220 ڈالر کی ایک چیونٹی: کینیا میں منافع بخش کاروبار یا جنگلی حیات کی سمگلنگ کا نیا محاذ؟

رواں ماہ کے آغاز میں نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چین جانے والے سامان میں زندہ چیونٹیوں کی ایک بڑی کھیپ ملی تھی۔

،تصویر کا ذریعہKWS

،تصویر کا کیپشنرواں ماہ کے آغاز میں نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چین جانے والے سامان میں زندہ چیونٹیوں کی ایک بڑی کھیپ ملی تھی۔
    • مصنف, وائکلف میویا
    • عہدہ, نیروبی
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

برسات کے موسم میں آپ کو کینیا میں ہر طرف چیونٹیاں اڑتی نظر آئیں گی۔

اس موسم کے دوران آپ کینیا کی رفٹ ویلی میں ایک پرسکون زرعی قصبے گلگل میں اور اس کے آس پاس ہزاروں چیونٹیوں کو اپنی کالونیوں سے نکلتے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مقام تیزی سے بڑھتی غیر قانونی تجارت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

اس موسم میں پروں والے نر چیونٹے ملکاؤں کو حاملہ کرنے کے لیے اپنا گھونسلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ملکہ چیونٹیوں کا پیچھا کرکے انھیں سمگلروں کو فروخت کرنے کے لیے بہترین وقت ہے۔ عالمی بلیک مارکیٹ میں ان چیونٹیوں کی بہت مانگ ہے۔ شوقین افراد انھیں شیشے کے بنے شفاف انکلوژرز میں رکھ کر ان چیوںٹیوں کو کالونی بناتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

یہ دیو ہیکل افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں ہیں۔ یہ سائز میں بڑی اور ان کی رنگت سرخ ہوتی ہے۔ ان چیونٹیوں کی مارکیٹ میں بڑی مانگ ہے۔ آن لائن بلیک مارکیٹ میں ان میں سے ایک ایک چیونٹی کے 220 ڈالر تک مل سکتے ہیں۔

انڈے دینے کے قابل ایک ملکہ چیونٹی ہی پوری کالونی بنانے کے قابل ہے اور یہ کئی دہائیوں تک زندہ رہ سکتی ہے۔ انھیں باآسانی سمگل کیا جا سکتا ہے کیونکہ عام سکینر نامیاتی مواد کا پتہ نہیں لگا سکتے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کام غیر قانونی ہے۔‘ وہ پہلے ایک بروکر کے طور پر کام کرتے تھے جو غیر ملکی خریداروں کا مقامی کلیکشن نیٹ ورکس سے رابطہ کرواتے تھے۔

یہ چیونٹیاں مشرقی افریقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور بیج جمع کرنے کے اپنے مخصوص رویے کے لیے جانی جاتی ہیں اور اس ہی وجہ سے یہ چیونٹیاں جمع کرنے والوں میں کافی مقبول ہیں۔

سابق بروکر نے بتایا، ’ایک دوست نے مجھے کہا کہ ایک غیر ملکی ملکہ چیونٹیوں کے لیے اچھے پیسے دے رہا ہے۔۔یہ بڑی سرخ چیونٹیاں ہیں جو کہ یہاں ہر طرف نظر آتی ہیں۔‘

’ام طور پر صبح سویرے گرمی ہونے سے پہلے ہم کھلے کھیتوں کے قریب ٹیلے تلاش کرتے ہیں۔ غیر ملکی کبھی خود کھیتوں میں نہیں آتے، وہ شہر میں یا کسی گیسٹ ہاؤس یا کار میں انتظار کرتے تھے، اور ہم چیونٹیوں کو ان کے فراہم کردہ چھوٹے ٹیوبوں یا سرنجوں میں پیک کرکے ان کے پاس لے جاتے تھے۔‘

جائنٹ افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں دنیا بھر میں جنگلی حیات رکھنے کے شوقین افراد میں بہت مقبول ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDino Martins

،تصویر کا کیپشنجائنٹ افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں دنیا بھر میں جنگلی حیات رکھنے کے شوقین افراد میں بہت مقبول ہیں۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کینیا میں یہ غیر قانونی تجارت کس پیمانے پر چل رہی تھی اس کا اندازہ گذشتہ برس اس وقت ہوا جب گلگل کے آس پاس سے جمع کی گئی 5,000 چیونٹیاں ایک قریبی شہر نائواشا کے ایک گیسٹ ہاؤس میں زندہ پائی گئیں۔ یہ جگہ سیاحوں میں بہت مشہور ہے۔

کینیا وائلڈ لائف سروس (کے ڈبلیو ایس) کے مطابق بیلجیم، ویتنام اور کینیا سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد نے ٹیسٹ ٹیوب اور سرنجوں کو نم روئی سے پیک کیا تھا۔ ایسے ہر ایک چیونٹی دو ماہ تک زندہ رہ سکتی تھی۔

ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ان چیونٹیوں کو یورپ اور ایشیا لے جا کر فروخت کیا جائے۔

چیونٹیوں کی اس تجارت نے سائنسدانوں اور حکام کو حیران کر دیا ہے۔

کینیا میں جنگلی حیات کے خلاف جرائم کو زیادہ تر لوگ ہاتھی کے دانتوں اور گینڈے کے سینگوں کی غیر قانونی تجارت سے جوڑتے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم ریٹیلر ’اینٹس آر اَس‘ ان افریقی دیوہیکل چیونٹیوں کو ’کئی لوگوں کے خواب‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ فی الحال ملکہ چیونٹیاں ان کے پاس دستیاب نہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق ان کا حصول بہت مشکل ہے۔

کینیا میں مقیم ایک ماہر حیاتیات ڈینو مارٹنز نے بی بی سی کو بتایا، ’ایک ماہرِ حیاتیات ہونے کے باوجود میں بھی اتنے بڑے پیمانے پر اس غیر قانونی تجارت سے حیران ہوں۔‘ کینیا میں تقریباً 600 مختلف اقسام کی چیونٹیاں پائی جاتی ہیں۔

تاہم، وہ مشرقی افریقہ کے ہارویسٹر چیونٹیوں میں دلچسپی کے رجحان کو سمجھتے ہیں۔ ایک ’فاؤنڈریس کوئین‘ چیونٹی جو 25 ملی میٹر (0.98 انچ) تک بڑھ سکتی ہے اکیلے ہی پوری کالونی بنا سکتی ہے۔ یہ چیونٹی زندگی بھر انڈے دیتی ہے۔

’یہ چیونٹیوں کی سب سے پراسرار نسلوں میں سے ایک ہیں - یہ بڑی بڑی کالونیاں بناتی ہیں، دلچسپ طرز عمل میں مشغول ہوتی ہیں اور انھیں رکھنا آسان ہے کیونکہ یہ جارحانہ نہیں ہوتیں۔‘

ملاپ کے سیزن میں ایک ملکہ چیونٹی کئی نر چیونٹے ساتھی رکھتی ہے۔

’پھر اس کے بعد نر چیونٹیوں کا کام ختم، زیادہ تر کو شکاری کھا جاتے ہیں یا وہ مر جاتے ہیں۔‘

ماہر حیاتیات بتاتے ہیں کہ کس طرح ملکہ چیونٹی ایک چھوٹا سا بل کھودنے کے لیے بھاگتی ہے اور اپنی سلطنت شروع کرنے کے لیے انڈے دینا شروع کرتی ہے۔

اس کے کارکن اور سپاہی چیونٹیاں، جو گھونسلے کی حفاظت کرتی ہیں، سب مادہ ہوتی ہیں اور آخر کار ان کی تعداد لاکھوں ہو جاتی ہے۔

مارٹنز کہتے ہیں، ’ایک کالونی 50 سال سے زیادہ زندہ رہ سکتی ہے۔ شاید 70 سال تک۔ میں ذاتی طور پر نیروبی کے قریب ایسے گھونسلوں کے بارے میں جانتا ہوں جو کم از کم 40 سال پرانے ہیں۔‘

اس کا مطلب ہے کہ ملکہ چیونٹیاں بھی اتنے لمبے عرصے تک زندہ رہتی ہیں - کیونکہ جیسے ہی وہ مرتی ہے، کالونی ختم ہو جاتی ہے اور زندہ بچ جانے والی کارکن چیونٹیاں کوئی دوسرا گھونسلہ تلاش کر لیتی ہیں۔

کینیا کے جن لوگوں کا ان چیونٹیوں پالا پڑا ہے وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کسی بھی کالونی سے چھٹکارا پانے کے لیے کسی کو اس کالونی کی ملکہ کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جو اکثر چیونٹی کے ٹیلے کے کسی سرنگ یا چیمبر میں گہرائی میں چھپی ہوتی ہے۔

سابق بروکر بتاتے ہیں کہ چیونٹیوں کے ٹیلے کو ہلکا سا نقصان پہنچا کر انھیں بھاگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں جب یہ چیونٹیاں باہر نکلتی ہیں تو انھیں پکڑا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے گرفتاریوں کی خبر دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ میں کس چیز کا حصہ تھا اور میں نے فوری طور پر یہ کام چھوڑ دیا۔‘

گرفتار کیے گئے افراد کو بائیو پائریسی کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے اور انھیں جرمانہ ادا کرنے یا 12 ماہ قید کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔ 7,700 ڈالر جرمانہ ادا کیا گیا اور ان میں سے غیر ملکی شہری ملک چھوڑ گئے۔

دو ہفتے قبل، ایک چینی شہری کو نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جے کے آئی اے) سے ٹیسٹ ٹیوب اور ٹشو رولز میں چھپائی گئی 2000 ملکہ چیونٹیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پچھلے سال پکڑے گئے سمگلرز کے گروہ کا سرغنہ تھا اور وہ اس وقت ایک مختلف پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ژینگ یانگ وانگ محققین کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جس نے 2023 میں چین میں ان چیونٹیوں کی تجارت پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ ان کے لیے یہ پریشانی کا باعث ہے کیونکہ یہ تجارت مقامی ماحولیاتی نظام کو ’تباہ‘ کر سکتی ہے۔

چیونٹیاں اکثر اس طرح کے ٹیلوں میں پائی جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچیونٹیاں اکثر اس طرح کے ٹیلوں میں پائی جاتی ہیں۔

سچوان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر وانگ نے بی بی سی کو بتایا، ’ابتدائی طور پر، ہم بہت پرجوش تھے جب ہمیں معلوم ہوا کہ بہت سے لوگوں نے چیونٹیاں پالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔‘

’پالتو چیونٹیوں کی کالونی کو اکثر فارمیکیریم میں رکھا جاتا ہے، جو بنیادی طور پر ایک شفاف پلاسٹک کا ڈبہ ہوتا ہے تاکہ کالونیوں کا مشاہدہ کیا جا سکے، سرنگیں کیسے کھودی جاتی ہیں، کھانا کیسے اکٹھا کیا جاتا ہے اور ملکہ کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ میں کہوں گا کہ یہ کافی دلکش ہے اور لوگوں کو کیڑوں اور ان کے رویے کے بارے میں تعلیم دینے کا ایک اچھا طریقہ ہو سکتا ہے۔‘

’لیکن پھر ہم نے محسوس کیا، کہیں ان جنگلی حیات کو قید میں رکھنا خطرناک تو نہیں ہے؟‘

محقیق کے مطابق چین میں گذشتہ چھ ماہ میں 58,000 سے زیادہ کالونیاں آن لائن فروخت کی گئی۔ اس دوران محققین نے پایا کہ فروخت کی گئی ایک چوتھائی سے زیادہ نسلیں چین کی مقامی نہیں۔ یہ امر اس لیے حیران کن تھا کیوں کہ ان کی درآمد غیر قانونی ہے۔

’اگر غیر مقامی چیونٹیوں کے تجارتی حجم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، تو یہ محض وقت کی بات ہے کہ ان کے فارمیکیریا سے کچھ بچ نکلیں اور جنگلوں میں اپنی کالونیاں قائم کر لیں۔‘

حیاتیاتی تحفظ کے جریدے میں شائع ہونے والی پروفیسر وانگ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چین میں سب سے زیادہ درآمد کی جانے والی دیو ہیکل افریقی ہارویسٹر کے معاملے میں کیا کچھ ہو سکتا ہے: ’مثال کے طور پر، میسر سیفالوٹس، ایک مشرقی افریقی چیونٹی دنیا کی سب سے بڑی چیونٹیوں کی نسلوں میں سے ایک ہے اور یہ ممکنہ طور پر چین کے جنوبی علاقوں کی زراعت کو متاثر کر سکتی ہے۔‘

formicarium

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہر حیاتیات بتاتے ہیں کہ کس طرح ملکہ چیونٹی ایک چھوٹا سا بل کھودنے کے لیے بھاگتی ہے اور اپنی سلطنت شروع کرنے کے لیے انڈے دینا شروع کرتی ہے۔

اس کے کینیا میں بھی تشویشناک ماحولیاتی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

مارٹنز کا کہنا ہے کہ ہارویسٹر چیونٹیاں نہ صرف ایکو سسٹم انجینئرز ہیں بلکہ وہ اپنے آس پاس کے ماحول پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ’یہ چیونٹیاں گھاس اور دیگر پودوں کے بیج کاٹتی ہیں اور ایسا کر کے یہ بیجوں کو پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔‘

مارٹنز کا مزید کہنا ہے یہ کیڑے صحت مند اور متحرک ماحول بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

کینیا کے وائلڈ لائف ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سینیئر سائنس دان موکونی واتائی کو بھی ایسے ہی خدشات لاحق ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ملکہ چیونٹیوں کے خاتمے سے ان کی کالونیاں ختم ہو سکتی ہیں جس سے نہ صرف ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے بلکہ حیاتیاتی تنوع کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

مختلف بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق کینیا میں چیونٹیاں جمع کرنے پر پابندی نہیں۔ خریدار کو بس ایک خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے جس کے تحت وہ اپنے معاوضے کا کچھ حصہ مقامی کمیونٹی کو دینے کا پابند ہوتا ہے۔

تاہم کینیا کے محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق ابھی تک کسی نے اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے درخواست نہیں دی ہے۔ درخواست گزار کو دیگر کاغذی کارروائی کے ساتھ یہ تفصیلات بھی فراہم کرنا پڑتی ہیں کہ کتنی چیونٹیاں اکٹھی کی جا رہی ہیں اور ان کی منزل کہاں ہے۔

فارمیکیریم کی مدد سے چیونٹیاں جمع کرنے والے یہ دیکھ پاتے ہیں چیونٹیوں کی کالونی کیسے کام کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفارمیکیریم کی مدد سے چیونٹیاں جمع کرنے والے یہ دیکھ پاتے ہیں چیونٹیوں کی کالونی کیسے کام کرتی ہے۔

کچھ تحفظ پسند اب خطرے سے دوچار جانوروں کی بین الاقوامی تجارت (سائٹس) کے کنونشن کے تحت چیونٹی کی تمام نسلوں کے لیے بھی تجارتی تحفظات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چیونٹی کی عالمی تجارت کے ایک محقق سرجیو ہنریکس نے بی بی سی کو بتایا ’حقیقت یہ ہے کہ چیونٹی کی کسی بھی نسل کو فی الحال سائٹس کے تحت تحفظ حاصل نہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’بین الاقوامی معاہدوں کے بغیر، اس تجارت کا پیمانہ بڑی حد تک پالیسی سازوں اور عالمی برادری سے پوشیدہ ہے۔‘

لیکن کینیا کے محکمہ وائلڈ لائف کے لیے اصل مسئلہ ’غیر رپورٹ شدہ‘ حشرات کی سمگلنگ کی نگرانی اور روک تھام ہے۔ محکمے کی جانب سے ہوائی اڈوں اور دیگر سرحدی مقامات پر نگرانی کے بہتر آلات کی تجویز ایک اچھی شروعات ہوگی۔

مارٹنز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں: ’یہ ممکنہ طور پر چیونٹیوں کی تجارت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کا پتہ لگایا جا رہا ہے، لہذا فی الحال اس تجارت کے پیمانے کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔‘

صحافی چارلس انیانگو اوبو کہتے ہیں کہ کینیا ایک آمدنی کے موقع کو نظر انداز کر رہا ہے۔

انھوں نے حال ہی میں کینیا کے ڈیلی نیشن اخبار میں لکھا، ’چیونٹیاں سونے یا ہیرے جیسی محدود اشیا نہیں۔ یہ حیاتیاتی اثاثے ہیں جن کی افزائش کی جا سکتی ہے، اور ان کی پیداوار کو روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ پھر بھی ہم ان کے ساتھ چوری شدہ نوادرات کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔‘

درحقیقت، کینیا کی کابینہ نے گذشتہ سال ایک پالیسی کے رہنما خطوط کی منظوری دی تھی جس کا مقصد چیونٹی کی تجارت سمیت جنگلی حیات کی معیشت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا تھا۔

کینیا والڈ لائف انسٹیٹیوٹ کے واتائی کہتے ہیں، ’رہنما خطوط کے تحت جنگلی حیاتیات جیسے چیونٹیوں کے پائیدار استعمال کی تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ تمام کاؤنٹیوں میں ملازمتیں، دولت اور مقامی آبادیوں کے لیے ذریعہ معاش پیدا کیا جا سکے۔‘

عین ممکن ہے کہ مستقبل میں گلگل کے آس پاس کے کسان اپنی زمینوں پر خصوصی فارمیکیریا بنا کر ملکہ چیونٹیوں کے منافع بخش کاروبار سے فائدہ اٹھائیں۔

لیکن دنیا کے مختلف حصوں میں چیونٹیوں کو پالنے کے شوقین افراد کو چیونٹیاں فروخت کرنے کے خطرات پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔