اسرائیلی فوجی، حضرت عیسیٰ کا مجسمہ اور جنوبی لبنان کی تصویر جس پر نیتن یاہو بھی ’حیران اور دکھی‘ ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, یولادے نیل
- عہدہ, مشرقِ وسطیٰ کی نامہ نگار
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اسرائیلی فوجی کی ایک تصویر، جس میں وہ جنوبی لبنان میں حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید مذمت کا باعث بنی ہے۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس واقعے پر ’حیران اور دکھی‘ ہیں۔
وزیرِ خارجہ گدعون ساعر نے کہا: ’ہم اس واقعے پر معذرت خواہ ہیں اور ہر اس مسیحی سے بھی معذرت کرتے ہیں جن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔‘
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ ایک صلیب پر نصب تھا جو دیبل گاؤں کے ایک گھر کے باہر واقع تھا۔ دیبل ان چند دیہات میں شامل ہے جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے دوران بھی کچھ لوگ مقیم رہے ہیں۔
دیبل میں کلیسیا کے سربراہ فادر فادی فلیفل نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم صلیب، جو ہمارا مقدس نشان ہے اور تمام مذہبی علامات کی بے حرمتی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘
’یہ انسانی حقوق کے اعلامیے کے خلاف ہے اور یہ مہذب رویے کی عکاسی نہیں کرتا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر حقیقی ہے، اور کہا کہ وہ اس واقعے کو ’انتہائی سنجیدگی سے‘ دیکھ رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ فوجی کا رویہ ان اقدار کے بالکل برعکس ہے جن کی اس کے اہلکاروں سے توقع کی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے مزید کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف ’مناسب کارروائی‘ کی جائے گی، اور یہ بھی بتایا کہ وہ مسیحی برادری کے ساتھ مل کر ’مجسمے کو اس کی جگہ پر بحال‘ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود ہزاروں اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان کے ایک وسیع علاقے میں بدستور موجود ہیں، جو جمعے کے روز اسرائیل اور لبنان کے درمیان نافذ العمل ہوئی تھی۔
اس جنگ بندی نے اسرائیلی دفاعی افواج اور شیعہ مسلم مسلح گروہ حزب اللہ کے درمیان چھ ہفتوں سے جاری لڑائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے، تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
امریکہ میں سخت ردِعمل: ’ہمارا سب سے بڑا اتحادی جو ہر سال ہمارے اربوں ڈالر کے ٹیکس اور ہتھیار لیتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہX
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مجسمے پر حملے کی خبر کے بعد اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے ایکس پر لکھا کہ ’فوری، سخت اور عوامی نتائج ضروری ہیں۔‘
امریکہ کے دائیں بازو کے مبصرین نے بھی اسرائیلی فوجی اور حضرت عیسیٰ کے مجسمے کی تصویر کی فوری مذمت کی۔
سابق رکن کانگریس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر میٹ گیٹز نے تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ’خوفناک‘ قرار دیا۔ سابق امریکی رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے بھی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارا ’سب سے بڑا اتحادی‘ جو ہر سال ہمارے اربوں ڈالر کے ٹیکس اور ہتھیار لیتا ہے۔‘
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں، جو اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی ہے، حالیہ عرصے میں اسرائیل کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ امریکہ میں قائم تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی بالغ افراد اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جو گذشتہ سال 53 فیصد تھی۔
اس سے قبل گذشتہ ماہ اس وقت بھی عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا جب اسرائیلی پولیس نے یروشلم میں رومن کیتھولک چرچ کے اعلیٰ رہنما کو پام سنڈے کے موقع پر چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں نجی عبادت میں شرکت سے روک دیا۔
اسرائیلی پولیس نے کہا کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ جنگ کے دوران سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا۔
ہکابی نے اس واقعے کو ’ایک افسوسناک حد سے تجاوز‘ قرار دیا جس کے عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی پابندیوں کے تحت 50 افراد تک مذہبی اجتماعات کی اجازت تھی۔۔۔ جس پر ہکابی نے کہا کہ چرچ رہنماؤں کو داخلے سے روکنے کا فیصلہ ’سمجھنا یا اس کا جواز پیش کرنا مشکل ہے۔‘
2025 کی ایک رپورٹ میں، جو یروشلم میں قائم راسنگ سینٹر نامی ادارے نے جاری کی اور جس کا مقصد مقدس سرزمین میں بین المذاہب تعلقات کو فروغ دینا ہے، کہا گیا ہے کہ ’حالیہ عرصے میں عیسائیت کے خلاف کھلی دشمنی میں اضافہ ہوا ہے‘، جس کی وجہ ’سماجی تقسیم میں مسلسل اضافہ اور انتہائی قوم پرستانہ سیاسی رجحانات‘ کو قرار دیا گیا ہے۔
نیتن یاہو نے حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے متعلق اپنی پوسٹ انگریزی میں لکھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ’اسرائیل میں مسیحی آبادی مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں کے برعکس ترقی کر رہی ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا: ’اسرائیل خطے کا واحد ملک ہے جہاں مسیحی آبادی اور معیارِ زندگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں وہ واحد جگہ ہے جہاں سب کے لیے عبادت کی آزادی موجود ہے۔‘
حزب اللہ نے فروری کے آخر میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے تہران پر حملے کے دو دن بعد ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کیے۔
لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ کو شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں اور 2290 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 177 بچے اور 100 طبی کارکن شامل ہیں۔
اسی مدت میں اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ کے حملوں میں 13 اسرائیلی فوجی اور دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
’حزب اللہ کے زیرِ اثر یہ مجسمہ محفوظ رہا اور اسرائیلی کنٹرول میں اسے تباہ کر دیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہashoswai
سوشل میڈیا پر اس واقعے پر دنیا بھر سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
جیزر نامی صارف نے لکھا کہ ’جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے زیرِ اثر یہ مجسمہ محفوظ رہا اور جیسے ہی یہ علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں آیا تو اسے تباہ کر دیا گیا؟ اور پھر اسرائیلی ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ حزب اللہ مسحیوں کی دشمن ہے؟‘
سینک یوگر نے لکھا ’اسرائیلی طالبان کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں۔ وہ دوسرے مذاہب کے مقدس مقامات اور نشانیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے چرچوں اور مساجد پر حملے کیے ہیں۔ انھوں نے دوسرے مذاہب کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے۔ اب وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں تاکہ یہ دکھا سکیں کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔‘
کئی صارفین ایک سال پہلے کی ایک ویڈیو بھی شیئر کر رہے ہیں جس میں ایک اسرائیلی فوجی نے مبینہ طور پر جنوبی لبنان کے گاؤں یارون میں سینٹ جارج کے مجسمے کو مسمار کرتے ہوئے اپنی ویڈیو خود ریکارڈ کی، اور یہ واقعہ اس وقت پیس آیا جب مسیحی پام سنڈے منا رہے تھے۔



























