یہ صفحہ اب مذید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے جانے والے کروز، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر بتایا کہ ظہران شہر میں میزائل کا ملبہ شہری آبادی پر گرا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے جانے والے کروز، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر لکھا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب داغے جانے والے تین کروز میزائل اور دو ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ظہران شہر کی جانب حوثیوں کی جانب سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو بھِی روک کر تباہ کر دیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس میزائل کا ملبہ شہری آبادی پر گرا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔
ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے حرض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
ریاض کی ایک مرکزی سڑک پر چلتے ہوئے ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا، ’میں نے ایک شے (پروجیکٹائل) کو ایک شاپنگ مال کے اوپر آسمان سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ اس کے پیچھے پیلی روشنی کی ایک لکیر اور پھر دھواں رہ گیا، اور اس کے فوراً بعد ہم نے دھماکے کی آواز سنی۔‘
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا، ’لوگ خاموش تھے۔ کوئی کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔ ہم خوفزدہ تھے اور سب آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔‘
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعات میں دو سگے بھائیوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان میں سے پانچ افراد کی لاشیں ضلع ڈیرہ بگٹی شمالی کے علاقے سوئی سے ملیں جبکہ پانچ افراد کی لاشوں کو پنجگور شہر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ان میں سے دو افراد کی لاشیں ضلع بارکھان سے ملیں جن کو نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا تھا۔
فون پر رابطہ کرنے پر بارکھان پولیس کے ایس ایچ او محمد اسلم نے اس کی تصدیق کی تاہم انھوں نے بتایا کہ دونوں افراد کی ہلاکت کا واقعہ ان کے تھانے کی حدود میں پیش نہیں آیا۔
تاہم کسی اور علاقے میں دو افراد کی لاشوں کی اطلاع ملنے پر ان کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس بھیجوائی گئی۔
انھوں نے کہا کہ مارے جانے والے دونوں افراد سگے بھائی تھے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ دونوں ضلع بارکھان کے علاقے بالا ڈاکہ میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کے مارے جانے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔
ضلع کوہلو کے علاقے گرسنی کے پولیس کے ایس ایچ او نہال خان نے بتایا کہ مارے جانے والے دونوں افراد کا تعلق کوہلو سے تھا لیکن ان کی ہلاکت ضلع بارکھان میں ہوئی۔
ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے علاقے سے پانچ افراد کی لاشیں سوئی ٹاؤن سے چار پانچ کلومیٹر دور سے ملیں جن کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے تھا۔
ڈیرہ بگٹی پولیس کے سربراہ سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
تاہم پولیس کے ایک اہلکار امیر حمزہ نے سوئی ٹائون کے قریب ان پانچ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
ادھر ایران سے متصل ضلع پنجگور کے ہیڈ کوارٹر پنجگور شہر میں بھی پانچ افراد کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کی گئیں۔
پنجگور سٹی پولیس کے ایس ایچ او توفیق احمد نے پانچ افراد کی لاشوں کی ہسپتال منتقلی کی تصدیق کی تاہم انھوں نے ان کے مارے جانے کے محرک کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
ایک اور پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارے جانے والے پانچ افراد میں سے تاحال ایک کی شناخت ہوئی ہے۔
تین مختلف علاقوں میں ان 12 افراد کے مارے جانے کے محرکات کے حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو اور وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
اطلاعات کے مطابق ریاض میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔
یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سعودی حکام نے ریاض کے رہائشیوں کو سعودی دارالحکومت پر فضائی حملے کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔
رہائشیوں کے موبائل فونز پر بھیجے گئے ایک پیغام میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’ریاض کو ایک فضائی خطرے کا سامنا ہے۔‘
یمن کے حوثی باغی بارہا ریاض کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ایک اور رپورٹ میں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بتایا ہے کہ ظہران میں سعودی کمپنی ’آرامکو‘ کے ہیڈکوارٹر کے آس پاس کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
آرامکو کی جانب سے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں سعودی عرب کی مدد کے لیے ترکی سے کہہ سکتے ہیں۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں برطانوی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ لندن کے ساتھ تعلقات پر ’سنجیدگی سے نظر ثانی‘ کر سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق برطانوی سفیر کو طلب کرنے کی وجہ برطانیہ کی 'فیئر فورڈ ایئر بیس' پر پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے حوالے سے ایران پر لگائے گئے الزامات پر احتجاج کرنا تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں اس ایئر بیس کے قریب کچھ مشکوک ٹرکوں کی موجودگی پر کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے بعض کو بعدازاں چھوڑ دیا گیا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اس بات کا ’قوی امکان‘ ہے کہ فیئر فورڈ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش ایران اور پاسدارانِ انقلاب نے تیار کی تھی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ وزارت میں مغربی یورپ کے امور کے ڈائریکٹر جنرل نے آج برطانوی سفیر سے کہا: ’برطانوی حکومت کو جلد از جلد ایسے دستاویزات اور شواہد فراہم کرنے چاہئیں جو اس مبینہ واقعے کے سلسلے میں ایران پر لگائے گئے الزامات کی تصدیق کریں۔ بصورتِ دیگر، اسلامی جمہوریہ ایران دوطرفہ تعلقات پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ دار برطانوی حکومت ہوگی۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق، علی رضا یوسفی نے برطانوی سفیر سے کہا کہ ان کا ملک ’ایران پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے اور توجہ دوسری جانب مبذول کروا کر، ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کی عسکری جارحیت میں شرکت کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی جوابدہی اور ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے رپورٹ کیا کہ ملاقات کے دوران برطانوی سفیر نے کہا کہ وہ اس معاملے سے اپنے ملک کے حکام کو آگاہ کریں گے۔
تہران نے فیئر فورڈ ایئر بیس میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔
امریکی بمبار طیاروں نے ایران پر حملے کے لیے اس ایئر بیس کا استعمال کیا تھا۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا، الحدیدہ اور ذمار میں ایندھن کے ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثی ان تنصیبات کو اپنی عسکری کارروائیوں کی معاونت کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں میں صنعا میں واقع مرکزی ’الصباحہ‘ سٹیشن کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین ایندھن کے ڈپو، ٹینک اور ایندھن کی نقل و حمل اور اتارنے کے لیے مختص ڈاکس کو نشانہ بنایا گیا۔
المالکی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ان تنصیبات کو سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کی معاونت اور ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس آپریشن کا مقصد حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق، اتحاد نے شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ترک صدر اردوغان کو حوثیوں کے خلاف کارروائی کا کہہ سکتے ہیں۔
منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یمن کے حوثی سعودی مفادات کو نشانہ بنا کر ’انتہائی برا‘ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ صدر اردوغان وہی کچھ کریں گے جو میں ان سے کرنے کو کہوں گا۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے بارے میں بہت ’جلد‘ کوئی فیصلہ کریں گے۔
امریکی صدر نے یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب ایک روز قبل ہی اُنھوں نے یہ کہا تھا کہ ایرانی رہنماؤں کی ہلاکت کے معاملے پر ’شاید ہم نے ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا تھا‘ تاہم اُنھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حوثیوں کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع یمنی آئل کمپنی کی تنصیبات پر ایک حملہ ہوا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب یمن میں حکومت نواز فورسز کی حمایت کرنے والے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے ایک فوجی کارروائی سے قبل اس تنصیب کو خالی کرنے کا انتباہ جاری دیا تھا۔
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کو ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اعلان کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب پر بار بار حملوں کے ’نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘
یہ تازہ ترین کشیدگی ایران کے اتحادی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری محاذ آرائی میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاض کے شمال میں داغے گئے تین میزائلوں کو راستے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔
پشاور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور کے علاقے باڑہ میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور وہاں کوئی پولیس اہلکار اغوا نہیں ہوا۔
ترجمان پشاور پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں، باڑہ صورتحال مکمل قابو میں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ چند شرپسند عناصر نے بد امنی پھیلانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے باڑہ میں 50 کے قریب شرپسند عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف دہشت گردی، تخریب کاری اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سہیل آفریدی کے آبائی علاقے ضلع خیبر، باڑہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے منگل کو احتجاجی مظاہرے کیے۔
پہلے دن جماعت کا کوئی رہنما احتجاج میں موجود نہیں تھا، تاہم منگل کو صوبائی اسمبلی کے رکن عبدالغنی آفریدی موٹر سائیکل پر سوار باڑہ بائی پاس پہنچے، جہاں پہلے سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔
احتجاج کے شرکا نے ٹائر اور پولیس سے زبردستی لی گئی چیزیں جلائیں۔ تاہم پولیس کے جانب سے کارکنان کو منتشر کرنے کی کارروائی جاری رہی۔
مظاہرین کے جانب سے قریب واقع نادار اور ریسکیو دفاتر پر پتھراؤ کیا گیا۔
تاہم پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والے افراد کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2018 تک ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، اُنھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں لایا گیا۔
منگل کو اسلام آباد میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کے طرزِ عمل سے پاکستان کی ترقی اور معیشت کو خطرات لاحق تھے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کابینہ نے مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات کا فیصلہ کیا۔
شہباز شریف نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے نہ ہی دہشت گردی کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کی اور نہ ہی کھل کر ایسے واقعات کی مذمت کی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی معاونت کے لیے ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی۔ایڈوائزری کونسل خیبر پختونخوا میں معیشت کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں خوشحالی کا سفر آگے بڑھے گا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی ہے۔
ترک صدر کے دفتر کے مطابق گفتگو کے دوران اردوغان نے محمد بن سلمان سے کہا کہ ترکی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق، ٹیلی فونک رابطے کے دوران اردوغان نے حوثی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ ’اس چیلنج پر قابو پا لیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ نیٹو کے رکن ملک ترکی اور ایٹمی طاقت پاکستان نے اگست میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سہیل آفریدی کے آبائی علاقے ضلع خیبر، باڑہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے آج دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے کیے۔
پہلے دن جماعت کا کوئی رہنما احتجاج میں موجود نہیں تھا، تاہم منگل کو صوبائی اسمبلی کے رکن عبدالغنی آفریدی موٹر سائیکل پر سوار باڑہ بائی پاس پہنچے، جہاں پہلے سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کارکنوں کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پر امن احتجاج جاری رکھنے اور مرکزی حکومت کے اقدام کو مسترد کرنے کی ہدایات دیں۔
خطاب کے بعد کارکنوں نے باڑہ بازار کا رخ کیا، جہاں عالم گودر روڈ پر پہلے سے پولیس کے بھاری نفری تعینات تھی۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں اور آنسوگیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم گذشتہ روز کے مقابلے میں آج پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تعداد زیادہ تھی۔
مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور خیبر چوک سے پولیس کو پیچھے ہٹانے میں کامیاب رہے۔
احتجاج کے شرکا نے ٹائر اور پولیس سے زبردستی لی گئی چیزیں جلائیں۔
تاہم پولیس کے جانب سے کارکنان کو منتشر کرنے کی کارروائی جاری رہی۔
مظاہرین کے جانب سے قریب واقع نادار اور ریسکیو دفاتر پر پتھراؤ کیا گیا۔
تاہم پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والے افراد کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوسرے روز ’پلانٹڈ لوگوں‘ نے جلاؤ گھیراؤ کیا ہے، جس سے ان کی جماعت کے کارکنان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد پاک افغان شاہراہ کی طرف روانہ ہوئی، جہاں پولیس کے جانب سے آنسو گیس فائر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس سے قبل حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال بالخصوص خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ضیا) کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی، جس میں انھیں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا گیا۔
وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کیے بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، معیشت کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورنر کی معاونت کی غرض سے غیر جانب دار ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات کا فیصلہ کیا۔
بیان کے مطابق ملاقات میں شریک اتحادی جماعتوں کے وفد نے موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی اور وزیراعظم کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
بین الاقوامی تنظیم ہلالِ احمر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے شہریوں پر ’تباہ کن‘ اثرات ہو سکتے ہیں۔
منگل کو جاری کیے گئے بیان میں ہلال احمر کا کہنا تھا کہ یمن کی خانہ جنگی جولائی میں دوبارہ بھڑک اٹھی، جو وسیع تر علاقائی تنازعات کے آغاز کے کئی ماہ بعد سامنے آئی۔ ان تنازعات نے توانائی کی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
ہلالِ احمر کی صدر میرجانا سپولیارچ نے کہا: ’مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ناقابلِ قبول قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں حالیہ ہلاکتیں، زخمی ہونے کے واقعات اور تباہی اس بھاری قیمت کی ایک اور مثال ہیں جو تنازعات شہریوں پر مسلط کرتے ہیں۔
ہلالِ احمر کی سربراہ نے مزید کہا کہ یمن میں اموات، نقل مکانی اور عدن و صنعا سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔
جہاز رانی پر نظر رکھنے والے اداروں کیپلر اور ونڈورڈ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے (پانچ سے 11 اکتوبر کے درمیان) 12 تجارتی جہازوں پر حملے کیے گئے، جو جنگ کے آغاز کے بعد ایک ہفتے میں حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اس طرح یہ تعداد جنگ کے پہلے ہفتے میں ریکارڈ کیے گئے 11 حملوں سے بھی زیادہ رہی۔
صرف 11 اکتوبر کو ہی چھ جہازوں پر حملے کیے گئے۔ آبنائے ہرمز میں عمان کی سوہار بندرگاہ کے قریب پانچ آئل ٹینکروں اور ایک کنٹینر بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔
گذشتہ ہفتے ان ٹینکروں پر قطر کے قریب، فجیرہ کے مشرق میں اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔
لبنان کی حزب اللہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں اپنے گھر کھو دینے والے لبنانی شہریوں کی مدد کرے گی، یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور لبنان کی جانب سے اس تنظیم پر پابندیاں عائد ہیں۔
اس پروگرام کے تحت امداد کی زیادہ سے زیادہ حد فی گھرانہ 14 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین علی داموش نے اعلان کیا کہ بیروت اور اس کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو فی گھرانہ 14 ہزار ڈالر جبکہ دیگر علاقوں کے رہائشیوں کو 12 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
داموش نے کہا کہ یہ امداد ان بے گھر افراد کو دی جائے گی جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں یا رہائش کے قابل نہیں رہے، اور ساتھ ہی جنوبی لبنان کے ان علاقوں کے رہائشیوں کو بھی دی جائے گی جو اسرائیل کے زیرِ قبضہ ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس دوسرا گھر نہ ہو۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے لبنانیوں کی مدد کے لیے تہران سے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر بھیجے گئے ہیں۔
داموش کے مطابق حزب اللہ یہ امداد ایک سال کے دوران چار قسطوں میں ادا کرے گی، تاہم انھوں نے فنڈنگ کے ذریعے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ شیعہ تحریک کتنے افراد کا احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مارچ میں ایران کی حمایت میں اسرائیل کے ساتھ نئی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ حزب اللہ کی جانب سے امداد کا پہلا اعلان ہے۔
اس سے قبل تنظیم نے دسمبر 2024 میں غزہ میں حماس کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف جنگ کے بعد پناہ گزینوں کے لیے سات کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اسی نوعیت کی امداد کا اعلان کیا تھا، جسے اس نے ’ایران اور حزب اللہ کے عوام کا تحفہ‘ قرار دیا تھا۔
لبنانی حکام کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے اسرائیل کے خلاف ہونے والی دو جنگوں کے نتیجے میں دو لاکھ 90 ہزار سے زیادہ گھر تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات میں واقع ہیں۔
وزیراعظم نواف سلام نے ستمبر میں ورلڈ بینک کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں جنگوں کی مجموعی لاگت 27 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
امدادی پروگرام کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی پابندیاں برقرار ہیں، جبکہ لبنانی حکام نے 2023 سے اسرائیل کے ساتھ دو جنگوں کے بعد کمزور پڑ جانے والی حزب اللہ کی فنڈنگ اور سامان کی فراہمی کے راستوں پر مزید سخت نگرانی نافذ کر دی ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم جلد یمن کے دارالحکومت صنعا کے شہریوں کو ایک انتباہ جاری کریں گے کہ وہ صنعا میں ایک جگہ خالی کر دیں۔
منگل کو ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں میجر جنرل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان شہریوں سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے پیشِ نظر یمنی آئل کمپنی، الصباح سینٹرل سٹیشن کے علاقے سے نکل جائیں۔
ترکی المالکی نے مزید بتایا کہ ریاض شہر کے شمال میں تین ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج نے منگل کو فتح-ٹو ہائپرسونک بیلسٹک میزائل (ایکسٹینڈڈ رینج ) کا تجربہ کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے مطابق فتح-ٹو ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘جدید نیویگیشن نظام اور جدید ترین ایویونکس سے لیس ہے۔‘
آئی ایس پی کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار ’انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت‘ رکھتا ہے اور’دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام‘ بنا سکتا ہے۔
یمن کے حوثی گروپ کے ایک عہدے دار نے پیر کے روز امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ کے خلاف سعودی عرب کے حملوں میں شامل ہوا تو اسے ’فوری اور سخت جواب‘ جواب دیا جائے گا۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر سنیچر کو ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے اس سے قبل سعودی عرب کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا: ’حوثی بہت غلط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘
حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر امریکہ یمن کے خلاف جارحیت میں شامل ہوتا ہے تو ہم جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے بلکہ امریکہ اور خطے میں اس کے تمام مفادات کو نشانہ بنائیں گے اور فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔‘
انھوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے ملازمین اور کارکنوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مقامات سے دور رہیں کیونکہ ’یہ اب جائز اہداف بن چکے ہیں۔‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں شاید ’زیادہ سختی‘ یا ’حد سے زیادہ کارروائی‘ کی گئی۔
انھوں نے گذشتہ شب ریاست اوہائیو میں اپنے حامیوں کے ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’شاید ہم ایران کے رہنماؤں کے معاملے میں حد سے آگے بڑھ گئے، کیونکہ اب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں۔‘
ان کا اشارہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اُن رہنماؤں اور اعلیٰ عہدے داروں کی جانب تھا اسرائیلی اور امریکی حملوں میں مارے گئے تھے۔
ٹرمپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کی اعلیٰ قیادت کے بعض ارکان کی ہلاکت نے یہ طے کرنا مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے کن افراد سے رابطہ کرنا چاہیے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن کو اب بھی اس بات پر مکمل یقین نہیں کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں فیصلے کس طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اسی اجتماع میں یہ بھی کہا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ اور ایران کو ’دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست‘ قرار دیا۔