’چھلڑے چھلڑے وال‘ سرائیکی گیت ہے یا پنجابی؟

،تصویر کا ذریعہShanzy_Sial/Insta
- مصنف, گرجوت سنگھ
- عہدہ, بی بی سی پنجابی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انسٹاگرام پر حال ہی میں وائرل ہونے والے گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ نے نہ صرف پاپ موسیقی کے دور میں ایک لوک گیت کو نمایاں مقام دیا ہے بلکہ ایک بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
اس گانے سے متعلق ریلز پر ہونے والے تبصروں میں آپ لوگوں کو اس بات پر بحث کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں کہ آیا یہ گانا پنجابی زبان میں ہے یا سرائیکی میں؟
مشرقی پنجاب کے بعض لوگوں کے لیے شاید یہ گیت غیر مانوس ہو سکتا ہے۔ تاہم ’چھلڑے چھلڑے وال‘ کوئی نیا گانا نہیں ہے۔
تاہم جب شانزے سیال اور محسن لشاری کی جوڑی نے اس گانے کا ایک کور ورژن انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تو چند ہی دنوں میں اسے کروڑوں مرتبہ دیکھا گیا۔
صرف ان کے اپنے اکاؤنٹ پر ہی اس گانے کو 80 ملین سے زیادہ ویوز مل چکے ہیں۔
اس کے بعد دیگر گلوکاروں نے بھی یہ گانا گانا شروع کر دیا اور سامعین کی جانب سے اسے پسند بھی کیا جا رہا ہے۔
یہ گانا اس سے قبل بھی متعدد گلوکار گا چکے ہیں، جن میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں پیدا ہونے والے شفا اللہ خان روکھڑی بھی شامل ہیں۔
اس گانے کی نئی مقبولیت کے ساتھ سرائیکی اور پنجابی زبان کے درمیان فرق اور تعلق کے حوالے سے بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجابی یا سرائیکی؟
بہت سے لوگ سرائیکی کو پنجابی زبان کی ہی ایک بولی قرار دیتے ہیں، جبکہ سرائیکی زبان کے حامی اسے ایک الگ اور مستقل زبان سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں سرائیکی زبان کی شناخت اور فروغ کی تحریک کا تعلق ایک الگ صوبے کے مطالبے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ بعض سیاسی جماعتیں اس مطالبے کو ’سرائیکستان‘ کا نام دیتی ہیں، جبکہ دیگر اسے ’جنوبی پنجاب‘ صوبے کے قیام کے مطالبے کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
مجوزہ صوبے کی حدود کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ عام طور پر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس میں ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن کے علاقے شامل کیے جائیں، جبکہ بعض سرائیکی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ مزید اضلاع کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی 1981 کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی سے الگ مادری زبان کے طور پر درج کیا گیا تھا۔
پاکستان کی 2023 کی مردم شماری میں 2 کروڑ 88 لاکھ افراد نے اپنی زبان سرائیکی درج کروائی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔
سرائیکی زبان بولنے والوں کا مؤقف
پاکستان میں سرائیکی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے امیر علی سلمان کہتے ہیں ’دلڑی لُٹندا یار سجن‘ جیسے لوک گیت اور خواجہ غلام فرید کا کلام بھی سرائیکی میں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سرائیکی زبان ملتان، جھٹکی اور دیگر مقامی بولیوں کے امتزاج سے تشکیل پائی ہے اور اس کا لہجہ اور ذخیرۂ الفاظ پنجابی سے خاصا مختلف ہے۔
انہوں نے کہا ’بہت سے فنکار خود کو سرائیکی کہتے ہیں لیکن لوگ انھیں پنجابی گلوکار سمجھتے ہیں۔ ہمارا مقصد تمام زبانوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد ہے، نہ کہ زبان کو کسی قسم کی تفریق کی بنیاد بنانا۔‘
ان کے مطابق ’چھلڑے چھلڑے وال‘ گیت میں بھی ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں، جو اس دعوے کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ گانا سرائیکی زبان میں ہے۔
پاکستان میں سرائیکی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے امیر علی سلمان نے کہا کہ ’ماہی دیاں جھوکاں‘، جو کوک سٹوڈیو پاکستان پر جاری کیا گیا تھا، بھی سرائیکی زبان میں ہے اور اسے بہت پذیرائی ملی تھی۔
انھوں نے کہا کہ یوٹیوب پر اس گانے کی تفصیل میں بھی اسے سرائیکی گیت قرار دیا گیا ہے۔
پنجابی اور سرائیکی کے درمیان تعلق
ماہرِ لسانیات جوگا سنگھ وضاحت کرتے ہیں ’ماہرین لسانیات سرائیکی کو پنجابی کی ہی ایک ذیلی بولی سمجھتے ہیں۔ لسانی اعتبار سے اگر دو بولیوں کے بولنے والے ایک دوسرے سے بات چیت کے ذریعے باآسانی ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہوں تو انہیں ایک ہی زبان کی بولیاں تصور کیا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ زبان کے مسئلے پر لوگوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی جڑیں غیر مساوی ترقی سے جڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا ’پاکستان کے سرائیکی خطے (لاہور اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں) میں ترقی غیر متوازن اور نسبتاً سست رہی ہے۔‘
مشرقی پنجاب کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امرتسر کی پنجابی اور بنوڑ کی پنجابی میں فرق پایا جاتا ہے، اسی طرح جب ہم ملتان کی طرف بڑھتے ہیں تو زبان اور لہجے میں بھی تبدیلی آتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پنجابی بولنے والوں کی بڑی تعداد کے باوجود تعلیم اب بھی اردو میں دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ زبان کے بارے میں مناسب فہم کا فقدان اور سیاسی عوامل ہیں۔‘
پنجابی اور سرائیکی کی بحث کتنی پرانی ہے؟
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں سیاسیات کی استاد ڈاکٹر اسما فیض کرتی ہیں ’پاکستان میں ’سرائیکستان‘ کی تحریک کا آغاز ایک ثقافتی مطالبے کے طور پر ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہو گئی۔ 1980 کی دہائی کے اواخر میں اس شناخت کی بنیاد پر متعدد سیاسی جماعتیں بھی وجود میں آئیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں سرائیکی شناخت کے بارے میں بڑھتا ہوا شعور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپنی شناخت کے حوالے سے ان کا اعتماد بڑھا ہے، جبکہ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر سرائیکی زبان میں مواد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRokhri Production Official
ان کے مطابق سرائیکی تحریک ثقافتی سطح پر خاصی مضبوط ہے، تاہم سیاسی محاذ پر نسبتاً کمزور دکھائی دیتی ہے کیونکہ سرائیکی شناخت سے وابستہ کوئی مضبوط سیاسی جماعت موجود نہیں ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’پنجابی اور سرائیکی کے حامیوں کے درمیان یہ بحث کافی پرانی ہے اور دونوں فریق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی زبان زیادہ قدیم ہے۔‘
’1960 کی دہائی میں سرائیکی دانشوروں کی کتابوں کی اشاعت میں تیزی آئی اور مردم شماری میں سرائیکی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد پنجابی دانشوروں کی جانب سے اس کی مخالفت شروع ہوئی۔‘
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں برطانوی دور سے اردو کو اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ پنجابی وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے، لیکن اس زبان میں شائع شدہ علمی اور ادبی مواد نسبتاً کم ہے۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے بعض پنجابی دانشور سرائیکی تحریک کے حوالے سے مختلف اور بعض اوقات مخالف ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔



















