آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
- مصنف, ایمن خواجہ، گلوبل جرنلزم ٹیم
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو ایک ماہ سے زائد وقت گزر چکا ہے اور اب یہ خدشات تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں کہ کیا مشرق وسطیٰ میں جاری یہ تنازع مزید پھیل کر کسی بڑے عالمی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں ہیں بلکہ خلیج میں واقع کم از کم ایک درجن دیگر ممالک بھی کسی نہ کسی طرح اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، عراق، بحرین، کویت، سعودی عرب، عمان، آذربائیجان، مقبوضہ مغربی کنارہ، قبرص، شام، قطر اور لبنان شامل ہیں۔
اسی پس منظر میں بہت سے لوگ ان امکانات پر بات کر رہے ہیں کہ کیا موجودہ تنازع علاقائی سطح سے نکل کر ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟
ایک جنگ عالمی جنگ کب بنتی ہے؟
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تاریخ کی پروفیسر مارگریٹ میکملن کہتی ہیں کہ ’لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ جنگیں بہت سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے تحت لڑی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ جنگ شروع کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘
بی بی سی کے گلوبل سٹوری پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے پروفیسر مارگریٹ نے کہا کہ ’اگر آپ ماضی کی جنگوں پر نظر ڈالیں، خاص طور پر پہلی عالمی جنگ، تو اس کے آغاز کی بڑی وجہ حادثات تھے یا مخالفین کے بارے میں غلط اندازے۔‘
پروفیسر مارگریٹ کے مطابق: ’کبھی کبھی اس کو سکول کے میدان میں ہونے والی لڑائی کی طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ سنہ 1914 میں پہلی عالمی جنگ کا آغاز آسٹریا، ہنگری کے بادشاہ فرانز جوزف کے بھتیجے، آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کے قتل سے ہوا۔ اس کے بعد پے در پے ایسے واقعات ہوئے جو بالآخر ایک عالمی جنگ میں بدل گئے۔
چند ہی ہفتوں کے اندر پورا یورپ اس کی لپیٹ میں آ چکا تھا: آسٹریا ہنگری نے سربیا کے خلاف کارروائی کی، جرمنی نے آسٹریا کی حمایت کی، روس نے سربیا کے حق میں فوجیں متحرک کیں، فرانس روس کے ساتھ کھڑا ہوا، اور برطانیہ نے وقار اور حکمتِ عملی کے نام پر جنگ میں قدم رکھ دیا۔
پروفیسر مارگریٹ کے مطابق، اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ عالمی سانحہ بن گیا۔
کنگز کالج لندن میں بین الاقوامی تاریخ کے پروفیسر جو مایولو کے مطابق، عالمی جنگ سے مراد ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جس میں تمام بڑی عالمی طاقتیں شامل ہوں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’پہلی عالمی جنگ میں یورپی سامراجی طاقتیں ہی عالمی طاقت تھیں، جبکہ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ، جاپان اور چین بھی اس میں شامل ہو گئے تھے۔‘
بہت سے لوگ آج مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو بنیادی طور پر ایک علاقائی تنازع قرار دیتے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنازع عالمی سطح پر پھیلنے کے لیے حالات موجود ہیں یا نہیں؟
فروری میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں روسی صدر ولادیمیر پوتن تیسری عالمی جنگ کا آغاز پہلے ہی کر چکے ہیں، اور انھیں روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ماسکو پر سخت فوجی اور معاشی دباؤ ڈالا جائے۔
صدر زیلنسکی نے کہا تھا: ’میرا ماننا ہے کہ پوتن یہ جنگ پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کتنے علاقے پر قبضہ کر پائیں گے اور انھیں کیسے روکا جائے۔‘
تو اس بات کا کتنا خطرہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی؟
پروفیسر مارگریٹ کہتی ہیں: ’میری رائے میں وہ ملک جو کشیدگی بڑھا سکتا ہے، وہ غالباً ایران ہو گا یا ایران کے اتحادی، جیسا کہ یمن میں حوثی۔‘
ان کے مطابق ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ ایک خطے میں جاری تنازع دوسرے علاقوں میں مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
مثال کے طور پر چین یہ سوچ سکتا ہے کہ مغرب کی توجہ بٹی ہوئی ہے تو وہ تائیوان پر کوئی قدم بڑھا لے یا روس یہ سمجھ سکتا ہے کہ عالمی توجہ کہیں اور ہونے کے باعث وہ یوکرین میں اپنی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے۔
مارگریٹ کہتی ہیں: ’یہ امکان ہمیشہ رہتا ہے کہ ایک خطے سے جنگ پھیل کر دوسرے علاقوں تک پہنچ جائے۔ اس کی جزوی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خطے سے باہر کے ممالک تنازع کو اپنے لیے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ ان طاقتوں کو مصروف رکھتا ہے جو عام حالات میں انہیں روک سکتی تھیں۔‘
پروفیسر مایولو کا خیال ہے کہ یہ تنازع علاقائی سطح تک ہی محدود رہے گا اور اس میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، جیسے کہ سعودی عرب، کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ چین اور روس کو اس جنگ میں شامل ہوتا نہیں دیکھ رہے۔
وہ کہتے ہیں: ’دنیا میں کہیں کچھ ہو اور چین فوراً تائیوان پر حملہ کر دے گا، یہ قطعی بے بنیاد تصور ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم واقعی عالمی جنگ، یعنی تیسری عالمی جنگ کی بات کر رہے ہیں، تو مجھے بالکل نہیں لگتا کہ چین یا روس اس میں براہ راست شامل ہونے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ یورپ کا امکان تو اس سے بھی کم ہے۔‘
پروفیسر مایولو کا خیال ہے کہ چین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی سفارتکاری کے لیے ایک مختلف حکمت عملی طے کر رکھی ہے: ’جب آپ کا حریف ایک بڑی سٹریٹیجک غلطی کر رہا ہو تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ آپ اسے یہ غلطی کرتے رہنے دیں۔‘
کیا چین کے مفاد میں یہ ہے کہ وہ سفارتی کردار ادا نہ کرے، حالانکہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اسے بھی متاثر کر رہا ہے؟
اس سوال کے جواب میں پروفیسر مایولو کہتے ہیں کہ یہ قیمت تو بہت قابل قبول ہے: ’بڑے سٹریٹیجک مفادات کے حوالے سے دیکھا جائے تو امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں الجھا رہنا چین کے لیے کہیں زیادہ دلچسپ ہے، بہ نسبت تیل کے ذرائع کے۔‘
رہنماؤں کا کردار
مارگریٹ میکملن کے مطابق تاریخ یہ دکھاتی ہے کہ جنگیں اکثر غرور، وقار کے احساس یا مخالفین کے خوف کے باعث شروع ہوتی ہیں۔
وہ تاریخ سے اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہیں کہ رہنما واقعات کے دھارے کو موڑ سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’پہلی عالمی جنگ میں فرانس کے وزیر اعظم جارجز کلیمنسو نے کہا تھا: امن قائم کرنا جنگ چھیڑنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔‘
پروفیسر مارگریٹ کے مطابق اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جب عوام کا بھاری نقصان ہو چکا ہو تو رہنما یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ انھیں ’جنگ جیتنے تک اسے جاری رکھنا ہو گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ غرور رہنماؤں کے فیصلوں میں ایک اہم عنصر بن سکتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یوکرین پر حملہ کر کے انھوں نے واضح طور پر ایک بڑی غلطی کی۔‘
مارگریٹ کے مطابق چار سال پہلے حملے کے آغاز پر پوتن نے کہا تھا کہ ان کا مقصد یوکرین کو ’غیر فوجی اور غیر نازی‘ بنانا ہے، تاہم ابھی تک روس یہی کہہ رہا ہے کہ یوکرین میں اس کے فوجی اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔
برطانیہ کی وزارت دفاع کے اندازوں کے مطابق روس میں اب تک 12 لاکھ 50 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانوی وزیر دفاع کے مطابق ہلاکتوں کی اصل تعداد اس اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ کے مجموعی جانی نقصان سے بھی زیادہ ہے۔
مارگریٹ مزید کہتی ہیں کہ ناکامی تسلیم کرنے یا پیچھے ہٹنے سے انکار کرنے والے رہنما تنازعات کو طول دے سکتے ہیں اور انہیں مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایڈولف ہٹلر جیسے رہنما بھی شکست یقینی ہونے کے باوجود لڑتے رہے، اس کی وجہ ان کا نظریہ، غرور اور خود فریبی تھی۔
ایسے فیصلے محدود تنازعات کو پھیلا کر تباہ کن جنگوں میں بدل سکتے ہیں۔
کشیدگی میں کمی کے طریقے
مارگریٹ میکملن کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری انتہائی اہم ہے، ’آپ کو دوسرے فریق کے بارے میں جاننا ہوتا ہے اور ان کے ساتھ رابطے میں رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔‘
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ سرد جنگ کے آخری مراحل میں اور نیٹو کے کردار کی وجہ سے تمام فریقوں کے درمیان رابطے بہتر ہوئے تھے۔
ان کا کہنا ہے: ’ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں لوگوں نے کہا کہ ذرا رکیں، یہ صورتحال حد سے زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ کشیدگی بہت بڑھ رہی ہے اور درجۂ حرارت کم کرنا ضروری ہے۔‘
جب بڑی طاقتیں ملوث ہوں تو جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کشیدگی کم کرنے کی پالیسیوں میں ہمیشہ ایک اہم عنصر ہوتی ہے۔
پروفیسر مایولو بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’تل ابیب، واشنگٹن اور تہران کو یہ بات تسلیم کرنی ہو گی کہ وہ اب مزید کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔‘
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ مزید جنگ کسی بھی فریق کے لیے مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرے گی، ’پابندیوں میں نرمی، سکیورٹی سے متعلق کچھ انتظامات اور عالمی سیاست میں ایران کے کردار کے حوالے سے کوئی طریقۂ کار طے کرنے کی ضرورت ہو گی۔‘
پروفیسر مایولو کا کہنا ہے کہ صرف ثالثی کے ذریعے ہی جنگ بند ہو سکتی ہے اور پھر اسے زیادہ پائیدار انتظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔