امریکی فوج کی سابق اہلکار پر ایران کے لیے جاسوسی کا الزام اور گرفتاری پر انعام مقرر: مونیکا وِٹ کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہFBI
امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے سابق امریکی فوجی مونیکا وِٹ کی گرفتاری میں مدد کے لیے دو لاکھ امریکی ڈالرز انعام کا اعلان کیا ہے۔
فروری 2019 میں، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں ایک وفاقی جیوری نے وِٹ پر جاسوسی اور قومی دفاع سے متعلق معلومات ایرانی حکومت کو فراہم کرنے کے الزامات پر فرد جرم عائد کی تھی۔
فرد جرم میں کہا گیا کہ وِٹ سنہ 2013 میں ایران منتقل ہو گئی تھیں۔ ایف بی آئی کے 14 مئی کو جاری بیان کے مطابق وہ اب بھی انھیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واشنگٹن میں ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس اور سائبر سکیورٹی ڈویژن کے انچارج ڈینیئل وئیرزبکی نے کہا: ’مونیکا وِٹ مبینہ طور پر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل ایران منتقل ہو گئیں اور ایرانی حکومت کو قومی دفاع سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ اور ممکنہ طور پر اب بھی اس کی مذموم سرگرمیوں کی حمایت کر رہی ہیں۔‘
وئیرزبکی نے مزید کہا: ’ایف بی آئی انھیں بھولی نہیں ہے اور اسے یقین ہے کہ ایران میں کوئی نہ کوئی ان کے ٹھکانے کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو جانتا ہو گا۔‘
مونیکا ایلفریڈے وِٹ کون ہیں؟
ان کے بچپن کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، تاہم ایف بی آئی کے مطلوب افراد کے پوسٹر کے مطابق وِٹ کی پیدائش آٹھ اپریل 1979 کو ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں ہوئی۔
روزگار کی ویب سائٹ انڈیڈ پر شائع ایک سی وی کے مطابق، وِٹ نے دسمبر 1997 میں امریکی فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور انھیں آفٹ ایئر فورس بیس پر تعینات کیا گیا، جہاں وہ انٹیلی جنس سپیشلسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں اور ان کی ذمہ داری فارسی زبان سے متعلق امور سنبھالنا تھی۔
بعد ازاں، نومبر 2003 سے انھوں نے میری لینڈ میں اینڈریوز ایئر فورس بیس کے خصوصی تحقیقاتی دفتر (اے ایف او ایس آئی) میں سپیشل ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے ایف او ایس آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کا مشن ’فضائیہ، محکمہ دفاع اور امریکی حکومت کے خلاف خطرات کی نشاندہی کرنا اور انھیں غیر مؤثر بنانا‘ ہے۔
سنہ 2019 میں امریکی فضائیہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وِٹ کو جون 2008 میں ٹیکنیکل سارجنٹ کے عہدے کے ساتھ فارغ کیا گیا تھا۔
انھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں ایئر میڈل بھی شامل ہے، جو ’بہادری یا غیر معمولی خدمات‘ کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFBI
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مئی 2008 میں امریکی فوج چھوڑنے کے بعد اگلے سات ماہ کے دوران، وٹ نے میری لینڈ میں کنسلٹنگ فرم بوز ایلن ہیملٹن کے لیے بطور مشیر کام کیا، جہاں وہ ’ایرانی امور‘ پر مشورہ دیتی تھیں اور ’لسانی اور ثقافتی مہارت‘ فراہم کرتی تھیں۔
نومبر 2008 سے اگست 2010 تک، انھوں نے ورجینیا میں ایک اور کمپنی چینیگا فیڈرل سسٹمز میں مشرقِ وسطیٰ کے شعبے کی سربراہ کے طور پر کام کیا۔
اس عرصے کے دوران، وِٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’دنیا بھر میں غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز کے خلاف حساس نوعیت کی جوابی انٹیلی جنس (کاؤنٹر انٹیلی جنس) کارروائیوں کی نگرانی کی۔‘
بعد ازاں، دسمبر 2010 سے مئی 2011 تک انھوں نے واشنگٹن میں امڈایسٹ کے ساتھ کام کیا، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی تعلیم، تربیت اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے کام کرتی ہے۔
اس غیر منافع بخش تنظیم میں اپنے وقت کے دوران، وِٹ کے سی وی کے مطابق، انھوں نے ’امریکی جامعات میں فلبرائٹ سکالر شپ کے لیے 60 عراقی امیدواروں کی درخواستیں جمع کرائیں۔‘
دستاویز میں یہ بھی کہا گیا کہ وِٹ کے پاس یونیورسٹی آف میری لینڈ سے بیچلرز ڈگری، جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے ماسٹرز ڈگری اور ڈیفنس لینگویج انسٹی ٹیوٹ سے فارسی زبان کی سند موجود تھی۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے جریدہ برائے بین الاقوامی امور نے سنہ 2012 میں وِٹ کے دو مضامین شائع کیے۔ ان میں سے ایک میں انھوں نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ایران کے ہمسایہ ممالک کو تہران سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دیتا ہے۔
اپنے سی وی کے مطابق، وہ عراق، قطر، اردن، ترکی، متحدہ عرب امارات، تاجکستان اور ایران جیسے ممالک میں رہیں اور کام کرتی رہیں۔

،تصویر کا ذریعہFBI
’خفیہ معلومات کا تبادلہ‘
سنہ 2019 کی فرد جرم کے مطابق، وِٹ سنہ 2012 میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران گئی تھیں، جس میں ’امریکہ کے اخلاقی معیار‘ پر تنقید کی گئی اور امریکہ مخالف پروپیگنڈا کو فروغ دیا گیا۔
فردِ جرم کے مطابق، وہ اگلے سال واپس گئیں اور ایرانی حکام نے مبینہ طور پر وِٹ کو رہائش اور کمپیوٹر آلات وغیرہ فراہم کیے تاکہ وہ ان کے لیے کام کر سکیں۔
حکام کا الزام ہے کہ اس کے بعد وِٹ نے تہران کے لیے کام شروع کیا، جس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنا اور امریکی انٹیلی جنس سروسز میں اپنے سابق ساتھیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شامل تھا۔
فرد جرم میں عائد الزامات کے مطابق، وٹ کی فوجی خدمات اور حکومتی کانٹریکٹر کے طور پر ملازمت نے انھیں ’خفیہ اور انتہائی خفیہ‘ معلومات تک رسائی فراہم کی، جن میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے خفیہ اہلکاروں کے اصل نام بھی شامل تھے۔
محکمہ انصاف نے اپنی فردِ جرم میں الزام عائد کیا کہ وِٹ کو ایران نے بھرتی کیا تھا اور وہاں منتقل ہونے کے بعد انھوں نے مبینہ طور پر اس ملک کو خفیہ انٹیلی جنس جمع کرنے کے ایک پروگرام کا بتایا اور ایک امریکی انٹیلی جنس افسر کی شناخت بھی ظاہر کی، جس سے ان افسر کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔
استغاثہ نے الزام لگایا کہ جنوری 2012 سے مئی 2015 تک، ایران اور امریکہ سے باہر دیگر ممالک میں، وِٹ نے ایرانیوں کے ساتھ مل کر ’امریکی قومی دفاع سے متعلق دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے کی سازش کی، اس نیت اور ٹھوس یقین کے ساتھ کہ انھیں امریکہ کے نقصان اور ایران کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘
مزید کہا گیا کہ وِٹ، جن کی اُس وقت عمر 39 برس تھی، نے ایران کو ایسی معلومات فراہم کیں جو امریکی حکومتی اہلکاروں اور انٹیلی جنس افسران کے خلاف استعمال کی جا سکیں۔
ایف بی آئی کے مطابق، ایرانی حکومت کو معلومات فراہم کر کے وِٹ نے ’امریکہ کے قومی دفاع سے متعلق حساس اور خفیہ معلومات اور پروگراموں کو خطرے میں ڈال دیا۔‘
ایف بی آئی نے اپنے بیان میں کہا: ’وِٹ کا ایران منتقل ہونا پاسداران انقلاب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا‘ جو متعدد شدت پسند تنظیموں کی براہ راست حمایت کرتے ہیں اور امریکی شہریوں اور مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔
سنہ 2019 کی فرد جرم میں سازش، کمپیوٹر میں در اندازی کی کوشش اور شناخت کی چوری کے الزام پر چار ایرانی افراد کو بھی نامزد کیا گیا، جو مبینہ طور پر سنہ 2014 اور 2015 کے درمیان ’سائبر اور دیگر ذرائع کے ذریعے کم از کم آٹھ ایسے امریکی حکومتی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کا حصہ تھے، جو کسی نہ کسی وقت مونیکا وِٹ کے ساتھ کام کر چکے تھے یا ان کے ساتھ رابطے میں رہے تھے۔‘
























