آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے ساتھ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے، ان کے ساتھ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ختم ہو چکی ہے۔‘ انھوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، وہ غلیظ لوگ ہیں، ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز میں سینکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6,000 سمندری کارکن اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، اقوامِ متحدہ کی بحری تنظیم

    اقوامِ متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی بحری تنظیم (انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سینکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6,000 سمندری کارکن اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جہازوں پر ہونے والے حملوں نے ان سمندری کارکنوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    آرسینیو ڈومینگیز کے مطابق ’حالیہ حملوں نے اُس خوف، غیر یقینی صورتحال اور نفسیاتی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے جس کا سامنا تقریباً 6,000 سمندری کارکن کر رہے ہیں، جو ایسے جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں جو خلیج فارس سے محفوظ طریقے سے روانہ نہیں ہو سکتے۔‘

    مارچ میں، امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے مقصد سے معاہدہ ہونے سے قبل، آرسینیو ڈومینگیز نے کہا تھا کہ خلیج فارس میں تقریباً 20,000 سمندری کارکن پھنسے ہوئے تھے۔

    اب انھوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر کشیدگی میں کمی لائیں تاکہ پھنسے ہوئے جہاز محفوظ طریقے سے اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو سکیں۔

  2. اقوامِ متحدہ کی بحری تنظیم کی آبنائے ہرمز سے جہاز نہ گزارنے کی اپیل

    اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والی بین الاقوامی بحری تنظیم، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن، کے سربراہ نے گذشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شپنگ کمپنیوں اور آپریٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے نہ گزاریں۔

    آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’ان غیر ذمہ دارانہ حملوں نے ایک بار پھر بے گناہ سمندری کارکنوں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب تک جہازوں کے عملے کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، میں پرچم بردار ریاستوں، جہاز مالکان، جہاز آپریٹرز اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سمندری کارکنوں کو غیر ضروری خطرات سے دوچار کرنے سے گریز کریں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے سے احتراز کریں۔‘

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں، خصوصاً تیل بردار ٹینکروں، کی آمدورفت میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔

    شپنگ انٹیلی جنس ادارے لائیڈز لسٹ کے مطابق، 5 جولائی تک کے ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے 211 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ تاہم یہ تعداد جنگ سے قبل کی سطح سے اب بھی کافی کم ہے، جب روزانہ اوسطاً 138 کے قریب جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرا کرتے تھے۔

  3. یہ کشیدگی تو ہے، لیکن کیا یہ مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے؟, کیری ڈیویز، بی بی سی پاکستان نامہ نگار

    ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کی کوششوں کے تحت طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ابھی ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔

    اگرچہ جنگ بندی تکنیکی طور پر اپریل کے اوائل سے نافذ تھی، تاہم اس عرصے کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر وقفے وقفے سے ہونے والے جوابی حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، لیکن مذاکرات نہیں‘ ایک ایسا مؤقف دکھائی دیتا ہے جو بیک وقت دروازہ بند بھی کرتا ہے اور تھوڑا سا کھلا بھی چھوڑ دیتا ہے۔

    یہ حکمتِ عملی اُن کے اُن بیانات سے مختلف نہیں جو جنگ بندی کے اعلان اور ایم او یو پر دستخط کے درمیان سامنے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ٹرمپ نے ایک طرف ایران کو معاہدہ کرنے کی صورت میں ممکنہ فوائد کا عندیہ دیا تھا، جبکہ دوسری جانب معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت نتائج اور تباہ کن کارروائیوں کی دھمکی بھی دی تھی۔

    حالیہ بیانات ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور مایوسی کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ مایوسی دونوں ممالک کو دوبارہ براہِ راست محاذ آرائی اور فوجی کارروائیوں کی جانب لے جائے گی، یا پھر سفارتی رابطوں کا سلسلہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روک سکے گا؟

    فی الحال صورتِ حال یہی اشارہ دیتی ہے کہ اگرچہ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ یہی عنصر آنے والے دنوں میں اس بحران کی سمت کا تعین کرے گا۔

  4. مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے ریپ اور قتل پر غم و غصہ، ایک ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    انڈیا کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں 11 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے بعد شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے دوران ایک ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔

    باروئی پور کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر پولیس نے مقدمے میں ریپ کی دفعات شامل کی ہیں، حالانکہ ابتدائی اطلاعات میں ریپ کا ذکر موجود نہیں تھا۔ پولیس نے تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    متاثرہ بچی کے اہل خانہ کے مطابق وہ سنیچر کے روز لاپتہ ہوئی تھی۔ اتوار کو ایک تالاب سے اس کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک نوجوان کو ملزم سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔

    بعد ازاں مقامی سطح پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ہجوم کے ہاتھوں مارا جانے والا شخص ممکنہ طور پر بے گناہ تھا۔ واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچی کی گمشدگی کی ابتدائی شکایت پر فوری اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

    پولیس نے اتوار کو ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا، جبکہ بعد میں دو مزید افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ تین دیگر افراد کو بھی پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔

    مبینہ پولیس مقابلہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تشویش

    پولیس کے مطابق منگل کی رات گرفتار ملزم پربھاس منڈل کو تفتیش کے سلسلے میں جرم کی جگہ پر لے جایا گیا تھا تاکہ واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کی جا سکے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران پربھاس منڈل نے ایک اہلکار کا سروس ریوالور چھین لیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوا اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

    پولیس کے مطابق بچی کے اہل خانہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پربھاس منڈل کی شناخت کی تھی اور اسے کیس کا اہم ملزم قرار دیا گیا تھا۔

    ملزم کی ہلاکت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کے مؤقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

    ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس کے رہنما رنجیت سور نے کہا کہ پربھاس منڈل اس کیس کے ایک اہم گواہ اور ملزم تھے، اور ان کی موت سے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس مقابلوں کے بارے میں اکثر ایک جیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، جن میں ملزم کے پولیس کا ہتھیار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کرنے اور پھر فائرنگ میں مارے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

    اس واقعے نے سیاسی صورت حال کو بھی گرم کر دیا ہے۔ ریاست کی سیاست میں مختلف جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھر ترنمول کانگریس اور دیگر سیاسی حلقوں کے درمیان بھی اس معاملے پر الزام تراشی جاری ہے، جس کے باعث یہ واقعہ صرف ایک فوجداری مقدمہ ہی نہیں بلکہ ایک سیاسی موضوع بھی بن گیا ہے۔

  5. امریکہ، ایران کے ایک دوسرے پر تازہ حملے: پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس میں 4600 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4626 پوائنٹس کی کمی کے بعد 181,629 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    بدھ کی صبح مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ تاہم کاروباری اوقات کے دوران امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان نے مارکیٹ پر مزید منفی اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں ایک وقت میں انڈیکس میں 6700 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 179,504 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔

    اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس میں تقریباً 7800 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم منگل کو مارکیٹ میں 11 پوائنٹس کی معمولی کمی دیکھی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ رات امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کا دباؤ آج پاکستان سمیت متعدد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں پر بھی نظر آیا۔

    ان کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق اعلان کے بعد سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا ہوئی اور گھبراہٹ میں حصص کی فروخت بڑھ گئی، جس سے مارکیٹ پر مزید دباؤ پڑا۔

    شہریار بٹ نے کہا کہ جب فروری کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت بھی سرمایہ کاروں کی گھبراہٹ کے باعث حصص کی فروخت میں اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ جون کے مہینے میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں خاصی تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس میں مجموعی طور پر 6338 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جون کے اختتام پر انڈیکس 180,301 پوائنٹس پر بند ہوا، جو مئی کے اختتام پر ریکارڈ کیے گئے 173,692 پوائنٹس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھا۔

  6. شپنگ کمپنی کی آبنائے ہرمز میں اپنے ٹینکر پر حملے کی تصدیق

    ٹینکر کمپنی بحری نے تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک جہاز ’ویدیان‘ منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک ’واقعے‘ کا شکار ہوا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہم یہ تصدیق کرتے ہوئے مطمئن ہیں کہ جہاز پر موجود تمام عملہ اور دیگر افراد محفوظ ہیں، اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔‘

    بحری کے مطابق جہاز پر موجود کارگو محفوظ ہے۔ جہاز سمندر میں سفر کے قابل ہے۔ واقعے کے باوجود جہاز کی بنیادی آپریشنل صلاحیت برقرار ہے۔

    اس سے قبل بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی تھی کہ ویدیان اُن تین جہازوں میں شامل تھا جنھیں حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

  7. امریکہ نے ایران میں رات بھر کہاں حملے کیے؟

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تازہ فضائی کارروائی میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    اب تک درج ذیل مقامات پر حملوں کی تصدیق یا اطلاعات سامنے آئی ہیں:

    • ایرانی فوج کے مطابق صوبہ ہرمزگان اور ماہشہر کے علاقوں میں واقع ساحلی فوجی اڈوں اور بعض شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
    • بندر ماہشہر، جو جنوب مغربی ایران میں واقع ہے، پر بھی حملے کیے گئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک ایرانی فوجی شیل کے ٹکڑوں (شریپنل) لگنے سے ہلاک ہوا۔
    • ایرانی ذرائع ابلاغ نے بوشہر کے علاقے میں بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    حملوں کا زیادہ تر مرکز آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ساحلی علاقے تھے، جو عالمی تیل اور تجارتی بحری نقل و حمل کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

  8. رات بھر میں دو بیلسٹک میزائل اور 13 ڈرون مار گرائے: کویت

    کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق، ملک نے رات بھر میں دو بیلسٹک میزائل اور 13 ڈرون تباہ کر دیے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں وزارتِ دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل سعود عبدالعزیز العتیبی نے کہا کہ کویت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی، تاہم تمام میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا گیا اور اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    تاہم، بعد ازاں کویتی حکام نے ملک کے بعض علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

  9. ایران کے حملے ناقابلِ قبول، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنائی جائے: کاجا کلاس

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری پیچیدہ سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

    ایکس پر کاجا کلاس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے بحرین اور کویت پر حملے ’ناقابلِ قبول‘ ہیں اور اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملے اس عہد کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں توانائی کی ترسیل کی بحالی کے عمل کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

    یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی جہاز رانی کو بلا رکاوٹ جاری رہنا چاہیے اور سمندری راستوں پر آزادیِ نقل و حمل کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    کاجا کلاس نے مزید بتایا کہ آئندہ پیر کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اپنے خلیجی ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ اس اجلاس میں فریقین اس بات پر غور کریں گے کہ معاہدے پر عمل درآمد میں کس طرح تعاون کیا جا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

    یورپی یونین کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام اور توانائی کی محفوظ ترسیل کے لیے سمندری راستوں کا کھلا اور محفوظ رہنا ناگزیر ہے۔

  10. بحرین اور کویت پر ایرانی حملے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں، قطر

    قطر نے بحرین اور کویت پر ایران کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انھیں ’بلا جواز‘ قرار دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے دونوں ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں زور دیا گیا کہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، جبکہ فریقین کو مفاہمتی یادداشت کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت پر بھی آگے بڑھنا چاہیے تاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ مل سکے۔

    قطر نے بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ہیں، اور یہ کارروائی گذشتہ رات ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔

  11. ایران کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی پر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’ختم‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے اس معاملے پر دوٹوک یا سخت بیان دیا ہو۔

    ماضی میں بھی وہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور ایران سے متعلق متضاد اور سخت مؤقف اپناتے رہے ہیں۔

    • 8 اپریل: امریکہ اور ایران نے عارضی طور پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
    • 21 اپریل: ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور توقع رکھتے ہیں کہ جلد دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم اسی روز انھوں نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر حملے روک دیے گئے ہیں۔
    • 8 مئی: ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کو اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے جب ’ایران سے ایک بڑی چمک اٹھتی نظر آئے گی‘۔
    • 11 مئی: چند روز بعد انھوں نے کہا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے۔
    • 11 جون: ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور ایران پر سخت حملوں کی دھمکی دی، تاہم اسی شام حملے روک دیے گئے۔
    • 17 جون: جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’اگر انھوں نے مناسب رویہ نہ اپنایا تو ہم دوبارہ ان کے سروں کے عین اوپر بم برسانا شروع کر دیں گے۔‘
    • 8 جولائی: ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے، تاہم یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔

    یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ مختلف مواقع پر ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے رہے، جبکہ بعض اوقات مذاکرات کے لیے گنجائش بھی باقی رکھتے رہے۔

  12. امریکہ ورلڈ کپ کے میزبان کے طور پر بھی اپنی روایتی خارجہ پالیسی ہی پر عمل پیرا ہے، مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے میزبان کی حیثیت سے بھی اپنی روایتی خارجہ پالیسی کے انداز کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت قواعد کو اپنے حق میں موڑنے، حریفوں پر دباؤ ڈالنے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور دھوکہ دہی جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے، اور یہ سب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’میگا‘ نظریے کا حصہ ہے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ وہ ایسے طرزِ عمل کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے حقوق کے دفاع کے لیے ثابت قدمی سے کھڑے رہیں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ یا غیر منصفانہ اقدامات کو قبول نہیں کرے گا۔

  13. آبنائے ہرمز میں متاثر ہونے والے تین ٹینکروں کے بارے میں اب تک کیا سامنے آیا ہے؟

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے ہیں، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے بتائی گئی ہے۔

    امریکہ کی جانب سے جن تین جہازوں کا ذکر کیا گیا، ان کے بارے میں دستیاب معلومات یہ ہیں۔

    الرقیات یہ قطر کی ملکیت میں ایک مائع قدرتی گیس لے جانے والا ٹینکر ہے۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق، 6 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے عمان کے ساحل کے قریب اسے ایک پروجیکٹائل (گولہ یا میزائل نما شے) نے نشانہ بنایا۔

    حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنے خودکار شناختی نظام کا سگنل بند رکھے ہوئے تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اسے آخری بار 22 جون کو قطر کے اہم ایل این جی برآمدی مرکز کے قریب دیکھا گیا تھا۔

    ودیان یہ سعودی عرب کی ملکیت میں ایک خام تیل بردار ٹینکر ہے، جو سعودی خام تیل لے جا رہا تھا۔ اس کا اے آئی ایس سگنل 3 جولائی سے بند ہے۔

    سائپرس پرسپیریٹی یہ لائبیریا کے پرچم تلے رجسٹرڈ خام تیل بردار ٹینکر ہے۔ یہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنا مقام ظاہر کرنے والا اے آئی ایس سگنل استعمال کر رہا تھا اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے لیے تیل لے جا رہا تھا۔

    برطانیہ کی سمندری تجارتی کارروائیوں کی اتھارٹی (یو کے ایم ٹی او) نے تین علیحدہ واقعات کی تصدیق کی ہے، تاہم اس نے متاثرہ جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    برطانوی سمندری ادارے کے مطابق ان واقعات میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  14. جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق ٹرمپ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    تیل کے تاجروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر فوری ردِعمل دیا ہے کہ جنگ بندی ’ختم ہو چکی ہے۔‘

    ٹرمپ کے یہ ریمارکس دینے سے کچھ دیر پہلے خام تیل کا ایک بیرل تقریباً 76 ڈالر (57 پاؤنڈ) میں فروخت ہو رہا تھا۔

    خام تیل کی قیمت 78 ڈالر (58 پاؤنڈ) فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور بظاہر اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان رات بھر ہونے والے حملوں کے تبادلے کے بعد تیل کی قیمتیں پہلے ہی بتدریج بڑھنا شروع ہو گئی تھیں۔

  15. اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے استعمال کرتا، ٹرمپ کے ایرانی قیادت سے متعلق سخت ریمارکس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران ایک صحافی نے پوچھا ’کیا جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟ کیا یہ معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے؟ کیا مفاہمتی یادداشت اب مردہ ہو چکی ہے؟

    (جنگ بندی کی بنیاد بننے والی مفاہمتی یادداشت گزشتہ ماہ طے پائی تھی۔)

    اس پر ٹرمپ نے جواب دیا ’یہ بہت دلچسپ سوال ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ختم ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، وہ غلیظ لوگ ہیں۔ جانتے ہیں غلیظ لوگ کس کو کہتے ہیں؟ وہ غلیظ لوگ ہیں۔ وہ بیمار لوگ ہیں۔ ان کی قیادت بیمار لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ بے رحم اور پرتشدد لوگ ہیں۔‘

    ’اور اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے استعمال کرتے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں اپنے مذاکرات کاروں سے بات کروں گا، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، وہ اچھے لوگ ہیں۔ سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، لیکن انھیں واپس آ کر مجھ سے بات کرنا ہوگی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘

    انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں ان (نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے ساتھ کوئی معاہدہ کروں تو معاہدہ ہو جاتا ہے۔ وہ باہر جا کر اسی کے مطابق بات کرتے ہیں۔

    ’ہم (امریکہ اور ایران) ایک معاہدہ کرتے ہیں، سب متفق ہوتے ہیں کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔

    ’ہم معاہدہ کرتے ہیں، پھر وہ (ایران) باہر جا کر میڈیا سے کہتے ہیں کہ ’ہم نے تو اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی۔ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ وہ پاگل ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘

    اس کے بعد ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے؟

    انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے اس کی پروا نہیں۔ وہ بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹ بولنے والوں کا ایک ٹولہ ہیں۔‘

  16. بریکنگ, ایران کے ساتھ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے، ان کے ساتھ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ختم ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، وہ بیمار ذہنیت کے دھوکے باز اور بُرے لوگ ہیں۔‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کے مذاکرات کار بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن ان کے بقول: ’وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘

  17. امریکی حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے بعض حصے ’غیر مؤثر‘ ہو گئے: ایران

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی، ایران پر امریکی حملے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جاری کارروائیوں کے باعث ’جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کے اہم اور بنیادی حصے غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔‘

    ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی ’سالمیت، قومی خود مختاری اور قومی سلامتی‘ کے دفاع سے گریز نہیں کرے گا۔

    عراقچی نے اُن خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ جاری کیا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملے کیے گئے تو تہران اس جگہ کو نشانہ بنائے گا جہاں سے حملے کیے گئے۔

  18. قطر کا ایران اور امریکہ سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

    ایران امریکہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے قطر نے باہمی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔

    قطر نے اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا تھا۔

    لیکن گذشتہ روز آبنائے ہرمز میں ایک گیس ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد قطر نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے اس حملے کی مذمت کی تھی۔ بدلے میں ایران نے قطر کے مؤقف پر تنقید کی۔

    امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے آج صبح جنوبی ایران پر یہ حملہ قطری گیس ٹینکر اور دو دیگر جہازوں پر حملے کے جواب میں کیا۔

  19. خیبر پختونخوا پولیس کو 76 جدید ڈرونز فراہم کر دیے گئے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کو تھرمل ٹیکنالوجی سے لیس 76 جدید ڈرونز فراہم کیے گئے ہیں۔

    تھرمل ٹیکنالوجی سے مراد ایسی ٹیکنالوجی ہے جو اشیا، انسانوں یا جانوروں سے خارج ہونے والی حرارت کو شناخت کر سکتی ہے۔ ڈرونز میں نصب تھرمل کیمرے اندھیرے، دھند، دھوئیں یا مشکل زمینی حالات میں بھی حرارت کے ذریعے لوگوں اور اشیا کا پتا لگا سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خیبر پختونخوا پولیس کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق یہ کثیر المقاصد ڈرونز آپریشنز اور ہنگامی ردعمل کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

    صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال خیبر پختونخوا پولیس کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  20. پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے امریکی حملوں میں اپنے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق

    بندر محشر میں پاسداران انقلاب کے تیسرے نیول ریجن کے تعلقات عامہ کے دفتر نے اعلان کیا کہ اس کا ایک فوجی آج صبح امریکی حملے میں مارا گیا ہے۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب کا اہلکار ’آج صبح دشمن کے ڈرون کا مقابلہ کرتے ہوئے‘ مارا گیا۔

    امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے تین بحری جہازوں پر گذشتہ روز کے حملوں کے جواب میں جنوبی ایران میں 80 اہداف پر بمباری کی ہے۔

    اس سے قبل ان حملوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ایران نے آبنائے ہرمز میں ان بحری جہازوں پر کل کے حملوں کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔