انڈیا کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے بعد شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے دوران ایک ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
باروئی پور کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر پولیس نے مقدمے میں ریپ کی دفعات شامل کی ہیں، حالانکہ ابتدائی اطلاعات میں ریپ کا ذکر موجود نہیں تھا۔ پولیس نے تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے اہل خانہ کے مطابق وہ سنیچر کے روز لاپتہ ہوئی تھی۔ اتوار کو ایک تالاب سے اس کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک نوجوان کو ملزم سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔
بعد ازاں مقامی سطح پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ہجوم کے ہاتھوں مارا جانے والا شخص ممکنہ طور پر بے گناہ تھا۔ واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچی کی گمشدگی کی ابتدائی شکایت پر فوری اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
پولیس نے اتوار کو ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا، جبکہ بعد میں دو مزید افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ تین دیگر افراد کو بھی پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔
مبینہ پولیس مقابلہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تشویش
پولیس کے مطابق منگل کی رات گرفتار ملزم پربھاس منڈل کو تفتیش کے سلسلے میں جرم کی جگہ پر لے جایا گیا تھا تاکہ واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کی جا سکے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران پربھاس منڈل نے ایک اہلکار کا سروس ریوالور چھین لیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوا اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق بچی کے اہل خانہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پربھاس منڈل کی شناخت کی تھی اور اسے کیس کا اہم ملزم قرار دیا گیا تھا۔
ملزم کی ہلاکت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کے مؤقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس کے رہنما رنجیت سور نے کہا کہ پربھاس منڈل اس کیس کے ایک اہم گواہ اور ملزم تھے، اور ان کی موت سے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس مقابلوں کے بارے میں اکثر ایک جیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، جن میں ملزم کے پولیس کا ہتھیار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کرنے اور پھر فائرنگ میں مارے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
اس واقعے نے سیاسی صورت حال کو بھی گرم کر دیا ہے۔ ریاست کی سیاست میں مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ادھر ترنمول کانگریس اور دیگر سیاسی حلقوں کے درمیان بھی اس معاملے پر الزام تراشی جاری ہے، جس کے باعث یہ واقعہ صرف ایک فوجداری مقدمہ ہی نہیں بلکہ ایک سیاسی موضوع بھی بن گیا ہے۔