چینی صدر نے کہا وہ ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دیں گے، آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ

ایک انٹرویو کے دوران فوکس نیوز کے میزبان سے ان سے سوال کہ کیا چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس ’حمایت‘ سے متعلق بات ہوئی ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’آپ حمایت کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہ (چین) ہمارے ساتھ جنگ تو نہیں لڑ رہا۔‘ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ایران کو ’عسکری ساز و سامان نہیں دے گا‘ اور ٹرمپ کے مطابق ’یہ ایک بڑا بیان ہے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے مذاکرات کو ’بہترین‘ کہا لیکن تائیوان سے متعلق سوال کا جواب نہ دیا
  • صدر ٹرمپ کا دورہ چین: امریکی و چینی صدور کی بات چیت دو گھنٹوں پر محیط رہی
  • چینی صدر کی ٹرمپ کے ہمراہ موجود امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقات: چین کے دروازے امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کشادہ ہوں گے، صدر شی
  • ’تعاون میں فائدہ جبکہ محاذ آرائی میں نقصان‘:چینی صدر کا ٹرمپ کو ’حریف نہیں، شراکت دار بننے‘ کا مشورہ
  • چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کر لیں گے: مارکو روبیو

لائیو کوریج

  1. چینی صدر نے کہا وہ ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دیں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بیجنگ کی تہران کی ’حمایت‘ پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔

    ایک انٹرویو کے دوران فوکس نیوز کے میزبان سے ان سے سوال کہ کیا چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس ’حمایت‘ سے متعلق بات ہوئی ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’آپ حمایت کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہ (چین) ہمارے ساتھ جنگ تو نہیں لڑ رہا۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ایران کو ’عسکری ساز و سامان نہیں دے گا‘ اور ٹرمپ کے مطابق ’یہ ایک بڑا بیان ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں چینی صدر نے بتایا کہ بیجنگ ایران سے ’تیل خریدتا ہے اور وہ ایسا کرتے رہنا چاہیں گے۔‘

    امریکی صدر کے مطابق صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ’آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہے گا۔‘

  2. ایران نے آبنائے ہرمز سے چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی: پاسداران انقلاب کی تصدیق

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے اب ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے فیصلے کے ساتھ ہی، متعدد چینی بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز کے ایرانی انتظامی پروٹوکول کے مطابق گزرنا ممکن ہو گیا ہے۔‘

    بیان کے مطابق، چینی وزیر خارجہ اور ایران میں ملک کے سفیر کی پیروی کے بعد ’بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس ملک کی طرف سے درخواست کردہ متعدد چینی بحری جہاز آبنائے کے لیے ایرانی انتظامی پروٹوکول پر سمجھوتہ کرنے کے بعد اس علاقے سے گزریں گے، اور یہ آمدورفت کل رات سے شروع ہوئی۔‘

  3. ایران نے مبینہ طور پر اسلحے سے بھرا جہاز ضبط کر لیا، عمان کے ساحل کے قریب انڈین جہاز کے ڈوبنے کی اطلاعات

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خلیجِ عمان میں ایک ایسے جہاز کو، جو مبینہ طور پر ’فلوٹنگ آرمری‘ یعنی اسلحہ لے جانے کے طور پر کام کر رہا تھا، ایرانی فوجی اہلکاروں نے ضبط کر لیا ہے۔ یہ بات بحری خطرات پر نظر رکھنے والی کمپنی وینگارڈ نے بتائی ہے۔

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز تنظیم کے مطابق، یہ جہاز اب ’ایرانی علاقائی پانیوں کی طرف لے جایا جا رہا ہے‘۔

    بی بی سی ویریفائی نے میرین ٹریفک کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ اس جہاز، جسے وینگارڈ نے ہونڈوراس کے پرچم بردار ہُوئی چوان کے نام سے شناخت کیا ہے، نے بدھ کے روز آخری بار متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال مشرق میں اپنی لوکیشن شیئر کی تھی۔

    جہاز کے آپریٹرز نے وینگارڈ کو بتایا کہ یہ ایک ’فلوٹنگ آرمری‘ کے طور پر کام کر رہا تھا، جہاں سکیورٹی کمپنیاں اپنے ہتھیار رکھتی ہیں، جو سمندر میں قزاقی سے بچاؤ کے لیے جہازوں کی حفاظت کرتی ہیں۔

    بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ اس جہاز پر کیا موجود تھا یا اسے کون استعمال کر رہا تھا۔

    بی بی سی اس سے پہلے بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ ایسے جہاز بحیرۂ احمر، خلیج عدن اور خلیج عمان میں موجود ہوتے ہیں، تاکہ سکیورٹی گارڈز آسانی سے ہتھیار اور گولہ بارود حاصل یا واپس کر سکیں۔

    India

    انڈین جہاز پر حملہ اور ڈوبنے کی اطلاعات

    ہُوئی چوان کی مبینہ ضبطی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک انڈین پرچم بردار جہاز کو بھی بدھ کے روز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

    وینگارڈ کے مطابق، ’حاجی علی‘ نامی جہاز ممکنہ دھماکے کے بعد ’ڈوب گیا‘، جو غالباً ڈرون یا میزائل حملے کا نتیجہ تھا۔

    انڈین حکام نے جمعرات کو بتایا کہ ’جہاز پر موجود تمام انڈین عملہ محفوظ ہے، اور ہم ریسکیو کے لیے عمانی حکام کے شکر گزار ہیں۔‘

    میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق 57 میٹر طویل اس جہاز نے 6 مئی کو صومالیہ کے بربیرا بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا، اور اس کی منزل متحدہ عرب امارات کا شہر شارجہ تھی۔

    وینگارڈ کا کہنا ہے کہ جہاز مویشی لے جا رہا تھا، اور ’جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ہے، جس کے باعث عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا، اور بعد میں یہ ڈوب گیا۔‘

    انڈین حکام کے مطابق، جہاز کے 14 عملے کو عمان کوسٹ گارڈ نے دِبا بندرگاہ منتقل کر دیا۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس حملے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔

  4. آبنائے ہرمز سے چینی بحری جہازوں کے گزرنے میں سہولت فراہم کرنے کی اطلاعات

    اطلاعات کے مطابق ایران نے گذشتہ رات سے مزید چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    فارس نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یہ اقدام چین کے وزیر خارجہ اور ایران میں بیجنگ کے سفیر کی درخواستوں کے بعد کیا گیا ہے۔

    فارس نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ حالیہ دنوں میں کم از کم چھ آئل ٹینکرز اور بلک کریئرز جو چین کی ملکیت ہیں یا چل رہے ہیں آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ روز کم از کم ایک چینی سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا تھا۔

    چینی پرچم والا سپر ٹینکر یوآن ہواہو مارچ کے اوائل میں عراق کے شہر بصرہ میں ڈوب گیا اور اپنی پوزیشننگ سگنل کے مطابق تیل کا کارگو لوڈ کیا۔

    یہ جہاز بدھ کی صبح آبنائے ہرمز سے گزرا اور جزیرہ لارک کے قریب ایرانی پانیوں میں صرف 90 منٹ تک اپنی پوزیشن دکھائی۔

    بی بی سی نیوز کے مطابق، بحری عمان کے وسط اور عمان کے شہر سہر کے مشرق میں سفر کرتے ہوئے جہاز نے 12 گھنٹے سے زائد عرصے بعد دوبارہ اپنی پوزیشن نشر کرنا شروع کر دی۔

    جہاز کی بتائی گئی منزل چین کی بندرگاہ ژوشان ہے اور عوامی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق یہ جون کے شروع میں وہاں پہنچنا ہے۔

    چینی حکام نے ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران، ایران نے اعلان کیا کہ آبنائے سے صرف ’غیر جانبدار بحری جہاز‘ ہی گزر سکتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بہت سے بحری جہاز جن میں چین کا بھی تھا، اس علاقے میں تھے۔

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    ’ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چین کے مفاد میں ہے‘

    امریکی صدر کے دورے کے موقع پر سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں کہا کہ انھیں یقین ہے کہ چین آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں وہ (چینی) جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کریں گے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو کھولنا چین کے مفاد میں بہت زیادہ ہے۔ میرے خیال میں وہ ایرانی قیادت کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے پس پردہ کوشش کریں گے۔‘

    امریکی وزیر خزانہ کا خیال ہے کہ چین جلد ہی بوئنگ طیاروں کے بڑے آرڈر کا اعلان کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق توانائی کی برآمدات سمیت تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

  5. ایران کی بحریہ کی تعمیر نو میں کم از کم ایک نسل درکار ہوگی: سینٹ کام

    سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ میں ایران کے ساتھ جنگ ​​سے متعلق سماعت کے دوران کہا کہ ایران کی اپنے پڑوسیوں اور خطے میں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہماری فوجی کارروائیوں نے ایران کی میزائل، بحری اور ڈرون بنانے کی صلاحیتوں کے صنعتی ڈھانچے کو 90 فیصد تک کمزور کر دیا ہے اور ملک کی بحریہ کی تعمیر نو میں کم از کم ایک نسل درکار ہوگی۔

    بریڈ کوپر نے دوران سماعت سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ ’ایرانی خطرے میں نمایاں کمی آئی ہے اور وہ اب علاقائی شراکت داروں یا امریکہ کو اس طرح دھمکیاں نہیں دے رہے ہیں جس طرح وہ پہلے تمام شعبوں میں کر سکتے تھے۔ وہ نمایاں طور پر کمزور ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے حجم اور صلاحیتوں کی وجہ سے خطرہ ہے۔

  6. انڈیا میں پاکستان سے بات چیت پر زور دینے والی آوازیں مثبت پیش رفت ہیں: ترجمان دفترِ خارجہ

    KAGENMI/GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہKAGENMI/GETTY IMAGES

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مبینہ بیک چینل مذاکرات کی خبروں پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    عرب نیوز کے صحافی وسیم عباسی کے سوال کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کے اندر مکالمے کے حق میں اٹھنے والی آوازیں ایک مثبت پیش رفت ہیں اور امید ہے کہ وہاں جنگی بیانات اور جارحانہ رویہ کم ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے انڈیا کے سرکاری مؤقف کا انتظار کرے گا۔

    بیک چینل یا ٹریک ٹو سفارت کاری سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ وہ اس بارے میں آگاہ نہیں ہیں اور اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق اگر اس حوالے سے بات کی جائے تو ’پھر یہ بیک چینل نہیں رہے گا۔‘

    دوسری جانب انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ مکالمے اور عوامی روابط کی حمایت کی ہے۔

    انھوں نے آر ایس ایس کے رہنما دتاتریہ ہوسبالے کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط اہم ہیں۔

    انڈیا۔پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ممبئی میں ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عام شہریوں کے مسائل، جیسے خوراک، کپڑا اور رہائش، یکساں ہیں اور عام آدمی کا سیاست سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

    ان کے مطابق جب دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے تو ریاستی سطح پر بھی بہتری آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے‘، تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انڈیا ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔

    یاد رہے کہ آر ایس ایس کے رہنما دتاتریہ ہوسبالے نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعطل ختم کرنے کے لیے عوامی رابطے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک میں بعض حلقوں کی جانب سے مکالمے کی حمایت کو ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم باضابطہ سطح پر کسی پیش رفت کے آثار فی الحال واضح نہیں ہیں۔

  7. برطانوی وزیر صحت نے وزیر اعظم کیئر سٹامر سے اختلافات پر استعفیٰ دے دیا

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے وزیر اعظم سے اختلافات کے بعد اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ایکس پر شیئر کیے گئے ایک خط میں انھوں نے کہا کہ انھیں کیئر سٹامر کی قیادت پر ’اعتماد نہیں رہا‘ اور ان کے بقول اب مزید حکومت کا حصہ رہنا ’باعزت اور اصولی رویے کے خلاف‘ ہوگا۔

    اپنے خط میں انھوں نے کہا کہ این ایچ ایس اب ’بحالی کے راستے پر ہے‘، تاہم اس کے باوجود انھوں نے وزیراعظم کی قیادت پر شدید تنقید کی۔

    ویس سٹریٹنگ کے مطابق حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہونے والی شکست غیر معمولی تھی اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی غیر مقبولیت اس ناکامی کی بڑی وجہ بنی جبکہ کچھ پالیسی فیصلے، جیسے سرمائی فیول الاؤنس میں کٹوتی، بھی عوامی ناراضی کا سبب بنے۔

    انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ برطانیہ میں قوم پرست سیاست کے بڑھتے اثرات ملک کے اتحاد اور اقدار کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، اور ان کے بقول لیبر پارٹی عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہی ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹ سکتی ہے۔

    ویس سٹریٹنگ نے کئیر سٹارمر کی کچھ خوبیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سنہ 2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی دلائی اور عالمی سطح پر قیادت کا مظاہرہ کیا، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں ’وژن کی ضرورت ہے وہاں خلا ہے، اور جہاں سمت درکار ہے وہاں بہکاوا دکھائی دیتا ہے۔‘

    اپنے استعفیٰ کے اختتام پر انھوں نے لکھا کہ وزیرِ صحت کے طور پر خدمات انجام دینا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا، اور وہ حکومت چھوڑنے پر ’گہرے دکھ‘ کا اظہار کرتے ہیں۔

  8. کشمیر میں منشیات مخالف مہم میں گھر گرانے اور جائیدادیں سیل کرنے پر سیاسی حلقوں میں تشویش, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    Kashmir

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں منشیات کے مبینہ سمگلروں کے مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں اور جائیدادیں سر بمہر کی جا رہی ہیں۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں ’نشہ مُکت جموں و کشمیر‘ یعنی منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم چلائی جا رہی ہے، جس کی قیادت خود لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کر رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے شروع ہونے والی اس مہم میں اب تک 700 افراد کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ اربوں روپے کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں اور درجنوں مکانات مسمار کیے گئے ہیں۔

    محکمۂ صحت کی وزیر سکینہ ایتو نے اس مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا، تاہم انھوں نے مکانات مسمار کرنے کو غیراخلاقی قرار دیا۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اگر ایک شخص منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہے تو اس کے اہلِ خانہ کو سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ مکانات مسمار کرنے اور جائیدادیں قرق کرنے سے بے گناہ لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔‘

    Kashmir

    تاہم، اس بیان کے ردِعمل میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منشیات کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’منشیات سے منسلک ایک ایک پائی کا تعاقب جاری رکھا جائے گا اور نوجوانوں کو اس مہلک لت میں پھنسانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔‘

    لیفٹیننٹ گورنر نے انکشاف کیا کہ اس مہم کے دوران اب تک 730 سے زائد سمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، کروڑوں روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں اور ملزمان کے پاسپورٹ اور آدھار کارڈ منسوخ کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

    تاہم پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے بلڈوزر کے ذریعے ملزمان کے گھروں کو گرانے اور جائیدادوں کو سیل کرنے کی پالیسی نے وادی میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر کی منتخب حکومت کے کئی وزرا اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے اس مہم کے طریقۂ کار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا مؤقف ہے کہ منشیات کے خاتمے کے لیے سپلائی چین توڑنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ گھروں کو مسمار کر کے خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر لایا جائے۔

    حال ہی میں رکن اسمبلی شیخ خورشید نے اپنے حلقے میں ایک دو منزلہ مکان کی مسماری کے خلاف لیفٹیننٹ گورنر کی مہم کا بائیکاٹ کیا اور اسے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

  9. بیجنگ: ٹرمپ کی ایک جھلک کے لیے چینی عوام سڑکوں پر

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنبیجنگ

    آج بیجنگ میں متعدد سڑکیں بند تھیں، لیکن اس کے باوجود لوگوں کا ہجوم ڈونلڈ ٹرمپ کے موٹرکیڈ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جگہ جگہ جمع ہوتا رہا۔

    جیسے ہی امریکی صدر کا قافلہ شہر سے گزرا، لوگ بے تابی سے انھیں دیکھنے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنچین
    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 میزائل کا کامیاب تجربہ: آئی ایس پی آر

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    آج آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے زیر اہتمام مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا ’کامیاب تربیتی تجربہ‘ کیا گیا۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشنل نظام سے لیس یہ ہتھیار طویل فاصلے کے اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    اس تربیتی تجربے کا مقصد دستوں کی عملی کارکردگی کو بہتر بنانا اور بہتر درستگی اور بڑھتی ہوئی بقا کے لیے شامل مختلف ذیلی نظاموں کے تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق کرنا تھا۔

    اس تربیتی فائر کا مشاہدہ پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینیئر افسران کے علاوہ ترقیاتی ادارے کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی کیا۔

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    آئی ایس پی آر کے مطابق صدر مملکت آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول سٹاف کے سربراہ اور ایئر سٹاف کے سربراہ نے فتح-4 کے کامیاب تربیتی تجربے کو سراہا اور فتح سیریز کے میزائل پروگرام کی کامیابی میں حصہ لینے والے تمام افراد کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کی تعریف کی۔

  11. ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران سرکاری عشائیے کی تصاویر

    ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران سرکاری عشائیے کی تصاویر

    ٹرمپ، شی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایلون مسک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایلون مسک بھی ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران ان کے وفد میں شامل ہیں
    امریکہ کے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ کے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ ایک چینی اہلکار سے گفتگو کر رہے ہیں
    سرکاری عشائیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  12. ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا‘ چین کی ترقی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے: شی جن پنگ

    شی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چینی صدر شی پنگ نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے دو طرفہ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کو’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔

    چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات ’1.7 ارب آبادی والے دونوں ممالک کی فلاح و بہبود اور دنیا کے 8 ارب سے زیادہ لوگوں کے مفادات سے متعلق ہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا چین میں شاندار استقبال کیا گیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ نے کہا کہ شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے دوران کئی امور پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔

    انھوں نے کہا کہ آپ (شی جن پنگ) کے ساتھ ہونا میرے لیے بڑا اعزاز تھا۔‘

    اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے چینی صدر اور ان کی اہلیہ کو 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی۔

  13. ’متحدہ عرب امارات میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست شامل تھا‘: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے خلاف فوجی حملوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسرائیل کے ساتھ اپنے ’اتحاد پر نظرِثانی‘ کرنی چاہیے۔

    انھوں نے یہ تبصرے نئی دہلی میں منعقدہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر کیے، جیسا کہ ان کے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان میں کہا گیا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’مجھے یہ کہنا ہو گا کہ متحدہ عرب امارات میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست شامل تھا، انھوں نے اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف توپ خانے اور دیگر سازوسامان کے استعمال کے لیے مہیا کیا۔”

    انھوں نے 2020 میں معمول پر آنے والے یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ آپ کے اتحاد نے بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا، لہٰذا ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔‘

    مزید برآں، ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم صرف اُن جہازوں کے لیے جو ایرانی حکام کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

  14. کوئٹہ جاتے ہوئے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت چار افراد لاپتہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Gwadar Univetsity

    ،تصویر کا ذریعہGwadar Univetsity/Social Media

    ،تصویر کا کیپشنگوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر سمیت چار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ افراد گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہوئے۔

    پولیس حکام کے مطابق ابتدائی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان افراد کو اغوا کیا گیا، تاہم اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

    کہاں اور کیسے لاپتہ ہوئے؟

    مستونگ میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد، پرسنل سٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد اور یونیورسٹی کے ڈرائیور سرکاری گاڑی میں گوادر سے کوئٹہ جا رہے تھے۔

    ان کے مطابق کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ، کنڈ عمرانی کے قریب رات کے وقت ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اغوا کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    حکومت بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائس چانسلر اور دیگر افراد کی تلاش کے لیے سکیورٹی ادارے اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے موبائل فون بند جا رہے ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔

    ان کے مطابق حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

    مستونگ کہاں واقع ہے؟

    مستونگ، کوئٹہ سے ملحق ایک ضلع ہے جس کا صدر مقام مستونگ ہے جو کوئٹہ سے تقریباً 45 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

    یہ علاقہ بلوچستان کے ان اضلاع میں شمار ہوتا ہے جو سکیورٹی کے حوالے سے حساس سمجھے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہاں بدامنی کے واقعات، شاہراہوں کی ناکہ بندی اور اغوا کی وارداتیں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق سنہ 2024 کے بعد سے مستونگ میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے متعدد بار شاہراہوں کو بند کیے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں، جن کے دوران کئی افراد کے اغوا کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

    وائس چانسلر اور دیگر افراد کے لاپتہ ہونے کا واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب علاقے میں سکیورٹی خدشات پہلے ہی موجود ہیں، جس کے باعث اس واقعے نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

  15. وزارت خزانہ کی بجٹ کے عمل سے میڈیا رپورٹس پر وضاحت: ’میڈیا کے ذمہ دار حلقے قیاس آرائی پر مبنی تشریحات سے گریز کریں‘

    پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے ایکسپریس ٹریبیون میں چھپنے والی ایک خبر کو گمراہ کن اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس خبر میں وزیرِ اعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی کے قیام کو غلط طور پر بجٹ سازی کے عمل کو فنانس ڈویژن سے منتقل کرنے یا وزیرِ خزانہ کو ’نظر انداز‘ کرنے کے طور پر پیش کیا گیا۔

    بیان کے مطابق ’یہ تشریح حقائق کے منافی، گمراہ کن اور کمیٹی کے اصل مینڈیٹ یا طریقۂ کار کی عکاسی نہیں کرتی۔‘

    بیان کے مطابق خبر کی سرخی سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر اندرونی اختلاف موجود ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں۔‘

    وزارتِ خزانہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’وفاقی بجٹ بدستور ایک مشترکہ آئینی اور کابینہ کی مدد سے چلنے والا عمل ہے جو وزیرِ اعظم کی قیادت میں انجام پاتا ہے اور جس میں وزارتِ خزانہ اپنا بنیادی اور تفویض کردہ ادارہ جاتی کردار ادا کر رہی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزارت توقع کرتی ہے کہ میڈیا کے ذمہ دار حلقے قیاس آرائی پر مبنی تشریحات سے گریز کریں گے اور ادارہ جاتی عمل کو درستگی، سیاق و سباق اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کریں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. سی بی ایس نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز میں شائع ہونے والی اُس رپورٹ کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی ایئر بیسز پر جگہ دی۔

    یاد رہے کہ امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔

    اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پاکستان نے خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کرتے ہوئے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑا ہونے کی اجازت دی، جس سے ممکنہ طور پر وہ امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رہ پائیں۔‘

    جمعرات کے روز ترجمان دفتر خارجہ نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا بیان دیکھا، یہ بیان ہماری تردید سے پہلے اور سی بی ایس نیوز کی خبر کے فوری بعد جاری ہوا۔‘

    واضح رہے کہ اپنے متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے 12 مئی کو امریکی کانگریس میں سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے سوال کیا تھا کہ آیا وہ اِن رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دوران پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی؟

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’امن کا عمل جاری ہے اور ہم (پاکستان) فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان یقین رکھتا ہے کہ پرامن، بامقصد اور تعمیری مذاکرات مسائل کے حل کے لیے ضروری ہیں۔‘

  17. زخمی جانور انجام سے پہلے بے بسی میں پنجے مارتا اور دھاڑتا ہے، عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کمرے میں موجود تقریباً ہر شخص کے لیے امریکہ کی دھونس کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی حیران کن جنگ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے لوگ اسی طرح کے ناپسندیدہ دباؤ کی مختلف شکلوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مل کر کھڑے ہوں اور یہ واضح کریں کہ ایسی روشیں تاریخ کے کچرے دان میں ہونی چاہئیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’آج ہماری قومیں پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہیں، اور ہم اس مشترکہ اور خطرناک چیلنج کو نظرانداز نہیں کر سکتے جس کا ہمیں سب کو سامنا ہے۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ’تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ سلطنتیں زوال پذیر ہیں اور وہ اپنے یقینی انجام کو روکنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’ایک زخمی جانور اپنے خاتمے کے راستے پر بے بسی سے پنجے مارتا اور دھاڑتا ہے۔‘

  18. فینٹینائل، آبنائے ہرمز اور اقتصادی تعاون: وائٹ ہاؤس کی آج کے مذاکرات کی تفصیل

    POOL / AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہPOOL / AFP via Getty Images

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ایک ’اچھی ملاقات‘ ہوئی۔

    بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے ’اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں‘ پر تبادلہ خیال کیا، جس میں امریکی کمپنیوں کی چینی مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دینا اور امریکی صنعتوں میں چینی سرمایہ کاری شامل ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ کی چند بڑی کمپنیوں کے رہنما بھی ملاقات کے ایک حصے میں شریک ہوئے۔

    دونوں رہنماؤں نے امریکہ میں فینٹینائل کے کیمیائی اجزا (پریکرسرز) کی ترسیل روکنے کی اہمیت پر بھی بات کی۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں ایران جنگ کا کم ذکر تھا، تاہم وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں‘۔

    امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ آبنائے ہرمز کھلا رہنا چاہیے تاکہ توانائی کی آزادانہ ترسیل جاری رہ سکے۔‘

    وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران صدر شی نے امریکی تیل کی خریداری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی تاکہ چین کی آبنائے ہرمز پر انحصار کو کم کیا جا سکے۔

  19. انڈیا میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس، عباس عراقچی بھی شریک

    Brics

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا میں موجود ہیں۔ برکس کے وزرائے خارجہ بشمول ایران اور روس نے جمعرات کو نئی دہلی میں ملاقات کی، جہاں انڈیا نے بین الاقوامی صورتحال میں ’نمایاں اتار چڑھاؤ‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات اقتصادی بے یقینی اور توانائی کے عدم تحفظ کا سبب بن رہے ہیں۔

    عباس عراقچی اس اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق اس تنظیم کے ارکان کے درمیان ہونے والی بات چیت کا سب سے اہم مرکز ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ ہے۔

    برکس وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ برکس ان ممالک کا ایک گروپ ہے جس کی قیادت دنیا کی کچھ ابھرتی ہوئی معیشتیں کرتی ہیں۔ برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ برکس کے اہم رکن ہیں۔ برکس کا نام انگریزی میں رکن ممالک کے ناموں کے ناموں سے ماخوذ ہے۔

    ایران دو سال قبل باضابطہ طور پر اس تنظیم کا رکن بنا تھا۔

    انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ’ہم بین الاقوامی تعلقات میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے وقت اکٹھے ہوئے ہیں۔‘

    جے شنکر نے مزید کہا کہ ’جاری تنازعات، اقتصادی غیر یقینی صورتحال، اور تجارت، ٹیکنالوجی اور آب و ہوا میں چیلنجز عالمی منظر نامے کو تشکیل دے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک سے یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ برکس ایک تعمیری اور مستحکم کردار ادا کرے گا۔

    انڈین وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ممالک کی ترقی اور ترقی سے متعلق مسائل مسلسل توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بہت سے ممالک کو توانائی کے تحفظ، خوراک، کھاد اور صحت کے ساتھ ساتھ مالی وسائل تک رسائی کے شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔‘