ممبئی میں محرم کے جلوس میں مبینہ طور پر چوہے مار زہر والے کیپسول تقسیم کرنے والا شخص گرفتار

ممبئی پولیس نے محرم کے جلوس کے دوران مبینہ طور پر چوہے مار زہر والے کیپسول تقسیم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنممبئی پولیس نے محرم کے جلوس کے دوران مبینہ طور پر چوہے مار زہر والے کیپسول تقسیم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔
    • مصنف, الپیش کرکرے
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ممبئی پولیس نے محرم کے جلوس کے دوران مبینہ طور پر چوہے مار زہر والے کیپسول تقسیم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق بائیکلہ پولیس نے جلوس کے دوران مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ایک شخص کو حراست میں لیا۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے تقریباً 15 ہزار مشتبہ زہریلے کیپسول برآمد ہوئے۔

ملزم کا دعویٰ ہے کہ یہ کیپسول درد کش ادویات ہیں، تاہم پولیس کے مطابق ایک شخص نے یہ کیپسول کھانے کے بعد متلی اور قے کی شکایت کی۔

واقعے کے بعد مختلف اپوزیشن جماعتوں، جن میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی شامل ہے، نے اس معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ممبئی پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ اس کا مقصد محرم کے جلوس میں شریک افراد کو نشانہ بنانا اور نقصان پہنچانا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے 50 کلوگرام زنک فاسفائیڈ اور 30 ہزار خالی کیپسول خریدے تھے۔ اس کے قبضے سے مجموعی طور پر 14 ہزار 900 کیپسول برآمد کیے گئے ہیں۔

مہاراشٹر میں کانگریس کے رہنما حسین دَلوی نے واقعے کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اس واقعے کی تہہ تک پہنچنا اور اس کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کرنا بے حد ضروری ہے۔ جب کسی مذہبی تہوار یا جلوس کے دوران اس نوعیت کے واقعات پیش آئیں تو یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرے میں نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

تاہم پولیس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ملزم اس کارروائی کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کے محرکات کیا تھے۔

معاملہ کیا ہے؟

ملزم کا دعویٰ تھا کہ یہ درد کش ادویات ہیں
،تصویر کا کیپشنملزم کا دعویٰ تھا کہ یہ درد کش ادویات ہیں

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی عمر 39 برس ہے اور وہ پونے کے علاقے وِمان نگر کا رہائشی ہے۔

ملزم کے خلاف ’بھارتیہ نیائے سنہتا‘ بی این ایس یعنی انڈیا کے نئے فوجداری قانون کی دفعات 109، 110 اور 123 کے تحت مقدمہ کر لیا گیا ہے۔

ممبئی پولیس کے زون ون کے ڈی سی پی جینت مینا نے بتایا کہ ’بائیکلہ پولیس نے 27 جون کو محرم کے جلوس کے دوران گولیاں تقسیم کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔ ملزم کا دعویٰ تھا کہ یہ درد کش ادویات ہیں، تاہم ایک شخص نے یہ کیپسول کھانے کے بعد قے اور طبیعت میں خرابی کی شکایت کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث ملزم مزید کیپسول تقسیم نہیں کر سکا، جس سے بہت سے لوگوں کی جانوں کو بچا لیا گیا۔‘

پولیس کے مطابق جس فرد نے طبعیت کی خرابی کی شکایت کی تھی اب اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ان کی شکایت پر بائیکلہ پولیس سٹیشن میں ’بھارتیہ نیائے سنہتا‘ 2023 کی دفعہ 123 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزم سے ہزاروں کیپسول برآمد

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک ملزم کے قبضے سے 14 ہزار 900 کیپسول برآمد کیے جا چکے ہیں۔

ڈی سی پی جینت مینا نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ’صبح تقریباً چار بجے سلمان نامی ایک شخص نے کیپسول کھانے کے بعد قے اور پیٹ درد کی شکایت درج کروائی۔ واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی اور اسے گرفتار کر لیا۔‘

ان کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ یہ محرم کے جلوس کو نشانہ بنانے اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی مبینہ سازش تھی۔ اس نے 50 کلوگرام زنک فاسفائیڈ اور 30 ہزار خالی کیپسول حاصل کیے تھے۔ گذشتہ 15 روز کے دوران ممبئی میں قیام کے دوران انھوں نے ان کیپسولز میں زہریلا مادہ بھرا اور انھیں درد کش دوا کے طور پر تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ڈی سی پی نے کہا کہ ’ممبئی پولیس کی مستعدی کی بدولت ایک بڑا حادثہ اور ممکنہ جانی نقصان ٹل گیا۔ اب تک 14 ہزار 900 کیپسول برآمد کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی کیپسولز اور کیمیکلز کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’ملزم پینٹ کے کاروبار سے وابستہ ہے اور اسی کی آڑ میں اس نے کیمیکل خریدا، جبکہ خالی کیپسول آن لائن منگوائے تھے۔ اس کے علاوہ ملزم کے غیر ملکی افراد کے ساتھ روابط اور اسے اس کام میں معاونت کرنے والے اس کے ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔‘

واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما وارث پٹھان نے کہا کہ ’میں بھی اسی جلوس میں موجود تھا۔ میرے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آ سکتا تھا، کوئی شخص میرے پاس بھی اسی طرح آ سکتا تھا۔ تاہم میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ نہ کسی نے مجھے ایسی کوئی گولی یا کیپسول دیا اور نہ ہی میں نے کچھ لیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے اور میں اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ خدشہ ہے کہ ہمارے خلاف بھی کسی سازش کی منصوبہ بندی کی گئی ہو۔ میں خود وہاں موجود تھا، آپ نے میری ویڈیوز بھی دیکھی ہوں گی۔ اس موقع پر جوائنٹ کمشنر آف پولیس (لاء اینڈ آرڈر)، پوری پولیس فورس، سماجی کارکن، سیاست دان اور بڑی تعداد میں دیگر افراد بھی موجود تھے۔‘

’ہم سمجھتے ہیں ملزم محض ایک مہرہ ہے‘

ANI

،تصویر کا ذریعہANI

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ ’محرم کے جلوس کے دوران اس شخص نے مبینہ طور پر ہجوم میں زہریلے مادے سے بھرے کیپسول تقسیم کیے، جنھیں کھانے کے بعد متعدد افراد کی طبیعت خراب ہو گئی۔ متاثرہ افراد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ اس واقعے کے باعث فوری طور پر بھگدڑ یا افراتفری نہیں مچی، تاہم پولیس نے فوری طور پر الرٹ ہو کر اس شخص کو گرفتار کر لیا۔‘

مولانا یعسوب عباس نے دعویٰ کیا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ وہ محض ایک مہرہ ہے۔ اس کے پیچھے موجود اصل کرداروں کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نوعیت کے واقعات پڑوسی ممالک میں دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دہشت گردی کی ایک نئی شکل کی تیاری معلوم ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اس جلوس کے دوران کیا جا رہا تھا جو حضرت امام حسین کی یاد میں نکالا گیا تھا، جنھوں نے صدیوں قبل کربلا میں ظلم اور دہشت کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے پورے خاندان کی قربانی دی۔ مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت کو اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔‘

زنک فاسفائیڈ کیا ہے؟

BBC

ماہرین کے مطابق زنک فاسفائیڈ ایک انتہائی زہریلا کیمیائی مرکب ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ کیمیکل زراعت اور اناج کے ذخیروں میں چوہا مار دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زنک فاسفائیڈ اگر پیٹ میں داخل ہو جائے تو سب سے پہلے معدے کے تیزاب کے ساتھ ردعمل کے نتیجے میں فاسفائن نامی انتہائی زہریلی گیس پیدا کرتا ہے۔ یہ گیس جسم کے خلیوں کو توانائی پیدا کرنے سے روکتی ہے اور یہ دل، پھیپھڑوں اور جگر پر سنگین اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

زنک فاسفائیڈ کا حادثاتی طور پر جسم میں داخل ہو جانا اور فاسفائن گیس کا سبب بننا مہلک ہو سکتا ہے۔ لہذا اس کیمیکل کا استعمال بہت سے ممالک میں سخت ضابطوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ عام لوگوں کو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر کا کیا کہنا ہے؟

BBC

ممبئی کے ڈاکٹر بھوشن روکڈے نے بی بی سی مراٹھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’زنک فاسفائیڈ ایک انتہائی زہریلا کیمیائی مادہ ہے، جسے عام طور پر چوہوں کو مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہ کیمیکل عموماً سیاہ یا سرمئی رنگ کے پاؤڈر کی شکل میں پایا جاتا ہے، تاہم اس کے استعمال اور نوعیت کے لحاظ سے یہ مختلف شکلوں میں بھی مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر بھوشن روکڈے کے مطابق ’زنک فاسفائیڈ کا استعمال گوداموں، اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز اور کھیتوں میں چوہوں کی تعداد کم کرنے اور ان سے ہونے والے نقصان کی روک تھام کے لیے کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ کیمیکل نہ صرف انسانوں بلکہ پالتو جانوروں کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر روکڈے نے مزید بتایا کہ ’جب یہ مادہ معدے کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے یا نمی کے ساتھ ردِعمل کرتا ہے تو فاسفین گیس پیدا کرتا ہے، جو نہایت زہریلی ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’یہ گیس جسم کے خلیوں کی آکسیجن استعمال کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے کئی اہم اعضا شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں قے، سانس سے لہسن جیسی بو آنا، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری اور جسم کا شاک میں چلا جانا شامل ہیں۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ ’اس مادے کی معمولی مقدار بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر روکڈے نے بتایا کہ ’زنک فاسفائیڈ کے زہر کا کوئی مخصوص تریاق ’اینٹی ڈوٹ‘ موجود نہیں ہے اس لیے متاثرہ مریض کو ہسپتال میں داخل کر کے صرف معاون اور علامات کے مطابق علاج فراہم کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مشورہ دیا کہ ’اس کیمیکل کو ہمیشہ بچوں اور کھانے پینے کی اشیا سے دور رکھا جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی شخص غلطی سے یہ زہر نگل لے یا اسے زہر کے طور پر اسے یہ کیمیکل دیے جانے کا شبہ ہو تو اسے قے کرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، بلکہ فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کرنا چاہیے تاکہ بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔‘