’ایورسٹ پر معجزہ‘: وہ گائیڈ جسے مردہ سمجھ لیا گیا تھا، چھ روز بعد برف پر رینگتے ہوئے مل گیا

دوا شیرپا چونکہ چھ روز سے لاپتہ تھے اس لیے انھیں مردہ سمجھ لیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندوا شیرپا چونکہ چھ روز سے لاپتہ تھے اس لیے انھیں مردہ سمجھ لیا گیا تھا
    • مصنف, کمال پرییار، کوو ایو
    • عہدہ, بی بی سی، کھٹمنڈو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک نیپالی کوہ پیما گائیڈ، جنھیں مردہ تصور کر لیا گیا تھا، زندہ حالت میں مل گئے ہیں۔

لاپتہ ہونے کے چھ روز بعد انھیں ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کی جانب رینگتے ہوئے آتا دیکھا گیا، جس کے بعد انھیں ریسکیو کر لیا گیا۔

دوا شیرپا نامی اس نیپالی گائیڈ کو آخری بار ماؤنٹ ایورسٹ کے کیمپ تھری سے اُوپر، تقریباً 7,500 میٹر کی بلندی پر اُس وقت دیکھا گیا تھا جب وہ چوٹی سر کرنے کے بعد واپس نیچے اُتر رہے تھے۔ تاہم اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔

اتنی بلندی پر ہوا میں آکسیجن انتہائی کم ہونے کی وجہ سے اُن کے زندہ رہنے کی اُمید نہ ہونے کے برابر تھی، مزید یہ کہ انھیں لاپتہ ہوئے ایک، دو روز نہیں بلکہ چھ روز ہو چکے تھے۔

تاہم جمعرات (چار جون) کو ماؤنٹ ایورسٹ پر صفائی کے کام پر معمور عملے کے اراکین نے اِس تجربہ کار کوہ پیما گائیڈ کو اُس وقت دیکھا جب وہ اپنے ہاتھوں پر فراسٹ بائٹ کے باوجود آہستہ آہستہ نیچے بیس کیمپ کی جانب سِرک رہے تھے۔

تلاش اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی ’8K ایکسپیڈیشنز‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیمبا شیرپا نے کہا کہ ’دوا شیرپا نے تمام تر مشکلات کے باوجود ماؤنٹ ایورسٹ پر کئی روز تک زندہ رہ کر دکھایا ہے۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ ایک حقیقی سیلف ریسکیو ہے۔‘

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق رواں سیزن میں ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کے دوران اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تین نیپالی کوہ پیما بھی شامل ہیں۔ رواں سیزن کے دوران ایک ہزار سے زائد کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی چوٹی سر کی ہے، جس کے باعث یہ سیزن تاریخ کا سب سے مصروف ترین سیزن بن گیا ہے۔

دوا شیرپا جب ملے تو اُن کے ہاتھوں پر فراسٹ بائیٹ ہو چکا تھا، اور اب وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہیں

،تصویر کا ذریعہSagarmatha Pollution Control Committee (SPCC)

،تصویر کا کیپشندوا شیرپا (بائیں) جب ملے تو اُن کے ہاتھوں پر فراسٹ بائیٹ ہو چکا تھا، اور اب وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہیں

دوا شیرپا معروف کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے حوالے سے ’ہلیری دوا شیرپا‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ پیمبا شرپا کے مطابق جب دوا شیرپا نظر آئے تو وہ کھمبو آئس فال سے گزرتے ہوئے بیس کیمپ کی جانب ’آہستہ آہستہ اور سرکتے ہوئے‘ آگے بڑھ رہے تھے۔

پیمبا شرپا نے کہا کہ ’میرے علم کے مطابق ایورسٹ پر اِس بلندی پر اکیلے لاپتہ ہونے کے بعد اب تک کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔ چھ دن تک تنہا زندہ رہنا اور بحفاظت نیچے اُتر آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ میرا خیال ہے کہ انھوں نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خیموں کے اندر پناہ لی ہو گی۔‘

کھٹمنڈو کے ہیمز ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں تعینات ڈاکٹر نِشانت دھاکل کے مطابق دوا شیرپا ’ہوش میں ہیں اور اُن کا علاج جاری ہے۔‘

دوا شیرپا کی بیٹی مہینڈو لہامو شیرپا نے اپنے والد سے ملاقات کے بعد خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ ’انھوں نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا (یعنی اُن کے حواس کام کر رہے ہیں)۔۔۔ وہ ٹھیک ہیں اور بات بھی کر رہے ہیں۔ ہم خوش ہیں۔‘

52 سالہ دوا شیرپا کے زندہ حالت میں ملنے سے قبل اُن کی اہلیہ نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ انھوں نے آخری رسومات کے طور پر اپنے شوہر کی روح کے لیے دعائیں بھی کر دی تھیں۔

گذشتہ بدھ کو کوہ پیما اور برطانوی رائل میرین کے سابق اہلکار کرس تھرال نے اس خیال کے ساتھ کہ دوا شیرپا پہاڑ پر جان کی بازی ہار چکے ہیں، انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کی غرض سے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کر دی تھی۔

دوا شیرپا کو آخری بار کیمپ تھری سے اُوپر دیکھا گیا تھا جبکہ وہ چھ روز بعد بیس کیمپ کے قریب سے ملے ہیں
،تصویر کا کیپشندوا شیرپا کو آخری بار کیمپ تھری سے اُوپر دیکھا گیا تھا جبکہ وہ چھ روز بعد بیس کیمپ کے قریب سے ملے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کرس تھرال نے دوا شیرپا کے لاپتہ ہونے سے قبل اُن کے ساتھ چوٹی سر کی تھی۔

ویڈیو میں کرس تھرال نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ کیمپ فور، جو چوٹی سے پہلے آخری کیمپ ہوتا ہے، سے نیچے اُتر رہے تھے تو دوا شیرپا ’اپنا بیگ اپنے ساتھ رکھتے ہوئے آرام کے لیے بیٹھ گئے تھے۔‘

تھرال کے بقول ’میں نے مڑ کر کہا ’ہلیری، کیا تم ٹھیک ہو بھائی؟‘ انھوں نے جواب دیا، ’ہاں، ہاں، میں ٹھیک ہوں کرس، تم آگے بڑھو، جاؤ۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، آپ جانتے ہیں، کبھی میں آگے نکل جاتا تھا اور کبھی وہ آگے بڑھ جاتے تھے۔‘

تھرال نے بتایا کہ جب وہ نیچے اُتر رہے تھے تو انھیں ان کے گروپ کا ایک پولش کوہ پیما ملا جو مشکلات کا شکار تھا، جس کے بعد دونوں نے اکٹھے نیچے اترنا جاری رکھا۔

کرس کے بقول اس کے بعد سے دوا شیرپا اُن تک دوبارہ نہیں پہنچ سکے۔

کرس تھرال نے کہا ’یہ ایک طویل اور انتہائی مشکل سمٹ پُش تھا۔ عام طور پر چوٹی تک پہنچنے اور واپس آنے میں پانچ دن لگتے ہیں، لیکن ہمیں 11 دن لگے، جس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں حالات کتنے کٹھن تھے۔‘

اس وقت انھوں نے سوچا ’تو کیا مجھے شیرپا کے لیے واپس جانا چاہیے تھا، جو غالباً سینکڑوں مرتبہ کی طرح اس بار بھی خود ہی واپس آ جائے گا اور ٹھیک ہو گا؟‘

دوا شیرپا کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کی تلاش کا آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

دوا شیرپا نے ایک رشتہ دار کُِنگ شیرپا نے ایڈونچر سپورٹس جریدے ’آؤٹ سائیڈ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں دوا کی تلاش کے عمل کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں جب ’8K ایکسپیڈیشنز‘ نامی کمپنی نے تلاش کا باقاعدہ آغاز کیا تو بالآخر وہ دوا شیرپا کو فضائی راستے سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب رہے۔