آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین میں ’جھینگوں کی پرورش‘ جنھیں کھایا نہیں جاتا بلکہ ان سے کام کروایا جاتا ہے
- مصنف, فین وانگ، یان چن
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
’کیا آپ ایک جھینگے ہیں؟‘ یہ وانگ کا بی بی سی سے پہلا سوال تھا۔
ان دنوں وانگ مصنوعی ذہانت والے معاون اوپن کلا کو اتنا زیادہ استعمال کر رہے ہیں کہ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی انھیں لگا کہ وہ صحافی کے بجائے مصنوعی ذہانت سے ہم کلام ہیں۔
چین میں مقبول ہونے والا اوپن کلا بھی چیٹ جی پی ٹی، ڈیپ سیک اور کو پائلٹ کی طرز کا ایک سافٹ ویئر ہے، صارفین جسے اپنے کاموں میں معاونت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے اوپن کلا کو چین میں ’جھینگے‘ کا نام دیا گیا ہے۔
جب نوجوان آئی ٹی انجینیئر وانگ کو یقین ہو گیا کہ وہ واقعی کسی انسان سے بات کر رہے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ کس طرح وہ مصنوعی ذہانت، خاص طور پر اوپن کلا میں ’ڈوب کر رہ گئے ہیں۔‘
قیادت کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے نتیجے میں، دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین نے مصنوعی ذہانت کو کھلے دل سے اپنا لیا ہے۔ تاہم اس سے خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
اس رجحان کی ایک مثال اوپن کلا ہے جو آسٹریا کے ڈیولپر پیٹر سٹین برگر نے تیار کیا ہے۔
یہ اوپن سورس ڈیٹا اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، تو جو افراد مصنوعی ذہانت کے چینی ماڈلز کے مطابق اسے ڈھالنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے اس کا کوڈ دستیاب ہے۔ اور یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے، کیونکہ چین میں چیٹ جی پی ٹی اور کلاڈ جیسے مغربی ماڈلز کی رسائی ہی نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی وجہ سے اوپن کلا نے خاصی ہلچل مچائی، زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے کوڈ کے ساتھ تجربات کرنے لگے۔
وانگ بھی انھی میں سے ایک تھے۔ وہ اپنی مکمل شناخت نہیں ظاہر کرنا چاہتے کیوں کہ وہ ٹک ٹاک پر ڈیجیٹل گیجٹس فروخت کرنے والی ایک آن لائن دکان بھی چلاتے ہیں اور ٹک ٹاک پر چین میں پابندی ہے۔
جب انھوں نے پہلی بار دیکھا کہ اوپن کلا کے کوڈ پر بنایا گیا اور ان کی ضرورت کے مطابق ڈھالا گیا ان کا ’جھینگا‘ کیا کچھ کر سکتا ہے، تو وانگ کہتے ہیں کہ وہ دنگ رہ گئے۔
ٹک ٹاک شاپ پر مصنوعات فروخت کرنے کے لیے بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔ تصاویر اپ لوڈ کرنا، عنوان اور تفصیل لکھنا، قیمتیں طے کرنا، تشہیر کرنا اور انفلوئنسرز کو پیغامات بھیجنا؛ یہ سب خاصا مشقت طلب کام ہے۔ اس لیے وانگ ایک دن میں فروخت کے لیے تقریباً ایک درجن مصنوعات کا ہی اندراج کر پاتے ہیں۔
جب کہ ان کا ’جھینگا‘ صرف دو منٹ میں 200 مصنوعات کا اندراج کر دیتا ہے، اور ابھی تو یہ آزمائشی مرحلے میں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ خوفناک بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ میرا جھینگا تو اس کام میں مجھ سے بھی بہتر ہے۔ یہ بہتر لکھتا ہے اور فوراً میری قیمتوں کا موازنہ مقابل مصنوعات کی قیمتوں سے کر سکتا ہے۔ یہ تو ایسا کام ہے جسے کرنے کے لیے میرے پاس کبھی وقت نہ ہوتا۔‘
اوپن کلا عالمی ٹیکنالوجی میں پہلے ہی تہلکہ مچا چکا تھا۔ این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ اسے ’آنے والا چیٹ جی پی ٹی‘ قرار دے چکے ہیں اور اس کے ڈیویلپر سٹین برگر حال ہی میں اوپن اے آئی میں شامل ہوئے ہیں۔
میرکس تھنک ٹینک سے وابستہ وینڈی چانگ کہتی ہیں کہ جس جوش و خروش نے اوپن کلا کو ایک ’رجحان‘ بنا دیا اس کی وجہ چینی صارفین ہیں۔
وانگ کے مطابق اوپن کلا مصنوعی ذہانت کو حقیقی معنوں میں عوام کی دسترس میں لا رہا ہے۔
چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس سے اتفاق کرتی دکھائی دیتی ہیں، کیوں کہ وہ اوپن کلا پر مبنی ایپلی کیشنز بنا رہی ہیں۔ جنوب میں ٹیکنالوجی کے مرکز شینزن سے لے کر دارالحکومت بیجنگ تک، سینکڑوں افراد ٹینسنٹ اور بائیڈو کے مرکزی دفاتر کے باہر کھڑے ہیں۔ ان میں سکول میں پڑھنے والے بچوں سے لے کر نوکری کر کے ریٹائر ہونے والے، سبھی شامل ہیں۔ یہ سب اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا گیا اوپن کلا کا مفت ورژن لینے آئے ہیں۔
بہت سے لوگ ’جھینگوں‘ کے بارے میں بھی جاننا چاہتے تھے۔ بعض آن لائن صارفین نے بتایا کہ وہ انھیں سٹاک مارکیٹ کے حصص خریدنے اور بیچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان صارفین کا دعویٰ تھا کہ اُن کے ’جھینگے‘ تجزیہ کر کے بتاتے ہیں کہ شیئرز خریدنے اور بیچنے کا بہترین وقت کون سا ہے، یہاں تک کہ وہ لین دین بھی خود ہی کر لیتے ہیں، اگرچہ اس میں غلطی کی صورت بہت زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔
دیگر صارفین کا کہنا تھا کہ یہ ٹولز بیک وقت کئی کام نمٹانے اور وقت بچانے میں بے حد مددگار ہیں۔
مشہور کامیڈین اور مصنف لی ڈان نے ڈووین (ٹک ٹاک کی طرح کی چینی ایپلی کیشن جس پر ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں) پر اپنے لاکھوں فالوورز کو بتایا کہ وہ اوپن کلا میں اس قدر ڈوب چکے تھے کہ خواب میں بھی اپنے جھینگے سے باتیں کرتے۔
چیتا موبائل کے چیف ایگزیکٹو فو شینگ سوشل میڈیا پر مسلسل یہ شیئر کرتے ہیں کہ کیسے وہ ’اپنے جھینگے کی پرورش کر رہے ہیں۔‘ جب صارفین جھینگے کو اپنے مطابق ڈھال رہے ہوتے ہیں تو وہ یہی اصطلاح استعمال کرتے ہیں کہ وہ اس کی پرورش کر رہے ہیں۔
چین میں مصنوعی ذہانت کا یہ لمحہ ایک عرصے سے تشکیل پا رہا تھا۔
گذشتہ سال کے آغاز میں جب چینی ایپ ڈیپ سیک اے آئی کے منظرنامے پر ابھری تو اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ یہ بھی ایک اوپن سورس پلیٹ فارم تھا جسے چین کی یونیورسٹیوں کے مقامی انجینیئرز نے تیار کیا تھا۔
اس پیش رفت کے پیچھے اہم ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت میں برسوں کی سرمایہ کاری تھی۔ ڈیپ سیک کی کامیابی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔
ڈیپ سیک نے یہ واضح کر دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کی درآمد پر پابندیوں کے باوجود تحقیق اور جدت میں مواقع تلاش کرنے کی چینی کاروباری صلاحیت کتنی مضبوط ہے۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ لوگ اوپن سورس پلیٹ فارمز کو اپنانے کے لیے کس قدر بے تاب تھے۔
یوں اوپن کلا کے لیے میدان ہموار ہو چکا تھا۔
اوپن کلا کی مقبولیت چینی حکومت کی نظروں سے بھی اوجھل نہ رہی۔ متعدد شہروں کی حکومتوں نے کاروباری افراد کو ترغیب دی کہ وہ اوپن کلا استعمال کریں، اس کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا۔ مشرقی شہر ووکسی نے پیداوار سے متعلقہ ایپلی کیشن بنانے کے لیے 50 لاکھ یوآن (تقریباً سات لاکھ 26 ہزار ڈالر) تک کی پیشکش کی۔
ٹیکنالوجی سے متعلق نیوز لیٹر ٹیک بز کی بانی روئی ما کہتی ہیں کہ ’چین میں ہر کوئی جانتا ہے کہ کسی کام کی رفتار کا تعین بھی حکومت کرتی ہے اور حکومت ہی یہ بتاتی ہے کہ مواقع کہاں ہیں۔ عملی طور پر زیادہ لوگوں کے لیے یہی مناسب ہے اور شاید یہ بہتر حکمت عملی بھی ہے کہ خود کچھ کرنے کے بجائے حکومت کی ہدایات پر چلا جائے۔‘
جب بیجنگ اپنی ترجیحات بتا دیتا ہے تو مارکیٹ اسی رخ چل پڑتی ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں چھوٹی بڑی سبھی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔ حکومت رعایتی نرخوں پر دفاتر فراہم کر کے، نقد انعام دے کر اور قرضے دے کر ان کی معاونت کر رہی ہے۔
چاہے یہ مصنوعات کی تیاری ہو یا ٹرانسپورٹ، صحت کا شعبہ ہو یا گھریلو الیکٹرانکس، سبھی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور کاروباری نظام میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
چانگ کہتی ہیں: ’یہی اے آئی پلس کا جذبہ ہے۔‘
اے آئی پلس چین کی قومی حکمت عملی ہے جس کے تحت مختلف صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کو ضم کیا جا رہا ہے۔
مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ اسے ’100 ماڈلز کی جنگ‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے تحت سنہ 2023 کے بعد 100 سے زائد اے آئی ماڈلز سامنے آ چکے ہیں مگر اب تک صرف 10 ہی دوڑ میں باقی رہ گئے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق چینی مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم اب بھی اپنے مغربی حریفوں سے پیچھے ہیں، اگرچہ یہ فرق بتدریج کم ہو رہا ہے۔ جینی ژیاؤ کے مطابق، چینی حکام کی جانب سے اوپن کلا کی ترویج ایک سٹریٹیجک قدم ہے۔
تاہم ابتدائی جوش و خروش اُس وقت بڑی حد تک ٹھنڈا پڑ گیا جب صارفین کو اس کے استعمال سے جڑے اخراجات کا اندازہ ہونے لگا۔ ایجنٹ سے بات کرنے کے لیے ٹوکن خرچ کرنے پڑتے، جبکہ سکیورٹی خدشات بھی سامنے آئے۔
گذشتہ ماہ بیجنگ کے سائبر سیکیورٹی حکام نے خبردار کیا کہ اگر اوپن کلا کو درست طریقے سے انسٹال نہ کیا گیا تو سنگین خطرات ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد سرکاری اداروں کی بڑی تعداد اپنے سٹاف پر پابندی لگا رہی ہے کہ وہ اوپن کلا انسٹال نہ کریں۔ پہلے اسے انسٹال کرنے پر مائل کیا جاتا تھا، جلد ہی اسے ہٹانے کی تحریک شروع ہو گئی۔
ٹیک بز چائنا نیوز لیٹر کی بانی روئی ما کے مطابق، چین کے نظام میں اس قسم کا تضاد کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتیں اکثر بیجنگ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسے ٹولز کو تیزی سے اپناتی ہیں جو کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہوں، لیکن جیسے ہی مسائل سامنے آتے ہیں، وہ پیچھے ہٹنے لگتی ہیں۔
ما کہتی ہیں کہ بیجنگ کی مداخلت کا مطلب حوصلہ شکنی نہیں۔
چین کو نوجوانوں میں 16 فیصد سے زیادہ بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے، مصنوعی ذہانت کے سٹارٹ اپس اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اوپن کلا سے منسلک بعض سرکاری مراعات کی مالیت ایک کروڑ یوآن تک بھی ہوتی ہے۔ یہ مراعات حاصل کرنے والی کمپنیاں یا سٹارٹ اپس عموماً ایک ہی فرد چلا رہا ہوتا ہے۔
جینی ژیاؤ کے مطابق وہ نوجوان جو سخت مسابقت کی وجہ سے نوکریاں حاصل نہیں کر پاتے، امکان ہوتا ہے کہ وہی ایک فرد والی کمپنی بنا لیں گے۔
چین میں نوکریوں کے لیے شدید مقابلے کے باعث پیچھے رہ جانے کا خوف خاصا گہرا ہے۔
سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں لکھا گیا: ’کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر 2026 تک آپ نے جھینگے نہیں پالے تو سمجھ لیجیے کہ آپ آغاز ہی میں دوڑ ہار چکے ہیں۔‘
آئی ٹی پروگرامر جیسن کی ٹیم اب صرف ان لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے جنھیں اے آئی ٹولز استعمال کرنے کا تجربہ ہو۔
جیسن کے مطابق: ’زیادہ تر لوگ جا رہے ہیں، اور نئے آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعی بہت خوفناک ہے۔‘
وانگ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ بہت ڈرا دینے والا وقت ہے، ’ہر کسی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘
تاہم وہ ضرورت سے زیادہ پریشان نظر نہیں آتے کیوں کہ ان کا کاروبار ٹک ٹاک پر بھی ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’شاید مجھے نوکری کی ضرورت ہی نہ پڑے اور یہی میرا کل وقتی کام بن جائے۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان ’جھینگوں‘ نے اپنی دکانیں خود چلانا شروع کر دیں اور انھیں کاروبار سے باہر کر دیا تو پھر کیا ہو گا؟
وانگ کا جواب تھا: ’میں اے آئی کی مدد سے کوئی اور کاروبار تلاش کر لوں گا۔‘