’مصر کے بیٹے کرائے کے سپاہی نہیں‘: محمد بن سلمان کا دورہ قاہرہ، حوثیوں کی تنبیہ اور صدر السیسی کی درخواست

،تصویر کا ذریعہThe Presidency of the Republic in Egypt Facebook Account
- مصنف, آلا رجائی
- عہدہ, بی بی سی نیوز عربی
- مقام, قاہرہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمان سے یہ اختیار دینے کی اپیل کی ہے کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو اس کے دفاع کے لیے ’ضروری اقدامات‘ کیے جا سکیں۔
اس اپیل کے ایک روز بعد قاہرہ نے مطلوبہ آئینی اقدامات مکمل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اتوار کو قومی دفاعی کونسل نے حوثیوں کے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کو ہر قسم کی حمایت فراہم کرنے کی منظوری دی، جبکہ ایوانِ نمائندگان نے اس معاملے پر ہنگامی اجلاس کے بعد حتمی فیصلہ پیر تک مؤخر کر دیا۔
السیسی نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچا تو مصر صرف تماشائی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ فوجی مداخلت کی نوعیت دفاعی ہو گی اور اس کا مقصد حملہ یا جنگ چھیڑنا نہیں ہو گا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ اور علاقائی تجارت و توانائی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
مصر کی حالیہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ قاہرہ ریاض کو کس نوعیت کی مدد فراہم کر سکتا ہے، ممکنہ فوجی شرکت کی حدود کیا ہوں گی، اور آیا یہ مصری پالیسی میں تبدیلی ہے یا خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق سابقہ مؤقف کا تسلسل۔
’بنیادی تبدیلی نہیں‘
تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس میں مشرقِ وسطیٰ کے امور کے محقق احمد ابو دوح کے مطابق مصری اقدام خارجہ پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں بلکہ ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد ایک طرف ’مکہ معاہدے‘ جیسے وسیع فوجی اتحادوں میں شمولیت سے گریز اور دوسری طرف بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنا ہے۔
العربیہ فاؤنڈیشن فار ڈیولپمنٹ اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے سربراہ سمیر راغب کا خیال ہے کہ مصری صدر کے بیانات گذشتہ ماہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ قاہرہ کے دوران ہونے والی مفاہمتوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس دورے کے بعد دونوں ممالک نے کہا تھا کہ موجودہ علاقائی حالات مزید ہم آہنگی اور یکجہتی کے متقاضی ہیں اور متعدد علاقائی معاملات پر ان کے مؤقف یکساں ہیں۔
محمد بن سلمان کا دورۂ مصر ایسے وقت میں ہوا جب سعودی عرب علاقائی ممالک کی اپنے لیے حمایت کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کی سعودی درخواست مسترد کر دی تھی، بعد میں اہداف کی نشاندہی اور انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے میں مدد کی پیشکش کی گئی۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کو حوثی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیلی مدد قبول کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا، جبکہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے انکار کرتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہThe Presidency of the Republic in Egypt Facebook Account
دفاعی حمایت، زمینی جنگ نہیں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی سے گفتگو کرنے والے تمام ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ یمن کے اندر لڑائی کے لیے مصری افواج بھیجنے کا امکان نہیں ہے، تاہم ممکنہ فوجی تعاون کے حجم اور حدود کے بارے میں ان کی آرا مختلف تھیں۔
احمد ابو دوح نے 1960 کی دہائی میں یمن میں مصری فوجی مداخلت کے تجربے کو دہرانے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس تجربے کی قیمت آج بھی مصری سٹریٹجک سوچ پر اثر انداز ہے۔
سمیر راغب کے مطابق مصر سعودی حدود کے اندر بحری اور فضائی افواج، فضائی دفاعی نظام اور خصوصی دستوں سمیت مختلف نوعیت کی فوجی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سابق رکنِ پارلیمان اور سکیورٹی ماہر تامر الشہاوی کا کہنا ہے کہ مصری پیغام کا مقصد سعودی عرب کا تحفظ ہے، نہ کہ کسی جارحانہ جنگ میں شامل ہونا۔ ان کے مطابق ممکنہ مدد میں انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ، لاجسٹک، تربیتی اور تکنیکی معاونت، اور ضرورت پڑنے پر دیگر فوجی امداد بھی شامل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سعودی فوج کے سابق میجر جنرل عبداللہ غانم القحطانی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاس اپنے دفاع کے لیے ضروری صلاحیتیں اور اتحاد موجود ہیں، جن میں گذشتہ اگست میں قائم ہونے والا مشترکہ دفاعی اتحاد ’مکہ اتحاد‘ بھی شامل ہے، جس میں ترکی اور پاکستان بھی شریک ہیں، اگرچہ اسے ابھی فعال نہیں کیا گیا۔
القحطانی کے مطابق اس وقت مصر کا مطلوبہ کردار بنیادی طور پر سیاسی حمایت کا ہے۔ ان کے خیال میں السیسی کے بیانات ان قوتوں کے لیے ہیں جو سمندری جہاز رانی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
حوثیوں کی تنبیہ
مصری پارلیمان کے متوقع اجلاس سے قبل، حوثیوں سے وابستہ یمنی پارلیمان کے سپیکر نے مصری پارلیمان کو پیغام دیتے ہوئے کہا: ’ہم مصر کو ایسی جنگ میں دھکیلنے کو قطعی مسترد کرتے ہیں جو اس کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ اس راستے پر چلنا مصر کی قومی سلامتی اور داخلی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
سمیر راغب نے ایسی دھمکیوں کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ بحری گزر گاہوں کا تحفظ، مصری معیشت اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ مفادات ان خطرات کا مقابلہ ضروری بناتے ہیں۔ ان کے بقول، ’ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے، مگر سعودی عرب کی حمایت نہ کرنے کی قیمت زیادہ بھاری ہو سکتی ہے۔‘
سابق سعودی میجر جنرل القحطانی کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کا استحکام مصر کے اپنے مفاد میں ہے، کیونکہ باب المندب کی سلامتی کا براہِ راست تعلق نہرِ سویز کے ذریعے ہونے والی تجارت سے ہے، جو مصر کے لیے زرِّ مبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ابو دوح کے مطابق مصر کی ممکنہ فوجی شمولیت کی ایک حد ہے کیونکہ قاہرہ سعودی عرب، ایران اور حوثیوں کے درمیان ثالث کا کردار بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ان کے خیال میں مصری فوجی تعاون دو اہم شعبوں تک محدود رہ سکتا ہے: بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری راستوں کا تحفظ، اور سعودی عرب کو درپیش میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا۔

،تصویر کا ذریعہThe Presidency of the Republic in Egypt Facebook Account
تعاون کے بدلے معاشی تعاون؟
مصری صدر السیسی کے سعودی عرب کے دفاع کے عزم کے اعلان کے بعد مختلف آرا سامنے آئیں۔ حامی حلقوں نے اسے ’برادر ممالک‘ کی حمایت قرار دیا، جبکہ ناقدین نے کسی غیر واضح فوجی مداخلت کے لیے کھلی چھوٹ دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ ’مصر کے بیٹے کرائے کے سپاہی نہیں ہیں۔‘
السیسی نے سنیچر کے روز اپنی تقریر میں خلیجی ممالک کی جانب سے مصر کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصر کو 2013 کے بعد ملنے والی خلیجی مدد کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس نے مصری ریاست کی صلاحیتوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
2013 میں عوامی احتجاج کے بعد فوج کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے مصر کو اربوں ڈالر کی مالی امداد، مرکزی بینک میں رقوم جمع کرانے اور سرمایہ کاری کی صورت میں مدد فراہم کی تھی۔
مصری مرکزی بینک میں سعودی ذخائر کی مجموعی مالیت تقریباً 10.3 ارب ڈالر ہے، جن میں پانچ ارب ڈالر قلیل مدتی ذخائر شامل ہیں، جبکہ 5.3 ارب ڈالر کے ذخائر کی میعاد رواں ماہ پوری ہو رہی ہے۔
ابو دوح کے مطابق قاہرہ اور ریاض کے درمیان سکیورٹی یا فوجی قربت میں اضافہ معاشی تعاون پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، مثلاً نئی سرمایہ کاری یا مرکزی بینک میں سعودی ذخائر کی مدت میں توسیع، تاہم وہ کسی براہِ راست ’سودے‘ کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔
القحطانی مصری سیاسی یا فوجی حمایت کو سعودی امداد اور سرمایہ کاری سے جوڑنے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے تعلقات ایک تاریخی اور سٹریٹیجک شراکت داری پر مبنی ہیں، جو براہِ راست لین دین یا وقتی مفادات کے تبادلے کے تصور سے بالا تر ہے۔
یہ پہلی بار نہیں
مصر کے لیے بیرونِ ملک جنگی مشنوں میں افواج بھیجنے کی بحث نئی نہیں ہے۔
2015 میں مصر پارلیمان کی منظوری کے بعد سعودی قیادت والے عرب اتحاد میں شامل ہوا تھا، تاہم اس کی شرکت بنیادی طور پر بحری اور فضائی تعاون اور بحری گزر گاہوں کے تحفظ تک محدود رہی، جبکہ زمینی فوجی مداخلت سے گریز کیا گیا۔
جولائی 2020 میں بھی مصری پارلیمان نے لیبیا میں جنگی مشن پر مصری افواج بھیجنے کی منظوری دی تھی۔ یہ فیصلہ مصر کے مغربی ہمسایہ ملک میں جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔
مصری آئین کی دفعہ 152 کے مطابق، ملک سے باہر جنگی مشن پر افواج بھیجنے کے لیے ایوانِ نمائندگان کے دو تہائی ارکان کی منظوری اور قومی دفاعی کونسل کی رائے ضروری ہوتی ہے۔
مصر بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن سے ملحق عرب اور افریقی ممالک کی کونسل کا بھی رکن ہے، جو 2020 میں سعودی اقدام پر قائم کی گئی تھی۔ مصر نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے متعدد علاقائی اقدامات کی بھی حمایت کی ہے۔




















