’ناکامی کے امکانات سے بھرپور‘: ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کا ممکنہ امریکی منصوبہ اِتنا خطرناک کیوں ہے؟

    • مصنف, ڈینیل بُش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز واشنگٹن، امریکہ
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکی فوج کا ایران کی کسی خفیہ زیرِ زمین جوہری تنصیب پر دھاوا بول کر افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنا سُننے میں شاید ناممکن سا محسوس ہو لیکن اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اِس آپشن پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس جنگ کا بنیادی مقصد یعنی ’ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا‘ حاصل کیا جا سکے۔

بی بی سی سے بات کرنے والے چند فوجی ماہرین اور امریکی محکمۂ دفاع کے سابق عہدیداروں کے مطابق اس نوعیت کا کوئی بھی ممکنہ آپریشن ’انتہائی مشکل‘ اور ’خطرات سے بھرپور‘ ہو گا۔

ماہرین کے مطابق اس کے لیے زمینی فوج کی تعیناتی درکار ہو گی اور اسے مکمل کرنے میں کئی دن بلکہ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے سابق نائب معاون وزیرِ دفاع مک ملروئے کا کہنا ہے کہ یورینیم کے ذخیرے کو قبضے میں لینا ’تاریخ کی سب سے پیچیدہ فوجی کارروائیوں میں سے ایک‘ ہو گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ (یورینیئم پر قبضہ کرنا) اُن کئی فوجی اقدامات میں سے ایک ہے جو صدر ٹرمپ ایران کے خلاف اختیار کر سکتے ہیں۔

دیگر اقدامات میں امریکہ کی جانب سے ایران کے جزیرے ’خارگ‘ کا کنٹرول سنبھالنا بھی شامل ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے اور اسے بین الاقوامی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دے۔

ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر نئے فوجی آپریشنز کی دھمکیوں کو ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔

منگل کو بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا ایران کی افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے یا انھیں تباہ کیے بغیر امریکہ کے لیے اس جنگ میں کامیابی کا اعلان ممکن ہو گا یا نہیں۔

سوال کے جواب میں انھوں نے ایرانی یورینیئم ذخیرے کی اہمیت کو کچھ کم ظاہر کیا اور اس ضمن میں گذشتہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا حوالہ دیا۔

جون 2025 کے اس حملے کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’یہ (یورینیئم) اتنی گہرائی میں دفن ہے کہ کسی کے لیے بھی اسے حاصل کرنا بہت مشکل ہو گا۔ یہ بہت نیچے ہے، اس لیے کافی محفوظ ہے۔ لیکن فیصلہ ہم کریں گے کہ کیا ہونا ہے۔‘

اُن کے یہ بیانات اِس وقت سامنے آئے ہیں جب وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکا اس مواد (یورینیئم) کو نکالنے کے ایک آپریشن کرنے پر غور کر رہا ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی آپریشن کئی بڑے لاجسٹک چیلنجز یعنی انتظامی مشکلات کا سامنا کرے گا۔

سینیئر امریکی حکام کے مطابق جاری جنگ کے آغاز پر ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا تھا۔ اس مواد کو نسبتاً کم وقت میں 90 فیصد تک مزید افزودہ کیا جا سکتا ہے، جو کہ ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیے جانے کے درجے کی یورینیئم کے لیے درکار حد ہے۔

امریکی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 1000 کلوگرام یورینیئم 20 فیصد تک افزودہ شدہ حالت میں بھی موجود ہے، جبکہ 8500 کلوگرام یورینیئم 3.6 فیصد تک افزودہ ہے، اور جو میڈیکل ریسرچ یعنی طبی تحقیق کے لیے قابلِ قبول حد سمجھی جاتی ہے۔

ایران کے پاس موجود زیادہ تر اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیئم، جسے نسبتاً آسانی سے بموں یا میزائلوں کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، کے بارے میں خیال ہے کہ اسے اصفہان میں واقع جوہری تنصیب میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ تنصیب ایران کے تین زیرِ زمین جوہری مراکز میں سے ایک ہے جنھیں گذشتہ سال امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ اعلیٰ درجے کا کتنا ایرانی یورینیئم دیگر مقامات پر محفوظ ہے۔

اوباما اور ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دینے والے سابق سینیئر امریکی دفاعی عہدیدار جیسن کیمبل کے مطابق اگر امریکا کو درست طور پر معلوم ہو کہ یہ ذخیرہ کہاں موجود ہے تو اسے حاصل کرنے کا فوجی آپریشن نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

کیمبل نے مزید کہا کہ ’بہترین ممکنہ صورتحال یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ یورینیم کہاں موجود ہے۔ اگر یہ چار مختلف مقامات پر پھیلا ہوا ہے تو پھر ممکنہ آپریشن کی پیچیدگی کی سطح بالکل مختلف ہو جائے گی اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ آپ یقین کے ساتھ کسی ایک مقام پر آپریشن نہیں کر سکتے اور غلطی کی صورت میں نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔‘

اصفہان کے علاوہ کچھ اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم دو دیگر مقامات جن میں ’فردو‘ اور ’نطنز‘ شامل ہیں، میں بھی محفوظ ہو سکتا ہے اور یہ بھی وہ دیگر دو افزودگی کی تنصیبات ہیں جنھیں گذشتہ سال کیے گئے آپریشن ’مڈنائٹ ہیمر‘ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ’ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم اصفہان میں محفوظ ہے، جبکہ کچھ اضافی مواد نطنز میں موجود ہے۔‘

تاہم گروسی کے مطابق مزید تفصیلی معلومات دستیاب نہیں کیونکہ سنہ 2025 میں امریکا اور اسرائیل کی فضائی مہم کے بعد انسپکٹرز کے ایران سے انخلا کے بعد سے انھوں نے اِن مقامات کا دورہ نہیں کیا۔

گروسی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا ھا کہ ’بہت سے سوالات ایسے ہیں جن کی وضاحت ہم اسی وقت کر سکیں گے جب ہم دوبارہ وہاں جا سکیں گے اور ان تنصیبات کا تفصیلی جائزہ لے سکیں گے۔‘

یہ فرض کرتے ہوئے کہ امریکا کو معلوم بھی ہو کہ اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم کہاں موجود ہے اس تک رسائی حاصل کرنا ایک اور بڑا اور انتہائی پیچیدہ چیلنج ہے۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے امریکا اور اسرائیلی حملوں سے پہلے اپنی ایک جوہری تنصیب کے قریب ایک زیرِ زمین کمپلیکس کو مزید مضبوط کیا تھا۔ مثال کے طور پر اصفہان میں فروری کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر موجود سرنگوں میں بنے کمپلیکس کے تمام داخلی راستے مٹی سے بند کر دیے گئے تھے جس سے کسی بھی آپریشن کو مزید مشکل بنایا جا سکتا ہے۔

جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امریکا اور اسرائیل صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران کی بحریہ کو تباہ کرنے، اس کے بیلسٹک میزائل نظام کو کمزور کرنے اور اس کے صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

لیکن ماہرین کے مطابق ان فوجی اہداف کے برعکس، ایران کے افزودہ یورینیئم کو محفوظ بنانے کے لیے زمینی افواج کا استعمال ناگزیر ہو گا، جو انتہائی خطرناک جنگی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے امریکہ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کو استعمال کر سکتا ہے جنھیں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے بعد خصوصی آپریشنز فورسز، جو جوہری مواد کو سنبھالنے کی تربیت رکھتی ہیں، کو افزودہ یورینیئم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ افزودہ یورینیئم گیس کی شکل میں ہوتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسے بڑے دھاتی کنٹینرز میں محفوظ کیا گیا ہو گا۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات کے داخلی راستے کو امریکی فضائی حملوں میں شدید نقصان پہنچا تھا جس کے بعد داخلی راستوں کو بند کرنے کی اطلاعات آئی تھیں۔

امریکی افواج کو یہاں داخل ہونے کے لیے غالباً ملبہ ہٹانے اور سرنگوں تک پہنچنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنا پڑے گی، کیونکہ خیال ہے کہ افزودہ یورینیم گہرائی میں زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ ہے اور یہ سب ممکنہ ایرانی جوابی حملوں کے خطرے کے درمیان کرنا ہو گا۔

کیمبل نے کہا کہ ’سب سے پہلے آپ کو مقام کی کھدائی کرنی ہو گی اور افزودہ یورینیم کا سراغ لگانا ہو گا اور یہ سب اتنا آسان نہیں کیونکہ اس سارے عمل کے دوران قدم قدم پر خطرات کا سامنا کرنا ہو گا۔‘

یہ بات ابھی واضح نہیں کہ ایران اس طرح کی کسی بھی کارروائی پر کس طرح کا ردعمل دے سکتا ہے یا وہ اپنے مرکزی جوہری مراکز کو نشانہ بنانے والی امریکی زمینی افواج کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

’سکوکرافٹ مڈل ایسٹ سکیورٹی انیشی ایٹو‘ کے نان ریزیڈنٹ سینیئر فیلو اور سابق امریکی دفاعی عہدیدار الیکس پلیٹساس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ’ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس قسم کا آپریشن یا کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘

تاہم اس کے باوجود انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ اب بھی ایک ’انتہائی خطرناک‘ اور خطرات سے بھرپور کارروائی ہو گی۔

امریکی زمینی افواج اس آپریشن کے دوران تنہا ہو سکتی ہیں۔ پلیٹساس نے کہا کہ ’طویل فاصلے کی وجہ سے میڈیکل ایویکیوشن یعنی طبی انخلا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے امریکی فوجیوں کو آنے جانے کے دوران فضائی دفاعی حملوں کا خطرہ رہتا ہے اور جب وہ جوہری تنصیب پر ہوں تو بھی انھیں حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس آپریشن کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن غالب امکان اس بات کا ہے کہ اس میں کسی ہوائی اڈے یا لینڈنگ زون پر قبضہ شامل ہو گا جہاں سے امریکی افواج مزید کارروائی کر سکیں اور پھر افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے بعد اسے ایران سے باہر منتقل کیا جا سکے۔

فوجی ماہرین کے مطابق 82ویں ایئر بورن ڈویژن، جو ہوائی اڈوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کی تربیت رکھتی ہے، دیگر امریکی افواج کے ساتھ مل کر اس مشن کے لیے آپریشنل بیس قائم کرنے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ یورینیئم کو محفوظ بنانے کے بعد امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسے ملک سے باہر لے جایا جائے یا موقع پر ہی اسے ڈائیلوٹ یا کم افزودہ کر دیا جائے۔

انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں نے جنگ کے آغاز پر کہا تھا کہ امریکہ ممکنہ طور پر ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیئم کو موقع پر ہی کم افزودہ کرنے پر غور کر سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسے ملک سے باہر لے جایا جائے۔

تاہم واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک قدامت پسند تھنک ٹینک ’جیوئش انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی آف امریکہ‘ کے ماہر جوناتھن روہے کے مطابق یہ ’ایک بڑا، پیچیدہ اور وقت طلب آپریشن ہو گا۔‘

روہے کے مطابق یورینیئم کو قبضے میں لے کر ایران سے باہر منتقل کرنا زیادہ تیز طریقہ ہو گا اور اس سے امریکہ کو یہ مواد اپنے ملک میں کم افزودہ کرنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن کسی بھی طریقے سے انجام دیا جائے یہ ہر صورت میں ہی انتہائی خطرناک ہو گا۔‘

روہے نے کہا کہ ’آپ کے پاس بنیادی طور پر آدھا ٹن ایسا مواد ہے جو عملی طور پر ہتھیاروں کے درجے کا یورینیئم ہے جسے آپ کو وہاں سے نکالنا ہے۔‘

’اور اس دوران بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو غلط ہو سکتی ہیں۔‘