درجنوں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور سینکڑوں کمانڈوز، امریکہ اپنے فوجی افسر کو ایران سے نکالنے میں کیسے کامیاب ہوا؟
یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ایران میں تباہ ہونے والے ایف-15 طیارے کے لاپتہ رُکن کی تلاش کے لیے امریکہ نے اپنے کتنے فوجی وسائل استعمال کیے۔ ان میں سینکڑوں کمانڈوز، کئی درجن جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز کو تلاش کا کام سونپا گیا۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تفصیلات سامنے آ رہی ہیں کہ کس طرح ایئر مین، ویپنز سسٹم آفیسر (ّWSO) جو ایف-15 سٹرائیک ایگل کی دوسری سیٹ پر بیٹھتا ہے، جنوبی ایران میں ریسکیو کیے جانے کے دوران زخمی ہوا۔
ریسکیو کیے گئے کرنل کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم علامتی طور پر اسے یہاں ’ویزو‘ لکھا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’ویزو‘ کو کچھ زخم آئے ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک پکڑے جانے سے بچنے کے لیے کوشاں رہے اور اس دوران ان کے پاس صرف ایک ہینڈ گن تھی۔
اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی فوجیوں کو افسر کے مقام سے دور رکھنے کے لیے بموں اور ہتھیاروں کا استعمال کیا اور امریکہ اور ایران کی فوج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
ریسکیو میں استعمال ہونے والے پانچ امریکی ٹرانسپورٹ طیاروں میں سے دو ایران کے اندر سے ٹیک آف کرنے کے قابل نہیں تھے۔ انھیں پکڑے جانے سے روکنے کے لیے تباہ کر دیا گیا۔
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کردار
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے نے ریسکیو آپریشن میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک پہاڑی شگاف میں ایئر مین کا سراغ لگایا اور ایئر مین کی صحیح جگہ پینٹاگون تک پہنچا دی۔
اس دوران سی آئی اے کی جانب سے ایران کے اندر یہ معلومات پھیلائی گئیں کہ ایئرمین پہلے ہی مل چکا ہے اور اب اسے ایران سے نکالا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس وقت تلاش کی کوششیں جاری تھیں۔
سی بی ایس نے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فوری طور پر ریسکیو کا حکم دیا تھا۔
ٹرمپ نے بعد میں ٹروتھ سوشل پر کہا: ’میری ہدایت پر، امریکی فوج نے ریسکیو کرنے کے لیے درجنوں طیارے بھیجے، جو دنیا کے سب سے مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے۔ انھیں (ریسکیو کیے گئے افسر) چوٹیں آئیں، لیکن وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔‘