پُرتعیش بحری جہاز، سوئمنگ پول اور اربوں مالیت کے ولاز: کم جونگ اُن کی خفیہ تفریح گاہ کے اندر کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہVantor/BBC
- مصنف, سورام چیون ، اغنیا اذکیہ
- عہدہ, بی بی سی کوریا
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
اس سال جولائی سے اکتوبر کے وسط تک شمالی کوریا کے وون سان ساحل کے قریب ایک 80 میٹر طویل لگژری بحری جہاز بار بار سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا گیا ہے۔
اس میں سب سے نمایاں چیز ڈیک کے ساتھ واقع 50 میٹر طویل سوئمنگ پول ہے، جس کے ایک سرے پر متعدد واٹر سلائیڈز موجود ہیں۔ کئی ماہ تک ایک مرمتی مرکز میں کھڑا رہنے کے بعد، یہ جہاز جولائی کے آغاز میں مشرقی ساحلی پٹی کے ایک حصے، جسے کالما جزیرہ نما کہا جاتا ہے، منتقل کر دیا گیا۔
یہ مقام وون سان کے قریب ہے، جو ایک ساحلی تفریحی مقام ہے جہاں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور ان کے اہلخانہ کی استعمال کردہ ایک وسیع و عریض ولا موجود ہے۔
متحرک ہونے والا یہ واحد بڑا بحری جہاز نہیں تھا۔
بی بی سی کے تجزیہ کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں کم کے ولا کے قریب چند دیگر جہاز بھی بار بار دیکھے گئے۔
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بحری جہاز کم اور ان کے خاندان کے زیر استعمال ہیں۔

شمالی کوریا کے سابق حکام، منحرفین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی اعلیٰ قیادت سے غیر متعلق کسی شخص کے لیے اس حجم کے جہازوں کی ملکیت رکھنا یا انھیں آزادانہ طور پر استعمال کرنا مشکل ہوگا۔
ری جونگ ہو کہتے ہیں: ’سردیوں میں وہ انھیں شپ یارڈ میں رکھتے تھے۔ جب گرمیوں کا موسم آتا تو انھیں باہر نکال کر کم جونگ اُن کے ولا یا کالما کی جانب لے جایا جاتا اور تیراکی و تفریح کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ری ماضی میں ورکرز پارٹی کے آفس 39 میں ایک عہدیدار رہ چکے ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ قیادت کے لیے غیر ملکی زرِمبادلہ کے حصول اور انتظام میں ملوث ہے۔
شمالی کوریا کی خفیہ آمریت کی اعلیٰ ترین قیادت کی دولت کا اندازہ لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا ملک کے اقتصادی اعداد و شمار کا۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر ادارے تخمینوں کی بنیاد پر شمالی کوریا کو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار کرتے ہیں، جہاں ایک غیر معمولی طور پر بڑا فوجی بجٹ پابندیوں کا شکار جوہری پروگرام کے لیے فنڈ فراہم کرتا ہے۔

سنہ 2025 کی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شمالی کوریائی باشندے ’منظم، وسیع پیمانے پر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں، جہاں ریاست کا مکمل کنٹرول، جبری مشقت کی وسیع موجودگی اور خوراک کی دائمی قلت پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں اندازاً 40 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔
لیکن حکومت کے عیش و عشرت سے بھرپور طرزِ زندگی کے بارے میں طویل عرصے سے معلومات سامنے آتی رہی ہیں۔
ہمیں سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آنے والے جہازوں کی قیمت معلوم نہیں، لیکن اسی معیار کی پرتعیش کشتیوں کی قیمت کئی کروڑ ڈالر سے لے کر 100 ملین ڈالر (75 ملین پاؤنڈ) سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
کم کی نسبتاً چھوٹی، 29 میٹر طویل پرنسس یاٹ کی مالیت اس سے قبل تقریباً 70 لاکھ ڈالر بتائی گئی تھی۔
اگرچہ صرف جہازوں کی موجودگی خاندان کے مقام کی حتمی نشاندہی نہیں کرتی، تاہم ان کی نقل و حرکت، جو کم کی عوامی سرگرمیوں میں وقفوں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، ایسی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتی ہے جو بصورت دیگر عوامی نظروں سے اوجھل رہتیں۔
سوانح نگاروں اور انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، وون سان وہ مقام ہے جہاں کم جونگ اُن نے اپنی والدہ کے ساتھ بچپن کا ایک حصہ گزارا۔
ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ خود شہر کا تعلق بھی ان کے خاندان سے کم جونگ اِل کے دورِ حکومت سے جڑا ہوا ہے۔
ایک منحرف شخص، جس نے 1990 کی دہائی سے 2000 کی ابتدائی دہائی تک 13 سال تک اُس یونٹ 974 میں خدمات انجام دیں جو اُس وقت کے رہنما کم جونگ اِل کی رہائش گاہوں کی حفاظت کرتی تھی، نے بی بی سی کو بتایا کہ وون سان کے اردگرد موجود ولا اشرافیہ کی تفریح گاہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
انھیں یاد ہے کہ گرمیوں میں درجنوں بچے اور نوعمر افراد واٹر سکیئنگ کرتے تھے۔
شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا کم کے تعطیلات گزارنے کے بارے میں شاذونادر ہی خبریں شائع کرتا ہے اور ایسی سرگرمیوں کو عموماً سرکاری معائنوں یا رہنمائی کے دوروں کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیکن ماضی میں بی بی سی سے گفتگو کرنے والے منحرفین اس بات سے آگاہ دکھائی دیے کہ خاندان وون سان میں تعطیلات گزارتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم کچھ شمالی کوریائی اس بارے میں جانتے تھے۔
شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وون سان میں بلند و بالا ہوٹل، ریستوران، دکانیں، کھیلوں کی سہولیات اور واٹر پارکس موجود ہیں اور یہ تقریباً 20 ہزار سیاحوں کی میزبانی کر سکتا ہے۔
ریاستی میڈیا اور روسی ذرائع ابلاغ نے روسی سیاحوں کے چھوٹے گروہوں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جو وون سان کالما ریزورٹ کا دورہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو جولائی 2025 میں کھولا گیا تھا۔
اگرچہ یہ ریزورٹ غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن مقامی سیاحوں کے لیے بھی کھلا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جنوبی کوریا کی ایک خبر کے مطابق، جس میں ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیا گیا، بعض مقامی افراد کو تقریباً 100 ڈالر میں چار راتوں کے سفری پیکج کی پیشکش کی گئی، جو زیادہ تر شمالی کوریائی باشندوں کے لیے ایک بڑی رقم ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2024 میں ملک کی فی کس مجموعی قومی پیداوار تقریباً 667 ڈالر تھی، جو جنوبی کوریا کے 36,227 ڈالر کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
لہٰذا اکثریت کے لیے تعطیلات استعطاعت سے باہر کی چیز ہیں۔
اگرچہ ایک بڑھتا ہوا متوسط طبقہ موجود ہے، لیکن ممکن ہے کہ ان کے پاس بھی تفریح کے لیے زیادہ وقت نہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی سے بات کرنے والے منحرفین نے کہا کہ کارکنوں، دفتری ملازمین اور اجتماعی فارمز کے کسانوں کو قانونی طور پر سالانہ 14 دن کی چھٹی کا حق حاصل ہے، تاہم اس پر شاذونادر ہی عمل ہوتا ہے۔
مسلسل کئی دنوں کی چھٹی لے کر سفر کرنا غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔
عام طور پر لوگ مخصوص ’موسم گرما کی تعطیلات‘ کے بجائے ہفتہ وار تعطیلات یا قومی تہواروں کے دوران سفر کرتے ہیں۔
اگر چھٹی مل بھی جائے تو سفر خود محدود ہے کیونکہ شہر یا ضلع سے باہر جانے کے لیے سرکاری اجازت درکار ہوتی ہے۔
آزادانہ نقل و حرکت بعض اوقات خود تعطیلات جتنی بڑی آسائش ہوتی ہے۔
بی بی سی نے وون سان کے گرد چار بڑے بحری جہازوں کا سراغ لگایا جن کی لمبائی تقریباً 50 میٹر، 55 میٹر، 60 میٹر اور 80 میٹر تھیں۔
یہ چاروں جہاز اس سال بار بار کم کے وون سان ولا کے اطراف دیکھے گئے۔
سب سے بڑے جہاز میں سب سے زیادہ واضح سرگرمی دیکھی گئی۔ یہ مرمتی ڈاک سے کالما جزیرہ نما کے قریب سمندری علاقے میں منتقل ہوا جہاں یہ جولائی سے موجود ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں 50 میٹر والے جہاز کے ساتھ چار چھوٹی کشتیاں بھی دیکھی گئیں۔
50 میٹر طویل جہاز چار جولائی 2026 کو تائے جزیرے کے قریب پانیوں میں دیکھا گیا تھا۔
سیٹلائٹ تصویروں کے ماہر جیونگ سونگ ہاک نے کہا کہ چھوٹی کشتیاں بڑے جہاز تک لوگوں، ایندھن اور سامان کی نقل و حمل کرتی تھیں۔
ان کے مطابق تائے اور سِن جیسے چھوٹے جزائر ’سمندری تنہائی پر مبنی ایسی تفریح گاہیں فراہم کرتے ہیں جہاں عوامی نظروں سے دور رازداری برقرار رکھی جا سکتی ہے۔‘
اگرچہ شمالی کوریا نے کبھی ان جہازوں کی سرکاری ملکیت ظاہر نہیں کی، لیکن بی بی سی کے تاریخی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں 2002 میں وون سان میں انہی نمایاں خصوصیات والا ایک بڑا جہاز نظر آیا، جب کم جونگ اِل شمالی کوریا کے حکمران تھے۔

امریکی باسکٹ بال لیگ این بی اے کے سابق سٹار ڈینس روڈمین، جنھوں نے 2013 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا، نے اخبار ’دی سن‘ کو بتایا کہ اُنھوں نے اپنے سات روزہ قیام کا بڑا حصہ کم جونگ اُن کے ساتھ وون سان کے علاقے میں گزارا، جہاں انھوں نے جیٹ سکی چلائی اور گھڑ سواری کی۔
اُنھوں نے ایک 60 میٹر طویل جہاز کو فیری اور ڈزنی کشتی کے امتزاج سے تشبیہ دی۔
یہ واضح نہیں کہ آیا یہ وہی 60 میٹر طویل جہاز ہے جو اوپر دی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی دیتا ہے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہVantor
زیادہ تر شمالی کوریائی باشندوں کے لیے کم خاندان اور حکومت کی حمایت کرنے والے دیگر افراد کی زندگی صرف پُرتعیش ہی نہیں بلکہ ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہو گی۔
خاص طور پر اس لیے کہ ریاستی پروپیگنڈا ’اعلیٰ رہنما‘ کو ایک ایسے بے لوث شخص کے طور پر پیش کرتا ہے جو ہمیشہ قوم کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
ری جونگ ہو کہتے ہیں: ’کم جونگ اُن کو ’عوام کے رہنما‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ان کے پاس اس طرح کے چار لگژری جہاز ہیں جبکہ عام لوگ صرف ایک وقت کا کھانا حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘


















