جے ڈی وینس: اسلام آباد میں موجود امریکی نائب صدر کو کس مشکل صورتحال کا سامنا ہے؟

    • مصنف, ڈینیئل بش
    • عہدہ, واشنگٹن نامہ نگار
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

وائٹ ہاؤس میں مسیحی تہوار ’ایسٹر‘ کے موقع پر دیے گئے ظہرانے (دن کا کھانا) کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے میں جے ڈی وینس کے کردار سے متعلق قیاس آرائیوں پر بات کرنے کے لیے اچانک طے شدہ سکرپٹ سے ہٹ کر گفتگو کرنی شروع کی۔

ٹرمپ نے ازراہ تفنن کہا ’اگر یہ (امن معاہدہ) نہ ہوا تو میں جے ڈی وینس کو موردِ الزام ٹھہراؤں گا۔‘ یہ جملہ سُن کر ہال میں موجود حاضرین کے قہقہے گونج اٹھے۔ وہاں موجود افراد میں نائب صدر جے ڈی وینس سمیت سینیئر حکومتی عہدیدار، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی موجود تھے۔

ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھی اور مزید کہا کہ لیکن ’اگر یہ (امن معاہدہ) ہو گیا تو اس کا سارہ کریڈٹ میں خود لے لوں گا۔‘

اور اس کے بعد دوبارہ قہقہے بلند ہوئے۔

صدر ٹرمپ کا ازراہ مذاق کیا گیا یہ تبصرہ بجا طور پر اُس مشکل صورتحال کی عکاسی کرتا ہیں جس کا سامنا وینس کو اُس وقت ہے جب وہ پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

یہ اب تک اُن کی نائب صدارت میں انھیں تفویض کی گئی سب سے مشکل ذمہ داری ہے، ایک ایسی ذمہ داری جس میں فائدہ محدود ہے اور اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں وینس کا سفارتی مشن سیاسی خطرات سے بھرپور میدان ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مستقل معاہدے تک پیش رفت کے لیے انھیں متعدد ایسے فریقوں کو مطمئن کرنا ہو گا جن کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور جو مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لینے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والی چھ ہفتوں کی فوجی مہم کے بعد ایک دوسرے پر بالکل اعتماد نہیں کرتے۔

ایک یورپی عہدیدار کے مطابق، امریکہ کے اتحادی جے ڈی وینس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ’وینس کو کوئی نتیجہ دینا ہو گا۔۔۔۔ ورنہ ان کی حیثیت متاثر ہو جائے گی۔‘

کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ٹرمپ کی جانب سے حمایت حاصل کرنا ہو گی، جو کبھی امن کی اپیل کرتے ہیں اور کبھی ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

اس معاہدے کو تہران میں موجود ایک کمزور مگر بدستور قائم حکومت کی تائید بھی درکار ہو گی، وہ حکومت جس نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر لیا ہے۔ اور اس معاہدے کو اسرائیل جیسے امریکی اتحادی کی منظوری بھی درکار ہو گی جسے مشرق وسطی میں چند مقامات (لبنان وغیرہ) پر جنگ بندی پر تحفظات ہیں۔

وینس میں یورپ میں موجود اُن امریکی اتحادیوں کو بھی مطمئن کرنا ہو گا جو اس جنگ کے مخالف تھے اور آبنائے ہرمز کو بزور بازو کھلوانے کے لیے امریکہ کی مدد کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ اب یہ یورپی اتحادی دیکھ رہے ہیں کہ وینس، جو ممکنہ طور پر سنہ 2028 میں امریکی صدارتی امیدوار ہوں گے، خارجہ پالیسی کی اس مشکل صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں۔

یورپ میں امریکہ کے وہ اتحادی بھی قائل کرنا ہوں گے جو جنگ کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے میں امریکہ کی مدد کے لیے ہچکچاہٹ دکھاتے رہے ہیں۔

اور اگر یہ سب کافی نہ ہو تو وینس کو کسی نہ کسی طرح ٹرمپ کے ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ حامیوں کو بھی مطمئن کرنے کا دباؤ درپیش ہو گا۔

ان حامیوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو بیرونِ ملک مداخلت کے خلاف ہیں اسی لیے وہ وینس کے اس دورے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں گے تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ اگر وہ 2028 میں صدارت کے لیے امیدوار بنتے ہیں تو امریکہ کی خارجہ پالیسی کو کس طرح سنبھالیں گے۔

یاد رہے کہ جے ڈی وینس ماضی میں دیگر ممالک کے معاملات میں امریکی مداخلتوں کے کُھلے ناقد رہے ہیں، اور نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ نجی ملاقاتوں میں ایران پر حملے شروع کرنے کے حوالے سے گہرے شکوک کا اظہار بھی کیا تھا۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’امریکن جرمن انسٹیٹیوٹ‘ کے صدر جیف راتھکے کہتے ہیں کہ ’وینس نے امریکی خارجہ پالیسی میں تحمل کی خواہش کا اشارہ دیا ہے۔ یہ بات ایران کے خلاف امریکی جنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا خاصا مشکل ہے۔‘

حد سے زیادہ مطالبات کرنے والے باس کو مطمئن کرنا

اسلام آباد میں موجود ڈی جے وینس کے لیے اصل سوال یہ ہے: کیا وہ سب کو خوش کر سکتے ہیں؟ اور اُن کے نزدیک اِن مذاکرات میں کامیابی کی صورت کیا ہو گی: ایک مکمل اور حتمی امن معاہدہ، یا محض ایسی نتیجہ خیز ابتدائی بات چیت جو عارضی جنگ بندی کو مستقبل قریب میں ناکام نہ ہونے دے؟

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے ہی جے ڈی وینس کو ان مذاکرات کی قیادت سونپی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے تصدیق کی ہے کہ وینس پہلے ہی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ یہ دونوں افراد بھی وینس کے ساتھ پاکستان آئے ہیں۔

وینس نے جمعہ کی صبح واشنگٹن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ان مذاکرات سے منسلک توقعات کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

روانگی کے موقع پر وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگر ایرانی نیک نیتی سے مذاکرات پر آمادہ ہوں گے تو ہم بھی یقیناً کُھلے دل سے ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے ایران کو یہ خبردار بھی کیا کہ وہ ’ہم سے کھیل نہ کھیلیں‘، مزید کہا کہ ٹرمپ نے امریکی مذاکراتی ٹیم کو ’کچھ خاصی واضح ہدایات‘ دی ہیں۔

لیکن چاہے ٹرمپ نے پہلے سے ہی واضح اہداف طے کر دیے ہوں، مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ ٹرمپ میں اپنی رائے بدلنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات میں، جے ڈی وینس اور امریکی ٹیم کے دیگر ارکان کو ٹرمپ جیسے غیر متوقع باس کی نمائندگی کرنے کا اضافی چیلنج بھی درپیش ہو گا، ایک ایسا باس جس نے فروری کے اواخر میں ایران تنازع شروع کرنے کے بعد سے اس جنگ کے لیے مختلف جواز پیش کیے ہیں۔

جمعہ کی دوپہر جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اسلام آباد روانہ ہونے سے قبل وینس سے کیا کہا، تو انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں نے انھیں نیک تمنائیں دیں۔ ان کے سامنے ایک بڑا کام ہے۔‘

صدر نے کہا کہ وہ ایک ’اچھی ٹیم‘ بھیج رہے ہیں اور ’دیکھتے ہیں کہ یہ سب کس طرح انجام پاتا ہے۔‘

ٹرمپ کے غیر مستحکم مذاکراتی انداز کی جھلک رواں ہفتے کے دوران پوری طرح نظر آئی۔ صرف 36 گھنٹوں کے مختصر عرصے میں، ٹرمپ نے ایران کو پہلے ایک دن کی مہلت دی کہ وہ معاہدہ کرے، ٹروتھ سوشل پر سوشل میڈیا پوسٹس میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے تعاون سے انکار کیا تو ’ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی‘ اور پھر آخرکار جنگ کو مزید بڑھانے کی مقررہ آخری حد ختم ہونے سے کچھ وقت پہلے جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔

ایک سینیئر یورپی سفارتکار نے کہا کہ منگل کے دن کے یہ کشیدہ لمحات (جب جنگ بندی کا اعلان ہوا) ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے سب سے زیادہ اعصاب شکن لمحے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اس عہدیدار نے کہا کہ عام حالات میں بھی ٹرمپ کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دینا آسان نہیں، لیکن غیر ملکی جنگوں کے بارے میں اپنے تحفظات کے پیشِ نظر وینس کے لیے اس وقت یہ خاص طور پر مشکل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ’وینس نے ایران مہم سے خود کو فاصلے پر رکھنے کی کوشش کی تھی، یہ جنگ بالکل بھی ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔‘

’امریکہ فرسٹ‘ کے سفیر

اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہو سکتا ہے، لیکن جے ڈی وینس عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی اس لمحے کی جانب بڑھتے آ رہے ہیں۔

انھوں نے ٹرمپ کا اعتماد حاصل کیا ہے اور اوول آفس کے اندر اور یورپ و ایشیا بھر میں خارجہ پالیسی کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقاتوں اور تقاریب میں انھیں میز پر نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

وینس نے گذشتہ سال میونخ سکیورٹی کانفرنس میں کی گئی ایک تقریر کے باعث خاصی توجہ حاصل کی، جہاں انھوں نے یورپ کی امیگریشن قوانین اور آزادیٔ اظہار سے نمٹنے کے طریقے پر سخت تنقید کی۔

اس کے فوراً بعد انھوں نے ایک دھماکہ خیز اوول آفس اجلاس کے دوران یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ امریکی امداد ملنے پر شکر گزار نہیں ہیں اور پھر سب کو یاد ہے کہ یہ اہم ملاقات چیخ و پکار میں کیسے بدلی۔

رواں ہفتے جے ڈی وینس ہنگری کے دورے پر گئے تاکہ موجودہ وزیرِ اعظم اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی وکٹر اوربان کے لیے دوبارہ انتخاب کی ایک غیر معمولی مہم چلائی جا سکے۔

ہر مرحلے پر وینس نے خود کو ٹرمپ کے ایک وفادار نائب کے طور پر پیش کیا ہے جو ’امریکہ فرسٹ‘ کے سخت گیر سفیر کے طور پر دنیا بھر کا دورہ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

ٹرمپ-وینس ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے مارک بیڈنر کے مطابق، جے ڈی وینس اس نوعیت کے مذاکرات میں ایک ’مثالی نمائندہ‘ ہیں، کیونکہ انھیں ’صدر ٹرمپ کے اہداف کی پختہ سمجھ‘ ہے۔

انھوں نے کہا ’اور اس کے ساتھ ساتھ جس حد تک انھیں صدر کا اعتماد حاصل ہے، یہ واقعی ایک بہترین امتزاج ہے۔‘

تاہم، اطلاعات کے مطابق وینس ہمیشہ اپنے باس یعنی صدر ٹرمپ سے متفق نہیں رہے ہںی۔

ٹرمپ کی اپنی خارجہ پالیسی نے بعض اوقات وینس کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے، جہاں انھیں بیرونِ ملک ایسی مداخلتوں کی عوامی حمایت کرنا پڑی جن کی وہ ماضی میں مخالفت کرتے رہے ہیں، جس کی نمایاں مثال ایران ہے۔

ایک امریکی سینیٹر کے طور پر جے ڈی وینس نے سنہ 2023 میں وال سٹریٹ جرنل میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انھوں نے کوئی بیرونی جنگ شروع نہیں کی۔

ایران کے ساتھ جنگ سے ایک دن قبل وینس نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ٹرمپ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور نام نہاد دائمی جنگ میں نہیں گھسیٹنے دیں گے۔

تاہم حالیہ جنگ کے دوران انھوں نے عوامی طور پر ٹرمپ کے اس مؤقف کی تائید کی کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے جنگ ضروری تھی۔ لیکن وینس نے جنگ کی حمایت میں دیگر حکومتی عہدیداروں، جیسا کہ امریکی وزیرِ دفاع ہیگسیتھ، کی طرح انتہایی بلند آواز اختیار نہیں کی۔

وینس کی زبانِ بعض اوقات ٹرمپ سے مختلف بھی رہی ہے، جیسا کہ اس ہفتے ہوا جب وینس نے عارضی جنگ بندی کو ’ایک نازک صلح‘ قرار دیا۔

اس کے باوجود، ٹرمپ نے وینس کو اسلام آباد میں امریکی وفد کی قیادت سونپی۔

اس انتخاب نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ آیا ٹرمپ نے جان بوجھ کر وینس کو ایک ایسی ذمہ داری دی جس میں جیت کا کوئی امکان نہ ہو؟ اس خبر کے لیے نائب صدر کے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وینس کا انتخاب ایران کو یہ پیغام دینے کے لیے کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ معاہدے تک پہنچنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔

کوئی آسان حل نہیں

خطے میں امریکہ کے اتحادیوں نے مذاکراتی ٹیم میں وینس کی شمولیت کو اس بات کی علامت کے طور پر سراہا کہ امریکی انتظامیہ جنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار امن چاہتی ہے۔

ریٹائرڈ اسرائیلی بریگیڈیئر جنرل اسّاف اوریون نے کہا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ سنجیدگی سے مذاکرات کی میز پر آ رہا ہے۔‘

وینس کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے واشنگٹن میں ہونے والی چہ مگوئیوں کو نظر انداز کرنا ہو گا۔

اوول آفس میں زیلنسکی کے ساتھ تصادم، اور میونخ و بوڈاپیسٹ کے دوروں نے وینس کی جارحانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔

رپبلکن رہنما مارک بیڈنر، جنھوں نے وینس کے ساتھ کام کیا ہے، نے کہا کہ ’اگر وہ بحث کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے تو اس سے گریز نہیں کریں گے۔ اگر انھیں لگے کہ کوئی چیز امریکہ کے لیے درست نہیں جا رہی، تو وہ اس پر بھی خاموش نہیں رہیں گے۔‘

لیکن پاکستان میں وہ ایک مختلف سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے لیے ایک غیر مستحکم خطے میں حریفوں کے درمیان کشیدہ تعلقات میں راستہ نکالنا ضروری ہو گا۔

وینس اور ان کی ٹیم کو مسائل کے ایک پیچیدہ مجموعے سے بھی نمٹنا ہو گا جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ شامل ہے، یہ مسائل نہایت تکنیکی نوعیت کے ہیں، جن کا کوئی آسان حل نہیں۔

جنگ بندی سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بالواسطہ بات چیت میں وینس مکمل طور پر شامل نہیں تھے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں مذاکرات کی قیادت وِٹکوف اور کشنر کر رہے تھے۔ یہ دونوں ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران دیگر امن مذاکرات کی بھی قیادت کر چکے ہیں۔

اوریون نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار جزوی طور پر اس بات پر ہو گا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تکنیکی پہلو کون سنبھالتا ہے۔

یہ بھول جانا آسان ہے کہ وینس اب بھی محض 41 برس کے ہیں اور انھوں نے امریکی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑ کر حال ہی میں قومی سیاسی منظرنامے میں قدم رکھا ہے۔ اپنی تمام نفاست اور تیز فہم سیاسی صلاحیتوں کے باوجود، وہ بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اب بھی نسبتاً نئے ہیں۔

اس کے باوجود ٹرمپ نے اس ہفتے انھیں ایک مشکل صورتحال میں اُتارا ہے، اور اب وینس پر دباؤ ہے کہ وہ صدر کے لیے ایک کامیابی حاصل کریں، جبکہ اپنے سیاسی مستقبل کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔

راتھکے نے کہا کہ ’وہ ایرانیوں کے ساتھ جے ڈی وینس کا معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات نہیں کر رہے۔ وہ اسلام آباد میں اس لیے موجود ہیں کہ صدر جس بہترین معاہدے پر رضامند ہو سکتے ہیں، اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔‘

’لیکن اس میں نائب صدر کے لیے کچھ خطرات ہیں، اس صورت میں کہ اگر ٹرمپ کسی بات پر رضامند ہو جائیں اور پھر بعد میں اس کے لیے اپنا جوش کھو بیٹھیں۔ ٹرمپ ممکن ہے اس کا الزام مذاکرات کار پر ڈال دیں گے۔‘