لائیو, حوثیوں کا سعودی عرب سے ’جارحیت روکنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے‘ کا مطالبہ، ایران کا مسلم ممالک کے اتحاد پر زور

یمن کے ایران نواز حوثی گروہ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت روکنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا جرات مندانہ اور دانشمندانہ فیصلہ کرے۔ دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے علاقائی امور میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے‘ کردار کو سراہتے ہوئے مسلم دنیا کے بڑے ممالک پر اتحاد کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔

خلاصہ

  • امید ہے مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہوں گے: ترک صدر
  • پاکستانی وزیرِ داخلہ کی ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقات
  • آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ’فولادی دیوار‘ ہے، ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا: صدر ٹرمپ
  • اسرائیلی جنگی طیاروں کے جنوبی لبنان میں دو فضائی حملے
  • بلوچستان: تیاری کے دوران دھماکہ خیز مواد پھٹنے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 18 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

لائیو کوریج

  1. عمان کے نزدیک پھنسے ٹینکر سے رسنے والا تیل 40 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے: عمانی ماحولیاتی ایجنسی

    Oman oil slick

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل پھیل کر عمان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ہفتوں سے پھیل رہا یہ تیل حالیہ برسوں کے بدترین سمندری ماحولیاتی بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

    ایجنسی کے مطابق یہ تیل عمان کے ساحل کی تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) طویل پٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں رأس المدرکہ کا علاقہ اور جزیرہ مصیرہ بھی شامل ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے تیل کے رساؤ کے ماہر جان ایموس کے مطابق تیل اب 2,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے تک پھیل چکا ہے۔

    تقریباً آٹھ لاکھ بیرل روسی تیل لے جانے والا ٹینکر کیرولین بیزینگی 30 جون کو ساحل سے ٹکرا کر پھنس گیا تھا۔ اس پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    اس سے تیل ایک ایسے جزیرے کے قریب رس رہا ہے جو عمان کے سمندری قدرتی محفوظ علاقے کا حصہ ہے۔ اس علاقے میں نایاب جنگلی حیات پائی جاتی ہے جن میں بحیرۂ عرب کی ہمپ بیک وہیل اور سوکوٹرا کارمورینٹ پرندے شامل ہیں۔

    ٹینکر نے پہلی بار آٹھ جون کو اطلاع دی تھی کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب مشکلات کا سامنا ہے۔ بحری ذرائع کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹینکر کو کسی دھماکے سے نقصان پہنچا ہے۔

    اب تک کسی فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    یہ جہاز اپریل میں بحیرۂ اسود پر واقع روسی بندرگاہ نووروسیسک سے روانہ ہوا تھا، جو روس اور یوکرین کی جنگ کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ یوکرین روسی تیل لے جانے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف حملے کر چکا ہے، اور کیرولین بیزینگی بھی اسی بیڑے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

  2. کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی: ٹرمپ

    White House press secretary Karoline Leavitt

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام مِں کہا ہے کہ لیویٹ اپنے کم عمر بچوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے یہ عہدہ چھوڑ رہی ہیں، اور یہ ’ایک ایسا فیصلہ ہے جسے میں مکمل طور پر سمجھتا ہوں اور اس کا احترام کرتا ہوں۔‘

    ٹرمپ کیرولین لیویٹ کو اپنے ’سب سے قابلِ اعتماد معاونین‘ میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔

    امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’کیرولین اب میرے اہم بیرونی مشیروں میں سے ایک ہوں گی اور ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک بااثر آواز کے طور پر کردار ادا کریں گی۔‘

    28 سالہ کیرولین لیویٹ نے گذشتہ سال وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا اور وہ اس منصب پر فائز ہونے والی کم عمر ترین شخصیت تھیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی جگہ کسے وائٹ ہاؤس کا پریس سیکریٹری تعینات کیا جائے گا۔

  3. 28 فروری کو رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ پر میزائل حملے کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے: تہران کے میئر کا دعویٰ

    Mojtaba Khamenei

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    تہران کے میئر علیرضا زکانی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو جس میزائل حملے میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ جس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے اس کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔

    یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کی جگہ ملک کا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔

    12 اگست کو سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک (ایس این این) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زکانی کا کہنا تھا کہ ’میزائل نے بالکل اس منزل کو نشانہ بنایا جہاں وہ [مجتبیٰ خامنہ ای] مقیم تھے۔ حملوں کا ہدف وہی تھے۔‘

    تہران کے میئر کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد کا معمول تھا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے کام کے لیے روانہ ہو جاتی تھیں۔ ان کے مطابق حملے کے روز زہرا حداد طبیعت ناساز ہونے کے باعث گھر پر ہی موجود تھیں۔

    انھوں نے بتایا کہ حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔

    28 فروری 2025 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ پر میزائل حملہ کیا تھا۔

  4. حوثیوں کا سعودی عرب سے ’جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے‘ کا مطالبہ

    یمن کے ایران نواز حوثی گروہ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’جارحیت روکنے، ناکہ بندی ختم کرنے اور یمن میں تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کا جرات مندانہ اور دانشمندانہ فیصلہ‘ کرے۔

    حوثیوں کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی جنگجوؤں نے ایک روز قبل سعودی مفادات پر مزید حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

    حوثیوں کے زیرِ انتظام صبا نیوز ایجنسی کے مطابق حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ نے کہا کہ اس فیصلے ’کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی اور اس کے دونوں ممالک کے لیے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے لیے زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ یمن میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھنے کے بجائے امن کی راہ اختیار کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی یمن میں مداخلت کے نتیجے میں پہلے ہی سعودی عرب نقصان اٹھا چکا ہے اور خبردار کیا کہ ’مستقبل میں ہونے والے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔‘

    اس بیان سے ایک روز قبل حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے یمن کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں میں ایک سعودی فوجی جہاز اور سعودی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے کشیدگی میں وسیع تر اضافے کا حصہ ہیں، جس کے تحت گروپ نے جولائی میں بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔

  5. ایران کی علاقائی امور میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے‘ کردار کی تعریف اور مسلم ممالک کے اتحاد پر زور

    Mohsin Naqvi, Mohsi razai

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی عہدیدار میجر جنرل محسن رضائی نے اسلام آباد کے ساتھ تہران کے تعلقات اور علاقائی امور میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے‘ کردار کو سراہتے ہوئے مسلم دنیا کے بڑے ممالک پر اتحاد کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔

    تہران میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستانی حکومت، فوج اور عوام کو عالمِ اسلام کا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔‘

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے تعینات ہونے والے سیکریٹری نے خاص طور پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی۔

    پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان طویل مدتی جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 17 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے پائی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد فی الحال معطل ہے۔

    پاکستانی وزیرِ داخلہ نے اس سے قبل منگل کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت متعدد اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم ان ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی سے متعلق کسی ممکنہ بات چیت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

    بدھ کے روز محسن نقوی کے دورہ ایران کے متعلق بات کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اس دورے سے سکیورٹی امور اور امن و استحکام کے فروغ سے متعلق اقدامات پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دورہ دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی سے متعلق معاملات اور علاقائی پیش رفت پر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے، جس میں خاص توجہ خطے کے فریقوں کے درمیان امن، استحکام اور تعمیری روابط کے فروغ کی کوششوں پر ہے۔‘

    طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘

    بدھ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر اور انڈونیشیا پر عالمِ اسلام میں اتحاد کے فروغ کے لیے مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

    یاد رہے کہ ان ممالک میں سے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے مکہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    محسن رضائی نے ایرانی اور پاکستانی عوام کے درمیان تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ’سٹریٹجک پشت پناہی‘ کرنے والا سمجھتی ہے۔

    دوسری جانب محسن نقوی نے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران دوطرفہ روابط ایک مضبوط اور ’بے مثال‘ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

  6. امید ہے مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہوں گے: ترک صدر

    مکہ معاہدہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امید ظاہر کی ہے کہ حال ہی میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔

    اردوغان نے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا: ’اس معاہدے کے لیے ہمارا وژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ مزید وسعت اختیار کرے اور شاید ایک دن ایسے حالات پیدا ہوں کہ خطے کے تمام ممالک اس کے دائرۂ کار میں یکجا ہو جائیں۔‘

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ انقرہ کو توقع ہے کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ انھوں نے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا تھا کہ مصر کی شمولیت میں صرف ’چند تکنیکی امور‘ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

    مصر نے تا حال اس معاہدے یا ہاکان فیدان کے بیان پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ہاکان فیدان جلد قاہرہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

  7. آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ’فولادی دیوار‘ ہے، ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا: صدر ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’ہماری ناکہ بندی کو ہر شخص فولادی دیوار قرار دے رہا ہے اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں انھوں نے دعویٰ کیا: ’امریکہ کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ میرے خیال میں ہم اسے برقرار رکھیں گے!‘

    ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کے پاس بحریہ یا فضائیہ نہیں ہے، ایرانی فوجیوں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، پاسداران انقلاب ’بری طرح کمزور ہو چکے ہیں اور پسپا ہو رہے ہیں‘ جبکہ ایرانی قیادت کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران کے پاس پیسہ نہیں ہے، ’ان کے پاس صرف جعلی خبریں اور 300 فیصد مہنگائی ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل کچھ نہیں کرتا۔

    ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

  8. ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف اقدامات پر پوتن کی یورپی جہازوں کو ضبط کرنے کی دھمکی

    روسی صدر پوتن

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    جن بحری جہازوں کو روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، انھیں روکنے کے یورپی یونین کے منصوبوں پر ردعمل دیتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یورپی جہازوں کو ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    روس کے مشرقِ بعید میں بحری مشقوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے گفتگو میں پوتن نے روسی جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندیوں کو ’بحری قزاقی‘ قرار دیا۔

    روسی صدر نے کہا کہ ماسکو جوابی اقدامات کرنے پر مجبور ہو گا اور ہر وہ قدم اٹھائے گا جسے وہ ضروری اور مناسب سمجھے، خواہ وہ کہیں بھی ہو۔

    روس تیل کی فروخت پر عائد بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ’شیڈو فلیٹ‘ کہلانے والے بحری بیڑوں کا استعمال کرتا ہے، جن میں ایسے جہاز شامل ہوتے ہیں جو کسی قومی پرچم کے بغیر یا غیر واضح رجسٹریشن کے تحت سفر کرتے ہیں۔

  9. اسرائیل کا جنوبی لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد اٹھتا دھواں

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ملک کے جنوبی حصے میں دو فضائی حملے کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے المنصوری کو ان حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ابھی تک اس حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں اور مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

  10. مذاکرات کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے: جاپانی وزیر اعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو

    جاپانی وزیر اعظم

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی، جس میں تاکائیچی نے مطالبہ کیا کہ ’مذاکرات کے کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے۔‘

    ارنا کی جانب سے شائع کردہ اس ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیل کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں بد امنی کا خواہاں نہیں اور انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر جنگ شروع کرنے اور ’خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام عائد کیا۔

    ایران اور عمان اس وقت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے راستے سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں۔

    جاپان نے ایران سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ باب المندب میں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

  11. سوراب میں بارود بھری گاڑی میں دھماکے سے آٹھ شدت پسند ہلاک، دوسرے دھماکے میں تین راہگیر جان سے گئے: پاکستانی فوج

    ایمبولینس

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع سوراب میں شدت پسند گاڑی میں نصب کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کر رہے تھے کہ وہ قبل از وقت پھٹ گیا، اس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق وہاں موجود دیگر بارودی مواد بھی اس دھماکے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس مقام کے قریب رہائش پذیر تین شہری بھی ہلاک ہو گئے۔

    تاہم، محکمۂ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ چھ افراد کی لاشیں سوراب ہسپتال منتقل کی گئیں، جن میں ایک بچہ اور دو خواتین شامل تھیں۔ انھوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت 16 زخمی بھی ہسپتال لائے گئے۔

    فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کا دعویٰ ہے کہ فوری ردِعمل دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس موقع پر پہنچ گئیں اور ذمہ دار عناصر اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک جامع مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مزید 10 کو ہلاک کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس واقعے میں اب تک مجموعی طور پر 18 شدت پسند مارے جا چکے ہیں، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے۔

  12. مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ, یولاند نیل، یروشلم میں موجود نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    مغربی کنارہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی آباد کاروں نے اتوار سے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔ ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ضروری اشیا ختم ہو رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکام سے مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی سکیورٹی فورسز نابلس کے قریب قصرہ گاؤں میں قائم یہودی آباد کاروں کی چوکی سے واپس ہٹ گئی ہیں۔ یہ پیش رفت انتہا پسند آباد کاروں کے ایک ہجوم کے ساتھ جھڑپوں کے بعد سامنے آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب بھی تقریباً ایک درجن آباد کار وہاں موجود ہیں۔

    فلسطینی مکان مالکان کی جانب سے اسرائیلی فوج کو ابتدائی اطلاع دینے کے بعد موقع پر پہنچنے والے پہلے اسرائیلی فوجیوں کی ویڈیو سامنے آئی، جس میں انھیں آباد کاروں کے ساتھ دعا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ابو ریدی اور حسن کے خاندان سوشل میڈیا پر مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے جبکہ خوراک کے ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے منگل کو نیو یارک میں سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔‘

    بین الاقوامی قانون کے تحت تمام اسرائیلی آبادیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔

    فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ آباد کاروں نے اتوار کی شام ابو ریدی خاندان کے گھر کے باہر ایک دیوار گرا دی اور اسی کے پتھروں سے سڑک بند کر دی۔

    اس کے نتیجے میں سات افراد، جن میں دو کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں، اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے جبکہ دوسرے فلسطینی بھی ان تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ خاندان مغربی کنارے کے اُس حصے میں رہتا ہے جسے ایریا بی کہا جاتا ہے، جہاں انتظامی اختیار فلسطینیوں کے پاس جبکہ سکیورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔

    فیس بک پر ابو ریدی نے لکھا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے، ’خصوصاً اس لیے کہ ہم مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا: ’ہم اپنے ہی گھر اور اپنی ہی زمین پر رہ رہے ہیں، اور ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں تحفظ اور وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔‘

    مغربی کنارہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پیر کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے بائیں بازو سے وابستہ اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے صحافیوں کو فلسطینی گھروں تک پہنچنے سے روک دیا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی دو گھنٹے تک روکی گئی تو موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے اُس وقت ان کی مدد سے انکار کر دیا تھا۔

    اگلے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین نے اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ سے اپیل کی کہ فوج محصور رہائشیوں کا تحفظ کرے، آباد کاروں کی چوکی خالی کرائے اور انھیں جوابدہ ٹھہرائے۔

    منگل کی رات دیر گئے ایک فلسطینی ایمبولینس کو بالآخر خاندانوں تک پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ ایمبولینس خوراک لے کر پہنچی اور ایک بچے کو طبی علاج کے لیے وہاں سے منتقل کیا گیا۔

    تقریباً اسی وقت اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان جاری کیا جس میں نئی چوکی کے قیام کی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی گھروں میں داخل ہونا اور ان پر قبضہ کرنا ’غیر قانونی، قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول عمل‘ ہے۔

    بدھ کی صبح جب مرکزی کمان کے سربراہ میجر جنرل اوی بلوتھ اور دیگر اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے تو بتایا گیا کہ انھوں نے رہائشیوں سے ملاقات کی اور اپنی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔

    اس کے بعد بی بی سی کو فراہم کی گئی فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں اسرائیلی فوج، بارڈر پولیس اور آباد کاروں کے ایک بڑے ہجوم کے درمیان جھڑپیں دکھائی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ استعمال کیے۔

    دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے وہ سائبان ہٹا دیا جس کے نیچے آباد کار پناہ لیے ہوئے تھے، جبکہ ان کا دیگر سامان وہیں چھوڑ دیا گیا۔

    آئی ڈی ایف نے بیان میں کہا: ’بارڈر پولیس فورسز نے خیمہ ہٹا دیا ہے اور وہاں موجود شہریوں کو نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’چند روز قبل مقام پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی دستاویزی تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

    قصرہ گاؤں کے میئر عبدالعظیم وادی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے ’قصرہ کو نشانہ بنانے کے ایک واضح اور مسلسل رجحان‘ کا مشاہدہ کیا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک نئی تعمیر شدہ مسجد کو آگ لگا دی گئی تھی اور اس کے قریب عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔

    مغربی کنارہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آباد کاروں کا یہ حملہ ان متعدد واقعات میں سے ایک تھا جو فلسطینی گاؤں تل میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد سامنے آئے۔ اسرائیلی آباد کاروں کے تل پر حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی شامل تھے۔ ان فوجیوں میں سے ایک قریبی اسرائیلی آبادی کا سکیورٹی رابطہ کار تھا۔

    جولائی میں آباد کاروں نے قصرہ کے قریب واقع گاؤں جالود میں ایک فلسطینی گھر کا دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک محاصرہ کیے رکھا۔ بعد ازاں مکان مالکان وہاں سے چلے گئے اور آباد کاروں نے اس جائیداد پر قبضہ کر لیا، جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف نے منگل کو سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’آباد کاروں کا تشدد غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ خصوصاً صوبۂ نابلس حالیہ عرصے میں تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں کے ہاتھوں 76 فلسطینی، جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں اور مغربی کنارے میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی کی جانب سے گاڑی چڑھانے کے واقعے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوری 2023 سے اب تک مغربی کنارے کی 127 فلسطینی آبادیوں کو مکمل یا جزوی بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے 47 مکمل طور پر خالی ہو چکی ہیں، جس سے 6390 سے زائد فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ نے ریکارڈ کیا ہے کہ 2026 میں آباد کاروں کے تشدد، مکانات کی مسماری اور بے دخلی کے باعث تقریباً 3800 فلسطینی بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً نصف بچے تھے۔

    اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینون نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ آبادیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ آبادیاں برقرار رہیں گی اور مزید پھیلیں گی کیونکہ ان کے بقول اسرائیل کو اس زمین پر مذہبی، تاریخی اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ’ایک سادہ حقیقت سمجھنی چاہیے: ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘

  13. انڈونیشیا میں کشتی میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک، 172 کو بچا لیا گیا

    فیری میں آگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سیاحتی جزیرے بالی سے روانہ ہونے والی ایک بڑی کشتی (فیری) میں آگ لگنے کے بعد 172 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ دیگر لا پتہ مسافروں کی تلاش جاری ہے۔

    مقامی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد ہریادی نے کہا کہ کشتی بالی کی بندرگاہ سے صوبہ مغربی نوسا تنگارا میں واقع لومبار بندرگاہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

    ہریادی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح چار بج کر 39 منٹ پر آبنائے لومبوک میں پیش آیا۔

    ہریادی کے مطابق بدھ کی دوپہر تک ایک انڈونیشی شہری کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی جبکہ 172 افراد کو بالی اور لومبوک کی بندرگاہوں تک منتقل کر کے بچا لیا گیا تھا۔

    بچ جانے والوں میں ایک آسٹریلوی شہری تھا جبکہ باقی تمام انڈونیشی تھے۔

    اس سے قبل دن میں بالی کی بندرگاہ کے ایک عہدے دار ہیری ویانتو نے مقامی نشریاتی ادارے کومپاس ٹی وی کو بتایا تھا کہ کشتی کے مسافروں کی فہرست میں صرف 114 مسافروں اور عملے کے 17 ارکان کا اندراج تھا۔

    17 ہزار جزیروں پر مشتمل انڈونیشیا میں نقل و حمل کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بڑی کشتیوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، کیونکہ سمندری راستے فضائی سفر کے مقابلے میں زیادہ سستے اور آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔

    تاہم، حفاظتی معیارات پر ہمیشہ سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں حادثات کی شرح نسبتاً زیادہ رہتی ہے۔

  14. دوبارہ امریکی جارحیت کی صورت میں توانائی اور انٹرنیٹ کے انفراسٹرکچر کو خطرہ ہو گا: ایرانی فوج

    توانائی انفراسٹرکچر

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    ایران کے خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت شروع کی ’توانائی کی ترسیلی لائنیں، بجلی گھر، تمام امریکی اور غیر امریکی نظام، حتیٰ کہ عالمی انٹرنیٹ سے منسلک انفراسٹرکچر بھی خطرے میں ہو گا۔‘

  15. سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے اعلامیے کے پابند ہیں: پاکستان

    سعودی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری اتحاد کا رکن ہے اور سپلائی چینز کے تحفظ اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کے مقصد کے لیے اس اتحاد کے اعلامیے کا پابند ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بحیرۂ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔

    طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا رکن ہے اور اس کے دستخط کنندگان میں شامل ہے۔

    سعودی عرب نے 30 جولائی کو بین الاقوامی جہاز رانی اور بحیرۂ احمر کے خطے میں توانائی کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے مقصد سے ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

  16. راولپنڈی واقعے سے اشارہ ملتا ہے کہ 27 ستمبر کو کیسا کھیل کھیلا جائے گا: طلال چوہدری کا الزام

    طلال چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہScreen grab

    راولپنڈی میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور حملہ آور کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام لگایا ہے: ’اس واقعے سے اشارہ ملتا ہے کہ 27 ستمبر کو کیسا کھیل کھیلا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں قید پارٹی قائد عمران خان سے ملاقات کے لیے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    گذشتہ روز، ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق مال روڈ پر ایک شخص نے پستول سے سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا جبکہ جوابی فائرنگ میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

    وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا تھا کہ فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن تھا۔ جبکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ملوث شخص پارٹی کا کارکن رہا ہو گا تاہم اس واقعے کو پارٹی سے نہ جوڑا جائے۔

    آج بدھ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا: ’تحریک انصاف کی قیادت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ ان کا اس کارکن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    پی ٹی آئی یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ ’واقعے کی مکمل تفصیلات، سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب شواہد اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔‘

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ تفصیلات اس لیے سامنے نہیں لائی جا رہیں تاکہ کیس کی تحقیقات متاثر نہ ہوں۔ ان کے بقول جب عدالت میں شواہد پیش کیے جائیں گے ’تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔‘

    وزیر مملکت برائے داخلہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ فائرنگ میں ملوث کارکن اسلام آباد میں موجود ’خیبر پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتا رہا اور تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقات کرتا رہا۔‘

    طلال چوہدری نے الزام لگایا کہ اس واقعے میں پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ ساتھ ’وہ یوٹیوبر اور رائے ساز بھی شامل ہیں، جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں، جن کا مقصد صرف ویوز لینا، پیسے کمانا اور نوجوانوں کے ذہن میں آگ بھرنا ہے۔‘

  17. وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا دورہ امن کے لیے مشاورت کا تسلسل ہے: پاکستان

    محسن نقوی، مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایران اور امریکہ کو مفاہمت کی جانب واپس لانے میں مدد کے لیے اسلام آباد کی مسلسل کوششوں پر زور دیا ہے۔

    آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے نے دو طرفہ تعلقات، سلامتی کے مسائل اور علاقائی پیش رفت پر بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے، خاص طور پر امن و استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر توجہ دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم خطے کے تمام برادر ممالک سے رابطے میں ہیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریقین بھی شامل ہیں، اور ہماری کوششیں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات میں واپس لانے پر مرکوز ہیں۔‘

    طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’پاکستان بحران کے پُر امن حل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کے روز تہران کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔

  18. پاکستان سعودی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے: دفترِ خارجہ

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور سپلائی چین اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اسلام آباد اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

    بدھ کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی سے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کے متعلق سوال کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اسحاق ڈار کا بیان دہرایا جس میں حوثی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

    طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا رکن اور دستخط کنندہ ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس اتحاد کے اعلامیے پر عمل پیرا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور اتحاد کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  19. پاکستانی وزیرِ داخلہ نے ایرانی قیادت کو مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لیا: ایرانی خبر رساں ایجنسی کا دعویٰ

    Mohsin Naqvi Masoud Pazishkian

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    گذشتہ روز پاکستان کے پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔

    تاہم ان ملاقاتوں کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔

    اب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ملاقاتوں میں محسن نقوی نے خطے کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل کا ایک خصوصی اور اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے۔

    ارنا کے مطابق انھوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے کے بارے میں بھی بریفنگ دی اور ایرانی قیادت کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا۔ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

    سوموار کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘

    انھوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہا: ’ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

    بقائی نے یہ بھی کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘

  20. اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    بدھ کے روز اسحاق ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب تک دستیاب اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔‘

    انھوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان ایک غیر فوجی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘

    ’اس نوعیت کے حملے بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، اور بحری آمدورفت کی آزادی، سمندری سلامتی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازرانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پاکستان متعلقہ سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے۔

    ’ہم صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں رہیں گے۔‘

    گذشتہ روز یمن کے کوسٹ گارڈ حکام نے تصدیق کی تھی کہ باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

    کوسٹ گارڈ نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے کیا۔

    یہ حملے بحیرہ احمر کے دہانے پر تجارتی جہازوں کے خلاف ان مہلک کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں جو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے جاری ہیں۔

    یمنی حکومت سے منسلک اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کارگو جہاز کے عملے کے چار ارکان بھی شامل تھے۔

    رپورٹ کے مطابق، جہاز پر امدادی اور انخلا کی کارروائیاں کرنے کے لیے بھیجے گئے دستے کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔