قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اور سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مسائل کے حل اور ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر راستہ نکالنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ جتنی سیاسی گنجائش نکالی جا سکتی ہے، نکالی جائے اور فیصلے سیاسی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتوں کو ’سیاسی خودکش حملوں‘ سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے حالات پیدا کیے جانے چاہییں کہ ایمرجنسی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور صدرِ پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ تھا کہ کسی بھی سخت آئینی اقدام یا ان کے بقول ’آئینی ایٹم بم‘ کے استعمال سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور وفاقی حکومت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو نمائندے بھی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے جو اپوزیشن سے رابطوں میں مصروف تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے تھے، تاہم بعد ازاں اطلاعات ملیں کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا ہونے کا امکان ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر سیاسی ماحول بہتر ہو جائے اور ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ خود قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وزیراعظم سے ایمرجنسی کے خاتمے کی درخواست کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپوزیشن کی جانب مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کوشش کی کہ تمام سیاسی قوتیں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے بعد خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنی ہی حکومت پر سیاسی خودکش حملہ کیا اور موجودہ سیاسی، قانونی اور آئینی صورتحال پیدا ہونے میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ ان کے بقول صوبہ غیرمعمولی سکیورٹی اور جنگی نوعیت کے حالات سے گزر رہا ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی دکھائی دی۔
انھوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اپنے مؤقف کے حق میں واضح جواز پیش کرتی تو صدرِ پاکستان اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا، تاہم وفاق دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وفاق اکیلے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے گا، لیکن دہشت گردوں کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح آج بھی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، ’یہ صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ ملک ہے، اس لیے قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘