وینس اور قالیباف نے بداعتمادی پر قابو پا لیا تو نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے

    • مصنف, لز ڈوسیٹ
    • عہدہ, مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

اگر دنیا کو یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی ایک ساتھ کھڑے ہوئے کوئی تصویر لی گئی، تو یہ منظر ایک نئی تاریخ رقم کر دے گا۔

یہ لمحہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والی اعلیٰ ترین سطح کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔

ایران میں اسلامی انقلاب نے ان دونوں ممالک کے مضبوط سٹریٹجک تعلق کو ناصرف توڑ دیا تھا بلکہ اِن تعلقات پر ایک ایسا مہیب سایہ ڈالا تھا جو آج تک چھایا ہوا ہے۔

ممکن ہے کہ یہ دونوں افراد (جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف) اُس ممکنہ تصویر میں مسکراتے نظر نہ آئیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاید وہ مصافحہ بھی نہ کریں۔

اور شاید اس سے ان دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ تعلق نہ تو زیادہ آسان ہو جائے گا اور نہ ہی کم معاندانہ۔

لیکن یہ ممکنہ تصویر اس بات کا اشارہ ضرور دے گی کہ دونوں فریق دنیا بھر کو متاثر کرنے والی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، مزید اور خطرناک کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم دو ہفتوں کی اس غیر مستحکم جنگ بندی کے دوران وہ ’امن معاہدہ‘ ہونے کا بالکل کوئی امکان نہیں جس سے متعلق صدر ٹرمپ نے پُرامید انداز میں پیش گوئی کی تھی۔ یہ ایسی غیرمستحکم جنگ بندی ہے جس کی شرائط کا اعلان ہوتے ہی ان پر اختلاف شروع ہو گیا تھا اور اس کے نافذ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی خلاف ورزی بھی ہوتی رہی۔

اسرائیل کے اس اصرار پر کہ لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی، آخری لمحے تک ایرانیوں نے سب کو یہ سوچنے پر مجبور کیے رکھا کہ آیا وہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے بھی یا نہیں۔

لیکن اگر سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات کا آغاز ہو جاتا ہے تو یہ سنہ 2018 کے بعد سب سے اہم پیش رفت ہو گی، جب ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں ایران کے ساتھ ماضی میں ہونے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کو، جسے وسیع پیمانے پر اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا، ’تاریخ کا بدترین معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات، جو تقریباً 18 ماہ تک چلنے والے لاتعداد ادوار پر مشتمل تھے اور جن میں کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں شامل تھیں، میں امریکہ کے اُس وقت کے وزیرِ خارجہ جان کیری اور ایران کے اُس وقت کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کے درمیان آخری اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی گئی تھیں۔

اس کے بعد کی جانے والی کوششوں میں، جن میں صدر بائیڈن کے دورِ صدارت کے دوران کی گئی کوششیں بھی شامل ہیں، خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ گذشتہ کئی برسوں سے اس پورے عمل کے تمام نشیب و فراز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس گروپ سے منسلک علی واعظ کہتے ہیں کہ ’زیادہ سینیئر حکام کی شمولیت اور تمام فریقوں کے لیے ناکامی کے بڑے خطرات ایسے امکانات پیدا کر سکتے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔‘

وہ خبردار کرتے ہیں کہ اس بار صورتحال ’کہیں زیادہ مشکل‘ ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات بہت وسیع ہیں اور بداعتمادی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

تہران میں بداعتمادی کی یہ جڑیں اس لیے بھی بہت گہری ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دو مذاکراتی ادوار، جن میں جون 2025 اور فروری 2026 میں کی گئی کوششیں شامل ہیں، اچانک اُس وقت بُری طرح متاثر ہوئے جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف ابتدائی فوجی کارروائیاں کیں۔

متضاد انداز

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب یہ دونوں ممالک بات چیت کرتے ہیں تو ان کے مذاکراتی انداز ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

صدر ٹرمپ فخر سے کہتے ہیں کہ اُن کے پاس خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی صورت میں بہترین ڈیلز طے کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ سٹیو وٹکوف سابقہ پراپرٹی ڈویلپر ہیں۔ جبکہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے رُکن جیرڈ کشنر صدر ٹرمپ کے داماد ہیں اور اُن کی پہلی مدت صدارت میں ان کے قریبی معاونین میں شامل تھے، اور یہ وقت تھا جب ابراہمی معاہدوں کے ذریعے اسرائیل اور چند عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات معمول پر لائے گئے، جبکہ فلسطینیوں کو نظرانداز کیا گیا۔

لیکن ایران، جو اِن ایلچیوں (سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کو اسرائیل کے بہت زیادہ قریب سمجھتا ہے، نے رابطے کی سطح بڑھانے پر زور دیا ہے، خاص طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تک۔

جے ڈی وینس (صدر ٹرمپ کے) کسی دوست یا خاندان کے فرد کی حیثیت نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ میں ایک باضابطہ عہدہ (نائب صدر) رکھتے ہیں جبکہ انھیں ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ میں ایران کے خلاف فوجی مہم کے سب سے مضبوط ناقد کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

جبکہ ایران کے مذاکرات کے طریقہ کار میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ اب اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ مذاکرات زیادہ تر بالواسطہ طریقے سے اور بااعتماد ثالث کے ذریعے ہوں۔

فروری 2026 میں جنیوا میں بند کمروں میں کیمروں کی چکا چند سے دور، بالواسطہ رابطوں کے دوران کچھ براہِ راست گفتگو بھی ہوئی تھی۔ لیکن ایرانی سخت گیر عناصر براہ راست گفتگو پر گہرا عدم اعتماد رکھتے تھے۔

وٹکوف کا خاص انداز یہ تھا کہ وہ عموماً اکیلے ہی آتے تھے۔ اس عمل سے وابستہ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اکثر نوٹس بھی نہیں لیتے تھے جس سے ایرانی شکوک مزید بڑھ گئے اور مذاکرات اکثر ایک ہی دائرے میں گھومتے رہے۔ بعد ازاں کشنر کو ان کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

ایک دہائی قبل ہونے والے مذاکرات کے ساتھ موازنہ اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا تھا کہ امریکی اور ایرانی وفود میں تجربہ کار سفارت کاروں اور ممتاز طبیعیات دانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ انھیں سینیئر یورپی سفارت کاروں کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل اراکین برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے وزرائے خارجہ کی بھی حمایت حاصل تھی۔

اس سال فروری میں ہونے والے آخری ادوار میں کہا جاتا ہے کہ اس وقت پیش رفت ہوئی جب دونوں وفود کی معاونت بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی کی تکنیکی مہارت اور دیگر ممالک کے تجربہ کار ثالثوں نے کی۔

بتایا جاتا ہے کہ کم از کم جوہری معاملہ پر کچھ اختلافات کم ہوئے اگرچہ تمام نہیں۔ اس دوران ایران نے نئی رعایتیں پیش کیں جن میں انتہائی افزودہ یورینیم کی تحلیل بھی شامل تھی۔ لیکن ایک بار پھر جنگ کی چنگاری بھڑک اٹھی۔

اب ان دشمنیوں نے تمام فریقوں کے لیے سکیورٹی کے حساب کتاب کو بدل دیا ہے۔ اس تنازع سے پہلے بھی، ایران کے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر سخت گیر آوازیں ایٹم بم کی تیاری کے حق میں دلائل دے رہی تھیں۔

اب ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو دفاعِ ذات کے لیے برقرار رکھنے پر اصرار کرے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو بھی قائم رکھے گا۔ یہ تہران کو بڑا دباؤ ڈالنے کی طاقت اور ایک نہایت ضروری اقتصادی سہارا فراہم کرتا ہے۔

لیکن خلیجی ریاستوں کی اکثریت، جنھوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کی مخالفت کی تھی اور بعد ازاں اپنے ہمسائے کے ساتھ محتاط مفاہمت تک پہنچیں، اب مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ میزائل جو ان کے ممالک میں آ کر گرے، ان کا معاملہ بھی مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

اسرائیل، اور بالخصوص وزیراعظم بنیامین نتن یاہو، یقینی طور پر فون پر ہوں گے یا وائٹ ہاؤس سے رابطے میں ہوں گے تاکہ ان کی ایران کے خطرات کے بارے میں گہری تشویش پر بات ہو۔

بہادرانہ لچک

یہ ایک اور تاریخی دور کی بازگشت ہے۔

13 سال قبل، ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہچکچاتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے مذاکرات کاروں کو امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات تیز کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ اسے ’بہادرانہ لچک‘ کہا گیا۔

تہران کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما کو اس ملک پر اعتماد نہیں تھا جسے وہ حقارت سے ’عظیم شیطان‘ کہتے تھے لیکن ایران کے نو منتخب اصلاح پسند صدر حسن روحانی نے انھیں اس بات پر قائل کیا کہ خراب معاشی حالات نے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ مفلوج کر دینے والی بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔

اب ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای جو اس جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں اپنے والد کے قتل کے بعد اقتدار میں آئے ہیں انھوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو اسلام آباد میں امریکی نمائندوں سے ملنے کی اجازت دے دی ہے۔

لیکن وہ اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے اور ان کی شمولیت اور اختیار کی حد بالکل واضح نہیں۔ سخت گیر عناصر، خاص طور پر طاقتور پاسدارانِ انقلاب اب فیصلے کر رہے ہیں۔ ایران کی معیشت کہیں زیادہ گہرے بحران میں پھنسی ہوئی ہے اور جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کو شدید کچلنے کے بعد جس میں کئی ہزار جانیں گئیں، اسے اندرونِ ملک مزید سنگین اختلاف کا سامنا ہے۔

اس ہولناک جنگ سے لرز جانے والی ایک قوم اب معاشی اور سماجی تبدیلی اور بعض کے لیے کلیدی تبدیلی، کی امید کو تھامے رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

ٹرمپ کا اصرار ہے کہ جنگ کے ان چھ ہفتوں نے ’حکومت کی تبدیلی‘ کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور وہ ایران کے نئے رہنماؤں کو ’کم انتہاپسند، کہیں زیادہ معقول‘ قرار دیتے ہیں۔

تمام فریقوں کے لیے سچائی کا لمحہ قریب آ رہا ہے اور ایک اور سنجیدہ خیال بھی ہے۔ 13 سال قبل، جب مذاکرات شروع ہوئے تھے تو بیانات میں کہا گیا تھا کہ دونوں فریق ’ایک دوسرے سے بہت دور‘ ہیں۔

ایران نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ اس کے یورینیم افزودہ کرنے کے ’حق‘ کو تسلیم کرے جسے امریکہ نے یہ شبہ ظاہر کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔

فی الحال، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کہہ رہا ہے کہ اس حق کو تسلیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ایران میں کوئی افزودگی نہ ہو۔

تاریخ شاید خود کو نہ دہرائے، لیکن اس کی بازگشت ضرور سنائی دیتی ہے۔