ شانزے نے سکول اور کالج میں نعت کے مقابلے تحصیل اور ضلعی لیول پر جیتے ہیں۔

Shanzay Sial

مل کر گانے کے متعلق محسن لاشاری کا کہنا ہے کہ انھیں شانزے کی آواز سرائیکی گانے کے لیے بہت اچھی لگی تھی، جبکہ شانزے نے لاشاری کے ساتھ ٹیمپو، سکیل اور ساز کے ساتھ گانا سیکھا جو وہ اس سے پہلے نہیں کر پائی تھیں۔

ان باکس میں اب آنے والے میسجز کا ذکر کرتے ہوئے دونوں گلوکاروں کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی انڈیا سے بہت پیار مل رہا ہے۔

شانزے کے مطابق ایک پیغام ایسا بھی آیا کہ ایک بہت بیمار دادی نے آخری خواہش کے طور پر ایک بار شانزے سے بات کرنے کی خواہش کی۔

مشہور ہونے کے بعد کی زندگی کے متعلق شانزے کا کہنا ہے کہ اُن کے ہاسٹل کا دروازہ ہر دو منٹ کے بعد بجتا ہے اور لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ شانزے کا کمرہ ہے، جبکہ اُن کے ساتھ رہنے والی روم میٹس بھی اُن کے ساتھ سیلفیاں بنانے لگی ہیں۔

اس وقت دونوں گلوکاروں کو کئی ریکارڈ کمپنیز نے گانے کے لیے چُنا ہے جبکہ اُن کے کنسرٹس بھی جاری ہیں۔

شانزے اور محسن کا کہنا ہے کہ انھیں ’چھلڑے چھلڑے وال‘ کے بعد ایک سمت مل گئی ہے اور یہ کہ اب انھیں معلوم ہے کہ انھیں گلوکاری میں ہی مزید نام بنانا ہے۔