آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جی ایچ کیو پر حملہ اور ’ڈاکٹر عثمان‘ کی گرفتاری: جب فوجی وردیوں میں ملبوس شدت پسندوں کا قیدیوں کو رہا کروانے کا منصوبہ ناکام ہوا
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
10 اکتوبر 2009 کو دوپہر ہونے کو تھی جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ملحق راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے پہلے حفاظتی حصار پر ایک سفید سوزوکی وین پہنچی۔
گاڑی پر فوجی نمبر پلیٹیں تھیں اور اُس میں سوار افراد فوجی وردیوں میں ملبوس تھے، جن کے پاس خودکار رائفلیں اور دستی بم تھے۔ فوجی نشان لیے اس گاڑی کا وہاں پہنچنا بظاہر غیر معمولی نہیں تھا، لیکن سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے پروٹوکول کے مطابق گاڑی میں موجود افراد کی شناخت چاہی۔
جواب گولیوں کی بوچھاڑ سے ملا جو گاڑی میں سوار افراد کی جانب سے کی گئی تھی۔
گاڑی میں مجموعی طور پر فوجی وردیوں میں ملبوس 10 افراد تھے اور سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے ابتدائی تبادلے میں اُن میں سے پانچ حملہ آور مارے گئے، لیکن باقی پانچ جی ایچ کیو میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
کچھ دیر میں فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز کے اندر شدید فائرنگ شروع ہو چکی تھی اور عمارت میں موجود چند فوجی افسران اور اہلکاروں کو یرغمال بنایا جا چکا تھا۔
10 اکتوبر کو شروع ہونے والے اس حملے کے اگلے روز (11 اکتوبر) پاکستانی فوج کے اُس وقت کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آوروں کی فوجی وردیوں نے سکیورٹی عملے کو ابتدائی لمحوں میں الجھن میں مبتلا کیا اور یہ کہ حملہ آوروں کا ہدف جی ایچ کیو کے اعلیٰ افسران کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے 11 اکتوبر 2009 کی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ حملہ ایسے وقت ہوا تھا جب پاکستان کی فوج جنوبی وزیرستان میں کالعدم شدت پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاری کر رہی تھی۔
جی ایچ کیو پر ہوئے اس بڑے حملے سے قبل اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی عمارت اور پشاور میں بھی شدت پسندوں کی جانب سے بڑے حملے کیے جا چکے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کی جانب سے اُس وقت میڈیا کو فراہم کردہ تفصیل کے مطابق حملہ آوروں نے فوج کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے شورش زدہ علاقے جنوبی وزیرستان میں کی تھی، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مضبوط گڑھ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس کارروائی کے لیے بنیادی تربیت جنوبی وزیرستان میں دی گئی تھی۔‘
اور بعدازاں ٹی ٹی پی نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
ٹی ٹی پی کے اُس وقت کے ترجمان اعظم طارق نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے نمائندے سے فون پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ہم جی ایچ کیو پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ یہ حملہ ہماری پنجاب شاخ نے کیا۔‘
لیکن اُس وقت بھی بڑا سوال یہ تھا کہ شدت پسند فوج کے ہیڈکوارٹرز تک پہنچے کیسے، اور وہ وہاں کیا حاصل کرنا چاہتے تھے؟
’میران شاہ میں تیار ہونے والا منصوبہ‘
اِس حملے کے تقریباً دو برس بعد اخبار ’ایکسپریس ٹریبیون‘ میں فردِ جرم کے ساتھ سامنے آنے والی فوجی تحقیقاتی دستاویزات اور اخبار ’ڈان‘ میں عدالتی دستاویزات کے ساتھ شائع ہونے والی ملزم عقیل احمد کے مبینہ اعترافی بیان نے منصوبے کی کئی تفصیلات آشکار کیں۔
انگریزی اخبار ’ڈان‘ میں 21 ستمبر 2011 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ماضی میں فوج کے میڈیکل کور میں نرسنگ اسسٹنٹ رہنے کی وجہ سے ’ڈاکٹر عثمان‘ کے نام سے جانے والے عقیل احمد کا تعلق پنجاب کے علاقے کہوٹہ سے تھا اور اُن کے شدت پسند گروہوں سے روابط بھی پرانے تھے۔
عقیل احمد جی ایچ کیو میں داخل ہونے والے 10 حملہ آوروں میں شامل تھے اور وہ واحد شدت پسند تھے جو بعدازاں زندہ حالت میں گرفتار ہوئے تھے۔
’ڈان‘ اور ’ایکسپریس ٹریبیون‘ میں شائع ہونے والے عقیل کے اعترافی بیان کی تفصیلات کے مطابق، لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر مارچ 2009 کے حملے کے بعد وہ شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ پہنچے، جہاں اُن کی ملاقات تحریک طالبان پاکستان کے امجد فاروقی گروپ کے سربراہ استاد اسلم یاسین اور عسکریت پسند رہنما الیاس کشمیری سے ہوئی تھی۔
عقیل نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ جی ایچ کیو پر حملے کا خیال شمالی وزیرستان میں ہوئی اُسی ملاقات میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ابتدا میں وہ فوج کو نشانہ بنانے پر آمادہ نہیں تھے، لیکن الیاس کشمیری اور اسلم یاسین نے دلیل دی کہ ’پاکستان کی فوج امریکہ کی اتحادی ہے، اس لیے اسے ہدف بنایا جانا چاہیے۔‘
شدت پسندوں کے اس منصوبے کا بنیادی مقصد فوجی افسران کو یرغمال بنانا اور اُن کے بدلے جیلوں میں قید شدت پسندوں کو رہا کروانا تھا۔
فرد جرم کے مطابق عقیل نے بتایا کہ انھیں 115 افراد کے ناموں کی فہرست دی گئی جن کی رہائی کا مطالبہ کیا جانا تھا۔ حملہ آوروں کو یقین دلایا گیا کہ تربیت یافتہ جنگجو بھی اس کارروائی میں اُن کے ساتھ ہوں گے۔
فوج کے ترجمان اطہر عباس نے بھی حملے کے اگلے روز بتایا تھا کہ دہشت گردوں کے پاس 100 سے زیادہ افراد کی فہرست تھی، جن میں مختلف شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
’گوگل ارتھ سے جی ایچ کیو کی نگرانی‘
شمالی وزیرستان میں بننے والا یہ منصوبہ اگست 2009 تک عملی شکل اختیار کرنے لگا تھا۔
عقیل نے راولپنڈی میں پہلے ایک ہاسٹل اور پھر دوسرے مقامات پر عارضی رہائش اختیار کی۔ مختلف رپورٹوں میں بوائز ہاسٹل اور ایک کرائے کے مکان کا ذکر ملتا ہے۔ فوجی تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق، اس نے محمد کامران کے نام سے بھی رہائش حاصل کی تاکہ اپنی شناخت چھپائے رکھ سکے۔
حملے کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایک اہم پہلو تھا۔
ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق، عقیل کے اعترافی بیان میں بتایا گیا کہ اُس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گوگل ارتھ پر جی ایچ کیو کے نقشے دیکھے اور ہیڈکوارٹر میں موجود عمارتوں، راستوں اور فاصلوں کا جائزہ لیا گیا اور گوگل ارتھ کے فاصلے ناپنے والے ٹول کی مدد سے حملہ آور شدت پسندوں کو راستوں اور مقامات کے بارے میں بریف کیا گیا۔
’ایکسپریس ٹریبیون‘ کے صحافی مدثر راجا نے 20 ستمبر 2011 کو فوجی تحقیقات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ عقیل نے حملے سے پہلے رہائش کے لیے مختلف جگہیں استعمال کیں، جبکہ اسلحے، گاڑی اور دیگر سامان کے انتظامات بھی الگ الگ مراحل میں کیے گئے۔
حملہ آوروں نے ایک سفید سوزوکی وین حاصل کی اور اس پر فوجی نمبر پلیٹیں لگائی گئیں۔
حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی عقیل نے 16 ستمبر 2009 کو راولپنڈی میں مری روڈ کے ایک شوروم سے 368,000 روپے میں خریدی تھی۔ فوجی وردیاں بھی مقامی مارکیٹ سے تیار کروائی گئیں۔ اعترافی بیان میں وردیوں کی تیاری پر 30,000 روپے خرچ ہونے کا ذکر تھا۔
اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ عقیل کے بیان کے مطابق، اسلحے کا ایک حصہ گاڑی میں نصب سی این جی سلنڈر میں چھپا کر لایا گیا تھا۔
اور یوں گاڑی، وردیوں، نقشوں، اسلحے اور مقامی نگرانی پر مشتمل تیاری کئی ہفتوں تک جاری رہی۔
حملہ ابتدا میں چھ اکتوبر کو ہونا تھا، لیکن بعض حملہ آوروں کے بیمار ہونے کے باعث اسے مؤخر کرکے 10 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔
حملے سے پہلے انتباہ
حملے سے پہلے خطرے کے بارے میں اطلاعات موجود تھیں۔
’نیویارک ٹائمز‘ نے 11 اکتوبر 2009 کو رپورٹ کیا کہ پنجاب پولیس کے شعبۂ انسدادِ جرائم نے جولائی 2009 میں متعلقہ حکام کو خبردار کیا تھا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں حملے سے وابستہ شدت پسند راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
انٹیلیجنس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ حملہ آور فوجی وردیوں اور فوجی گاڑیوں کا استعمال کر سکتے ہیں اور افسران کو یرغمال بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ نے پانچ اکتوبر کو اس نوعیت کی پیشگی اطلاع شائع کی تھی۔ پنجاب پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بعد میں امریکی اخبار سے گفتگو میں اس انتباہ کی تصدیق بھی کی۔
’ٹائم‘ میگزین نے 13 اکتوبر 2009 کی اپنی رپورٹ میں بھی پیشگی انٹیلیجنس اطلاعات کا ذکر کیا۔ اس کے مطابق، حملے کی نوعیت، فوجی وردیوں کے استعمال اور یرغمالیوں کے امکان کے بارے میں پہلے سے خدشات موجود تھے۔
تاہم دستیاب معلومات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حملے کے تمام پہلوؤں کی درست پیش گوئی کی گئی تھی یا متعلقہ اداروں کے پاس اس کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔
جی ایچ کیو کے اندر کیا ہوا؟
’ایکسپریس ٹریبیون‘ میں شائع فردِ جرم کے مطابق عقیل اور اس کے ساتھیوں نے مری روڈ کے راستے جی ایچ کیو پہنچ کر ٹینک چوک کے قریب واقع سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ حملے کی ابتدا ہی میں پانچ شدت پسند مارے گئے، جبکہ باقی پانچ اندر داخل ہونے میں کامیاب رہے۔
’وہ ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹوریٹ کی طرف بڑھے۔ اس دوران دو افسروں سمیت فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے عمارت میں موجود فوجی اہلکاروں اور سویلین ملازمین کو یرغمال بنا لیا۔‘
اس وقت فوج کے ترجمان نے ابتدائی طور پر 42 افراد کا ذکر کیا تھا، جبکہ بعض فوجی عدالتی دستاویزات میں مخصوص عمارت یا کمرے میں موجود افراد کی تعداد الگ بیان ہوئی۔ یہ فرق ممکنہ طور پر محاصرے کے مختلف مراحل اور یرغمالیوں کی الگ الگ گنتی سے متعلق تھا۔
حملہ آوروں نے فون کے ذریعے اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کی کوشش کی۔
ڈان اخبار کے مطابق تحقیقاتی حکام نے کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران بتایا کہ عقیل نے ایک یرغمالی کے فون سے اپنے مطالبات پہنچائے۔
عقیل کے اعترافی بیان کے مطابق، مطالبات میں گرفتار عسکریت پسندوں کی رہائی، سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ سے رہائی جیسے امور شامل تھے۔ تاہم اس نے بعد میں اپنے مطالبات کو قیدیوں کی رہائی تک محدود کر دیا۔
اس دوران فوج نے عمارت اور اس کے اطراف کا محاصرہ کر لیا۔ 10 اکتوبر کی پوری رات کشیدگی برقرار رہی اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے آپریشن کی تیاریاں بھی جاری رہیں۔
کیمروں میں محفوظ ہونے والا چہرہ
حملے کی تحقیقات میں جی ایچ کیو کے نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ اہم ثابت ہوئی۔
’ڈان‘ میں چھپی عدالتی دستاویزات کے مطابق جی ایچ کیو میں سکیورٹی افسر (ٹیکنیکل) میجر اختر حسین قمر نے سی سی ٹی وی پر پورا واقعہ دیکھا اور عقیل احمد کی شناخت کی۔
انھوں نے بیان دیا کہ ’میں نے سی سی ٹی وی پر پورا واقعہ دیکھا اور مشاہدہ کیا کہ 10 حملہ آور سوزوکی وین سے ٹینک چوک کی چوکی کے قریب اُترے۔‘
’انھوں نے چوکی اور وہاں موجود بعض سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا۔ ان میں سے پانچ حملہ آور نشانہ بنے، جب کہ باقی پانچ جی ایچ کیو کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ میں نے اس پورے واقعے کی اطلاع اپنے اعلیٰ حکام کو دی۔‘
’بعد ازاں، میں نے ایس ایس جی کے اہلکاروں اور فوجی دستوں کو جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی اور دہشت گردوں کی شناخت میں مدد دی، کیونکہ ملزم نمبر 1 (عقیل احمد) کے خدوخال فوٹیج میں بالکل واضح تھے۔‘
انگریزی اخبارات میں شائع ہونے والے عقیل کے اعترافی بیان کے مطابق، اگلی صبح سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے عمارت میں کارروائی شروع کی تو عقیل دوسرے حملہ آوروں سے الگ ایک جگہ موجود تھا اور فون پر مذاکرات کر رہا تھا۔ کمانڈوز نے باقی حملہ آوروں کو ہلاک کرکے یرغمالیوں کو چھڑانے کی کوشش کی۔
اس دوران عقیل ایک دفتر میں چھپ گیا اور بعد میں اُس وقت باہر نکلا جب عمارت کے ایک حصے کے ملبے تلے پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ شاید وہ وہاں سے فرار ہو جاتا، مگر اسے پہچان لیا گیا کیونکہ جی ایچ کیو کے کیمروں میں اس کا چہرہ واضح طور پر محفوظ تھا۔
میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق، یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے کی جانے والی کارروائی ، جسے 'آپریشن جانباز' کا نام دیا گیا، میں دو کمانڈوز جان سے گئے اور تین دیگر بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ابتدائی فائرنگ کے تبادلے کے بعد باقی بچ جانے والے پانچ حملہ آوروں میں سے چار سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران مارے گئے، جبکہ عقیل زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
جی ایچ کیو کا یہ محاصرہ تقریباً 18 گھنٹے جاری رہا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس وقت فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق جی ایچ کیو پر حملے اور شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر فوج کے 11 اہلکار اور افسر جان سے گئے۔
اسلحہ اور معاونین کا نیٹ ورک
حملے کے بعد مختلف مقامات پر چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے اس منصوبے کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئیں۔
پولیس نے اس مکان پر چھاپا مارا جہاں حملہ آوروں کے قیام کا شبہ تھا۔ مکان کے مالک کو گرفتار کیا گیا اور اس وقت شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق وہاں سے فوجی وردیاں، اسلحہ اور دیگر سامان برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دیواروں پر فوج مخالف تحریروں کا ذکر بھی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا۔
عقیل نے اپنے اعترافی بیان میں حملے کی تیاری میں متعدد افراد کے کردار کا ذکر کیا۔
بعدازاں ہونے والی تحقیقات میں سپاہی عمران صدیق اور شہری واجد محمود پر حملہ آوروں کی معاونت اور جی ایچ کیو کی سکیورٹی و آمدورفت کے راستوں کی نگرانی میں مدد دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔ واجد محمود نے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں اعلیٰ فوجی افسران موجود ہو سکتے تھے۔
حملے کے دوران عقیل نے ایک جیپ ڈرائیور کو بھی مبینہ طور پر اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب اس نے فوجی کے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے مقامات بتانے سے انکار کیا تھا۔
مقدمے میں دیگر شہریوں کے نام بھی سامنے آئے، جن پر اسلحے کی فراہمی، نقل و حمل یا منصوبہ بندی میں معاونت کے الزامات تھے۔
’ایکسپریس ٹریبیون‘ نے 20 ستمبر 2011 کو فوجی چارج شیٹ کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ حملے کے سلسلے میں گرفتار افراد کے خلاف کارروائی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں ہوئی۔ 11 اگست 2011 کو عقیل کو سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اس کے معاونین کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں دی گئیں۔
اسی رپورٹ میں حملہ آوروں سے برآمد ہونے والے اسلحے کی فہرست بھی شامل تھی، جس میں نو رائفلیں، ایک راکٹ لانچر، بھری اور خالی میگزینیں، دستی بم، کلیمور مائنز، راکٹ، ڈیٹونیٹر اور 40 ملی میٹر کے گرینیڈ شامل تھے۔
یہ ذخیرہ اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ حملہ آور صرف مختصر فائرنگ کرکے فرار ہونے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ اُن کے پاس طویل محاصرے اور مسلح مزاحمت کے لیے بھی اسلحہ موجود تھا۔
سزائے موت پر عملدرآمد
عقیل اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فوجی عدالت کی کارروائی کے بعد مقدمے کا قانونی مرحلہ کئی برس تک جاری رہا۔
اپیلوں میں بھی سزائے موت برقرار رہی، لیکن اس پر فوری عملدرآمد نہیں ہو سکا کیونکہ پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد رُکا ہوا تھا۔
پھر 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں بچوں سمیت 140 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت نے سزائے موت پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ڈان نے 20 دسمبر 2014 کو رپورٹ کیا کہ جی ایچ کیو حملے کے مرکزی ملزم عقیل احمد عرف ’ڈاکٹر عثمان‘ اور سابق فوجی ارشد محمود کو فیصل آباد جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ ارشد محمود سابق فوجی حکمران پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں سزائے موت کے مجرم تھے۔