ٹرمپ کی ’مدر آف آل بومبز‘ استعمال کرنے کی دھمکی کا مقصد ایران کو جھکنے پر مجبور کرنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سرباس ناظری
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بار پھر فوجی کارروائی اور سخت حملے کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکی فوج مبینہ طور پر ایران کے خلاف ’مدر آف آل بومبز‘ (ایم او اے بی) استعمال کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیب ’پکیکس ماؤنٹین‘ کو تباہ کیا جا سکتا ہے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا انھوں نے اس بم کے استعمال کی منظوری دے دی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب ایران میں حکومتی حلقوں اور سخت گیر تجزیہ کاروں نے امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بم ایک قدیم تہذیب اور تاریخ رکھنے والی قوم کو خوف زدہ نہیں کر سکتا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں نے بھی امریکی دھمکی کو نفسیاتی دباؤ قرار دیا ہے، تاہم بعض ایرانی شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا زیرِ زمین تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کو کیا دھمکی دی ہے؟
15 اکتوبر کو امریکی نشریاتی ادارے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’واشنگٹن کو ایران کے جوہری مرکز نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین تنصیب ’پکیکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔ اس تنصیب کے بارے میں شبہ ہے کہ اس کا تعلق جوہری سرگرمیوں سے ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسے انتہائی تیزی سے تباہ کر دیں گے۔‘
انھوں نے اس کارروائی کے لیے زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔ انھوں نے ’مدر آف آل بومبز‘ (ایم او اے بی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا بم ہے، لیکن جوہری بم نہیں ہے۔‘
ٹرمپ کے ان بیانات سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے یہ خبر دی تھی کہ امریکی فوج نے ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کے نئے منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں اس بم کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا انھوں نے اس بم کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مدر آف آل بومبز‘ کتنا تباہ کن ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عوامی سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق ’جی بی یو 43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ نامی‘ اس بم کا وزن تقریباً 21 ہزار پاؤنڈ (9.5 ٹن) ہے، جبکہ اس میں لگ بھگ 18 ہزار 700 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے۔
یہ بم جی پی ایس کی مدد سے اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے اور وسیع علاقے میں شدید دھماکے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دباؤ کی لہر پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، اس کا بیرونی خول زیرِ زمین گہرائی تک پہنچنے کے بجائے دھماکے کی شدت بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس بم کو پہلی اور اب تک صرف ایک مرتبہ اپریل سنہ 2017 میں افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) کی سرنگوں کے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے لیے عملی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
وسطی ایران میں واقع ’پکیکس ماؤنٹین‘ کے خلاف اس بم کی افادیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنصیب زمین کے اندر کم از کم 100 میٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے، تاہم اس کا اصل مقصد، اندرونی ساخت اور موجودہ عملی صورتِ حال اب بھی بڑی حد تک خفیہ ہیں۔
’مدر آف آل بومبز‘ اس تنصیب کے داخلی راستوں یا ہوا کی آمدورفت کے لیے بنائی گئی سرنگوں کے ذریعے زیرِ زمین ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن یہ چٹانوں کو توڑ کر گہرائی تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔
امریکہ کے پاس زمین کے اندر مضبوط حفاظتی حصار میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے ایک خاص بم بھی موجود ہے، جسے جی بی یو 57 میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر کہا جاتا ہے۔
اس کا وزن 30 ہزار پاؤنڈ ہے اور اسے عام طور پر ’بنکر بسٹر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بم پھٹنے سے پہلے زمین میں گہرائی تک داخل ہونے کے لیے بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق امریکہ کے پاس 10 ’مدر آف آل بومبز‘ باقی ہیں۔ تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون سنہ 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران جی بی یو 57 کے 14 بم استعمال کیے گئے تھے، جس کے بعد اس نوعیت کے زمین میں گہرائی تک داخل ہونے والے بموں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔
اس دھمکی کا مقصد فوجی کامیابی حاصل کرنا ہے یا سیاسی دباؤ ڈالنا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور ایران پر حملے کے لیے امریکی فوج کے مبینہ منصوبوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن دراصل کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
ایک امکان یہ ہے کہ اس ہتھیار کی اہمیت صرف اس کی تباہ کن طاقت میں نہیں بلکہ اس کے نفسیاتی اثرات میں بھی ہے۔ ایک بڑا اور نمایاں حملہ امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہے، یہ پیغام دے سکتا ہے کہ واشنگٹن کے پاس مزید کارروائی کے آپشن موجود ہیں اور اس کا استعمال ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے سے پہلے فیصلہ کن آخری ضرب کے طور پر پیش کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
تاہم زمین کے اوپر کسی ہدف کو تباہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے اندر موجود صلاحیتیں بھی ختم ہو گئی ہیں۔ کسی جوہری تنصیب کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام کی بنیاد بننے والی سائنسی مہارت، آلات اور مواد لازمی طور پر ختم نہیں ہو جائیں گے۔
اس دھمکی کے وقت کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی منصوبہ ساز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایران پر نئے حملوں کے امکانات پر غور کر چکے ہیں، جبکہ ٹرمپ عوامی سطح پر اعلان کر چکے ہیں کہ وہ انتخابات سے پہلے مزید حملے نہیں کریں گے۔
اس لیے یہ دھمکی بیک وقت کئی مقاصد پورے کر سکتی ہے، تہران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا، امریکی عوام کو یہ پیغام دینا کہ صدر کارروائی کے لیے پُرعزم ہیں اور کسی نئے حملے کا حتمی فیصلہ کیے بغیر اس امکان کو برقرار رکھنا۔
ایران کا ردعمل
ایران کی فوجی قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ دوبارہ جنگ چھڑنے کی صورت میں مقابلے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب کمانڈر میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے 15 اکتوبر کو کہا کہ مسلح افواج زمین، سمندر اور فضا میں کسی بھی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس نوعیت کے بیانات ایران کی جانب سے دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کے عوامی عزم کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم ان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ’مدر آف آل بومبز‘ کے حملے کی صورت میں ایران کیا ردعمل دے گا۔
اس کے باوجود توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا کسی حساس جوہری تنصیب پر حملے سے جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس میں بحری جہازوں کو لاحق خطرات اور خطے میں مزید خلل شامل ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے اس بم کے استعمال کی دھمکی پر ایرانی حکام اور تجزیہ کاروں نے سخت ردعمل، تمسخر اور امریکہ کے نئے حملے کے ممکنہ نتائج سے متعلق انتباہات کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ اور سخت گیر رکنِ پارلیمان ابراہیم عزیزی نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ یہ ہتھیار ایران کو خوف زدہ کر سکتا ہے۔
پارلیمان کی خبر رساں ایجنسی ’ایکانا‘ کو 16 اکتوبر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو ’مدر آف آل بومبز‘ نامی بم کے ذریعے ایک عظیم قوم، اس کی تہذیب، تاریخ اور قدیم ورثے کو دھمکا سکے۔‘
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے انتہائی قدامت پسند تجزیہ کار حسن خوش چشم نے ٹرمپ کی نئی دھمکی سے قبل ایک ٹاک شو میں اس سے بھی زیادہ جارحانہ انداز اختیار کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر امریکہ کے پاس بموں کی ماں ہے تو ہمارے پاس بموں کا باپ ہے۔‘ تاہم، انھوں نے ان ہتھیاروں کی نوعیت واضح نہیں کی، جن کے ایران کے پاس ہونے کا وہ دعویٰ کر رہے تھے۔
اسی طرح پاسدارانِ انقلاب کے حامی ٹیلی گرام چینل ’نظامی ترین‘ نے بھی اس دھمکی کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ چینل نے اپنے ناظرین کو یاد دلایا کہ امریکہ جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیب فردو پر حملے کے دوران اس سے بھی زیادہ طاقتور بنکر بسٹر بم استعمال کر چکا ہے۔
چینل کی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار ہمارا جواب مختلف ہو گا۔‘
سخت گیر صحافی عبداللہ گنجی نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ لوگوں کی زندگیوں کو نشانہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔‘
ان کے بقول ’ایسا اقدام کامیابی سے خالی اور عالمی برادری کی نظر میں اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہو گا۔‘ انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ’ایران نے اپنی جوہری اور میزائل تنصیبات کو اس نوعیت کے حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘
یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی نظام کے حامی حلقے امریکی دھمکی کو نفسیاتی دباؤ کے طور پر پیش کرنے اور اس اعتماد کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اس بم کے حملے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا حملہ فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم بعض حلقوں نے اس ہتھیار کی تباہ کن صلاحیت اور ممکنہ انسانی جانوں کے نقصان کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اپیل کی کہ کسی بھی حملے کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہونے سے پہلے فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں۔
ایران کے سابق رکنِ پارلیمان حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے خاص طور پر حملے کے انسانی اور معاشی نقصانات پر توجہ دلائی۔
انھوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں زیرِ زمین تنصیبات پر طاقتور حملے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’تباہی صرف زمین کے نیچے موجود تنصیبات تک محدود نہیں رہے گی۔‘
فلاحت پیشہ نے خبردار کیا کہ ’توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور شہریوں کی ہلاکتوں کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔‘
انھوں نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کریں اور جنیوا کنونشنز کے اطلاق کا مطالبہ کریں۔




















