اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدور کی مشکل: ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ’تلخ‘ فون کال سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, برنڈ ڈیبزمین جونیئر
- عہدہ, وائٹ ہاؤس رپورٹر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے ایک اور صدر ہیں جن کے بظاہر اسرائیلی وزیراعظم سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ لبنان میں اسرائیلی عسکری کارروائی بتائی جا رہی ہے جس نے ایران کے ساتھ سفارتی حل کو مشکل بنا دیا ہے۔
تہران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکہ سے بات چیت معطل کرنے کا عندیہ دیا تھا جس نے ایک غیر مقبول جنگ سے باہر نکلنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو ممکنہ طور پر دھچکہ پہنچایا تھا۔
نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ فون پر ہونے والی اس گفتگو کی بھی تصدیق کی، جس میں انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے لیے نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ: ’(نیوز ویب سائٹ) ایگزیوس نے رپورٹ کیا کہ آپ کی بی بی نیتن یاہو سے فون پر بات ہوئی تھی، جس میں آپ نے ان پر غصہ کیا تھا اور کہا تھا ’کیا آپ پاگل ہو؟ یہ آپ کیا کر رہے ہو؟ میں نے آپ کی جیل سے باہر رہنے میں مدد کی۔‘ کیا آپ (ٹرمپ) نے ان سے اس طرح سے بات کی تھی؟‘
امریکی صدر نے اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’جی ہاں، میں نے کی تھی۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، میں ان کی لبنان سے مسلسل لڑائی کے سبب کچھ پریشان سا ہو گیا تھا۔‘
’میں نے کہا ہمیں اسے روکنا پڑے گا۔‘
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ان سے ایک بہت اچھا تعلق ہے۔ ہم نے ساتھ مل کر اچھا کام کیا ہے، میں بی بی (نیتن یاہو) کو بہت پسند کرتا ہوں اور میں نے ان کے ساتھ اچھا کام کیا ہے۔‘
ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جو نیتن یاہو سے الجھ بیٹھے ہیں۔ نیتن یاہو امریکی صدور کے صبر کو آزمانے کی پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ اور سیاسی طور پر کسی نقصان سے بچنے کی بھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب خود نیتن یاہو نے اس بارے میں کہا ہے کہ ’اچھے خاندانوں کی طرح کبھی کبھی اختلاف رائے ہوتا ہے۔‘ سی این بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں، اور اچھے دوستوں کی طرح۔‘
نیتن یاہو نے کہا کہ ’دونوں کے درمیان صبح میں اختلاف ہو سکتا ہے اور دوپہر تک اتفاق ہو جاتا ہے۔‘
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ہونے والی بات چیت امریکی اور اسرائیلی عسکری اور سیاسی مقاصد کی ہم آہنگی کے حوالے سے امریکی مایوسی کی جانب اشارہ کر سکتی ہے جو ایران جنگ سے جڑی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بریٹ بروین سابق سفارت کار اور گلوبل سچویشن روم نامی کرائسس کمیونیکیشن ایجنسی کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’نیتن یاہو اپنی مرضی کرنے کی طویل تاریخ رکھتے ہیں چاہے واشنگٹن انھیں کچھ بھی کہتا رہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بریٹ کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اب ایک مشکل سبق سیکھ رہے ہیں کہ جب آپ کسی ایسے سربراہ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے ہیں جس کے مقاصد آپ کی ترجیحات سے مختلف ہوں تو کیا ہوتا ہے۔‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو امریکہ کے بنیادی مقصد پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جائے۔ لیکن لبنان میں مفادات مختلف ہیں جہاں اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے جبکہ ایران سے بات چیت جاری ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل ہونا چاہیے۔
ایسے میں امریکہ میں ایسے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو امریکہ کی اسرائیل کے لیے حکومتی حمایت پر تنقید کر رہے ہیں۔
اپریل میں پی ای ڈبلیو کی تحقیق کے مطابق 60 فیصد امریکی شہری اسرائیل کے لیے منفی خیالات رکھتے ہیں۔ حماس سے جنگ کے آغاز سے قبل یہ تعداد 42 فیصد تھی۔
امریکہ میں کئی قدامت پسند شخصیات بھی اس بارے میں بات اور تنقید کر چکی ہیں کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران جنگ کے لیے ٹرمپ کو قائل کیا اگرچہ وائٹ ہاؤس اور نیتن یاہو دونوں ہی اس کی تردید کرتے ہیں۔
ان ناقدین میں جو کینٹ بھی شامل ہیں جو قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے سربراہ تھے لیکن مارچ میں مستعفی ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی۔‘
امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، جو اسرائیل کا حامی لابنگ گروپ ہے، نے جو کینٹ کے استعفے پر ردعمل میں ان پر الزام لگایا کہ وہ ’قدیم زمانے کے یہودی مخالف رویوں‘ کو دہرا رہے ہیں۔
اس سیاسی ماحول میں چند ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی ناقدین کو خوش کرنے کے لیے ٹرمپ کے پاس نیتن یاہو سے اختلاف کا جواز موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بریٹ کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں ایک سیاسی ضرورت ہے کہ اسرائیل اور امریکہ میں فرق دکھایا جائے۔ چاہے لبنان ہو یا غزہ، نیتن یاہو نے چند ایسے فیصلے لیے ہیں جو سیاسی طور پر ٹرمپ اور رپبلکن جماعت کے لیے مسائل سے بھرپور رہے ہیں۔‘
ٹرمپ سے پہلے بھی امریکی صدور کے لیے نیتن یاہو ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔ اوسلو امن معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے نیتن یاہو کا سابق صدر بل کلنٹن سے جھگڑا ہوا تھا۔ باراک اوباما کے ساتھ نیتن یاہو کو اور مشکلات پیش آئیں خصوصا 2015 میں ایران پر امریکی کانگریس میں ایک خطاب کے بعد جو وائٹ ہاؤس کے علم میں لائے بغیر ہی طے کر لیا گیا تھا۔
جو بائیڈن سے نیتن یاہو کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب انھوں نے امریکہ پر اسلحہ فراہمی روکنے کا الزام لگایا۔
نیٹن ساچس مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں امریکہ اسرائیل تعلقات کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیتن یاہو کا امریکی صدور سے تعلق کافی خراب رہا ہے۔
’وہ ایک مشکل شخصیت ہیں اور اس کی ایک وجہ شک بھی ہے۔‘
ٹرمپ نے گزشتہ سال بھی نیتن یاہو کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک نامناسب لفظ استعمال کیا تھا جب 12 روزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے حملے نے ایران سے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ٹرمپ اور نیتن یاہو کا تعلق مثبت رہا ہے اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ’امریکی تاریخ میں اسرائیل کا سب سے عظیم دوست‘ قرار دیا ہے۔
نیٹن ساچس کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ میں نیتن یاہو کو ایک ایسا شخص مل گیا جو مشرق وسطی کے معاملات کو نئے طریقے سے بدلنے پر رضامند نظر آتا ہے۔‘
’نیتن یاہو کھیل کے اصول بدلنا چاہتے تھے اور ایرانی مزاحمت کے محور سے عسکری طریقے سے نمٹنا چاہتے تھے۔‘
کیا حالیہ تنازع اس تعلق کو بدل کر رکھ دے گا؟ اس سوال کا جواب ابھی واضح نہیں ہے۔ ساچس کہتے ہیں کہ ’یہ اہم تو ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ ایک بار ہوا یا اس کے پیچھے وسیع اختلافات موجود ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ نے ماضی میں بہت سے لوگوں کے بارے میں اپنی رائے بدلی ہے۔‘



























