آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کو ’تباہ‘ کرنے کی ٹرمپ کی ڈیڈ لائن، تہران کا جواب اور مذاکرات سے جڑی امیدیں
- مصنف, انتھونی زرچر
- مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
- مصنف, ٹام بیٹمین
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیڈلائنز اور دھمکیاں تو کئی دیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اس حد تک قطعی نہ تھی۔
سوموار کے روز انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر ’تباہ کن‘ ہوگی۔ یہ حملے منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی کے وقت کے مطابق رات آٹھ بجے (پاکستانی وقت بدھ کی صبح پانچ بجے) شروع ہوں گے۔
’چار گھنٹوں کے اندر ایران میں ہر پل اور ہر بجلی گھر تباہ کر دیا جائے گا۔ کم ہی ایسی چیزیں ہوں گی جنھیں ہدف نہ بنایا جائے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’پورا ملک ایک ہی رات میں نیست و نابود کیا جا سکتا ہے اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران اس انجام سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ایسا معاہدہ کرنا ہو گا ’جو میرے لیے قابل قبول ہو۔‘ آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ آمدورفت بھی معاہدے میں شامل ہونی چاہیے۔
ٹرمپ کی دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے اور ابھی تک اس بات کے آثار بہت کم ہیں کہ ایران ٹرمپ کی بات ماننے کے لیے تیار ہے۔ ایران نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور اپنے مطالبات کی فہرست پیش کی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ تنازع کا مستقل خاتمہ کیا جائے اور پابندیاں اٹھائی جائیں۔ ایک امریکی عہدے دار نے ایران کی فہرست کو ’انتہا پسندانہ‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے پیر کے روز یہ خبر آئی کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو ایک امن تجاویز پیش کی ہیں۔
ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل تک جواب دینے کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مذاکرات سے باخبر ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق جنگ بندی کے بغیر کسی بھی نوعیت کی بات چیت میں با معنی پیش رفت کا امکان نہایت کم ہے۔
مذاکرات کی حساسیت کے پیش نظر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس وقت مواصلاتی بندش کی وجہ سے ایران تک پیغام پہنچانے اور ایران کا جواب لینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
عہدیدار نے کہا: ’ایران تک پیغام پہنچانا اور مناسب وقت میں جواب حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ جواب آنے میں اوسطاً ایک دن یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ رہا ہے۔‘
پاکستان، ترکی اور مصر ثالثی کی کوششوں میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ختم ہوتی مہلت اور مذاکرات میں عدم پیش رفت نے امریکی صدر کو ایک نازک مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ٹرمپ اپنی مقرر کردہ مہلت میں توسیع کر سکتے ہیں، جو گذشتہ تین ہفتوں میں چوتھی بار ہو گی۔
لیکن گالیوں اور انتباہ بھری اس قدر تفصیلی اور سخت دھمکیوں کے بعد بھی اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو پیچھے ہٹنے کی صورت ٹرمپ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ ایران اور دنیا کے دیگر ممالک اس نتیجے پر پہنچیں کہ اپنی تمام تر فوجی قوت اور جنگی مہارت کے باوجود امریکہ اس وقت مذاکرات کے لیے کسی مضبوط مقام پر نہیں ہے۔
پیر کی دوپہر ہونے والی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ’ہم جیت گئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’وہ (ایران) عسکری طور پر ہار گئے ہیں، ان کے پاس صرف یہ نفسیاتی حربہ رہ گیا ہے کہ اوہ، ہم پانی میں دو چار بارودی سرنگیں ڈال دیں گے۔‘
یہی ’نفسیات‘، یعنی یہ صلاحیت کہ ڈرونز، میزائلوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں کو روکا جا سکتا ہے، ایران کا ایسا طاقتور ہتھیار ہو سکتا ہے جسے امریکہ اب تک مکمل طور پر تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔
پیر کی پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے درست اہداف کو نشانہ بنانے کی امریکی عسکری صلاحیت پر فخر کا اظہار کیا، کہ کس طرح گذشتہ سال ایران کے جوہری مقامات پر حملے کیے گئے، جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑا گیا اور اس ہفتے ایران میں پھنسے امریکی اہلکاروں کو بازیاب کرایا گیا۔
صدر اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے اس حالیہ کارروائی کو سراہا، جس میں سینکڑوں طیاروں اور فوجی دستوں نے حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہم آہنگی سے مشن انجام دیا۔ یہ کوشش غیر معمولی تو تھی لیکن ایک ایسے خطرے سے بچنے کے لیے تھی جسے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ خود ایک ’ممکنہ المیہ‘ قرار دے چکے ہیں۔
اگرچہ اس المیے سے بچا لیا گیا، لیکن یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ امریکی افواج کو ایران میں اب بھی خطرات لاحق ہیں۔ شاید امریکی صدر ابھی یہ سیکھ رہے ہیں کہ امریکی عسکری طاقت کی بھی اپنی حدود ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: ’ہم بم مار کر انھیں تباہ و برباد کر سکتے ہیں، ہم انھیں حیران و پریشان کر سکتے ہیں۔ لیکن آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے صرف ایک دہشت گرد ہی کافی ہوتا ہے۔‘
ٹرمپ کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کر گزریں۔
تاہم قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفراسٹرکچر پر جان بوجھ کر اور مسلسل حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
صدر اوباما کے دور میں نیشنل سکیورٹی کونسل کی قانونی مشیر رہنے والی ٹیس بریج مین نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس سے گفتگو میں کہا: ’تمام بجلی گھروں کو تباہ کرنا، حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے شہریوں کو نشانہ بنانا؛ اس نوعیت کے اقدامات واضح طور پر غیر قانونی ہیں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس امکان کے بارے میں ’فکر مند‘ نہیں ہیں اور نیوز کانفرنس میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے شہری ’آزادی کے حصول کے لیے تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ ہوں گے‘، اگرچہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا ان کا مقصد نہیں بھی ہے۔
صدر نے اس موقع پر برطانیہ، نیٹو اور جنوبی کوریا سمیت امریکہ کے اہم اتحادیوں پر پھر تنقید کی۔ ان اتحادیوں سے ٹرمپ کو شکایت ہے کہ حالیہ تنازع کے دوران وہ امریکہ کی مدد کو نہیں آئے۔
انھوں نے کہا: ’یہ نیٹو پر ایسا داغ ہے جو کبھی مٹ نہیں سکے گا‘ اور یہ بھی کہا کہ امریکہ کو برطانیہ کی ’ضرورت‘ نہیں ہے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان کی جانب سے سوموار کو جاری کی گئی تازہ معلومات کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی افواج ایران بھر میں 13 ہزار سے زائد حملے کر چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام جاری امریکی فوجی کارروائی کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں، بلکہ ’در حقیقت وہ اپنے شہروں پر برسنے والے بموں کا خیر مقدم بھی کر رہے ہیں‘، تاہم انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ امریکہ اس وقت جو کچھ تباہ کرے گا، بالآخر اسے دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا اور ممکن ہے کہ امریکہ خود بھی اس تعمیر نو میں کسی مرحلے پر حصہ ڈالے۔
انھوں نے کہا: ’کیا میں ان کا انفراسٹرکچر تباہ کرنا چاہتا ہوں؟ نہیں۔ اگر ہم آج ہی حملے روک دیں تو انھیں اپنی معیشت اور ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگ جائیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اپنی بمباری کی دھمکیوں پر عمل کرتے ہیں تو تعمیر نو کا یہ عمل ایک صدی تک پھیل سکتا ہے۔
یہ وہ ’پتھروں کا دور‘ تو نہیں جس میں دھکیلنے کی دھمکی وہ ایران کو دے چکے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انسانی بحران اور ایران کی متوقع جوابی کارروائی کے خطے پر اثرات نہایت تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم ٹرمپ کو اب بھی کسی پیش رفت کی امید ہے۔
انھوں نے کہا: ’دوسری جانب ہمارے پاس ایک فریق ہے جو فعال ہے اور آماد ہے۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘
جب بہت کچھ داؤ پر لگا ہو تو صدر کی جانب سے چیزوں کو غیر واضح رکھنا قابل غور ہے۔
پیر کے روز انھوں نے کہا کہ ’ہم سب نے ایک ایک پہلو پر سوچ بچار کر رکھی ہے‘ مگر وہ اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کر رہے۔
یہ اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہے کہ پس پردہ مذاکرات اس مقام سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں جتنا عوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یا پھر یہ محض فریب اور خوش فہمی کا امتزاج بھی ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا: ’ان کے پاس کل تک کا وقت ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ نیک نیتی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ بہرحال، سچ بہت جلد سامنے آ جائے گا۔‘