آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں ہزاروں مظاہرین کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے سپریم کورٹ تک مارچ
- مصنف, شرانیا رشیکیش اور گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا میں ہزاروں اپوزیشن حامیوں نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھوکہ دہی کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نئی دہلی میں انڈین سپریم کورٹ تک مارچ کیا ہے۔
پیر کو ہونے والا ’مارچ فار ڈیموکریسی‘ حالیہ مظاہروں کی ایک کڑی تھا، جس کے دوران دارالحکومت میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ہفتے کے آخر میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں اس عمل کو چیلنج کیا گیا جس سے ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام خارج کیے گئے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس نظرثانی سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
کئی ہفتوں سے پولیس کی جانب سے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کی درخواستیں مسترد کی جا رہی تھیں۔ ہفتے کے آخر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے احتجاج کرنے کی کوشش کے نتیجے میں دلی میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
راہل گاندھی نے پیر کے مارچ میں شرکت کے لیے ’تمام اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی گروپوں (اور) جمہوریت پر یقین رکھنے والے تمام افراد‘ کو دعوت دی تھی۔
ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے وہ خط شیئر کیا جو کہ انھوں نے اور کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے چیف جسٹس سوریا کانت کو لکھا تھا، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرزِ عمل سے متعلق اپنے تحفظات بیان کیے گئے تھے۔
اپنی درخواست دائر کرنے کے بعد کانت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت کے سامنے ہے اور اس لیے زیرِ سماعت ہے، یعنی وہ اس بارے میں بات نہیں کر سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسی کسی بھی درخواست کی قانون کے مطابق جلد از جلد سماعت کی جائے گی۔‘
مرکزی دلی اور مارچ کے راستے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ٹریفک اور بعض میٹرو سٹیشنوں پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں عائد تھیں۔
راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو لے جانے والی ایک بس بڑا کھمبا روڈ سے عدالت کی جانب روانہ ہوئی۔ حامی جھنڈے لہراتے اور ان کا نام نعرے کے طور پر دہراتے رہے جبکہ کانگریس کے رکنِ پارلیمان اور دیگر رہنما کھڑکیوں سے ہاتھ ہلا رہے تھے۔ ان کے چند قطار پیچھے طالبہ رہنما نیہا بورا بیٹھی تھیں جو ان احتجاجی مظاہروں میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکی ہیں۔
چند کلومیٹر آگے منڈی ہاؤس نامی مقام پر بس رکی اور راہل گاندھی اور چند دیگر افراد حمایتیوں کو ہاتھ ہلانے کے لیے گاڑی کی چھت پر چڑھ گئے، جہاں سڑک کے کنارے ہزاروں افراد موجود تھے۔ کئی مظاہرین یہاں کھڑی دوسری بسوں پر بھی چڑھ گئے جبکہ کچھ لوگ جھنڈے لہراتے اور ڈھول کی تھاپ اور زور دار نعروں کے درمیان حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔
ایک شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اگر وہ ہم سے ووٹ دینے کا حق چھین لیں تو ہمارے پاس کیا باقی رہ جاتا ہے؟‘
ایک اور شخص نے اس مارچ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا کے ’بنیادی ڈھانچے کو بچانے کی جنگ‘ قرار دیا۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو مرکزی دلی میں احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے کئی بار مختصر مدت کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
اتوار کو سی جے پی نے کہا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھے گی جب تک چیف الیکشن کمشنر کمار اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے۔
ماضی میں سی جے پی کے احتجاج کے نتیجے میں انڈیا کے وفاقی وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ سامنے آیا تھا۔ اس نے سنیچر کے روز جنتر منتر تک مارچ کی کال دی تھی۔ جنتر منتر دہلی کا سب سے معروف احتجاجی مقام ہے جہاں دھرنے بھی منعقد ہو چکے ہیں۔
لیکن دلی کی انتظامیہ نے ایسی وسیع پابندیاں عائد کیں جن کی وجہ سے مظاہرین کے لیے سفر کرنا اور جنتر منتر پہنچنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، درجنوں میٹرو سٹیشن بند کر دیے گئے اور مظاہرین کو حراست میں لینے کے لیے دسیوں ہزار پولیس اور نیم فوجی اہلکار سڑکوں پر تعینات تھے۔
وزارتِ داخلہ نے اب اعلان کیا ہے کہ جنتر منتر پر مزید مظاہروں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجازت ملنے کی صورت میں تین دیگر مقامات کو متبادل کے طور پر فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ابھیجیت دیپکے سمیت سی جے پی کے کئی رہنماؤں کو احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچنے پر طیارے سے اترتے ہی ڈرامائی انداز میں حراست میں لیا گیا تھا۔
انھیں ایک دن بعد رہا کیا گیا۔ دیپکے اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے واپس گھر چلے گئے جبکہ داس اور رانکا نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے کہا کہ احتجاج جاری رہے گا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ پولیس سے احتجاج کے لیے نئی تاریخ طلب کریں گے۔
سنیچر کو پولیس نے ہزاروں افراد کو حراست میں لینے کے بعد رہا کیا، جن میں کئی صحافی بھی شامل تھے۔ احتجاج کی بعض ویڈیوز اور تصاویر میں پولیس اہلکاروں کو لوگوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کو زبردستی گھسیٹتے اور بسوں میں دھکیلتے دکھایا گیا ہے۔
بی بی سی نے ایک ایسی ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں ایک پولیس اہلکار کو بس کے اندر ایک حراست میں لیے گئے شخص کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دلی پولیس نے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک بیان میں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کم از کم 16 انڈین صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی ہے۔
اس نے کہا کہ ’عوامی مفاد کے واقعات کی رپورٹنگ کرنا جرم نہیں۔ یہ ان کا کام ہے۔ پریس کے خلاف پولیس کی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔‘
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ نوجوان انڈین شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن کے ’دلوں میں محبت ہے، نفرت یا غصہ نہیں۔‘
بی جے پی کے صدر نتن نبین نے اپوزیشن جماعتوں اور سی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ’غیر ملکی قوتوں کے ایما پر‘ انڈیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان قوتوں سے ان کی مراد کون لوگ ہیں۔