آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ترکی کی عسکری طاقت، ایف-35 طیارہ اور امریکہ کا بدلتا نظریہ: ٹرمپ اور اردوغان کی قربت جو اسرائیل کو پریشان کر رہی ہے
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
8 جولائی کو اسرائیلی میڈیا نے ترکی سے متعلق امریکی پالیسیوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش ظاہر کی۔
اسرائیلی میڈیا میں چھپنے والی خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکی کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کے حوالے سے مثبت رویہ ایک بار پھر اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
اسرائیل کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ ترکی کو جدید ہتھیار فراہم کرتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور اسرائیلی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مقامی میڈیا کوریج سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل اب صدر اردوغان کی قیادت میں ترکی کو ایک سٹریٹجک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی میڈیا میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع یہ خبر ہے کہ ٹرمپ ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے پر غور کر رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا قدم خطے میں اسرائیل کی عسکری برتری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
8 جولائی کو اسرائیلی اخبارات میں ٹرمپ اور اردوغان کی ملاقات کے بارے میں خدشات واضح تھے۔
لبرل اخبار ہاریٹز نے صفحہ اول پر اس ملاقات کی سرخی لگائی جبکہ مقبول اخبار یدیوت احرونوت نے ٹرمپ اور اردوغان کی ایک تصویر کا عنوان لکھا: ’کنیکٹڈ۔‘
اسرائیلی خدشات
اخبار یدیوت احرونوت میں لکھتے ہوئے، ماہر نادو ایال نے نیٹو سربراہی اجلاس کو ’منافقت کا تماشا‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے اور امریکی انتظامیہ کے اندر ترکی کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یدیوت احرونوت نے ٹرمپ کی جانب سے ترکی کی تعریف پر روشنی ڈالی۔ اخبار نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ اردوغان نے ترکی کو ’عسکری طور پر بہت مضبوط ملک‘ بنا دیا ہے۔ انھوں نے ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی ممکنہ منظوری کے بارے میں اسرائیل کے خدشات کو بھی اجاگر کیا۔
اخبار نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے حوالے سے کہا کہ ’اسرائیل کا مقصد سمندری راستوں کی حفاظت اور سمندری تجارت کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔‘
نیتن یاہو نے کہا کہ ’اردوغان اسرائیل کی تباہی اور یروشلم پر قبضے کی بات کرتے ہیں۔ وہ حماس کی میزبانی کرتے ہیں۔ ایسی حکومت کو طیارے نہیں ملنا چاہیے۔‘
سیاسی نامہ نگار اینا بارسکی نے کہا کہ F-35 لڑاکا طیاروں کا تنازع امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
بارسکی کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان کہ ’ہم اپنے دوستوں پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتے‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ برسوں کی کشیدگی کے باوجود، امریکہ اب بھی ترکی کو نیٹو کا اہم اتحادی سمجھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ پرانے اختلافات پر سٹریٹجک مفادات کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہیں۔
بارسکی نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ’اسرائیل قریبی اتحادی ہے، لیکن ہماری واحد ترجیح نہیں ہے‘ خطے میں بدلتے ہوئے امریکی نقطہ نظر کی نشاندہی کرتا ہے۔
بارسکی کے مطابق امریکہ اب ترکی کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی پالیسی اب اسرائیل کے ساتھ اس کے دیرینہ اتحاد اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔
دائیں بازو کے اخبار یسرائیل ہایوم کے نامہ نگار ایریل کہانہ نے کہا کہ ’اردوغان اسرائیل کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔‘
انھوں نے ترکی کے عسکری عزائم اور علاقائی سرگرمی کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے براہ راست چیلنج قرار دیا۔
دائیں بازو کے، نیتن یاہو کے حامی چینل 14 کے ایک تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی ترکی کو F-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی رضامندی نے اردوغان کو اسرائیل پر برتری دی ہے، جو ’خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ترکی اسرائیلی فضائیہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور بحیرہ روم میں اسرائیلی بحری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے شام میں فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔